61

“شکوہ و جواب شکوہ :تقابلی جائزہ”


سیدہ صبیح گل
سوچا کہ یومِ اقبال سے اس بات کا عہد کروں کہ روزانہ کچھ نہ کچھ اچھا پڑھ کر اپنے دوستوں سے تھوڑا بہت اس سے متعلق شیئر کروں گی،تو آج ابتدا کر ہی ڈالی اور سیدھا اقبال کے کلام “شکوہ” اور “جواب شکوہ” کا رخ کیا ،چند ابتدائی تعارفی صفحات پڑھے ،پھر ان کے کلام پر کچھ اکابر کی آرا پڑھیں، کلام کے تاریخی پس منظر سے آگاہی حاصل کی۔ یوں تو یہ کلام اسکول کے وقت سے پڑھا ہے، پھر بعد میں بھی گاہے بگاہے پڑھنے کا موقع ملتا رہا، مگر باقاعدہ سنجیدہ مطالعہ کرنے کا سواد اور تجربہ ہی اور رہا۔ ایک مسدس “شکوہ” کا پڑھا اور پھر اسی مسدس کا جواب “،جوابِ شکوہ” میں پڑھا اور اسکے بعد کی جو کیفیات تھیں ،وہ واقعی پہلے سے مکمل مختلف محسوس ہوئیں۔جس طرح سے میں نے ‘شکوہ اور ‘جواب شکوہ کو تقابلی انداز میں پڑھ کر سمجھا، اکابرین کی آرا سے ساتھ ساتھ پرکھا ،اسی طرح سے بیان کرنے کی ادنی سی کوشش کر رہی ہوں۔
شکوہ
امتیں اور بھی ہیں، ان میں گنہگار بھی ہیں
عجز والے بھی ہیں، مست مئے پندار بھی ہیں
ان میں کامل بھی ہیں، غافل بھی ہیں، ہشیار بھی ہیں
سینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں
رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر
جواب شکوہ :
جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن، تم ہو
نہیں جس قوم کو پروائےنشیمن، تم ہو
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن، تم ہو
بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن، تم ہو
ہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کرکے
کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے
ڈاکٹر خلیفہ عبد الکریم مرحوم “فکر اقبال” میں اپنی رائے رقم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: شکوہ اسی ذہنیت کا آئینہ دار ہے جو عیسائیوں اور یہودیوں اور دوسری امتوں میں پائی جاتی تھی کہ ہم خدا کی منتخب قوم ہیں لہٰذا دوسروں کے مقابلے میں کسی حالت میں ذلیل اور بے بس نہیں ہونا چاہیے۔ اعمال کا کوئی سوال نہیں ، ہمارے عقائد تو برقرار ہیں۔ اقبال کا شکوہ اس کے اپنے قلب کی گہرائیوں میں سے نکلتی ہوئی آواز نہیں ہے۔ اس شکایت میں یوں سمجھیے کہ فقط عامتہ المسلمین کی غیر شعوری کیفیت کو بیان کیا ہے کہ مسلمان یوں محسوس کرتے، یوں کہتے اور یوں سمجھتے ہیں۔ اس شکوے میں مسلمانوں نے اپنے اعمال کی کوتاہی کو نظر انداز کیا ہے یا اسے بہت مدہم انداز میں بیان کیا ہے۔ ‘شکوہ میں اخلاق و ایثار و جہاد فی سبیل اللہ کے جتنے دعوے ہیں ،وہ اسلاف کے متعلق تو درست ہیں؛ لیکن اخلاف کے متعلق سر بسر بے بنیاد ہیں۔ ایسے دعوے اقبال کی طرف سے تو پیش نہیں ہوسکتے تھے۔ یہ سب کوتاہ اندیش اور خود شناسی سے محروم مسلمانوں کے بے بنیاد دعوے ہیں۔ مسلمانوں کے اعمال اور ان کی سیرت کا صحیح نقشہ وہی ہے، جو ‘جواب شکوہ میں خدا کی زبان سے بیان ہوا ہے۔ خدا نے مسلمانوں کے ایک ایک دعویٔ باطل کو توڑا ہے اور شکایتِ بےجا کا جواب دیا ہے”۔شکو ہ:
تجھ کو چھوڑا کہ رسولِ عربی کو چھوڑا؟
بت گری پیشہ کیا، بت شکنی کو چھوڑا؟
عشق کو، عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑا؟
رسمِ سلمان و اویسِ قرنی کو چھوڑا؟
آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں
زندگی مثلِ بلالِ حبشی رکھتے ہیں
جواب شکوہ:
کون ہے تارکِ آئینِ رسول مختارؐ
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار
کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار؟
ہوگئی کس کی نگہ، طرزِ سلف سے بیزار؟
قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمد ؐ کا تمھیں پاس نہیں
پروفیسر یوسف سلیم چشتی شرح بانگ درا میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ:”علامہ اقبال نے یہ نظم انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسے میں سنائی تھی ،جو اپریل 1909ء میں منعقد ہوا تھا۔ شکوہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے اردو ادب میں ایک انوکھی چیز ہے۔ ندرتِ تخیل کے علاوہ اس میں حقیقت نگاری اور شاعرانہ مصوری کی شان بھی بدرجۂ اتم موجود ہے۔ اس نظم میں اقبال نے لفظوں کے ذریعے مسلمانوں کی تاریخ کی تصویر کھینچی ہے اور تخیل کے موقلم سے اس میں ایسی رنگ آمیزی کی ہے کہ حقیقت مجسم ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ ان سب خوبیوں کے ساتھ ساتھ شکوہ کی زبان اس قدر دل کش ہے اور اشعار کی سلاست اور روانی کا یہ عالم ہے کہ پڑھنے والے پر محویت کا عالم طاری ہوجاتا ہے”۔ شکوہ:
کون سی قوم فقط تیری طلبگار ہوئی؟
اور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئی؟
کس کی شمشیر جہاں گیر جہاندار ہوئی؟
کس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئی؟
کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے؟
منہ کے بل گر کے ‘ھو اللّہ احد کہتے تھے
جوابِ شکو ہ :
تم ہو آپس میں غضبناک، وہ آپس میں رحیم
تم خطاکار و خطابیں، وہ خطا پوش و کریم
چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیم
پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیم
تختِ فغفور بھی ان کا تھا، سریر کے بھی
یونہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھی؟
پروفیسر سید وقار عظیم ’’سیارہ‘‘ اقبال نمبر مطبوعہ 1962ءمیں اپنی رائے کا اظہار فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ:”اس نظم میں اقبال کا لہجہ ویسا نہیں، جیسا دوسری پیغامی اور حکیمانہ نظموں میں ہے ؛لیکن لہجے کی جس بے تکلفی کو ہدفِ ملامت بنایا جاتا ہے، اتفاق سے وہی اس نظم کی سب سے بڑی اور سب سے اہم خصوصیت ہے اور اسی خصوصیت نے نظم میں بعض ایسی خوبیاں پیدا کی ہیں، جو اقبال کی صرف اسی نظم میں ہیں اور ایک انداز خاص میں اس نظم کے سوا اور کہیں نہیں ملتیں۔ اقبال نے ‘ شکوہ 1909ء میں لکھا، یہ لہجہ اقبال کے عام حکیمانہ لہجہ سے مختلف ہے ،لیکن اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ جس ذہنی اور جذباتی پس منظر میں یہ نظم لکھی گئی ہے، اس کے عین مطابق ہے اور سچ پوچھیے، تو یہ اندازِ تخاطب لطف سے خالی نہیں ؛اس لیے کہ اسی کی بدولت نظم میں بلا کی روانی بھی پیدا ہوئی ہے اور کہیں کہیں ایسی شوخی بھی ،جو پڑھنے والے کو مسرور کرتی ہے”۔
عقل ہے تیری سپر، عشق ہے شمشیر تریی
مرے درویش! خلافت ہے جہاں گیر تری
ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری
تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں!!(جواب شکوہ)
اگر ان منظومات کا تقابلی جائزہ لیا جائے ،تو ان دو نظموں میں اسلامی تاریخ، فلسفہ، مذہب اور شاعری ایک دوسرے کے ساتھ منسلک نظر آتے ہیں، علامہ اقبال نے ان تمام چیزوں کو بڑے حقیقت پسندانہ انداز میں بیان فرمایا ہے۔ روایات کی بجائے انھوں نے حقائق پر زیادہ بھروسہ کیا ہے۔ المختصر یہ کہ سلاست، روانی، شوکتِ الفاظ، معنی آفرینی، تاثیرِبیان، سوز و گداز، بحر کی موزونیت، منظر کشی اور حقیقت نگاری”شکوہ” اور ” جوابِ شکوہ” کی نمایاں ترین ادبی خوبیاں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں