85

شکیل الرحمن کی رومی شناسی

حقانی القاسمی

ترکی کے شہر قونیہ میں ایک آستانے کے دروازے پہ یہ شعر لکھا ہوا ہے:
کعبۃ العشاق باشد ایں مقام
ہر کہ ناکس آمد ایں جا شد تمام
وہیں ایک پتھر کی تختی سے گہرے بادامی رنگ کے دو عمامے بندھے ہوئے ہیں اور پاس ہی ایک قبر ہے جو ابھی تک حالت قیام میں ہے۔ یہ دونوں عنبر فشاں عمامے دونوں جہان کو محیط لگتے ہیں۔ یہیں وہ زندہ قبر بھی ہے، جہاں سے پرسوز آوازیں، جاں سوز الفاظ، درد مند نالے آج بھی عشق کائنات میں گونجتے ہیں۔
قونیہ کی قبر میں مدفون یہ ہستی ایک ایسا تہذیبی ثقافتی استعارہ اور فکری فینومینا بن گئی ہے، جس کے محور پر تاریخ، تہذیب اور شعریات گھومتی ہے اور جن کے تخیل کا طیف پوری کائنات پر سایہ فگن ہے، جن کے سوز پہ اب مغربی ساز بے تحاشا تھرک رہا ہے۔ یہ مشرقی دانش کی عظمت کی ایک پرنور علامت ہیں، جن کی حکمت سے کسب فیض کرنے والوں کی تعداد بے شمار ہے اور جس کے سوز میں کائنات کا مستقبل مضمر ہے۔ یونان کے پنڈار، اناکریون، سافو، الکایوس، سائمہ نائڈز جیسے تخلیق کار اب عہدِ پارینہ کا قصہ بن گئے ہیں۔ رومی، حافظ اور فردوسی کے نغموں نے اب ان صنادید یونان کو کم تر اور کہتر ثابت کردیا ہے۔ اُن کی مثنوی مانندِ الہامی صحیفہ ہے، جس میں اسرار کا خزانہ مستور ہے۔ دنیا کی ادبی، فکری، ثقافتی تاریخ میں یہ وہ کتاب ہے، جس کا نورانی ہالہ از کراں تا کراں روشن ہے اور اس کی ضیا فشانی سے کائنات منور ہے۔
مولانا رومی بلند پایہ معلم اور اسرار کائنات کے کشاف اور رمز شناس تھے۔ اُن کے تخلیقی، تہذیبی اور فکری شعور کی تفہیم ہر کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اُن کے تخلیقی،فکری، آفاقی شعور کی کلیت کے ادراک کے لیے ذہن رسا ہی نہیں؛ بلکہ ایک بیدار دل کی ضرورت ہے، ایک ایسے بیدار دل کی جس میں کائنات کی ساری دھڑکنیں سمائی ہوئی ہوں۔ ایسی کائنات گیر دھڑکنوں والے انسان کا نام شکیل الرحمن ہے۔ آج کے دورِ زوال میں یہ وہ باکمال انسان ہیں، جنہوں نے مولانا رومی کو اپنے دروں میں جذب کیا ہے۔ اُن کے عشقیہ نغموں کے مضراب کو اپنے سینے میں سجایا ہے۔ ان تخلیقی جمالیاتی جہتوں کا معنیاتی اکتشاف کیا ہے،جو مکتوم و مستور تھے۔ کسی بھی تخلیق کی جمالیاتی جہت کے اکتشاف کے لیے اعلیٰ درک اور عرفان کی ضرورت پڑتی ہے۔
مولانا رومی کا تخلیقی پرسونا اس قدر بلند اور مرتفع ہے کہ بہت سے ادب شناسوں کے ذہنی مطاف میں سما ہی نہیں سکتے۔ ان کی تخلیقی حسیت، اساطیری بصیرت، حکایتی رمزیت اور داستانی سریت کی کشفیت ایک ایسے ہی ذہن سے ممکن ہے،جس کی وسعتوں میں کائنات کے اسرار کا ادراک بھی شامل ہے۔ مولانا رومی کی تخلیقی شخصیت اور فکری وجود کے پراسرار ابعاد کو آشکار کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اس مشکل معرکے کو سر کرنے کے لیے لسانی آگہی یا زبان شناسی ہی کافی نہیں؛بلکہ مشرق کی ادبی، ثقافتی، تہذیبی روایت کا عرفان، شعور اور ادراک بھی ضروری ہے۔ شکیل الرحمن نے بڑا کارنامہ یہ انجام دیا ہے کہ مولانا رومی کی تخلیق کے اوج، موج اور تلاطم کو اپنی تحریر سے آشکار کیا ہے۔
رومی کی جمالیات کے تناظر میں شکیل الرحمن کا تنقیدی ادراک اور ادبی عرفان نہایت روشن،تابناک اور رخشندہ نظر آتا ہے۔ رومی کی جمالیات اپنی نوعیت کی ایسی منفرد کتاب ہے،جو صرف رومی شناسی نہیں؛ بلکہ تہذیب، تمثیل اور تخلیق شناسی کی ایک نئی جہت کی تفہیم میں معاون ثابت ہوگی۔ اس تخلیق کی تہہ میں جو جمالیاتی جہات اور بطون میں جو اسرار مضمر ہیں، ان کے اکتشاف کی ایک برومند کوشش ہے۔ انہوں نے تصوف سے مولانا رومی کی گہری وابستگی پر گفتگو کرتے ہوئے تصوف کے جمالیاتی ارتعاشات کو اظہارات کا لمس عطا کیا ہے اور اس کی جمالیاتی سریت کی کشفیت سے مولانا رومی کے تخلیقی باطن تک رسائی حاصل کی ہے۔
مولانا رومی کی تخلیق کا جوہرِ اصلی عشق ہے۔ عشق کی کیمیا گری اس تخلیق میں مکمل طور سے موجزن ہے۔ یہی عشق ہے جو انسان کے وجود کو تزکیہ اور تطہیر کے مرحلوں سے گزارتا ہے اور ایک ایسا آئینہئ شفاف عطا کرتا ہے، جس میں انسان کو اپنی ذات اور کائنات کی سریت نظر آتی ہے۔ رومی کی تخلیق کا سارا حسن، اس باطن کا حسن ہے، جس میں پوری کائنات آباد ہے اور اسے عشق کے آب نے مزید تابانی اور رعنائی عطا کی ہے۔
شکیل الرحمن نے رومی کی جمالیات میں مختلف تمثیلی حوالوں سے مولانا رومی کی ذہنی دراکی، طبعی ذکاوت اور فراست کے شواہد پیش کئے ہیں۔ حضرت یوسف، حضرت موسیٰ کا تمثیلی حوالہ کافی معنی خیز ہے اور اِن دونوں کے حوالوں سے مولانا رومی کے ذہنی اور فکری وجود میں پھیلے ہوئے نورانی ارتعاشات کی تجسیم ممکن ہے۔ انہوں نے رومی کے تخلیقی کمالات، فکری مدرکات اور عرفانیات کی تمام تر شکلوں کو اپنے مخصوص طریقِ نقد سے واضح کیا ہے۔
شکیل الرحمن ایک تفرد آشنا، اضطراب آسا ذہن رکھتے ہیں اور اُن کے ذہن کا اضطراب اور ان کی آشفتہ جولانی ہی انہیں تخلیق کی نئی نئی جہتوں کے انکشاف کی ترغیب دیتی ہے اور وادیئ امکاں کی سیر کراتی ہے۔ وہ اس اعتبار سے بہت ہی خوش طالع ہیں کہ انہوں نے ادب کی ایک ایسی جہت کو اپنایا ہے جس میں اُن کا مقابل آئینہ ہی ہے۔ تخلیق کے بطون میں مضمر جمالیاتی تہوں کا شعور اور اس کا ادراکی اظہار بہت کم ذہنوں کو میسر ہے،مگر شکیل الرحمن کے بالیدہ ذہن نے تخلیق کے بحرِ حسن میں غواصی کرکے اس کے تمام جمالیاتی اطراف و اکناف کو اس کی کلیت کے ساتھ پیش کردیا ہے اور تخلیق پر طاری نزع کی کیفیت کو حیات سے تبدیل کردیا ہے۔ تخلیق کو اپنے لفظوں کے آکسیجن سے زندگی عطا کرنا ہرکسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ اسی لیے شکیل الرحمن کو پڑھتے ہوئے وہ تخلیقات بھی جن کے چہروں پر مردنی سی چھائی رہتی ہے، توانا، تابندہ اور زندہ نظر آنے لگتی ہیں۔ یہ ان کی نگاہ کا کرشمہ ہے کہ مرجھائی ہوئی پژمردہ تخلیق میں بھی وہ جمالیاتی جوہر تلاش کرلیتے ہیں۔
شکیل الرحمن صاحب کسی بھی تخلیق کو پرکھتے ہوئے باطنی آنکھ کو بیدار رکھتے ہیں۔ مولانا رومی کی فکری تخلیقی جمالیات پر جس باریک بینی اور تنقیدی نشاط آفرینی کے ساتھ انہوں نے روشنی ڈالی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تخلیق کی پرکھ کا معیار عام پارکھوں سے مختلف ہے اور پھر یہی نہیں بلکہ’پیش نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں‘ والی کیفیت ان پر طاری رہتی ہے۔ وہ تخلیق کی ظاہری سطحوں کو مس نہیں کرتے؛بلکہ اُس کی تمام ممکنہ سطحوں کو اپنے اکتشافی جمالیاتی زاویہئ نگاہ سے دیکھتے اور پرکھتے ہیں۔ مولانا رومی کی تخلیقی جمالیات کو بھی انہوں نے دل کی آنکھ سے دیکھا ہے اور اس حسن کو محسوس کیا ہے، جو عام نگاہوں میں نہیں سما سکتا۔ مولانا رومی کے جمالیاتی نظام کے بارے میں یہ باکیف،وجد آفریں اقتباس پڑھئے:
”مولانا رومی کی غزلوں میں جو پیکر اور استعارے ملتے ہیں، وہ بہت جانے پہچانے ہیں۔ مثلاً شراب، ساقی، موتی، سمندر، آفتاب، مہتاب، شب، صبح، کارواں، محبوب، معشوقہ، لب شیریں، غمخوار، خورشید درخشاں، افسوں، گل، گلستاں، مطرب، درویش، کفر، ایمان، روح، چنگ، زخمہ، تار، یوسف، موسیٰ، فرعون، قارون، سلطان، عیسیٰ، سلیمان وغیرہ۔ مولانا رومی کی غزلوں کا مطالعہ کرتے ہوئے اس سچائی کا احساس ہوتا ہے کہ وہ ان صوفی شعرا سے مختلف ہیں، جو اپنے صوفیانہ تصورات و خیالات کو غزلوں میں سموتے رہے ہیں۔ مولانا رومی اپنی غزلوں میں صوفیانہ خیالات شعوری طور پر شامل نہیں کرتے۔ وہ غزل کے ایسے منفرد شاعر ہیں جو اپنے حسی اور جمالیاتی تجربوں سے قاری کے احساس جمال کو متاثر کرتے ہیں، قاری کے جمالیاتی وژن میں ایسی کشادگی پیدا کرنا چاہتے ہیں،جس سے وہ اوپر اٹھے اور شاعر کے ان تجربوں کو چھو لے جو تصوف کی جمالیات کے رسوں سے لبریز ہیں۔ مولانا رومی کے استعارے اور پیکر ارضی ہیں؛ لیکن وہ اپنے ’وژن‘ کو کبھی ارضی پیکروں اور استعاروں سے وابستہ کرکے نہیں رہ جاتے؛بلکہ ان کی شاعری اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ قاری کی خود ایسی روحانی اٹھان ہو جو شاعر کے حسی، نفسی اور جمالیاتی تجربات سے رشتہ قائم کرلے، یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں کئی جمالیاتی سطحیں ملتی ہیں، قاری کا رشتہ کبھی ایک اور اور کبھی ایک سے زیادہ سطحوں سے قائم ہوجاتا ہے۔ مولانا رومی کی غزلوں کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے بڑی شدت سے محسوس ہوا کہ ان کی غزلوں اور ان کی غزلوں کے اشعار کا ترجمہ صرف خیالات کی وضاحت کسی طرح کرسکتا ہے۔ ان کے آہنگ اور تجربوں کے جمال کو پیش نہیں کرسکتا۔ ’دیوانِ شمس‘ میں جمالیات کا ایک نظام قائم ہے اور اس جمالیاتی نظام میں آہنگ (Rythm) کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اشعار پڑھتے ہوئے جمالیاتی تجربے تو جمالیاتی آسودگی بخشتے ہی ہیں، آہنگ بھی بڑا جمالیاتی انبساط بخشتا رہتا ہے۔ تجربے اور آہنگ دونوں کا سرچشمہ متصوفانہ توانائی (Mystical Energy) ہے کہ جس کی پہچان آسان نہیں ہوتی۔ بہت سی غزلوں میں الفاظ دہرائے گئے ہیں۔ دہرانے کے عمل کا تعلق وجود کی وجد آفریں کیفیت سے ہے، لفظوں کے دہرائے جانے سے وجد طاری ہونے لگتا ہے، اس عمل کے تحرک کا تعلق روحانی کیف سے ہے، اشعار پڑھتے اور گنگناتے ہوئے ایک عجیب مسرت حاصل ہوتی ہے۔ لگتا ہے اپنے وجود سے باہر پروازکرتے جارہے ہیں۔“
جلال الدین رومی کے فکری تصورات اور ذہنی تخیلات کے اثرات ہماری ادبی اور تخلیقی دنیا پر بہت گہرے ہیں۔ طویل مدت گزرنے کے باوجود بھی اُن کی تخلیق میں شعور کی عصریت اور ماورائی عصریت کا شعور زندہ ہے۔ اُن کی تخلیق میں اُن کا آئینہ ادراک روشن ہے۔ اس لیے اُن کی تخلیق زماں و مکاں کی حدبندیوں سے ماورا اور لسانی سرحدوں سے بھی پرے ہے۔ خیالات کی کوئی قومیت، نسل نہیں ہوتی اور نہ ہی احساسات اور مدرکات کا کوئی مذہب ہوتا ہے۔ مولانا رومی کے نغموں نے بھی انسانوں کے اختراع کردہ تمام مصنوعی دائروں اور لکیروں کو پار کرکے اُن تمام ذہنوں میں اپنی جگہ بنا لی ہے، جنہیں انسانیت کی تمثال کہہ سکتے ہیں۔ رومی کی جمالیات ایک ایسی بازدید اور بازیافت ہے جس کی توفیق ہمارے عہد میں بہت کم لوگوں کو میسر آئی ہے۔ مولانا کی تخلیقی جمالیات کا اکتشافی اظہار پہلی بار ایک ایسے ذہن اور دل سے ہوا ہے جو منور بھی ہے اور پرسوز بھی۔ اُن کی تنقید میں تخلیقیت کی اتنی گہری آمیزش ہے کہ دونوں کے درمیان کی دیواریں ٹوٹتی سی نظر آتی ہیں۔ دراصل تخلیق کی کلیت اور وضعیت سے یہی ارتباط، شکیل الرحمن کو نقادوں کے ہجوم میں اپنی ایک الگ شناخت عطا کرتا ہے۔ اُن کے اسلوب کا حسن، اظہار کا جمال، خیال کی رعنائی و زیبائی اور لفظوں کے فطری بہاؤ کا جواب نہیں۔ اُن کے لفظ ویسے ہی رقص کرتے ہیں جیسے کف زناں رقصاں زتحریک صبا۔
سچ کہوں تو شکیل الرحمن نے اپنے مخصوص انداز میں بے ہنگم آوازوں کے شور میں جو ”تنقیدی دف“ بجایا ہے، اُس کی آواز دیر سویر ہر طرف گونجے گی۔ ان کی تنقید میں لفظوں کا ایسا پراسرار، مترنم اور وجد آفریں رقص ہے کہ ان کی تنقید کے مدھوبن میں تخلیق کی گوپیکائیں سکر میں سرشار جھومنے لگتی ہیں۔ اس تنقید میں زلیخائی جنونِ عشق بھی ہے اور حسن یوسفی بھی اور کسی بھی تخلیق کو یہی زلیخائی نظر چاہیے جو شکیل الرحمن کو میسر آئی ہے۔
شکیل الرحمن، مشرق و مغرب کے جمالیاتی فلسفوں اور رویو ں کے رمز شناس ہیں۔ یہ اپنے میدان کے فرد وحید، تنقید کے کوکب دری ہیں جن کے تنقیدی ادراک کا عرفان صحیح اگلے زمانے میں ہوگا جب دل کے ساز پر لکھنے والے نہیں رہیں گے اور جب عشق کی تجلیاں اور بے کرانیاں نہیں ہوں گی۔ شکیل الرحمن کے تجلی قلب سے نکلے ہوئے یہ گنجینہ اسرار لوگوں کے لیے نعمت غیرمترقبہ ثابت ہوں گے اور لوگ اس تنقید کی تخلیق کے اندر اپنی ثقافتی، تہذیبی اور فکری حسیت تلاش کریں گے۔
مولانا رومی نے ہمیشہ تمثیلات اور حکایات سے حیات و کائنات کے اسرار کی معنویت دریافت کی ہے اور نئے مفاہیم خلق کئے ہیں۔ بقول شکیل الرحمن:
”مثنوی مولانا روم، کے قصوں، حکایتوں اور کہانیوں کو پڑھتے ہوئے یہ بات بڑی شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ مولانا رومی ایک مسعود شعور یا Blissful Consciousness رکھتے ہیں اور اس کی بنیاد اس محبت پر ہے جو انسان کے لیے دل کی گہرائیوں میں پوشیدہ ہے۔ قصوں میں تلخی اور مٹھاس کی آمیزش ایسی ہے کہ قاری جمالیاتی انبساط حاصل کرنے لگتا ہے۔ مولانا رومی اپنی شاعری کی عظمت اور اشعار کی زرخیزی کی وجہ سے دنیا کے ایک بڑے شاعر ہیں، حکایتوں، قصوں کی کہانیوں میں جو حالات پیدا ہوتے ہیں ان سے قاری کی تخلیقی وابستگی فوراً ہوجاتی ہے۔ اس کا ایک سبب اظہار کی بے ساختگی یا بے ساختہ اظہار ہے۔ اسلوب کی سادگی، فطری امیجری اور پیش کش کے انداز میں ستھرائی صفائی سے اشعار پرکشش بن گئے ہیں۔ تجربے کی پیش کش میں زبردست بہاؤ ہے، اشعار تجربوں کے آہنگ کی وجہ سے پرآہنگ اظہار کی عمدہ مثال بن گئے ہیں۔ مولانا کے قصوں کہانیوں میں ڈرامائی کیفیتوں نے بڑی جان پرور کیفیت پیدا کردی ہے۔ یہ ڈرامائی کیفیتیں ایسی ہیں کہ قاری واقعات و کردار کو دیکھتے ہوئے، کرداروں کی گفتگو سنتے ہوئے، وقت اور مقام کو بھول جاتا ہے، ڈرامائی تکنیک کا کرشمہ ہے کہ احساس میں بڑی شدت پیدا ہوجاتی ہے۔ مولانا کی عمدہ ترین کہانیاں اور تمثیلیں وہ ہیں کہ جن میں اس عظیم تر سچائی (Higher Truth) کی پہچان ہوتی ہے کہ جسے فنکار نے اپنے روشن وجدان پر محسوس کیا ہے۔“
اپنے آرٹیکل کا ”ایپی لاگ“ لکھتے ہوئے میں ابن عرب شاہ کی اس تمثیل کا حوالہ دوں گا جس سے سر ولیم جونز نے متاثر ہوکر ”سیون فاؤنٹینس“ لکھا تھا۔ جس میں ایک نوجوان چھ دروازوں کا چکر لگانے کے بعد ساتویں در پر پہنچتا ہے تو اس کی آنکھ کھلی کی کھلی رہ جاتی ہے۔ وہ جو کچھ دیکھتا ہے وہ سب اسے طلسماتی خواب نظر آتا ہے۔ وہ ساتواں در جس میں کائنات کا سارا خزانہ ہے ہر کوئی نہیں کھول سکتا۔ شکیل الرحمن نے بھی تخلیق کے اس ساتویں در کو کھولنے کی کوشش کی ہے جس میں طلسمات اور تحیر کی تابناک کائنات آباد ہے اور اس ساتویں در تک صرف وہی فرد پہنچ سکتا ہے جس کا ذہنی وجود عقل کے آب اور عشق کے التہاب کا امتزاج ہو۔
آج جب کہ مولانا رومی کی تمثیل کے مطابق ہماری تنقید کی کشتی اور اس کے مسافر ہزاروں شب کی سیرکے بعد بھی ایک ہی کھونٹے سے بندھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اس کشتی سے الگ اپنے پاؤں کے سہارے قدم آگے بڑھانے کا حوصلہ یقینا قابل تحسین اور مبارک باد ہے۔
تخلیق کا دروازہ کھلا ہوا ہے،مگر لوگوں کی آنکھیں بند ہیں…
شکیل الرحمن اُس کھلے ہوئے دروازے میں بیدار آنکھوں کے ساتھ داخل ہوگئے ہیں اور طلسماتی تحیرات کا جمالیاتی اکتشاف کررہے ہیں۔ آج کی ادبی غنودگی اور نیم خوابیدگی کے ماحول میں اس ’بیداری‘ کی کتنی اہمیت ہے، اس سے ارباب خرد اور اہل جنوں دونوں واقف ہیں۔
E-mail:haqqanialqasmi@gmail.com
Cell:9891726444

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں