88

شرک(افسانہ)


عبدالمنان صمدی
سنو!مجھے لگتا ہے کہ اب ہمیں اپنی ملاقات پر قدغن لگانا چائیے ـ
کیوں ایسا کیوں لگتا ہے، تمہیں
کیا میری کسی بات و حرکات و سکنات سے تمہیں کوئی دکھ پہنچا ہےـ
اگر ایسا ہے تو، پلیز مجھے بتاؤ
بتاؤ، تمہاری خاموشی مجھے گمشدہ چوٹ کے درد کا احساس دلا رہی ہےـ
لائبہ نے ایک ہی سانس میں فراز پر لفظوں کی بارش کردی، اور فراز بھی خاموشی سے اس کی نفسیات کا مطالعہ کرنے لگا، ویسے بھی وہ عورت کی نفسیات جاننے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے، برسوں کے کتابی مطالعہ اور پریکٹیکل لائف کے تجربات سے وہ اس نتیجے پر پہچا تھا. کہ صفحہ ہستی پر خدا کی سب سے زیادہ ظالم مخلوق کوئی نہیں مگر عورت ذات کے یہ بات وہ مجمع عام میں بھلے نہیں کہتا تھا لیکن دل سے یہی مانتا تھا..
جہاں وہ ایک طرف ایسی سوچ رکھتا تھا وہی دوسری طرف اس کو خواتین میں دلچسپی بھی تھی اور اس کو اپنی اس عادت پر حیرت بھی ہوتی تھی.. وہ خود کو نفسیاتی مریض بھی نہیں مانتا تھا کیونکہ وہ اپنی سوچ کو دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا اور اس کو اس پر فخر بھی تھاـ
لائبہ نے اس کو جھنجھوڑ تے ہوئے کہا بتاؤ کیا بات ہے ہمیں کیوں اپنے ملنے جلنے پر قدغن لگانا چائیے،، بتاؤ
فراز.. کیوں کہ میں شادی شدہ فرد ہوں اور تم ایک باکرہ ہوـ
لائبہ… اس بات پر مجھے اعتراض یا متفکر ہونا چاہیے کہ میرے مراسم ایسے شخص سے جو ایک عدد عورت پہلے سے رکھتا ہے..جب مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں تو تم کو ملاقات سلسلہ جاری رکھنے میں کیا اعتراض اور کیا دشواری ہے

فراز… لائبہ مجھے ملاقات رکھنے میں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ میں ایک مرد ہوں.. اور مرد کو تو شریعت کی طرف سے بھی چار خواتین کو بیک وقت رکھنے کی شرعی اجازت بھی ہے یہ تو جائز تعلق ہوئے ورنہ مرد کی خواہش نفسانی کا پیمانہ کتنا وسیع ہوتا اس کا اندازہ لگا آسان کام نہیں.. اس لیے مجھے مراسم رکھنے میں کوئی اعتراض نہیں…. لیکن

لائبہ.. لیکن کیا فراز بولو
فراز.. لیکن میرا معاشرہ، میرا سماج.. مجھے اس کی اجازت نہیں دیتا اور معاشی حالات بھی ایسی نہیں کہ میں دو خواتین کے تقاضے پورے سکوں

لائبہ.. دل کی سننے والا شخص کب سے،معاشرہ، سماج، کی باتوں پر دھیان دینے لگا، اور معاشی حالات کی فکر تم کو کب سے ستانے لگی کیا میں نے کبھی بھی کسی طرح کا تقاضا کیا صدق دل سے بتانا..

فراز… معاشرے،سماج کی فکر تب تک نہیں تھی جب تک میں اکیلا تھا.. آج میں ایک عورت کا خاوند اور آگے چل کر کسی کا باپ بھی ہوں گا.. اور بیوی، بچے سماج و معاشرے کا ہی حصہ ہیں اور میرا تعلق اسی حصے سے اس لیے میں سماج و معاشرے الگ نہیں،، یہ حقیقت ہے کہ تم نے آج تک کسی بھی چیز کا تقاضا نہیں، لیکن کب تک نہیں کروگی…

لائبہ.. کبھی نہیں
فراز.. واقعی نہیں کروگی

لائبہ.. ہاں ہاں نہیں کروگی

فراز ،، تم یہ بات اور یہ فیصلہ جذبات کی کشتی پر سوار ہوکر لیا ہے اور جذبات میں لیے گیے فیصلے ناقص ہوتے ہیں

لائبہ.. اچھا

فراز.. ہاں! تم نے عبدالمنان صمدی افسانہ (صدیقی) پڑھا ہے نا

لائبہ.. ہاں پڑھا ہے

فراز.. آج تمہاری بات سن کر مجھے اس افسانے کا مرکزی کردار.. زویا… کی یاد آگئ
وہ بھی نجابت صاحب سے اپنی محبت اظہار کرنے تہران تک پہچ گئ اور بضد تھی کہ وہ بھی اس سے محبت کریں. یہی صورت حال آج تمہاری ہے تم بھی ملاقات کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے بضد ہو…
لائبہ…. او مسٹر شاہ فراز خان
پہلی بات تو یہ ہے کہ نجابت صاحب زویا کے آئیڈیل تھے.. دوسری بات زویا نجابت صاحب سے نہیں ان کی تخلیق سے محبت کرتی تھی.. جیسا کہ عبدالمنان صمدی نے افسانے کے اختتام پر واضح کیا ہے..
لائبہ کے لہجے میں تلخی کے ساتھ اعتماد کی بھی جھلک نمایاں نظر ارہی تھی
اس نے فراز سے کہا اور نہ تم میرے آئیڈیل ہو اور نہ تمہاری تخلیق سے میں متاثرہوں اور نہ تم میری محبت ہو نہ ضرورت نہ خواہش نہ تمنا

فراز… تو میں کیا ہوں تمہارا (ہم آپ کے ہیں کون؟ )
فراز نے، لائبہ کی بات کاٹتے ہوئے اور شرارتی انداز میں کہا :
تم میری عادت ہو لائبہ نے برجستہ فراز کے سوال کا جواب دیا اور فراز صاحب عادت کا بدلنا یا چھوڑنا خدا کی کسی بھی مخلوق کے لیے آسان نہیں ہوتا اور وہ مخلوق جس کو آپ جیسے ادباء صنف نازک کہتے ہوں تو سوچو کتنا مشکل کام ہوگا عادت کے بدلنے اور چھوڑنے میں؟
لائبہ کی باتوں سے فراز کو اندازہ ہوا کہ آج اس کے دل کا غبار باہر آرہا ہے اور وہ ایک بار پھر اس کی نفسیات کا مطالعہ کرنے لگا، وہ اس کی نفسیات کے مطالعے میں اسقدر غرق ہوگیا کہ اس کو لائبہ کی باتوں پر دھیان ہی نہیں گیا ـ
لائبہ نے ایک بار پھر فراز کا ہاتھ پکڑ کر جھنجھوڑا کہاں کھوگیے کچھ تو بولو یا میرے بات کا جواب ہی نہیں تمہارے پاس ـ
فراز… لائبہ تم کیا چاہتی ہو میں تم سے ملتا رہوں اور اپنی بیوی کے ساتھ شرک کرتا رہوں

لائبہ.. شرک یہ کیسی بات کر رہے ہو آج تم.. میں نے آج تک تم سے وہ مقام مانگا جو تمہاری بیوی کا ہے.. کیا مجھ سے کوئی ایسی نازیبا حرکت سرزد ہوئ جس سے تمہیں تکلیف ہوئ ہو.. اور تو اور کیا میں نے کبھی تم پر اپنی نفیسانی خواہش کا اظہار کیا ہے… لائبہ کی آنکھوں آنسو رواں تھے اب اس کی گفتگو میں درد نے جگہ کرلی تھی.. جس طرح یہ سب باتیں اس کی دسترس سے باہر تھیں اسی طرح اس کے آنسوؤں پر بھی اس کا قابو میں نہیں تھے

لائبہ .. کو اس حال میں دیکھ کر فراز کو دکھ تو ہوا لیکن وہ عمر کے اس پڑاؤ پر تھا جہاں انسان دل کے فیصلوں پر کم دماغ کے فیصلوں کو زیادہ ترجیح دیتا ہے
نفسیاتی طور ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ انسان دل سے زیادہ دماغ کی سننے لگتا ہے.. اس لیے روز مرہ کے اخبارات میں خودکشی معاملے نوجوانوں نسل کے سامنے آتے ہیں وہ اس عمر کے لوگوں کے نہیں جس میں فراز تھا.. فراز بھی بہت زیادہ عمر کا نہیں تھا لیکن حالات اور وقت کے تقاضوں نے اس کو بردبار بنا دیا تھاـ
اس لیے لائبہ کا رونا اس کو پریشان نہ کر سکا جتنا عام طور پر لڑکوں کو کردیتا تھا.. لائبہ نے روتے روتے فراز کے شانوں پر سر رکھ لیا اس سے پوچھنے لگی بتاؤ مجھ سے ملنا شرک کیسے ہوا بتاؤ..
فراز خاموش رہا اسے خاموش دیکھ کر لائبہ بھی خاموش رہی شام کا وقت تھا وہ دونوں سمندر کنارے بیٹھے تھے سورج بھی بادلوں میں ڈوبا جارہا تھا اور لائبہ ڈوبتا سورج دیکھ رہی تھے اور ڈوبتے سورج کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ اب اسکے اور فراز کی ملاقات کا بھی یہی وقت آگیا… یعنی اختتام کا….
آنکھ سے آنسو اب بھی جاری تھےـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

شرک(افسانہ)” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں