166

شہرِ شوق کا دیدار (قسط دوم )

فاروق اعظم قاسمی
ریسرچ سکالرجواہرلعل نہرویونیورسٹی، نئی دہلی
دل پہ ایک عجیب کیفیت طاری ہے ،ذہن بوجھل ہے اور اپنے گناہوں کی کثرت کے باعث ایسا محسوس ہو رہا ہےکہ کسی کام چور بیل کو سونٹا مار کر ہنکایا جارہا ہے ۔
میرا آبائی وطن شہر ِمونگیر ہے ، دادا ابا اور دادی اماں کی وفات کے بعد ابا مرحوم کو بڑی پھوپی جان اپنی سسرال مشکی پور لے آئیں اور یہیں ان کی پرورش و پرداخت ہوئی ۔ اب گزشتہ چند برسوں سے میرے دو بڑے بھائی صاحب نے بھی یہاں سے ہجرت کر کے سمری بختیار پور (سہرسہ ) میں سکونت اختیار کر لی ہے ۔ اب تک تو ہجرت میرے لیے انتہائی وحشتناک ہے آگے اللہ جانے ۔ چناں چہ اس وقت ستر فی صد میرا گھر سمری بختیار پور شفٹ ہو گیا ہے اور باقی حصہ مشکی پور میں رہ گیا ہے ۔ خیر ! میری ٹرین دہلی سے چل کر سمری بختیار پور پہنچنے کو تھی کہ حافظ ممتاز رحمانی (امام مسجد رانی باغ ، علاقہ سمری بختیار پور کے امور ِ حج کے ذمہ دار ) کا فون آیا کہ حج کی ٹیکہ کاری کے لیے فوراً ہسپتال پہنچیں ۔ ٹرین سے اترتے ہی سامان برادرزادہ عزیزم عمر کے حوالے کرکے بذریعہ موٹر سائیکل منظور (مستری ) کے ہمراہ ہاسپٹل پہنچا ، انجکشن اور میڈیکل بک لیٹ لیا پھر گھر پہنچا ۔
دوروز وہاں قیام کرکے مشکی پور آگیا ۔ بمشکل تمام وہاں بھی وہی دو ڈھائی دن رہ کر تمام اعزہ و اقارب سے ملاقات کر کے دعاؤں کی درخواست کی اور اماں کی زیارت کرکے ان کی دعاؤں کی گٹھری سمیت پھر سمری بختیار پور آگیا اس لیے کہ سفر کی ترتیب یہیں سے بنی تھی ۔ میرا گروپ تین افراد پر مشتمل تھا ۔ ایک جناب مسلم صاحب جو اسی علاقے کے پہاڑ پور سے تھے دوسری ان کی اہلیہ اور میں ۔ پٹنہ تک سفر تو کوئی خاص منظم نہیں تھا ، ان دونوں کے ہمراہ خاندان کا ایک پورا قافلہ ہم سفر تھا اس لیے وہ دوسری ٹرین سے حج ہاؤس پٹنہ روانہ ہو گئے اور ہمارے کارواں میں بڑے بھائی جان قاری سید منظر الحسن صاحب (امام و خطیب جامع مسجد سمری بختیار پور بازار )،منا بھائی (تمباکو کمپنی ) کن کی عنایتوں سے یہ سفر ممکن ہو پایا تھا ، اور عزیزم عبد الرافع تھے ۔
گھر سے روانگی کے وقت مخدوم چک (سمری بختیار پور ) کے تقریباً رشتہ دار موجود تھے ۔ میرے خالہ زاد بھائی ننھو مرحوم کی اہلیہ ، میری بھانجی ، بھائی جان کے خسر محترم جناب ماسٹر سید ظہیر الدین صاحب اور خوش دامن ، دونوں بھابھی اور جملہ بھتیجے اور بھتیجیاں وغیرہ ۔ اس موقعے پر بھابھی کی اماں جنھیں میں بھی ماں کا درجہ دیتا ہوں ، مجھے روایتی ہار پہنانے لگیں ، میں نے کہا امی! میں نے تو اپنی شادی کی تقریب میں بھی ان چیزوں کو ہاتھ نہیں لگایا اور دور رہا لیکن وہ بضد ہو گئیں ، میں نے ان کے جذبہ محبت کی قدر کرتے ہوئے ایک شرط کے ساتھ بات مان لی کہ گلے میں ڈال کر فوراً ہی نکال لوںگا ۔ خیر ایسا ہی ہوا اور ہار نکال کر میں نے اپنے بھتیجے حارث معین کے گلے میں ڈال دیا ۔ جب ہم لوگ اسٹیشن پہنچے تو دیکھا کہ پلیٹ فارم پر انسانوں کا زبردست ہجوم موجود ہے ، کہیں نعت خوانی ہورہی ہے ، کہیں پند و نصائح کی مجلس سجی ہوئی ہے ۔ کوئی روانہ ہونے والے حاجیوں اور حجنوں کو رخصت کرتے ہوئے آبدیدہ ہے تو کوئی ادھر بھاگ رہا ہے اور کوئی ادھر ، اور کچھ تو پھوں سے ایسے لدے ہوئے ہیں گویا کسی سوکھے درخت پر خودرو بیلیں لپٹ پڑی ہوں ۔
حافظ ممتاز رحمانی صاحب بھی پلیٹ فارم پہ موجود تھے ، وہ مجھے بھی ایک بھیڑ میں لے گئے اور دعا کے لیے مجھ سے کہا ، اولاً تو میں جھجھکا پھر اس بے حیثیت کے گناہگار ہاتھ دعا کے لیے اٹھے اور جو بھی بن پڑا اور سمجھ میں آیا اپنے مالک و رازق سے مانگا ، لیکن کیمروں کی شٹاشٹ اور حاجیوں کے پھولوں سے بوجھل کندھے مجھے بہت عجیب لگ رہے تھے ۔
اسٹیشن پر میرے بچپن کے تین دوست بھی موجود تھے ۔ سمری بختیار پور بازار کے مولانا منصور منگل ٹولہ کے نیاز اور پورینی کے نہال ۔ ساتھ ہی ننھو بھائی مرحوم کے تنہا وارث عزیزم اقدس ، منجھلے بھائی جان کے لخت ِ جگر حارث معین ، بڑے بھائی جان کے لاڈلے عبد الرحمن عاکف ، منجھلے بھائی جان اور منظور وغیرہ مجھے اسٹیشن تک رخصت کرنے آئے ۔
ہمارا قافلہ بذریعہ ٹرین پٹنہ کے لیے روانہ ہوا ، پٹنہ حج بھون پہنچے ، اللہ اکبر اس قدر انسانوں کا ہجوم ، ایک ایک حاجی کے پورا پورا محلہ وہاں آپہنچا تھا ، مجھے ایک بڑے ہال میں جگہ ملی جس میں تقریباً پچاس حاجیوں کے قیام کا انتظام تھا ، لیکن رخصت کرنے والوں کی اس قدر بھیڑ تھی کہ اصل حاجیوں کو دن میں لیٹنے اور رات کو آرام کے لیے مسجد اور صحن میں جگہ ڈھونڈنی پڑی ۔
ڈیڑھ دن کے اس بے ہنگم قیام میں حج سے متعلق تین تربیتی نشستیں ہوئیں ، پابندی سے ان میں حاضری ہوئی ،ایک نشست زیارت مدینہ طیبہ کے بارے میں تھی ، مولانا عبد الرحمن صاحب نے بڑی جامعت کے ساتھ ، بے تکلف اور خوب صورت انداز میں شہر ِ رسول کی عظمت اور وہاں کے آداب بتائے اور بات اتنے سادہ اسلوب میں کہی کہ ہر پڑھے لکھے اور بے پڑھے کی سمجھ میں آجائے ۔ایک دوسری مجلس میں ایک مولانا صاحب نے عمرہ اور احرام وغیرہ کے طریقے بتائے ۔ مغرب یا عشا بعد ایک تیسری مجلس سجی ، ایک بزرگ نے بڑی وجد آفریں تقریر کی جسے سن کر دل میں زیارت بیت اللہ کا شوق مزید جاگ اٹھا اور ماشاء اللہ سامعین بھی جھوم اٹھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں