139

صحت کا طبیب،ادب کا مریض:حکیم حامد تحسین

فاروق اعظم قاسمی
ریسرچ اسکالر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی67
رابطہ:9718921072

گزشتہ کئی صدیوں سے سر زمین دیوبند دینی و روحانی مرکز کے ساتھ ساتھ علم و ادب کا گہوارہ بھی رہا ہے۔اس میں شمہ بھر شبہے کی گنجائش نہیں کہ کل بھی اس خاک سے بڑے بڑے علما اور ادبا و شعرا پیدا ہوئے اور آج بھی درجن بھر سے زائد اہل علم و ادب اپنی اپنی لیاقت کے مطابق گیسوئے علم و ادب کو بنانے سنوارنے میں ہمہ تن مشغول و مصروف ہیں۔علم وادب کی دنیا کا کوئی بھی ذی فہم اور با ذوق شخص حضرت شیخ الہند،علامہ شبیر عثمانی،مفتی شفیع عثمانی،قاری محمدطیب،علامہ انور صابری،عامرعثمانی،جمیل مہدی،ازہر شاہ قیصر وغیرہ کے عظیم کارناموں کا بمشکل ہی انکا ر کر سکے گا۔اس وقت بھی احمد خضر شاہ مسعودی، ندیم الواجدی،مولانا نسیم اختر شاہ قیصر،نواز دیوبندی اور عبداللہ عثمانی وغیرہ جیسی شخصیات آسمان علم و ادب پراپنے فن کی چاندنی بکھیر رہی ہیں۔
علم و ادب کی ترکیب تو اردو زبان میں خوب دیکھنے کو ملتی ہے لیکن طب و ادب کا سنگم نایاب نہیں توکمیاب ضرور ہے۔طب و ادب اسی کہکشاں میں ایک چمکتا نام بزرگوار جناب حکیم حامد تحسین کا ہے۔مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ راقم نے حکیم جی کے طب و ادب کی دونوں شاخوں سے خوشہ چینی کی ہے۔اب یہ الگ بحث ہے کہ وہ زیادہ حکیم ہیں یا ادیب؟ ہاں اتنا تو کہا جا سکتا ہے کہ جب تک وہ پورے طور پر صحت مند تھے تو ادیب سے زیادہ حکیم تھے؛ لیکن اپنی صحت کی معذوری (1998 میں کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی)کے بعد انہوں نے دوسروں کی صحت کا خیال رکھا ہو یا نہ رکھا ہو؛تاہم ادب کو صحت مند بنانے میں پورے تن من سے ضرور جٹ گئے تھے۔ایک مرتبہ دوران گفتگو انہوں نے راقم سے کہا تھا کہ میں جسم سے تو ضرور معذور ہو گیا؛ لیکن جناب اسی معذوری نے مجھ سے جو کروڑوں کا ادب خلق کر والیا،وہ تو لازوال اور انمول ہے، اس لیے مجھے اللہ کے فضل سے کوئی مایوسی نہیں۔
حکیم جی اپنے طبی مشغلے کے ساتھ پرورش لوح و قلم بھی کرتے رہے،اپنی کبر سنی کے با وجود ہمت و حوصلے کا جو مظاہرہ کرتے نظر آتے وہ قابل دید و داد بھی ہوتا اور لائق رشک بھی۔حکیم جی شاعر نہیں نثر نگارتھے،لیکن ان کی نثر میں شعر کا لطف محسوس ہوتا۔حکیم جی کا امتیاز یہ تھا کہ وہ نئے نئے ادبی جزیروں کی تلاش میں رہتے۔وہ نہ تو یونیورسٹی کی طرح تحقیق سے بوجھل مقالہ پیش کرتے اور نہ ہی موجودہ نام نہاد ادبی لچر تحریریں۔شریعت ادب میں حکیم جی اپنا عقیدہ یہ رکھتے تھے کہ اگر دو پیارے جملوں سے ہی دل کی دنیا میں ہلچل مچ جائے تو ضخیم کتابوں کی کیا ضرورت۔ یہی وجہ ہے کہ مختصر سے کتابچوں کے ذریعے حکیم جی نے اہل ادب کو جو سرمایہ عطا کیا وہ شاید نام نہاد ادبا اپنے سیکڑوں صفحات کے ذریعے بھی نہ دے سکیں۔یوں تو اب تک حکیم جی کی متعدد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں اور بھرپور تحسین حاصل کر چکی ہیں لیکن ’بوسہ‘ سے ادبی دنیا میں جو طوفان برپا ہوا بطور خاص نو جوانوں کے دلوں میں اس کتاب نے جو ہنگامہ مچایا، اس کے لیے حکیم جی کو بمشکل ہی معاف کیا جاسکتا ہے۔میرے خیال سے اسی کے تدارک کے لیے ’غزل کی کہانی‘ لکھی گئی تھی،ممکن ہے اس کا کفارہ ادا ہو جائے۔
حکیم جی نے اپنی گراں قدر ادبی خدمات کے ذریعے نہ صرف یہ کہ ادب کا ہفت اقلیم سر کیا؛ بلکہ ادب کائنات کے ساتوں آسمان اور ساتوں زمین کو بھی فتح کر لیا۔اللہ ان کی قبر کو منور فرمائے اور خاص رحمت و مغفرت سے نوازے۔(آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں