112

شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام ’سجاد ظہیر یادگاری خطبہ‘ کا انعقاد کیا گیا

اردو میں ترقی پسند تحریک سب سے زیادہ مقبول اور سب سے زیادہ معتوب بھی رہی:پروفیسر شارب ردولوی
۲۱؍ اگست ۲۰۱۹،نئی دہلی
ایسے یادگارا ور خوشگوار لمحے بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں کہ ایک ساتھ اردو شعر و ادب کی متعدد دیو قامت ہستیاں جلوہ افروز ہوں۔ لیکن یہ حسن اتفاق میر انیس ہال، دیارِ میر تقی میر، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اس وقت ظہور پذیر ہوا جب سجاد ظہیر یادگاری خطبے میں پروفیسر شمس الرحمن فاروقی، پروفیسر شارب ردولوی، پروفیسر شمیم حنفی، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، پروفیسر عتیق اللہ اور سجاد ظہیر کی بیٹی نور ظہیر جیسی قاموسی شخصیات بیک وقت مجتمع ہو گئیں۔
سجاد ظہیر یادگاری خطبے میں پروفیسر شارب ردولوی نے ’’اردو میں نظریاتی تنقید: پس منظر اور پیش منظر‘‘ کے موضوع پر خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو میں ترقی پسند تحریک سب سے زیادہ مقبول اور سب سے زیادہ معتوب بھی رہی۔ سجاد ظہیر کا امتیاز یہ ہے کہ وہ ترقی پسند تحریک کی تمام تر شدتوں اور جارحانہ ادعائیت کے ماحول میں اعتدال کا استعارہ ہیں۔ یادگاری خطبے میں معروف بزرگ نقاد پروفیسر شارب ردولوی نے اردو کی تمام تر نظریاتی تحریکات و رجحانات اور تنقیدی دبستانوں پر گفتگو کرتے ہوئے ان کی خصوصیات کے ساتھ بے اعتدالیوں کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں نو کلاسیکیت، علی گڑھ تحریک، رومانویت، ترقی پسند تحریک، جدیدیت اور ما بعد جدیدیت کے علاوہ اردو تنقید کے مختلف میلانات اور فکری لہروں پر مدلل اور منضبط بحث کی۔ صدارتی خطاب میں پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے مہمان خطیب کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیاکہ نئے تنازعے، نئے نظریات،چیلنجز اور مسائل کا سلسلہ کبھی رکنے والا نہیں ہے۔ صحت مند فکر و نظر کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے استقبال کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے۔مہمان اعزازی پروفیسر عتیق اللہ نے خطبے کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا کہ اس مقالے میں بہت سے بحث انگیز مسائل پر غور و فکر کے لیے مہمیز کیا ہے۔ کوئی بھی نظریہ یا معیار حرف آخر نہیں ہے۔ پیمانے بنتے ہی ہیں ٹوٹنے کے لیے۔ آج بین العلومیت کا دور ہے۔ نئے تنقیدی رجحانات میں نو مارکسیت، نو تاریخیت اور مابعد نو آبادیاتی رجحانات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بحیثیت مہمان اعزازی ڈین فیکلٹی برائے علوم والسنہ پروفیسر وہاج الدین علوی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اردو کی کہکشاں اتر آئی ہے۔ ایسا خوبصورت نظارہ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے اور یقیناً یہ موقع تاریخی اور یادگار ہے۔ استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے صدر شعبۂ اردو پروفیسر شہزاد انجم نے سجاد ظہیر یادگاری خطبے کے حوالے سے کہا کہ اس خطبے کی بنیاد سابق وائس چانسلر پروفیسر مشیر الحسن نے رکھی تھی اور اس سلسلے میں بیشتر اردو کے عظیم نقاد اور دانشوروں نے یہ یادگاری خطبہ پیش کیا ہے۔ نظامت کے فرائض پروفیسر کوثر مظہری نے انجام دیتے ہوئے سجاد ظہیر کی حیات و خدمات کا مفصل احاطہ کیا اور کہا کہ سجاد ظہیر کی زندگی، شخصیت، علمی و ادبی خدمات اور فکرو نظرتو اہم ہے ہی نیز انھوں نے ترقی پسند تحریک بپا کرنے میں جس جانفشانی اور ایثار و قربانی کی نظیر قائم کی وہ ادبی تاریخ میں ایک مثالی نمونہ ہے۔پروگرام کا آغاز ڈاکٹر شاہ نواز فیاض کی تلاوت اور اختتام خطبے کے کنوینر پروفیسر شہپر رسول کے اظہار تشکر پر ہوا۔
اس خوبصورت اور تابناک ادبی محفل کے چشم دید گواہوں میں پروفیسر خالد محمود، پروفیسر شہناز انجم، ڈاکٹر ارشاد نیازی،انجم عثمانی، ڈاکٹر صغیر احمد صدیقی، محمد خلیل سائنسداں، پروفیسراحمد محفوظ، پروفیسر عبد الرشید، ڈاکٹر خالد جاوید، ڈاکٹرندیم احمد، ڈاکٹرعمران احمد عندلیب، ڈاکٹر سرورالہدیٰ، ڈاکٹر خالد مبشر، ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر سید تنویر حسین، ڈاکٹرابو الکلام عارف،ڈاکٹرثاقب عمران، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر سلطانہ فاطمہ واحدی، ڈاکٹرمحمد مقیم، ڈاکٹر عادل حیات، ڈاکٹرمحمد آدم، ڈاکٹر سمیع احمد،ڈاکٹرنوشاد عالم، ڈاکٹرحنا آفرین، ڈاکٹرواثق الخیر، ڈاکٹرمغیث احمد، ڈاکٹر علاؤالدین، ڈاکٹرنعمان قیصر، ڈاکٹرمحضر رضا،ڈاکٹر فیضان شاہد،ڈاکٹر سلمان فیصل اور سلمان عبد الصمدوغیرہ کے علاوہ کثیر تعداد میں ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات موجود تھے۔

(تصویر میں دائیں سے بائیں:پروفیسر کوثر مظہری ، پروفیسر شہزاد انجم ، پروفیسر شمیم حنفی ، پروفیسر شارب ردولوی (لکھنؤ) ، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی ، پروفیسر عتیق اللہ ، پروفیسر شمس الرحمن فاروقی ، پروفیسر وہاج الدین علوی اور پروفیسر شہپر رسول )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام ’سجاد ظہیر یادگاری خطبہ‘ کا انعقاد کیا گیا” ایک تبصرہ

  1. یہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کی بہترین ادبی روایت ہے۔ متعدد بار میں نے شرکت کی ہے۔خطبے کی خبر جب بھی ملتی ہے خواہش جاگتی ہے کہ کاش میں بھی موجود ہوتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں