83

شمیم قاسمی کی شاعری-شبدوں کی نئی سادھنا


حقانی القاسمی
نئی دہلی

مروجہ ومعمولہ فکری نظام اور لسانی رویے سے انحراف شمیم قاسمی کا نقطۂ امتیاز ہے۔ اس امتیاز میں بھی اشتراک کی گنجائش یوں نکل سکتی ہے کہ کچھ نئے شاعروں کا رویہ بھی انحرافی رہا ہے۔ سو اس باب میں بھی شمیم قاسمی کا انفرادیہ ہے کہ انہوںنے انحراف کے اس عمل میں بھی انبوہ سے الگ ایک نیا طور وطرز اختیار کیا۔ اظہار کے شور میں اپنے احساس اور ادراک کی رعنائی کوکھونے نہیں دیا۔ شکستہ اور کھردرے لفظوں سے شگفتگی کی ایک نئی تصویر بنائی —
 زندگی کی حرارتوں سے عاری لفظوں کو ایک نئی زندگی دی۔ حاشیائی الفاظ (گھریلو/ عوامی/ قصباتی) کو اپنے تخلیقی اظہار کا حصہ بنایا۔ ہر وہ لفظ جس سے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پہ ملاقات ہوئی ہے، چاہے وہ لفظ محلے کا ہو یا محل کا، گلی، کوچے کا ہو یا کھنڈر کا۔ ان کے تحت الشعور میں بسا ہر لفظ اپنی تمام تر جمالیاتی کیفیتوں کے ساتھ ان کے شعری آہنگ میں شامل ہے۔شبدوںکی نئی سادھنا ہی شمیم قاسمی کا وہ شناخت نامہ ہے جس کی وجہ سے ان کی راہ اوروں سے الگ ہوگئی ہے۔
مخلوط اور ممزوج لہروں کے مابین ایک نئی لہر کی تشکیل آسان نہیں ہوتی، اس کے لیے بڑی جانفشانی، عرق ریزی کے ساتھ آشفتہ سری اور جنون کی ضرورت پڑتی ہے۔شمیم قاسمی جنوں صفت بھی ہیں، آشفتہ سر بھی۔ ذوق پرواز اور قوت پرواز سے معمور بھی ہیں۔ امکانات کے نئے افق تلاش کرنے کا جذبہ بھی ہے۔ انہوںنے اپنی تخلیقی ریاضت اور توانائی اسی جستجو پہ صرف کی ہے، اس لیے انہیں شاعری کے نئے موسم بھی میسر آئے اور ان موسموں کو نئی اڑان بھی ملی اور اس اڑان نے انہیں نئے تخلیقی آسمان بھی دیے اور اس آسمان کی وسعتیں/ گشادگیاں بھی ان کا نصیب بنیں اور اسی آسمان نے ارضیت سے ان کا رشتہ اس طرح جوڑدیا کہ زمین کی روح ان کی تخلیق کی آتما بن گئی۔
’پابرہنہ‘ اسی گہری آتمیتا کا اظہار اور ان کے جنون کا استعارہ ہے۔ جنون نے ہی زمین اور زندگی کی ناہمواریوں کو ان کے ہاں ہموار صورت عطا کی ہے۔
شمیم قاسمی کے یہاں لفظیاتی سطح پر ناہمواری کی یہ کیفیت زیادہ نمایاں ہے اور یہ ان کی سرشت سے ہم آہنگ ہے۔ لفظ کی ساختیاتی تشکیل بھی جبلت سے جڑی ہوتی ہے۔ شمیم قاسمی کی طبع آزاد نے کچھ ایسے لفظ وضع کئے ہیں جو شاعری کی فرہنگ اور فکر کا حصہ نہیں رہے۔بقول شمیم   ؎
ہے پرانی غزل حویلی مگر
ہم نے تھوڑے بدل دیئے نقشے
کھردرے، شکستہ، نامانوس، اجنبی لفظیات کے ذریعہ شمیم قاسمی نے غزلیہ شاعری کی لسانی ثروت میں نہ صرف اضافہ کیا ہے بلکہ اسے نئی حدتوں اور شدتوں سے بھی آشنا کیا ہے۔ ایسے لفظوں کی وجہ سے غزل حویلی کا نقشہ بھی بدلا ہے اور تہذیب کا تصور بھی۔
دروازہ خیال کو کھلنا تھا نہ کھلا
بارش میں اولتی کے میں نیچے کھڑا رہا
بس دیکھنے کی چیز ہے دیوار صحن دل
معمار سنگ وخشت کو ساہل سے کیا میاں
آندھی چلی تو ذہن میں نونی جھڑی بہت
یہ مورچہ سنبھالے گا ’’میواڑ‘‘ باندھ کر
پروا بہی تو چٹی کچٹ ضرب دے گئی
خنجر بدن سے زنگ چھٹا، دھار ہوگئی
اک چھید کر کے دل میں، بنائے گی الگنی
چندری کو پھر سکھائے گی وہ پاڑ باندھ کر
ذہن میں جب کوئی شرارت ہو!
اس کو پنگھٹ پہ بھورے بھور پکڑ
صرف دیکھوں تو دل کرے اک بک
کیوں چیہارے ہے منہ نگوڑا فلک
یہ شامیانہ سخن کا قرار جاں ٹھہرا
یہاں قیام کرے جو پٹور ہوجائے
تفہیم شعر ایک بہانہ ہے اصل میں
میرے سخن محل کو وہ کھنڈرانے آئے ہیں
یہ کیا کہ ننگے پاؤں اترنے کے شوق میں
دریائے دل سکوت کو بھنوارنے آئے ہیں
مری تعریف کے پل باندھتا ہے
یہ سازش ہے مجھے درگورنے کی
لسانی سطح پر تحریف اور تصریف کے اس عمل نے شمیم قاسمی کی شاعری کو صرف نیا ذائقہ نہیں بلکہ نیا زاویہ بھی دیا ہے۔ غزل جیسی نازک اور لطیف صنف سخن میں خط کشیدہ الفاظ اولتی،ساہل، میواڑ، چٹی، پاڑ، بھورے بھور، اک بک، چیہارے، پٹور، محسوسیے، کھنڈرانے، بھنورانے، درگورنے اور اس طرح کے اور الفاظ کا استعمال اس طرح خوب صورتی سے کرنا کہ غزل کی نزاکت مجروح نہ ہو، بہت مشکل کام ہے۔
شمیم قاسمی نے ایسے ہی مشکل معرکے سر کئے ہیں اور ایسی ہی مشکلوں میں انہیں مزہ بھی آتا ہے   دراصل شاعری میں فکر و خیال کی سطح پر اتنی یکسانیت اور توارد ہے کہ اس میں اپنی الگ ایک شناخت قائم کرنا خاصا دشوار ہوجاتا ہے۔ اس کے لئے کوئی نہ کوئی ایسی راہ ضرور تلاش کرنی پڑتی ہے جس پہ قدموں کے نشان کم ہوں۔ شمیم قاسمی نے جو راستہ چنا ہے اس میں آہٹیں تو سنائی دیتی ہیں مگر نشان نظر نہیں آتے۔ شمیم قاسمی کو پامال راستوں سے یوں بھی وحشت ہے اس لیے یہ ان کی فطری مجبوری ہے کہ بھیڑ بھڑکے میں بھی وہ اپنا راستہ الگ کرہی لیتے ہیں۔
بلا سے ہاتھ نہ آئے کلید فکر سخن
میں شعر کہتا ہوں جب بھی تو اپنی ہی کٹ کا
شمیم قاسمی نے افتخار جالب کی طرح لسانی تشکیل کے تجربے تو نہیں کئے ہیں مگر جون ایلیا سے ان کی تخلیقی جان کا گہرا رشتہ ہے اس لئے لفظوں کے تئیں وہی لا ابالی پن ہے جو جون کا رہا ہے۔ انہیں بھی احساس ہے کہ لفظوں سے لہو ولعب نہ ہو تو بیان میں مزہ خاک بھی نہیں۔ سخن میں لطف جب ہے کہ اس سے چھیڑخوباں کا سا سلوک کیا جائے -تبھی تو لفظ کے بند قبا کھلتے ہیں اور معانی کے نئے جہاں آباد ہوتے ہیں۔
لفظ کو بھی نئی آنچ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کہنگی اور فرسودگی سے نجات دلانے کے لئے یہ عمل ناگزیر ہے۔ شمیم قاسمی لفظوں کے حیاتیاتی رمز سے آشنا ہیں اس لئے لفظوں کو ’حیاتین‘ عطا کرنے کے لئے کھلواڑ کرتے رہتے ہیں اور اس طرح لاشعوری طور پر ایک نئی لسانیات وضع کرتے ہیں۔
ہے ضرورت شعریات نو کی اب
وہ نکھٹو ہم زباں ہوتا گیا
شمیم قاسمی نے زبان کو بہت سی زنجیروں سے آزاد کیا ہے اور لفظوں کو آزاد فضا کی سیر بھی کرائی ہے۔ محدود مقام اور مفہوم میں مقید لفظوں کی کراہ کو انہوںنے سمجھا ہے اس لئے لفظوں کو ’’حیاتیاتی تعیش‘‘ عطا کرنے کے لئے لفظوں کی ساخت بھی بدلی ہے، سانچے بھی تبدیل کئے ہیں۔ اپنے پیش لفظ میں ان کا یہ کہنا صحیح ہے کہ:
’’نئے معنوی جہان کا ادراک حاصل کرنے کے لیے کھردرے، سپاٹ، بے رس، فرسودہ اور غیرمانوس الفاظ کو بھی ایک نیا رنگ وروپ تو دیا ہی جاسکتا ہے۔ میرا ایسا ماننا ہے کہ روز مرہ کی بول چال یا پھر اپنے اطراف کی سادہ پرکار زبان کے غیرشاعرانہ، غیرمستعمل الفاظ کو بھی شعوری فن کارانہ ڈھنگ سے شعر کے قالب میں اس طرح اتارا جاسکتا ہے کہ شاعرانہ جذبوں کی ترسیل کا مسئلہ نہ رہے۔‘‘
خوشنما لفظ کے ٹاپو سے نکل
صوت و آہنگ کے جادو سے نکل
ڈھونڈ تخلیق نمو کی قوت
چھوڑ مٹی کبھی بالو سے نکل
شمیم قاسمی کے لفظیاتی نظام پر غور کیا جائے تو محسوس ہوگا کہ ان کے ہاں لفظیاتی تقلیب کا عمل دراصل ’’لفظی/ لسانی اشرافیت‘‘ کے خلاف ایک طرح کا احتجاج ہے۔ الفاظ پر کسی خاص طبقہ کی اجارہ داری نہیں ہوسکتی کہ الفاظ تمام سماجی طبقات کے جذبات کی ترسیل کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ہماری سماجی ساخت بھی زبان اور الفاظ وضع کرتی ہے۔ الگ الگ تہذیبی معاشرہ کا اپنا لسانی نظام ہوتا ہے اور ہر معاشرہ کے وضع کردہ لسانی نظام کی اپنی قوت ہوتی ہے۔ کسی بھی لفظ کو اشرافیانے کا مقصد اس کے ترسیلی جوہر کو ختم کرنا ہے۔ ہرلفظ کے درون میں ایک قوت ہوتی ہے۔ اس کا رشتہ شہری تمدن سے ہو یا دیہی ثقافت سے ۔ ہر لفظ اپنے معنی کی ترسیل میں خود مکتفی اور آزاد ہوتا ہے ۔ شمیم قاسمی نے لفظوں کی طبقاتی تقسیم کے بجائے لفظوں کی وحدت اور قوت پر زور دیا ہے۔ ان کے نزدیک ہر وہ لفظ زندہ اور پرقوت ہے جو کسی بھی معاشرہ میں مستعمل ہے۔ اشرافیہ اور غیراشرافیہ کی تقسیم یا تخصیص لفظوں کے باب میں بے معنی ہے کہ لفظ بنیادی طورپر انسانی جذبہ اور احساس کی ترسیل سے جڑا ہوا ہے۔ بسااوقات شہری الفاظ جذبہ کی اس طور پر ترسیل نہیں کرپاتے، جس طرح دیہی الفاظ کرسکتے ہیں۔ شمیم قاسمی نے شاعری سے جلاوطن کئے گئے لفظوں کو اپنی غزل میں اس لئے جگہ دی ہے کہ ایک خاص اشرافیہ ذہن کی ’لسانی حد بندی‘ کو توڑا جائے اور ترسیلی دائرے کو وسیع سے وسیع تر کیا جائے۔ ان کا یہ خیال بہت اہم ہے اور جدید لسانیات کے نقطۂ نظر سے قابل قدر بھی کہ ’’کوئی بھی لفظ کسی بھی عہد میں بے معنی اور بے وقعت نہیں ہوتا کہ لفظ ہی ہماری شاعری کا بنیادی جوہر ہے۔‘‘ لفظ کو زمانی، مکانی، طبقاتی حصار سے نکال کر ’جوہری‘ تناظر سے دیکھا جائے تو پھر متروک اور غیرمستعمل کا مسئلہ ہی ختم ہوجائے گا۔
ہرعہد اور تحریک کی ترجیحی فہرست میں کچھ الفاظ ہوتے ہیں جو اس کے نظری اور فکری تشخص کی پہچان بن جاتے ہیں۔ ترقی پسندی، جدیدیت، رومانیت کی بھی اپنی مخصوص لفظیات ہیں۔ صارفی معاشرت کی بھی کچھ لسانی/ لفظی ترجیحات ہیں۔ کنزیومر کلچر کے وضع کردہ بہت سے الفاظ اور اصطلاحات بھی ہماری جدید شعری فرہنگ کا حصہ بنے ہیں۔ شمیم قاسمی کی شاعری میں بھی صارفی سماج کے شناختی نشانات ملتے ہیں۔ لفظیاتی اور فکریاتی سطح پر ان نشانات کی شناخت بہت آسانی سے کی جاسکتی ہے۔
یہ شعر ویر کسی کام کا نہیں پیارے
ہے گرم جیب تو پہلو میں وہ بھی آلے گی
وصل کی شب ذرا مہکی بھی ہے
اس لئے سوڈا بھی وہسکی بھی ہے
غزل وزل کبھی ہوتی تھی ڈارلنگ میری
تو دیکھتے نہیں بنتی تھی وہ فٹنگ میری
ریفریجریٹر کے عادی ہم
بھول گئے سب مٹکی مٹکا
افتخار جالب اور ظفر اقبال کی طرح شمیم قاسمی نے جہاں لسانی توڑ پھوڑ کا تجربہ کیا ہے، وہیں code mixing بھی ان کے تخلیقی تجربہ میں شامل ہے۔
مری سرشت میں بوئے وفا تلاش نہ کر
شروع سے ہی یہ فطرت رہی کننگ میری
الگ سے اپنی وہ پہچان چاہتا ہے اب
اسی خیال سے لوٹا گیا ہے رِنگ میری
یہ ڈکشن بھی صارفی کلچر کا ہی فیض ہے۔ صارفیت نے ان لفظوں کو صرف بازار نہیں ہمارے تخلیقی فکر وفرہنگ کا بھی حصہ بنادیا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ان لفظوں میں غنائیت/ موسیقیت ہے یا نہیں؟ مگر اتنا طے ہے کہ صارفی ثقافت ان لفظوں میں شعریت کی روح پھونکنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ شاعری کی روح بدلے گی تو لازمی طور پر اس کا جسم بھی تبدیل ہو گا۔
شمیم قاسمی کو اردو غزل کی روح اور جسم کی تبدیلیوں کا احساس ہے اس لئے وہ پرانے ڈھانچے سے نکل کر نئے سانچے میں ڈھلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کلاسیکی شاعر ولی دکنی کے اس احساس کے ساتھ کہ:
راہ مضمون تازہ بند نہیں
تا قیامت کھلا ہے باب سخن
شمیم قاسمی اسی مضمون تازہ کی تلاش میں ’مقامات گمشدہ‘ تک بھی پہنچے ہیں اور ان کھنڈروں میں بھی جہاں کی ویرانیوں میں بھی تخیل کا ایک جہاں آباد ہے   ؎
جذبہ شعر و ادب کی اس طرح تکمیل کر
فکر تازہ سے جہان تازہ کی تشکیل کر
شمیم قاسمی کے ’جہان تازہ‘ میں حسن وعشق کی کیفیات بھی ہیں۔ عالمی  وقوعات وواردات بھی۔ انسانی کائنات پر گزرنے والے سانحات بھی اور عصری غزل کے بیشتر موضوعات بھی — جن میں فرقہ وارانہ فسادات، دہشت گردی، ظلم وستم، ناانصافی، اقدار کی پامالی، کرب ذات، غم کائنات سب شامل ہیں    ؎
بارود کی بدن سے بہت پھوٹتی ہے بو
آئے ہو تم ابھی ابھی کابل سے کیا میاں
شمیم قاسمی کے چمنستان شعر میں باغ بدن کی خوشبو بھی ہے   ؎
ایک دن سیر بدن کی بھی کریںگے لیکن
آج ہم خوش ہیں بہت چاند کا چما لے کر

گود میں آئے گا زرخیز بدن
رقص بزم دل بیمار تو ہو
شمیم قاسمی ایک طرحدار اور البیلے شاعر ہیں۔ انہوںنے جس موضوع کو بھی چھوا، اس میں ایک نئی کیفیت اور نئی حدت خلق کردی۔ یہی ان کا کمال ہنر ہے۔
شمیم قاسمی کا ’پابرہنہ‘ ایک نئے لسانی کلچر کا اشاریہ ہے۔ اسے ہمارا موقر ادبی معاشرہ قبول کرپائے گا یا نہیں، یہ الگ مسئلہ ہے مگر اتنی بات تو کہی جاسکتی ہے کہ صارفی کلچر میں اب غزل کی وہ زبان نہیں ہوگی جو میر تقی میر یا غالب کے زمانے تھی۔ نظیر کی طرح زبان کا زائچہ اور ذائقہ بدلنا ہوگا اور نامانوس، غیرمستعمل، متروک الفاظ کو بھی شامل کرنا ہوگا تبھی غزل کی زبان صارفی عہد سے ہم آہنگ ہوپائے گی۔
شمیم قاسمی کو مستقبل کے آہنگ اور احساس کا ادراک ہے۔ اس لیے انھوں نے غزل کے نئے لفظیاتی نظام سے رشتہ جوڑا ہے اور اپنے فکر کا زاویہ بھی تبدیل کیا ہے۔ اسی وجہ سے ان کی شاعرانہ اکڑتکڑ سب سے الگ نظر آتی ہے اور ان کے زور زبان اور لطف بیان کا جادو بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں