92

شہر میں سیلاب : قدرتی آفت یا انسانی کوتاہیوں کا نتیجہ


صفدر امام قادری
صدر شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ
جنگِ آزادی کے گھماسان میں جب ۱۹۳۴ء میں بہار کے مختلف علاقوں بالخصوص بھاگل پور میں زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہ کاری ہوئی، اس وقت مہاتما گاندھی نے یہ بیان دیا تھا کہ یہ ہمارے اپنے پاپوں کی سزا ہے۔ تناظر یہ تھا کہ ٹھیک اس سے پہلے بھاگل پور میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے اور جان مال کا بڑے پیمانے پر نقصان ہوا تھا۔ اس کے بعد قدرت نے زلزلہ بھیج دیا اور پھر تباہی و بربادی۔ گاندھی زلزلہ کے سائنسی اسباب سے غافل نہیں تھے مگر انھوںنے لوگوں سے صاف صاف کہا کہ جب امن اور شانتی نہیں قائم کرسکتے، کمزور لوگوں کی زندگی کی حفاظت نہیں کرسکتے تو قوم و وطن پر مصیبت نازل ہونی ہی ہے۔
اس وقت گاندھی کی روشن خیالی پر سوالات قائم کیے گئے تھے اور ایک بڑے طبقے نے گاندھی کی تنقید کی تھی۔ ۲۰۱۴ء میں نریندر مودی کی حکومت قائم ہوتے ہی کئی مہینوں تک ہندستان کے مختلف علاقوں خاص طور پر شمالی خطّے میں لگاتار زلزلے آئے اور کروڑوں لوگوں کو سڑک اور پارک میں اپنی جان کی حفاظت کے لیے راتیں بسر کرنی پڑیں۔ ایسے متواتر جھٹکے اس سے پہلے کبھی آئے نہیں تھے۔ بعض لوگوں نے نئی حکومت کی بدشگونی کو اس کا سبب بتایا حالاں کہ ان مبصرین میں سب کے سب سیاسی حریف یا مذہبی توجّہ کے افراد نہیں تھے۔
اب چوں کہ بہار میں اسمبلی انتخابات میں صرف ایک برس کا انتظار ہے، ایسے میں ہر کام اور تنقید و تبصرے کی ہر تان حکومت اور انتخابات سے متّصل ہوکر سماج میں پہنچنے لگی ہے۔ اس لیے کوئی اگر یہ بات کہہ گزرے کہ نتیش کمار کی حکومت کی بداعمالیوں کے نتیجے کے طور پر یہ قدرتی آفت آئی تو اسے سیاسی تبصرہ قرار دیا جائے گا مگر چند برسوں میں مڈ ڈے میل میں زہر سے لے کر ریمانڈ ہوم میں معصوم بچّیوں کی آبروریزی تک عوام کی بے چارگی کا جو سلسلہ ہے، آخر وزیرِ اعلا کے فلسفیانہ اور میٹھے بول سے کیا اس کا تدارک ممکن ہے۔ آخر عام لوگوں کی آہیں اور کراہیں آسمان تک تو پہنچتی ہی ہوں گی۔ ایسے میں قدرت کی ناراضگی کا نتیجہ ہمیں معلوم ہے۔ پورا بہار حکومت کی بداعمالیوں کی چپیٹ میں ہے۔
سوال یہ ہے کہ شہر میں سیلاب کیسے آجائے گا ؟ پٹنہ شہر کے شمال میں گنگا ندی بہتی ہے۔ شہر کی طرف کہیں سے کوئی پشتہ نہیں ٹوٹا جس سے گنگا کا پانی شہر میں آجائے اور کچھ بگاڑ کی صورت پیدا ہوجائے۔ دو دن ذرا تیز بارش کیا ہوئی، شہر کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ سات دن گزرنے کے باوجود شہر کے ایک برے حصّے سے پانی نہیں نکل سکا اور اس حصّے میں پھنسے ہوئی لوگ مر مر کے جینے کے لیے مجبور ہیں۔ بہار کے نائب وزیر اعلا جناب سوشیل کمار مودی اور ان کے خاندان کے افراد کو محفوظ جگہ پر لے جانے میں حکومت کے انتظام کاروں کو تین دن لگے۔ پٹنہ کے ممبر پارلیامنٹ اور سابق مرکزی وزیر رام کرپال یادو سیلاب کے پانی میں ڈوبتے ڈوبتے بچے۔ ایسے میں عام لوگوں کے ڈوبنے اور مرنے کا بھی کون رکارڈ رکھ سکتا ہے؟
مہاتما بدھ یاد آتے ہیں۔ مگدھ کا مرکزی شہر پاٹلی پتر ہوا کرتا تھا۔ کسی ناراضگی کے عالم میں انھوںنے یہ کہا تھا کہ پانی اور آگ سے اس شہر کا وِناش لکھا ہوا ہے۔ بہار کے وزیر اعلا تو خاص اسی علاقے سے آتے ہیں جہاں مہاتما بدھ عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے تھے۔ اسے اکثر افراد شاپ قرار دیتے ہیں یا پیشین گوئی سمجھتے ہیں۔ ہمیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنے والی حکومتوں کے عوام مخالف رویوں کا انھیں اندازہ تھا۔ وہ خود راج پاٹ چھوڑ کر جنگل اور پہاڑ کی زندگی تک پہنچے تھے۔ اسی زمانے میں شہری زندگی کا ایک خاکہ اُبھر رہا تھا۔ مہاتما بدھ کہیں اس متوقع شہری کرن کے نقصانات اور عذابوں پر تو ہمیں متنبہ نہیں کررہے تھے۔ اتنا تو سچ ہے کہ پٹنہ ہی نہیں، ملک کے کئی بڑے شہر پانی کے عذاب میں مبتلا ہیں۔
یہ تو سب ماننے لگے ہیں کہ اگر آیندہ کوئی عالمی جنگ ہوگی تو وہ پانی کے لیے ہوگی۔ ہندستان کی صورتِ حال پر غور کریں تو ہمیں کبھی کبھی یہ خوف ستاتا ہے کہ اس ملک میں پانی کے لیے کہیں خانہ جنگی نہ شروع ہوجائے۔ گجرات اور مہاراشٹر، کرناٹک اور تمل ناڈو، ہندستان اور نیپال، ہندستان اور بنگلہ دیش، بہار اور مغربی بنگال، بہار اور اترپردیش، دلّی اور ہریانہ جیسی صف آرائیاں موجود ہیں۔ یہ جنگیں کبھی دکھائی دیتی ہیں اور کبھی نہیں۔ کبھی کبھی یہ سڑکوں تک پہنچ جاتی ہیں اور کبھی حکومت کی فائلوں میں دبی چنگاری کی طرح وقت کا انتظار کرتی ہیں۔ ممبئی سے لے کر کیرل تک، یو۔پی، بہار اور مغربی بنگال؛ ہر جگہ پانی اور سیلاب کے متوقع اور غیر متوقع خطروں سے لوگ تباہ ہوتے رہتے ہیں۔ صرف ایک دلّی کو پینے کے لیے پانی دینے میں ہماچل، ہریانہ، اتراکھنڈ اور اترپردیش پست ہورہے ہیں۔ یہ بے چینی ایک دن گرم لاوا بن کر ہمارے امن و امان کو بگاڑنے کے درپے ہوگی۔ ہم خاموش تماشائی بن کر کب تک حکومتوں کی بے اعمالیوں کی سزا کاٹتے رہیں گے؟
سیلاب، زلزلے اور دوسرے قدرتی آفات کے لیے ہر حکومت منصوبے بناتی ہے اور اس کے بہانے کروڑوں اور اربوں کی رقم کے وارے نیارے ہوتے ہیں۔ بہار، یوپی اور مغربی بنگال کے محکمۂ آبی وسائل کو رشوت خوری اور مالِ مفت کے سرکاری کھیل کا مرکز مانا جاتا رہا ہے۔ قومی سطح پر جب کچھ دنوں کے لیے سی پی ٹھاکر اس محکمے کے وزیر ہوئے تو یہ فیصلہ ہوا کہ گنگا سے بالو اور گاد نکال کر ہٹائیں گے جس سے سیلاب کے امکانات کم ہوں گے۔ اوما بھارتی نے گنگا کی صفائی کا ایسا منصوبہ بنایا جو اخباری بیانات اور دفتری فائلوں میں ہی دَب کر رہ گیا۔ نتن گدکڑی نے گنگا ندی میں پانی جہاز چلانے اور مال ڈھلائی کے کام کو انجام دینے کے لیے اعلانات کی جھڑی لگا دی۔ نتیش کمار تین چار برسوں سے بیانات دے رہے ہیں کہ فرخّا باندھ توڑے بغیر بہار کے سیلاب کا حل نہیں۔ ہر چند اس سلسلے سے وہ بیانات دے کر بھول جانے اور پھر اگلی برسات میں آموختہ پیش کردینے سے ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکے۔
ماحولیات کے ماہرین کا سچّا فلسفہ ہے: ہمیں قدرت سے مقابلہ نہیں کرنا چاہیے۔ آدمی ہزار کرتب دکھائے، قدرت کی ایک مار کافی ہوتی ہے۔ اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی۔ ہمالیہ جب بڑھتا ہوا پہاڑ ہے تو آخر شمالی ہندستان میں زلزلوں سے نجات نہیں مل سکتی۔ ہمالیہ کی ندیوں سے اترپردیش، بہار ، مغربی بنگال اور آسام میں ہر سال سیلاب آتا ہے۔ انھیں حکومت کا کوئی منصوبہ نہیں روک سکتا۔ اس لیے پہلی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ان سے مالی اور اجانی نقصانات کم ہوں مگر اس کے لیے منصوبے نہیں بنتے۔پہلے سے بچاو اور نقصانات کو کم کرنے کے لیے کون کون سی تدابیر ہوسکتی ہیں، اس پر کسی حکومت کی کوئی دل چسپی نہیں۔ جب میڈیکل کالج میں بستروں کے نیچے پانی آجائے، سانپ رینگتے نظر آئیں تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ آفت سے زیادہ بد انتظامی اور غیر منصوبہ بندی ہے۔
یہ مرض ہر بڑے شہر کا ہے مگر پٹنہ کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ آج سے پچاس ساٹھ برس پہلے تک شہر کے ہر علاقے میں چھوٹے بڑے تالاب ہوتے تھے۔ نئی کالونیاں بنیں تو ان میں پارک اور بچوں کے کھیل تماشے کے لیے جگہیں مخصوص ہوتی تھیں۔ آخر یہ تالاب کہاں گئے۔ جگہ جگہ سرکاری خالی زمین کے پلاٹ کہاں ہضم ہوگئے۔ آخر ان پر سرکاری اور غیر سرکاری تعمیرات کے لیے کس حکومت نے منظوری دی؟ اگر منظوری نہیں دی گئی تو ناجائز تعمیرات کن لوگوں کی پشت پناہی میں انجام تک پہنچیں۔ کون سی سڑک اور کون سا نالا اپارٹمنٹ بنانے یا مال تیار کرنے میں ہڑپ لیے گئے، یہ کسے معلوم؟ ایسے کام حکومت اور افسران کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔
نتیش کمار کی حکومت لالو یادو کی برائیوں کو بیان کرتے کرتے پندرہ برس پوری کرنے والی ہے۔ لالو یادو بھی کانگریس کی بداعمالیوں کا ٹھیکرا پھوڑتے ہوئے اپنی ناکردگیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے تھے۔ آخر حکومت سے بے دخل ہوئے۔ مرکز میں بھی جواہر لال نہرو کی پالیسیوں کی غلطیوں کے سبب آج کی پریشانیوں کی بابت معذرت پیش کرنے والے وزرا نظر آتے ہیں جن کا عوامی سطح پر مذاق اڑتا رہتا ہے۔ یہ تمام حربے اپنی ناکامیوں اور بداعمالیوں کو چھپانے کی نوٹنکی ہی ہیں۔
ابھی اروند کجریوال نے دلّی کی بڑھتی ہوئی آبادی اور علاج کی سہولیات کے عدم توازن پر اپنی فکرمندی ظاہر کی تھی۔ مثال میں وہ غلطی سے بہار کا نام لے کر علاقائی تعصّب کی زد میں آگئے۔ دو اور ڈھائی کروڑ کی آبادی کے لیے اسکول، کالج اور اسپتال بھی دیکھیے۔ دلّی میں پچیس لاکھ کی آبادی ہوتی تو تعلیم اور صحت کے معاملات میں مسائل نہ ہوتے۔ سرکار ناکام ہوتی ہے تو پرائیویٹ کمپنیوں کی چاندی کٹنے لگتی ہے۔ جب دلّی والے معذرت کا رُخ اختیار کرلیں تو پٹنہ، لکھنؤ اور ضلعی سطح کے شہروں کا کیا ہوگا؟ جب تک سہولیات کا عوامی بٹوارا نہیں ہوگا، سب پریشانی کے عالم میں دلّی دوڑیں گے۔ جب دلی میں آرام اور سکون نہیں ملے گا تو ملک کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ ترقیات میں عدم توازن اور بے انصافی نے ملک کو یہاں تک پہنچا دیا ہے۔
اچھا انتظام کر مسائل کے بیچ سے حل کے راز پاتا ہے۔ بہار میں دشواری یہ ہے کہ نتیش کمار کی حکومت چاپلوس افسروں کی مٹھّی میں قید رہتی ہے۔ رٹائرمنٹ کے بعد بھی نئے نئے عہدے پیش کردیے جاتے ہیں۔ خود وزیر اعلا کے دوستوں کا کھُلا اقرار ہے کہ وہ ہر کام میں صرف اپنی قابلیت پر ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بہار کے اسکولی تعلیم کو انھوںنے جس طرح اندھی سرنگ میں پہنچا دیا ہے، وہاں سے اسے نکالنا محال ہے۔ رشوت خوری کا نظام سلیقے سے چل رہا ہے۔ شہری آبادکاری اور آبی وسائل کے معاملے میں ان کی ناکامی اُن کے اچھّے انجینئر ہونے پر سوالات قائم کرتی ہے۔ اب وہ مہاتما گاندھی کے فلسفے کے ماہرین میں خود شامل ہوگئے ہیں۔ گاندھی سے نیک نیتی اور صلاح و مشورہ جیسے اصول کو حکومت چلانے میں آزمالیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ بہا رکی زندگی بدل سکتی ہے ورنہ وہ کبھی نریندر مودی اور کبھی لالو یادو کی بیساکھیوں پر کب تک وزیرِ اعلا رہ پائیں گے انجام کی انھیں خبر ہونی چاہیے۔
[کالم نگار کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ میں صدر شعبۂ اردوہیں]
safdarimamquadri@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں