71

صحافت اور سیاست


عبدالعزیز
آج صحافت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے لیکن اگر صحافت، سیاست یا سیاسی پارٹیوں کے رنگ میں رنگ جائے تو وہ صحافت نہیں تجارت ہوتی ہے۔ تجارت کا مطلب ہوتا ہے کہ کمائی، آمدنی ایسی ہی تجارت کو منافع بخش تجارت کہتے ہیں ۔ منافع بخش تجارت بھی دو قسم کی ہوتی ہے ۔ ایک منافع بخش تجارت میں ہر حال میں ایمانداری برتنے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ دوسری منافع بخش تجارت حلال، حرام، جائز یا ناجائز، غلط اور صحیح کی قید نہیں ہوتی۔ پہلے قسم کے تاجر جنھیں ایماندار اور صادق کہا جاسکتا ہے وہ سیاست سے اپنے آپ کو دور رکھتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے تاجر سیاست سے ہی اپنا کاروبار یا دکان چمکانے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ سیاست کے بغیر وہ امبانی اور اڈانی نہیں بن سکتے۔ جب صحافت تجارت بن جاتی ہے تو وہ بے ایمان تاجروں یا سیاست زدہ تاجروں کی صف میں کھڑی ہوجاتی ہے جس طرح تاجر یا اس کی تجارت کو بے ایمان تاجر یا غیر ایماندارانہ تجارت کہی جاتی ہے اسی طرح صحافت جو صداقت اور ایمانداری سے خالی ہوتی ہے۔ وہ بے ایمان تاجروں کی صف میں شمار ہوتی ہے۔ صحافی بھی جو صداقت اور سچائی سے دور ہوجاتے ہیں۔ وہ بے ایمان اور جھوٹے صحافی کہلانے کے مستحق ہوتے ہیں جس طرح بے ایمان تاجروں کی تجارت سے دنیا کو نقصان اور خطرہ ہوتا ہے، ٹھیک اسی طرح بے ایمان صحافیوں اور ان کی صحافت سے دنیا کو نقصان اور زبردست خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1973ء کے آخرمیں اردو ایڈیٹر کانفرنس (منعقدہ لکھنؤ) کو خطاب کرتے ہوئے مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے جو باتیں کہی تھیں وہ آج بھی دہرانے کے لائق ہے:
’’اخبار نویس وہ معلم ہے جس کا مدرسہ پورا ملک ہوتا ہے اور جس کے تلامذہ میں دہقان و مزدور سے لے کر وزیر اور صدر مملکت تک تمام بڑے اور چھوٹے شریک ہوتے ہیں۔ اخبار نویس وہ مبلغ ہے جس کی دعوت گھر گھر، دوکان دوکان اور دفتر دفتر گونجتی ہے۔ اخبار نویس دنیائے سیاست کا حریف ہوتا ہے جس کی کسوٹی اصولوں کو پرکھتی اور جس کی ترازو حوادث کو تولتی رہتی ہے۔ اخبار نویس سیاسی اختلافات سے بھری ہوئی دنیا میں عدالت کی کرسی جماکر بیٹھتا ہے اور فریضہ قضا سرانجام دیتا ہے۔ یہ ہے صحافت کی اہمیت اور اس اہمیت کے معنی یہ ہیں کہ اگر صحافت حق، عدل، خیر اور فلاح کیلئے کام کرے تو انسانیت کیلئے اس سے مفید طاقت کوئی نہیں اور اگر صحافت میں بگاڑ آجائے اور وہ کذب، باطل، شراور فساد کیلئے ہی سرعمل ہوجائے تو پھر نوعِ انسانی کیلئے اس سے زیادہ مہلک کوئی دوسری قوت نہیں۔ آپ ذرا غور فرمائیے کہ کسی شہر کا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ خود اسباب مرض پھیلانے کی مہم شروع کردے۔ اگر پولس اور عدالت ہی جرائم کے سرپرست بن جائیں تو پھر نتائج کیا نکلیں گے۔ جو کچھ نتائج ان صورتوں میں نکلیں گے۔ عین وہی نتائج صحافت کے اختلال پذیر ہونے سے نمودار ہوتے ہیں۔ صحافت اگر آلۂ خیر ہو تو نعمت عظمیٰ ہے اور اگر آلہ شربن جائے تو لعنت کبریٰ بن جاتی ہے۔ایک سچا اخبار نویس ، خالص سیاسی نقطہ نگاہ سے حکام اور پبلک کے درمیان ایک ذریعہ بنتا ہے۔ عوام میں بگاڑ آجائے تو وہ ان کی اصلاح کرتا ہے اور حکمرانوں کی طرف سے اگر مفسدات ظہور کریں تو ان کی بھی خبرلیتا ہے۔ دونوں کے درمیان ثالث بن کر فیصلہ دیتا ہے اور اگر صلح نہ ہو تو وہ اپنا فرض سمجھتا ہے کہ پورا وزن حق کے پلڑے میں ڈال دے،چاہے حق حکومت کی طرف ہو یا عوام کی طرف اپنے موقف کے لحاظ سے درحقیقت اخبار نویس رائے عام کا ’’دماغ‘‘ ہوتا ہے۔ اگر یہ دماغ ہی بگڑجائے تو چارہ کار کیا ہے؟ فی الواقعہ کوئی راہِ نجات نہیں ۔یہ بات کہتے ہوئے انتہائی دکھ ہوتا ہے کہ آج کا اخبار نویس احساس ذمہ داری سے بڑی حد تک بے نیاز اور اوصاف پسندی میں انتہائی کوتاہ ہے۔ کوچۂ صحافت کا یہ سماں ہے۔ یہا ں نہ کپڑوں کی صفائی کی خیر ہے اورنہ سلامتی کی ضمانت ہے، نہ حواس کے چاہنے کا بھروسہ ہے اور ذوق کی بابت کا یقین ہے۔ ہماری صحافت کچھ ایسی ہوگئی ہے کہ ہمارے اکثر اخبارات ایسے ہیں جو بے اصولے پن کی کوکھ سے پیدا ہوئے ہیں۔ بے اصولے پن کی چھاتیوں سے دودھ پی کر پلے اور بے اصولے پن کی انا نے انہیں انگلی پکڑ کر چلنا بھی سکھایا۔ مرادیہ کہ ایک نیا اخبار جب نکلتا ہے تو شاید ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی اصول یامقصد کا خاطر باقاعدہ اسکیم بناکر نکالا گیا ہے؛ بلکہ عموماً اخبارات کاروباری نقطۂ نظر سے جاری کئے جاتے ہیں۔ اوران کے لئے اگر کوئی اصول و مقصد اختیار کیاجاتا ہے توصرف یہ سوچ کر کہ اصول و مقصد کے ذریعے اخبار چل جائے گا۔ اصول وہ تاگا ہے جو ایک اخبار کی تمام تحریروں کو پروکر ایک ہار بناتاچلا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ فلاں اخبار،فلاں معاملے میں فلاں رویہ اختیار کرے گا۔ لیکن بے اصول اخبارات کے متعلق کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا وہ کس مرحلہ پر کون سا موڑ مڑیں گے۔عام طور پر اخبار نویس جس سے اختلاف کرتا ہے اسے کہیں کانہیں رکھتا۔
وہ مخالف کی کہی ہوئی باتوں کو مسخ کردیتا ہے بلکہ خود اپنی طرف سے کچھ باتیں اس کے منھ میں ڈالتا ہے پھر اخبار نویس تمام اخلاقی حدود کو پھاند جاتا ہے۔ ادروہ سیدھی صاف بات کرنے کی بجائے گالیوں پر اترآتا ہے کیچڑ کے چھینٹے ڈالتا ہے، پگڑی اچھالتا ہے ، نام بگاڑتا ہے۔ اخبار نویس میں کاروباری زادیہ نگاہ رکھنے والوں کی جو بڑی تعداد ہے وہ حکمراں طاقت کے درباری خوشامدیوں میں بار بار شامل ہوتی رہتی ہے اور جہان پناہ کا دل خوش کرنے کیلئے انہیں غلطیوں سے پاک اور ان کے ناقدین کو قابل گردن زدنی ہی قرار دیتا ہے۔ یہ مقام افسوس ہے کہ موجودہ جمہوری دور میں قدیم بادشاہوں کے درباری شاعروں، بھانڈوں اور خوشامدی، مصاحبین کامنصب اور مقام صحافیوں کے حصہ میں آیا ہے۔ بہر حال یہ صحافت کا مستقل فساد خون ہے اور اس کی اصلاح کی فکر اگر نہ کی گئی تو یہ فساد خون ہماری آئندہ نسلوں کو ورثہ میں ملے گا۔ اورقوم کی قوم اخلاقی صحت کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے برباد کردے گی۔
مولانا ابوالکلام آزاد اچھے اور بڑے صحافیوں کی صف اول میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ موصوف نے صحافت کے متعلق جو باتیں کہی ہیں وہ آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں۔
’’ ہمارے عقیدے میں تو جو اخبار اپنی قیمت کے سوا کسی انسان یاکسی جماعت سے کوئی رقم لیناجائز سمجھتا ہے وہ اخبار نہیں بلکہ اس فن کے لئے ایک وعید اور سرتاسرعار ہے۔ ہم اخبار نویس کی سطح کو بہت بلندی پر دیکھتے ہیں اور امرالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض ادا کرنے والی جماعت سمجھتے ہیں۔
پس اخبار نویس کے قلم کو ہر طرح کے دباؤ سے آزاد ہونا چاہئے اور چاندی اور سونے کاتو سایہ بھی اس کے لئے سم قاتل ہے۔ جو اخبار نویس رئیسوں کی فیاضیوں اور امیروں کے عطیوں کو قومی امانت، قومی عطیہ اور اسی طرح کے فرضی ناموں سے قبول کرتے ہیں وہ بہ نسبت اس کے کہ اپنے ضمیر اور ایمان کوبیچیں،بہتر ہے کہ دریوزہ گری کی جھولی گلے میں ڈال کر اور قلندروں کی کشتی کی جگہ قلمدان لے کر رئیسوں کی ڈیوڑھیوں پر گشت لگائیں اور گلی کوچہ میں ’’کام ایڈیٹر کا‘‘ کی صدا لگا کر خود اپنے تئیں فروخت کرتے رہیں۔۔۔‘‘ ( ’الہلال‘27؍جولائی1912ء)
مذکورہ تحریروں کی روشنی میں جو لوگ آج صحافی ہیں یا صحافت کر رہے ہیں وہ آسانی سے اپنے آپ کو سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور کس صف میں شمارکئے جانے کے لائق ہیں؟
میرے خیال سے جب صحافت صحتمند اپوزیشن کا رول ادا کرتی ہے تو وہ صحافت عوام کیلئے ہوتی ہے۔ عوام کے مفاد میں ہوتی ہے۔ صداقت اور سچائی سے بھی قریب ہوتی ہے لیکن جو صحافت ایمانداز اپوزیشن کے بجائے کسی رولنگ پارٹی (حکمراں جماعت) کا دم چھلابن جاتی ہے وہ صحافت نہیں ہوتی بلکہ حکمراں جماعت کا پوسٹر یا پمفلٹ ہوتی ہے۔ اسے صحافت سے جوڑنا بھی زیادہ صحیح نہیں ہے۔ صحافی جو حکومت کی گدی پر بیٹھے وزراء یا افسران سے سوال نہیں کرسکتا وہ یک طرفہ صحافت ہوتی ہے۔ اس سے عوام و خواص کسی کو بھی فائدہ نہیں پہنچتا۔ اس سے صرف دنیوی طور پر اسے یا اس کے اہل خاندان کو فائدہ پہنچتا ہے۔
عام طور پر جب کوئی اخبار بازار میں زیادہ دکھائی دیتا ہے یا زیادہ لوگوں کے ہاتھوں میں نظر آتا ہے تو اسے لوگ بڑا اخبار کہتے ہیں۔ اسی طرح جو تاجر سب سے زیادہ دولت مند ہوتا ہے اسے بڑا تاجر کہتے ہیں۔ اسی طرح جو سیاست داں اپنے کرتب اور جھوٹ اور فریب کے ذریعہ سب سے زیادہ سیٹیں یا ووٹ حاصل کرلیتا ہے اسے بڑا سیاست داں کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ جھوٹے ہوتے ہیں حلال و حرام کے حدود و قیود سے انھیں کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے۔ انھیں سچائی سے کوئی مطلب نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی وہ سچائی کے راستہ پر چلنا اپنے لئے اچھا یا مفید سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تعداد ہمیشہ زیادہ رہی ہے اور وہ ہر ایک چیز جو دنیوی اعتبار سے بڑی یا چھوٹی کہنے کے عادی ہوتے ہیں۔ دنیا میں کبھی کبھار ہی سچائی یا صداقت اپنا لوہا منواتی ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ سچائی یا صداقت کی کبھی ہار نہیں ہوتی۔ ہارتی وہ وہ دنیا ہے جو اسے تسلیم نہیں کرتی۔ آج جو الیکٹرونک یا پرنٹ میڈیا ہے وہ زیادہ تر بڑے تاجروں کے ہاتھ میں ہے جس کی وجہ سے جو حال تجارت میں بے ایمانی، فریب اور دغا بازی کا ہے وہی حال صحافت کا ہے۔ جو حال بے ایمان اور دغا بازتاجروں کا ہے وہی حال بے ایمان اور دغا باز صحافیوں کا ہے۔ پڑھنے والوں میں سچائی کی کھوج یا تلاش کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ پڑھنے والوں کا حال بھی اچھا نہیں ہے۔ جو لوگ حالات کو ہر شعبۂ زندگی میں بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہیں حقیقت میں وہی زمین کے نمک ہیں۔ آج بھی انہی سے یہ دنیا قائم و دائم ہے۔ ایسے لوگ اگر نہ رہے تو دنیا دم توڑ دے گی۔
موبائل: 9831439068 azizabdul03@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں