50

صاحبان!ٹیگ سے میری جان بخش دیں!

رشید ودود
شہریار نے کہا تھا:
امید سے کم چشمِ خریدار میں آئے
ہم لوگ ذرا دیر سے بازار میں آئے
کتاب چہرہ پر ہمارے منحوس قدم 2012 ء میں پڑے، اس وقت اردو ٹائپنگ جانتا نہیں تھا، مجبوراً رومن رسم الخط ہی میں اپنا مافی الضمیر ادا کر لیا کرتا تھا، شاکر صدیقی نامک ایک پھٹے پرانے لنگوٹیے یار نے عار دلایا کہ :ابے! تم اردو رسم الخط میں کیوں نہیں لکھتے؟ تم لکھ سکتے ہو، کوشش تو کرو، سو دھیرے دھیرے لکھنا ؛بلکہ رینگنا شروع کیا، پھر سر پٹ دوڑنے لگا، اب یہ الگ بات ہے کہ بعض اوقات اس تیز رفتاری نے منہ کے بل گرایا بھی ہے، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر پر اب بھی ٹائپنگ نہیں کر پاتا، البتہ موبائل پر قدرے تیز رفتاری سے ٹائپنگ کر لیتا ہوں، سوچ رہا ہوں کہ بیگم کو ٹائپنگ سکھوا دوں؛ لیکن پھر مشکل یہ ہے کہ اگر انہیں بھی فیس بک کا چسکا لگ گیا، تو آنے والے بچے کی چڈی کون بدلے گا، اسے دودھ کون پلائے گا؟ اس لیے یہ ارادہ بھی مؤخر کرنا پڑا۔سال بھر فیس بک چلانے کے بعد ایک دن مومن کامل نے انکشاف کیا کہ ’’ٹیگ وہی کرتے ہیں، جو نا بالغ ہوتے ہیں‘‘ سو صاحب! اسی دن سے ہم بھی ’’بالغ‘‘ ہو گئے، اپنی وال پر اپنا کرتب بھی اب ہم مداری والے کی طرح ڈمرو بجا کر دکھانے لگے، جس کی وجہ سے بھیڑ بڑھتی گئی:
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
اس کے بعد پھر میں نے کسی کو ٹیگ نہیں کیا؛ لیکن اگر مجھے کسی نے ٹیگ کیا ،تو پھر اس کی عدمِ بلوغت پر جم کر ہنسا بھی؛لیکن محترم جناب ابو بکر قدوسی کے ٹیگ کرنے پر کبھی بھی نہیں بھنایا؛بلکہ الٹا خوش ہوا کہ چلو قدوسی صاحب اس لائق تو سمجھتے ہیں کہ مجھے ٹیگ کریں، ایک شخصیت اور ہے، جن کے ٹیگ کی میں نے تمنا کی ہے، اور وہ ہیں محترم جناب ڈاکٹر بہاؤ الدین صاحب:
زباں پہ بارِ خدایا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لیے
خدا کا شکر ہے کہ تمنا پوری ہوئی اور اب ڈاکٹر صاحب بھی مجھے ٹیگ کرنے لگے ہیں:
وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
ٹیگ کی ایک شکل تو یہ ہے کہ آپ کی کوئی پوسٹ شیئر کرنے کے بجائے کوئی دوسرا اپنی وال پر آپ کے نام سے پوسٹ کرے، تو اس ٹیگ کو تو برداشت کرنا پڑتا ہے، باقی ٹیگ تو ایسے ہی ہے کہ کوئی بلا اجازت آپ کے گھر میں گھس آئے، پڑوس والے بھائی تو پتہ نہیں کیوں ہمارے تعلق سے ’’غلط فہمی‘‘ کے شکار ہیں، کوئی جھیل سیف الملوک کے کنارے کھڑا منہ بنا کر سیلفی کھینچ رہا ہے، تو وہ بھی ہمیں ٹیگ کرتاہے، تحریکی سراج الحق کی سادگی کا منظر بھی ہمیں ہی ٹیگتے ہیں، جماعتی مولانا فضل الرحمن کی مدح کرتے ہیں ،تو وہ بھی ہمیں ٹیگنا نہیں بھولتے، پٹواری میاں صاحب کی مظلومیت کا رونا روتے ہیں ،تو ہمیں بھی شریک کر لیتے ہیں، ہم سب کا ٹیگ ریمو کر دیتے ہیں؛ لیکن سچی بات یہ ہے کہ انصافی دوستوں کا ٹیگ نہ صرف ہم برداشت کرتے ہیں؛ بلکہ لائک بھی مار دیتے ہیں؛ اس لیے کہ اپنی عزت کسے پیاری نہیں ہوتی؟ خان صاحب پاکستان کے مودی ہیں، ان کے بھکت گالی گلوچ کرنے میں ہمارے بھکتوں سے بھی چار ہاتھ آگے ہیں؛اس لیے انصافی دوستوں سے پنگا لینے کی جرأت ہم نے کبھی نہیں دکھائی۔
پہلے زمانے کے شعرا پکڑ پکڑ کر اپنا کلام زبردستی سناتے تھے، اب کے شعرا ٹیگ کرتے ہیں، محترم ساجد حمید کے علاوہ ہم نہ کسی کا ٹیگ پسند کرتے ہیں، نہ شکل، نہ کلام، اب یہاں آپ کو ضرور میرے لہجے میں رعونت نظر آ جائے گی؛ لیکن بھائی! آپ خود کو زبردستی تو مجھ سے پسند نہیں کروا سکتے نا۔
تو مہربان! صاحبان! قدردان! گزارش ہے کہ ٹیگ سے میری جان بخش دیا کیجیے اور اپنی بات کچھ اتنے سلیقے سے کہیے کہ قاری جھک مار کر آپ کی وال وزٹ کرے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں