89

عذابِ​ قبر پر مبنی ویڈیوز اور شریعت کا حکم


افضال اختر قاسمی
(استاذ جامعہ عربیہ شمس العلوم شاہدرہ،دہلی)

سوشل میڈیا کے جہاں بہت سے فائدے ہیں وہیں اس کے نقصان دہ اور مخرب ایمان پہلوؤں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔
انہیں مخرب ایمان و اخلاق چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ عذاب قبر کے حوالے سے بہت سی ویڈیوز پھیلائے جا رہے ہیں،جن کے بارے میں کئی ایمان اور دین کے فکرمند احباب نے سوال بھی کیا ہے؛لہذا ناچیز اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہوے چند سطور حوالہ قرطاس کر رہا ہے،خدا کرے کہ ہدایت نصیب ہو اور بات سمجھ میں آجائے۔
(۱) اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ایمان نام ہے قرآن و حدیث کی باتوں پر بغیر مشاہدہ کےدل سے یقین کرنے کا؛چنانچہ قرآن کریم کے پہلے پارہ سورہ بقرہ کی تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت کو بیان کرنے کے بعد متقیوں کی تعریف کرتے ہوے ایمان کے بارے میں فرمایا :”الذین یؤمنون بالغیب و یقیمون الصلوۃ و مما رزقناھم ینفقون “جو غیب(یعنی ان دیکھی) باتوں پر (یعنی محض اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی وجہ سے) ایمان رکھتے ہیں،اور نماز کا اہتمام کرتے ہیں،اور جو کچھ (مال و دولت) اللہ نے عطا کیا ہے)اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
آگے چوتھی آیت کریمہ میں فرمایا:”والذین یؤمنون بماانزل الیک وماانزل من قبلک وبالآخرة ھم یوقنون” اور جو کچھ نازل کیا گیاہے(قرآن و حدیث میں) اور جو کچھ نازل کیا گیاہے تم سے پہلے(غیر محرف آسمانی کتابوں میں) ان باتوں پر ایمان رکھتے ہیں،اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی سرٹیفکٹ اورکامیابی و کامرانی کا مژدہ سناتے ہوے فرمایا:
“أولئك على هدا من ربهم و أولئك هم المفلحون”یہی لوگ اپنے رب کی جانب سے ہدایت پر ہیں اور اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
مذکورہ بالا آیت کریمہ سے پوری طرح واضح ہو جاتا ہے کہ ہمارا ایمان ان جیسے ویڈیوز کے دیکھنے اور عذاب قبر وغیرہ کا مشاہدہ کرنے پر موقوف نہیں ہے اور اگر خدا نخواستہ کوئی شخص ایسا ہے تو وہ ایمان والا ہی نہیں۔
(۲)ان جیسے ویڈیوز​ کے دیکھنے یا شئیر کرنے کا مقصد کیاہے؟کہ لوگوں کو قبر کے عذاب کا مشاہدہ ہو اور اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس پر ایمان لائے اور یقین کریں۔ اگر ایسا ہے تو آپ خود سمجھ سکتے ہیں یہ سوچ مذکورہ بالا قرآنی آیات اور اس جیسے دیگر آیات و احادیث کے بالکل خلاف ہے اوراللہ کے نزدیک ایسا ایمان مقبول نہیں ہے۔
اور اگر ان ویڈیوز کے شیئر کرنے کا مقصد اس کے علاوہ ہے تو وہ بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں لغواور بے فائدہ ہے؛کیوں کہ ہمیں ایمان بالغیب کا حکم ہے،اور اس طرح کی کسی باتوں کا ہمیں حکم نہیں دیا گیا ہے کہ تبلیغ کے لیے ان گندی چیزوں کا استعمال کیا جائے،ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر وغیرہ سے سخت نفرت اور بیزاری کا اظہار فرمایا ہے الا یہ کہ شرعی طور پر کوئی ضرورت درپیش ہو کہ اس ضرورت کی تکمیل اس کے بغیر ممکن نہ ہو۔
(۳) احباب نے سوال کیا ہے کہ “کیا عذاب قبر وغیرہ کا رونما ہونا ممکن ہے؟”
تو جواب یہ ہے کہ اگر الله تعالیٰ کی مصلحت اور مشیت ہو تو ایسے واقعات کا وقوع ممکن ہے،لیکن خیال رہے کہ یہ ایمان کے لئے ضروری نہیں اور نہ ویڈیوز بنانے اور پھیلانے کا حکم ہے۔جس علاقے میں اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے وہاں ایسا واقعہ پیش آتا ہے اگر دوسرے علاقوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی مصلحت و مشیت ہوئی تو اللہ تعالیٰ وہاں ان باتوں کو ظاہر کرنے پر قادر ہیں ہماری ویڈیوز​ اور شئیر کے اللہ تعالیٰ محتاج نہیں ہیں اور نہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے؛بلکہ تصویر کشی اور اس جیسی دیگر چیزوں سے سختی سے روکا گیا۔
رہی بات تبلیغ کی تو ہمارا عقیدہ ہے کہ تبلیغ اور ہدایت کے لئے قرآن و حدیث یقیناً آج بھی کافی ہے۔
(۴)چوتھی اور آخری بات یہ ہے کہ جو ویڈیوز شیئر کئے جاتے ہیں وہ پوری طرح قابل اعتماد نہیں ہیں۔
ترقی اور فتنے کا دور ہے بہت ممکن ہے کہ یہ ویڈیوز اور ایسی خبریں مصنوعی،من گھڑت اور جعلی ہوں،اور اس کا بھی قوی امکان ہےکہ کسی غلط مقصد کے لیے اسے پھیلایا جا رہا ہو مثلاً یہ کہ مسلمان تبلیغ اور دین کی باتوں کے نام پر دھیرے دھیرے فلم کے قریب ہوجائیں جیسا کہ مشاہدہ ہو رہا ہے کہ بہت سے دیندار بظاہر اہل علم کہلانے والے بھی فلموں میں سے اخذ کر کے چھوٹی چھوٹی ویڈیوز اچھی باتوں کے نام پر شیئر کر رہے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ ایک مسلمان دل سے یقین رکھتا ہے اور یہ مانتا ہے کہ آنکھوں سے دیکھی ہوئی،کانوں سے سنی ہوئی باتوں سے بھی زیادہ اور بہت زیادہ سچی اور قابلِ یقین قرآن و حدیث کی باتیں ہیں؛لہذا ایک سچے پکے مسلمان کو ان ویڈیوز کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے،خاص طور سے جبکہ یہ ویڈیوز خلاف شریعت باتوں پر مشتمل ہوں۔
آخر میں دردمندانہ گزارش ہے کہ اس طرح کی باتوں سے پوری طرح خود بھی بچیں،اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور اپنے بھائیوں کو بھی پچائیں ان کے ایمان کی بھی حفاظت کریں۔اور اس خدمت کا بدلہ الله تعالیٰ پر چھوڑ دیں؛کیوں کہ یہ ہماری دینی ذمہ داری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں