90

شیو بہادر دلبر کا شعری سفر


حقانی القاسمی
شاعری تو وہ بھی ہوتی ہے جس میں ”موزونیت“ کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا! یہ شاعری اس سے ذراالگ ہے کہ اس میں ’موزونی طبع‘ کااظہار نہیں ہے۔ بلکہ دروں کومرتعش کرنے والا جذبہ و احساس بھی ہے۔
دلبر اپنے تخلیقی اظہار میں احساس کی اس آنکھ کو ضرور شامل رکھتے ہیں جو حقیقتوں کے ماورا بھی دیکھ سکتی ہے، اسی لیے ان کے احساس کی کائنات محدود نہیں ہے کہ شاعری کا سلسلہ ان ساعتوں سے ہے جن کا زندگی سے گہرا ربط ہے اور جو حیات و کائنات کی رمزیت کااستعارہ ہیں۔ انسانی مزاج کی تشکیل اور ذہنی نظام کے نمو میں ان ساعتوں کی بڑی اہمیت ہے۔ دلبر کے ہر خیال میں ان ساعتوں کے عکس نمایاں ہیں۔ شام اپنی رومانی طلسماتی کیفیت کے ساتھ زندہ ہے، تو صبح اپنی جاں فزائی قوتوں کے ساتھ تابندہ ہے۔ دلبر کی شاعری میں ان ساعتوں کے منظر روشن ہیں کہ یہ منظر کھل جائیں تو شاعری گم ہوجاتی ہے:
آنکھیں جو تک رہی ہیں ہر اک شام راہ کو
اک عمر سے کسی کا انہیں انتظار ہے
زندگی کے شام و سحر کی یہ وہ تجرباتی داستان ہے جس میں المیہ بھی ہے اور طربیہ احساس بھی۔ المیہ ذات، ضمیر ذہن کا ہو یا معاشرہ کا،ایک فنکار کاذہن المیہ کے تمام پہلوؤں کو محسوس کرتا ہے اور اس المیہ احساس کو انسانی ذہن میں اجاگر کرتا ہے۔ دلبر کے شعروں میں المیہ کا احساس مختلف صورتوں میں نمایاں ہوا ہے۔
جس باغ کو سینچا ہے سدا میں نے لہو سے
اس باغ پہ اب کیا مرا ادھیکار نہیں ہے
اجالوں نے دیے دھند لکے کچھ اتنے
رہا شکوہ نہ دلبر تیرگی سے
اسی المیہ سے جڑا ہوا طربقیہ بھی ہے کہ انسان کے نصیب میں صرف دکھ یا درد نہیں ہے بلکہ مسرتیں بھی ہیں کہ ذہن ایک ہی کیفیت میں منجمد نہیں رہتا، ذہن اک اکائی یاجزو نہیں بلکہ کئی اجزاء کامجموعہ ہے۔ ایک ہی لمحہ میں ذہن دکھ اور سکھ دونوں کیفیتوں سے گزر سکتا ہے۔ ذہن کے اسی مختلف النوع تفاعلی نظام اور تحرک کا اشارہ ہے یہ شعر:
خوشیاں سبھی کو بانٹ رہا ہے وہ آدمی
دامن غموں سے جس کا بہت تار تار ہے
دلبر کے یہاں جذبات و احساسات کے متنوع رنگ ہیں تو اس لیے کہ صرف ان کے ذہن میں نہیں بلکہ زندگی میں بھی ’تغزل‘ ہے۔ شاعر کا پورا وجود غزل کی تہذیب میں رچا بسا ہے۔ اردو غزل کے تہذیبی نظام سے ان کے ذہن کا بہت مضبوط رشتہ ہے۔ شاعر اور اردو تہذیب کے درمیان کسی قسم کی اجنبیت یا ثنویت کا احساس ہی نہیں ہوتا، دلبر کے ضمیر میں غزل کی تہذیب شامل ہے۔ دلبر کو جذبے کی اخلاقیات کا بھی عرفان ہے اور اظہار کی جمالیات کا شعور بھی ہے:
دلبر یہ ماں کی دعاؤں کا اثر ہے
جو بھی بلا آتی ہے گزر جاتی ہے سر سے
سمجھتے کیا ہو تم ماں کی دعا کو
بڑی اس سے دعا کوئی نہیں ہے
اب بھی ہیں یاد گاؤں کے شام و سحر مجھے
بھولے نہیں بنے ہوئے مٹی کے گھر مجھے
یہ اشعار، دلبر کے ذہن کے موسموں کا بھی پتہ دیتے ہیں۔ وہ تخلیقی ذہن جو آلودگی، آلائش اور کثافت سے پاک ہے، جو پوری انسانیت کے بارے میں سوچتا ہے۔ جمہوری طرز احساس اور طرز فکر رکھنے والا ذہن جس سے اس نوع کے اشعار وجود میں آتے ہیں:
بشر کا خون سستا ہورہا ہے
مگر پانی تو مہنگا ہورہا ہے
دلبر ہمارے دیش میں کب آئے گا وہ دن
مجرم جو اصل میں ہو اسی کو سزا ملے
یہ ایسی شاعری ہے جس میں ذہن اور ضمیر کی روشنی ہے کہ ذہن کی تاریکی میں تہذیبیں اور قدریں سبھی کچھ کھو جاتی ہیں۔ دلبر کی شاعری روشنی سے وصال کی شاعری ہے۔ تاریک عہد میں یہی اشعار روشنی کا استعارہ بن جاتے ہیں اوریہی روشنی ان کے لفظیاتی نظام میں بھی ہے کہ قاری کے ذہن میں ترسیل کے سارے سلسلے روشن ہوجاتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ دلبر کے کچھ شعر ضرور زندہ رہیں گے جب کہ انٹرنیٹ ایج اور کمپیوٹر کلچر کے اس عہد میں ذہن و دل سے بیشتر شاعری کو Deleteہوتے دیر نہیں لگتی۔ عجب المیہ ہے کہ شاعری ذہن میں Saveہی نہیں ہوپاتی۔ خدا کاشکر ہے کہ دلبر کے دل سے نکلی ہوئی کچھ آوازوں میں اتنی قوت ہے کہ اپنے لیے کوئی نہ کوئی Spaceضرور پیدا کرلیں گی۔آج جب کہ خیال و احساس کی زمین بھی تنگ ہوتی جارہی ہے اور اظہار کا افق بھی۔تو ایسے میں تھوڑا سا Space بھی بہت ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں