44

طلاق ثلاثہ بل کے مضمرات اور ملی قیادت


ڈاکٹر منور حسن کمال
طلاق ثلاثہ بل کے کیا مضمرات ہوسکتے ہیں، ملی قیادت کو قوم اور نوجوان نسل کو اس سے آگاہ کرنا چاہےے اور اپنی خواب گاہوں سے نکل کر میدان عمل میں بغیر کسی انتشار کے یہ بات ثابت کرنی چاہیے کہ ایسے مواقع ہی نہ آنے دیے جائیں کہ کوئی نوجوان اس بل کی زد میں آئے اور حکومت کے قانون کے مطابق سزاوار قرار پائے۔

مرکزی حکومت نے ایوان بالا میں اپنی نشستوں کی تعداد کم ہونے کے باوجود طلاق ثلاثہ بل کو پاس کرالیا۔ وہ پارٹیاں جو گزشتہ کئی ہفتوں سے ببانگ دہل اعلان کررہی تھیں کہ ہم طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کریں گے، ایوان بالا سے واک آؤٹ کرکے انہوں نے اپنے تئیں غیرارادی طور پر بل کی حمایت ہی کی ہے۔ آرٹی آئی سے بھی زیادہ مشکل ترین مانے جارہے طلاق ثلاثہ بل کو ایوان بالا سے پاس کرالینے کے بعد بی جے پی کے لیے اب ایوان بالا میں ’نمبرگیم‘ کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔ بی جے پی نے اپنی مستحکم پالیسی سے علاقائی پارٹیوں کے درمیان ایسا تعلق قائم کرلیا ہے کہ اب وہ جس بل کو بھی پاس کرانا چاہے گی، آسانی سے کرالے گی۔ اس لیے کہ سب سے زیادہ مشکل سمجھا جانے والا طلاق ثلاثہ بل ہی پاس کرانے میں جب اسے کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا تو اب آگے کی تمام راہیں بظاہر آسان نظر آتی ہیں۔ یہ بات الگ ہے کہ آئندہ ایک برس کے دوران ہی بی جے پی کو ایوان بالا میں ’نمبرگیم‘ میں بھی کسی کی حاضری یا پھر غیرحاضری سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
طلاق ثلاثہ بل پر بی جے پی کی کامیابی حاصل کرنے کی کہانی اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہ گئی ہے۔ اگر تعداد کے حساب سے موازنہ کیا جائے تو این ڈی اے کو ’نمبرگیم‘ میں دس نمبروں کی کمی تھی، لیکن طلاق ثلاثہ پر ووٹنگ کے دوران بی جے پی کو حزب اختلاف سے 16ووٹ زیادہ ملے۔ اس میں نمبر ایک پر بیجوجنتا دل ہے، جس سے اب بی جے پی کے تعلقات بہت بہتر ہوگئے ہیں۔ 7اراکین والی اس پارٹی نے اس مرتبہ ایوان زیریں اور ایوان بالا دونوں جگہ پر طلاق ثلاثہ بل کی حمایت میں ووٹ دیا، جب کہ اس سے قبل اس نے اس بل کی مخالفت کی تھی۔ دراصل بیجوجنتادل مرکز سے اپنے لیے خصوصی امداد کا خواہاں ہے، اس لیے اس نے ایک تیر سے دوشکار کےے۔ تلنگانہ کی 6نشستیں ہیں، اس نے واک آؤٹ کردیا، تاکہ اس کے ووٹروں میں یہ پیغام جاسکے کہ ہم نے ووٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیا۔ یہی حال وائی ایس آر سی پی کا رہا۔ ادھر رات دن مسلمانوں کے درد کو سینے سے لگانے والی اور خود کو مسلمانوں کی سب سے بڑی مسیحا سمجھی جانے والی بہوجن سماج پارٹی بھی غیرحاضری رہی۔ بی ایس پی کی تعریف میں رطب اللسان رہنے والے لیڈروں کو یہ بات سمجھنے میں شاید آسانی ہو کہ مسلمانو ںکے ووٹوں کے حق دار سب ہیں، لیکن جب انہیں کچھ دینے کا وقت آتا ہے تو وہ یا تو ’ہوا ہوائی‘ ہوجاتے ہیں، یا درپردہ مخالفت کرتے ہیں، یہی حال جنتا دل(یو) اور انادرمک کا رہا۔ یہ دونوں علی الاعلان طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کررہے تھے، لیکن ووٹنگ کے دوران غیرحاضر رہ کر اور واک آو ¿ٹ کرکے یہ بھی بل کے حامی قرار پائے۔ان کے علاوہ کانگریس، آرجے ڈی، درمک، پی ڈی پی، ٹی ڈی پی، کیرل کانگریس، آئی یو ایم ایم، ترنمول، این سی پی اور سماج وادی پارٹی کے بھی کئی ممبران نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور واک آؤٹ کرگئے۔
یہ پارٹیاں اور لیڈر شاید آج یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اب عوام اس بات کو سمجھنے لگے ہیں کہ ووٹنگ میں شرکت نہ کرنے اور واک آؤٹ کا مطلب سیدھے سیدھے نہ سہی بالواسطہ طور پر اس کی حمایت ہی کرنا ہے، جس کو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے ووٹروں کو یہ سمجھائیں کہ دیکھو ہم نے تو واک آؤٹ کردیا تھا۔ آج کا ووٹر چاہے خواندہ ہو یا ناخواندہ، اتنی بات تو سمجھنے ہی لگا ہے کہ ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کا مقصد کیا ہے اور اس کے پس پردہ ان کی منشا کیا ہے۔
پارلیمنٹ میں ایک ہفتے کے اندر ہی یہ دوسرا موقع ہے کہ حزب اختلاف کمزور ثابت ہوا ہے۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ حزب اقتدار جہاں مضبوط پالیسی کے ساتھ میدان عمل میں آتا ہے، وہیں حزب اختلاف اپنے بکھراؤ اور عدم اتفاق کے سبب کسی بھی طرح اپنی موجودگی ثابت کرنے میں ناکام ہے۔ کانگریس جو حزب اختلاف میں سب سے بڑی پارٹی ہے، وہ نہ اپنے دوراقتدار میں نافذ کیے جانے والے آرٹی آئی کے معاملے میں کوئی مضبوط لائحہ عمل کے ساتھ سامنے آئی اور نہ طلاق ثلاثہ کے موقع پر کوئی ٹھوس حکمت عملی پیش کرسکی،جس کا راست فائدہ حزب اقتدار کو حاصل ہوا۔
ملی قیادت یہ کہہ کر ہی خوش ہے کہ بس اتنی بات کہہ دی جائے کہ حکومت ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت کررہی ہے اور یہ سراسر آئین میں تمام مذاہب کو دیےگئے حقوق کے خلاف ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وزیراعظم نے اپنے دوسرے دور کے پہلے خطاب میں ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس کے ساتھ سب کا وشواس‘ جیتنے کی بھی بات کہی تھی اور اسی طرح کے فیصلے خود ان کے بیان کی نفی کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے خاموش رویے نے بھی بڑی حد تک حکومت کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ طلاق ثلاثہ بل پر عجلت سے کام لے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بورڈ کے اراکین جاگ جائیں اور قانونی طور پر ان کی جانب سے کوئی پیش رفت سامنے آئے۔
بہ ظاہر ایسا لگتا ہے کہ مسلم پرسنل لاءبورڈ کے صدر کی آئینی حیثیت کو بورڈ کے نائب صدور اور سکریٹری وغیرہ نے نہ صرف نظرانداز کیا ہے، بلکہ اس بحرانی دور میں بھی ان کی جانب سے کوئی بیان نہ جاری ہونے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے کہ بورڈ کے ایک نائب صدر جو سیاسی میدان میں بھی اپنا اثرورسوخ رکھتے ہیں، وہ خود کو ہی زیادہ نمایاں رکھنا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ جنتادل(یو) کے ایوان بالا میں ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کے بعد ان کی سیاسی پوزیشن بہ ظاہر سوالیہ نشان کے دائرے میں آرہی ہے۔ علاقائی علما کی جانب سے احتجاج ومظاہرے بھی خوب ہورہے ہیں لیکن ملی قیادت کو اپنے کردار کا بھی جائزہ لینا چاہےے کہ وہ طلاق ثلاثہ پر اپنے موقف کو حکومت کے سامنے مضبوط حکمت عملی کے طور پر نہیں پیش کرسکی ہے۔ جب یہ اندازہ گلی کوچوں تک کے افراد کو ہوچلا تھا کہ حکومت ہر حال میں طلاق ثلاثہ بل کو ضرور پاس کرائے گی تو جو احتجاج اور مظاہرے اب نظر آرہے ہیں، یہ اسی وقت سے ہونے چاہئیں تھے اور شدت کے ساتھ ہونے چاہئیں تھے۔ اب جب چڑیا کھیت چگ چکی ہے تو یہ مظاہرے اور احتجاج بے سود ہی سمجھے جائیں گے:
اے بے خبر راز نتیجے پہ نظر کر
جو ڈوب چکے ہیں وہ ابھارے نہیں جاتے
ملی قیادت کا صرف یہ کہنا کہ حکومت نے بل کے مضمرات پر ہم سے کوئی مشورہ نہیں لیا، اب کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ان حقائق کو بہرحال نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ اس میں ملی قیادت کوتاہ نظری کا شکار ہوئی ہے۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ آگے بڑھ کر میدان عمل میں خود کو ثابت کرناپڑتا ہے، اس لےے کہ ’جو بڑھ کر خود اٹھالے ہاتھ میں مینا اسی کا ہوتا ہے‘۔ اب آگے طلاق ثلاثہ بل کے کیا مضمرات ہوسکتے ہیں، ملی قیادت کو قوم اور نوجوان نسل کو اس سے آگاہ کرنا چاہیے اور اپنی خواب گاہوں سے نکل کر میدان عمل میں بغیر کسی انتشار کے یہ بات ثابت کرنی چاہیے کہ ایسے مواقع ہی نہ آنے دےے جائیں کہ کوئی نوجوان اس بل کی زد میں آئے اور حکومت کے قانون کے مطابق سزاوار قرار پائے۔
mh2kamal@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں