152

طاقت ور اسلامی لٹریچر کی اثراندازی

توصیف القاسمیؔ، پیراگپوری، سہارن پور
موبائل نمبر:8860931450
اشتراکیت Communism اور سوشل ازم نے 20ویں صدی میں نظروفکر اور حقائق کی دنیا میں تہلکہ مچادیا تو ہر نظریہ بغلیں جھانکنے لگا اور ہر مذہب اپنی کرامتوں و مافوق الفطری Occultقصہ گوئی کی دنیا میں سمٹ گیا۔ اہل ایمان کے اندر بھی کارل مارکس Karl Marx (م14 ؍مئی 1883) اور لینن Lenin(م 1924) کے ’چمچے ‘پوری آزادی سے اپنی اثراندازی کا ہاہاکار مچارہے تھے اور اہل ایمان کا ایک معتدبہٖ طبقہ ان کا دلدادہ بن گیا لیکن عین اُسی وقت خدائے علام کا پیشگی فیصلہ بھی حرکت میں آگیا وہ فیصلہ یہ تھا کہ لیظہرہ ‘ علی الدین کلہٖ (الصف) یعنی الہ دین اسلام کو تمام دینوں (نظریوں) پر غالب کرے گا۔
عالم اسلام میں خدائے علام نے ایسے علماء و مفکرین پیدا کردیے جنھوںنے مارکس اور لینن کے مفروضہ ، منطقی مقدمات اور محدود ’عقلی الحاد ‘کو پنجرے میں بندکردیا۔ جنگ آزادی کے عظیم ہیرو اور اردو زبان و ادب کے قدآور قلمکار و صحافی شورش کاشمیری (م 24؍اکتوبر 1975) اپنی خودنوشت سوانح حیات Autobiographyمیں صفحہ 236پر ’’جیل کی یادیں ‘‘ عنوان کے تحت پیراگراف 4میں لکھتے ہیں:
’’ مارکسزم نے میرے دماغ کو ہلاڈالا، اس کی منطق کے سامنے فکر ونظر سپراندازہوگئے۰ یہاں تک کہ میں خدا کی نفی پر کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں کا ہمنوا ہوگیا، لیکن سیّد سلیمان ندوی کی سیرت النبیؐ پرایک چھوٹی سی کتاب ’’خطبات مدراس ‘‘ مجھے دوبارہ مسلمان بنانے کا باعث ہوگئی۔ اس کتاب کے مطالعہ ہی سے میں نے یہ نکتہ اخذ کیاکہ دنیا کو اتنا نظریوں نے نہیں جتنا شخصیتوں نے بدلا ہے، اصل چیزیں کتابیں نہیں انسان ہیں، یہ الگ بات ہے کہ انسان کتاب پر ایمان لاتے ہیں، انسان پر نہیں۔حالانکہ کتابیں بھی انسانوں ہی پر نازل ہوئی ہیں یا کتابوں کے مصنف بھی انسان ہوتے ہیں، مجھے یقین ہوگیاکہ سرورکائنات ﷺ کی سیرت سے افضل و اکمل کوئی سیرت نہیں، وہی ایک انسان تھے جن کی سیرت نے لاکھوں انسان پیدا کیے اور ان کا فیضان آج تک جاری ہے، یہی انسان زندگی کے ہر شعبہ اور ہر دور میں انسانوں کے رہبر رہے، یہ دوسری بات ہے کہ اسلام سیاسی طورپر ایک بڑی طاقت نہیں رہا اور اس کی باگ ڈور ان لوگوں کے ہاتھ میں آگئی جو اسلام کو اپنے لیے استعمال کرتےتھے لیکن خود اسلام کے لیے استعمال نہیں ہوئے۔اسلام میں واپسی کے بعد جس کتاب نے مجھےسب سے زیادہ گرویدہ کیا اور میں دماغاً پکا مسلمان ہوگیا وہ مولانا ابوالکلام آزاد کا ترجمان القرآن تھا، ترجمان القرآن نے مجھے ’’خدا موجود ہے ‘‘ کے آستانہ پر جھکادیا، مولانا کا عدالتی بیان تومیں بہت پہلے پڑھ چکا تھا اور اس نے ابتلاء میں میری سیرت کو چمکادیاتھا لیکن الہلال کے مطالعہ نے جس کی فائلیں مجھے دستیاب ہوگئی تھیں میرے ذوق و شوق اور میرے کردار وسیرت کو استقامت و قربانی میں پختہ کردیا، علاّمہ اقبال کے کلام نے مجھ میں اسلام کے لیے عصبیت پیدا کی اور میں محسوس کرنے لگاکہ اسلام فی الواقعہ ایک عصری طاقت ہے جس سے مسلمان معاشرے نے بہت کم فائدہ اُٹھایا ہے۔‘‘
دو مشہور ومتبحر وعالم دین سید سلیمان ندوی اور مولانا ابوالکلام آزاد کا طاقت ور اسلامی لٹریچر شورش کاشمیری کے لیے اسلام کی طرف ’سببِ واپسی ‘بن گیا۔ پاکستان کے ایک اور سینئر کالم نگار اور سابق کمیونسٹ اوریا مقبول جان عباسی (پ 7؍جنوری 1952) اپنی کتاب حرف ِراز میں مولانا مودودی کے علمی و فکری اسلامی لٹریچر کو اپنے اسلام کی طرف آنے کا سبب مانتے ہیں۔
مولانا عبدالماجد دربابادی (م 6؍جنوری 1972) مسلم گھرانہ میں پیدا ہوئے لیکن مغربی علوم کے مطالعہ نے ’’ملحد ‘‘ بنادیا اور پورے 8سال کفرو الحاد کی خاک چھانتے رہے، مذہب بیزاری کا یہ عالم تھا کہ اپنے آپ کو مسلم کہنے کے بجائے حقیقت پسند کہتے اور لکھتے تھے ،لیکن اکبر الٰہ آبادی کی مغرب پر حقائق سے پُرتیزتنقید، مولانا شبلی نعمانی کی فلسفہ اسلامی کی شاندار عقلی تشریح ،مولانا اشرف علی تھانوی کی حقائق نگاری و دیگر علماء اسلام کے طاقت ور اسلامی لٹریچر نے مسٹر ماجد کو مفسر قرآن مولانا عبدالماجد دریابادی بنادیا۔ مولانا خود اپنے بارے میں لکھتے ہیں: ’’ضلالت مطالعہ کے راستے سے پائی، ہدایت بھی بحمداللہ اسی کی راہ سے نصیب ہوئی ۔‘‘
موجودہ زمانے میں ہندوستان کے اہم اور تخلیقی فکر کے حامل عالم دین، مولانا وحیدالدین خان (پ جنوری 1925) کا اسلامی لٹریچر عصری چیلنجز کا مقابلہ کررہاہے اور مغربی علوم و تہذیب کے پھیلائو کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے ’ذہنی ارتداد ‘ کو خاک و باد Soil and windکررہاہے۔ مولانا وحیدالدین خان سےشدید علمی و فکری اختلاف رکھنےہ والے علماء کرام بھی کفرو الحاد Atheismکے خلاف کی گئی ان کی کوششوں کو نگاہِ قدر سے دیکھتے ہیں۔
راقم کی نگاہ میں کئی ایسے عصری تعلیم یافتہ حضرات ہیں جن سے میں خود ملاقات کرچکاہوں جو ’آوارگئی افکار ‘ کا شکار ہوئے مگر اسلامی مفکرین (خواہ وہ کسی بھی مکتب فکر کے ہوں) کے تیار کردہ طاقت ور اور پاکیزہ اسلامی لٹریچر نے ان کی آوارگئی افکار کو پابہ زنجیر کردیا اور پھر سےوہ نغمۂ توحید گنگنانے لگے۔
شراب و کباب Win-dine، اباحیت وفحاشی دولت و عشرت کی غیرسرحدی Enjoyments without borderمستیوں، الحادو بے دینی سے جس قدر بھی افراد واپس آرہے ہیں ان کے اسباب واپسی کے تانے بانے اسلامی مفکرین کے تیار کردہ اسلامی مواد سے ضرور ٹچ ہیں۔ ایک کٹر ہندوپنڈت نے آن چینل On channalاس بات کا اقرار کیاہے کہ مغربی فحاشی Western pornographyکے خلاف سب سے مضبوط باندھ اسلام اور مسلمان ہیں اخبارات کے مطابق مذاہب کی اثراندازی میں اسلام سب سے اول مقام پر ہے۔یہ سچ ہے کہ آج تمام مذاہب و افکار کے مقابلہ میں دین اسلام کے پاس سب سے زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان ہیں، اس کامیابی کا افتخاریہ Creditشاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (م 20؍اگست 1769) سے لے کر موجودہ زمانے کے اسلامی مفکرین و داعیان کو جاتا ہے۔ بلاقیدمسلک تمام ہی رحمت خداوندی کے مستحق ہیں۔
آئیے عہدکریں! مسلکی برتری کے بدترین چنگل سے نکل کر احیائے اسلام کے لیے شاندار اسلامی مواد تیار کریں اس کو ہر زبان میں پھیلائیں دیگر افکار ومذاہب کی خالص علمی سطح پر دھجیاں اڑائیں، عالم انسانیت کو من گھڑت افکار ومذاہب کے آہنی شکنجے سے آزاد کرائیں جہاں وہ دین اسلام کی ٹھنڈی چھائوں میں نغمۂ توحید تبشر رسالت Proselytism of prophecy اندازِ آخرت سن سکیں اور ہم اہل ایمان خدا کی اِس پکڑسے بچ سکیں و ان لم تفعل فما بلغت رسالتہ اور اگر تم نے یہ کام نہیں کیا تو حق رسالت ادا نہیں کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں