60

عالمی اردو مجلس اور شیخ العالم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک شام عاصم اسعدی کے نام منعقد

نئی دہلی:عالمی اردو مجلس اور شیخ العالم ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی ،جموں و کشمیر کے باہمی اشتراک سے ۸؍فروری ۲۰۱۸ کو پرساد کمپلکس، بٹلہ ہاؤس،نئی دہلی میں کشمیر کے نوجوان اور نئے لب و لہجے کے منفرد شاعر عاصم اسعدی کے نام ایک شام کا انعقاد کیا گیا۔جس میں دہلی اور ریاست جموں وکشمیر کی کئی معزز شخصیات نے شرکت کی۔مجلس کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے کیا گیا۔اس کے بعد مہمان کا تعارف بشیر چراغ نے کرایا، جنھوں نے کہا کہ عاصم اسعدی ایک دہائی قبل کشمیر سے ایک ہفت روزہ ’’احوالِ کشمیر‘‘ شائع کرتے تھے جس پر بعد میں وہاں کی سرکار نے پابندی عائد کر دی۔ تعارف کے بعد منتظمین نے عاصم اسعدی کا گلدستہ دے کر استقبال کیا اور پھر ان کی شال پوشی کی گئی۔اس مجلس کی نظامت کا فریضہ ڈاکٹر حنیف ترین نے انجام دیا۔جنھوں نے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا ۔اس مشاعرے کی صدارت عاصم اسعدی کر رہے تھے جب کہ چشمہ فاروقی مہمانِ خصوصی اور خدیجہ کشمیری نے مہمانِ اعزازی کے بطور شرکت کی۔عاسم اسعدی نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ میری شاعری اسی عہد کی شاعری ہے اور جس پر اسی ماحول کا اثر ہے،ہم اس سے اپنے آپ کو قطعی الگ نہیں کر سکتے۔ہمارے جو حالات ہیں وہ سب پر عیاں ہیں۔انھوں نے کہا ہماری شاعری مزاحمتی ہے اور کار آمد شاعری کے لیے مزاحمت ضرور ہے۔شیخ العالم سوسائٹی کے صدرغلام نبی کمار نے کہا کہ ہم اردو زبان کی نئی نسل کے شعرا و ادبا کا ہمیشہ استقبال کرتے رہیں گے۔ اس مجلس میں جن شعرا ئے کرام نے اپنا کلام پڑھا۔ ان میں ڈاکٹر حنیف ترین، بشیر چراغ، معین قریشی، وحید عازم، فرحین اقبال، بسمل عارفی،عرفان احمد،خدیجہ کشمیری،احمد علی برقی اعظمی، ساز دہلوی، اور عاصم اسعدی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اس مشاعرے میں جن معزز حضرات نے شرکت کی ان میں سلمان عبد الصمد،مرزا ذکی احمد بیگ، محمد رمضان، محمد امین سرور،عبد اللہ نعمانی، سعید احمد، ارشید حسین آہنگر، سمیرا بشیر، عائشہ تنویر وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں