217

شب جائے کہ من بودم


ریحان خان
تھرٹی فرسٹ نائٹ اب تک زاہدوں کی سی خشک گزری ہے، سوائے اس ایک شب کو چھوڑ کر جس میں ایک مسجد کے صحن میں بیٹھ کر ابن صفی کا ناول پڑھتا رہا اور کیپٹن حمید کی حرکتوں پر تھوڑی سی غیرت آئی، تو صحن سے اٹھ کر وضو خانے میں جا بیٹھا۔ اس سے زیادہ عیش کوشی میں کوئی شب نہیں گزری۔ اخبار سے تعلق ہونے کی بنا پر 25 26 دسمبر سے “تھرٹی فرسٹ کی فحاشیوں” کا ذکر مسلسل مضامین اور مراسلوں میں دیکھا،تو آس جشن کو دیکھنے کا خیال آیا، ستم ظریفی کہیے کہ وہ تمام مضامین اور مراسلے تھرٹی فرسٹ کی مخالفت میں لکھے گئے تھے۔ بارش کو الٹا کیا، تو شراب بن گئی اور مخالفت کو پشت پر رکھ کر حالتِ رکوع میں جا کر دیکھا، تو موافقت نظر آئی؛ چنانچہ تھرٹی فرسٹ کو رانے 11 بج کر پینتالیس منٹ پر ایک دوست کے ساتھ گیٹ وے آف انڈیا پر تھا۔ تاج بقعۂ نور بنا ہوا تھا، گیٹ پر نیم تاریکی میں ایک عجیب سا حزن طاری تھا۔ ان دونوں عمارتوں نے سیکڑوں سال نو دیکھے ہیں۔ آج رنگ اور نور کی بارش ہے؛ لیکن ماضی میں کئی نئے سال یہاں ویران اور اجاڑ اجاڑ سے بھی گزرے ہوں گے۔ شاید اسی ماضی کی یاد میں گیٹ پر حزن طاری تھا۔ پتہ نہیں کیوں انتظامیہ نے گیٹ پر لائٹنگ وغیرہ کا نظم نہیں کیا تھا۔ کچھ برطانوی بھی نظر آئے، تاج کی روشنیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ویران سے گیٹ کو دیکھ رہے تھے اور ان کے چہروں پر مایوسی کے آثار صاف نظر آرہے تھے۔ وہ گیٹ برٹش گورنمنٹ نے برطانوی ملکہ کے استقبال کےلیے بنایا تھا،جسے آج ایک برقی قمقمہ تک نصیب نہیں ہوا، جس کے سبب دمکتے چہرے دھندلا گئے۔ دل میں خیال آیا کہ ان سے معذرت کرلوں؛لیکن ڈر بھی لگا کہ “بلڈی انڈین” کہہ کر وہ ہمیں ہی جھاڑ کے نہ رکھ دیں۔
جس فحاشی کی تمنا میں وہاں پہنچے تھے، وہ آن کی آن میں ہوا ہوگئی، جب ممبئی پولیس نے گیٹ وے آف انڈیا کے سامنے کے کھلے حصے کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ایک حصے کو فیملی اور خواتین کیلئے مختص کردیا اور دوسرے حصے میں مرد حضرات جماہیاں لیتے نظر آئے۔ اس وقت شدت سے احساس ہوا کہ وجودِ نسواں کے بغیر زندگی اتنی بے رنگ اور پھیکی ہے کہ سمندر کی لہروں سے آنے والی سبک گام ہوائیں بھی جماہیوں کو دفع نہیں کرسکتیں، یہ بہت فضول جگہ تھی،جہاں داد طلب لبوں کو دیکھ کر جون ایلیاکی طرح خون تھوکنے کی تمنا نہیں کی جاسکتی تھی۔ اصل جشن تاج کے سامنے کی روڈ پر ہوا جہاں ٹھیک بارہ بجے ہم موجود تھے کہ اچانک ایک شور اٹھا اور مبارکبادیں دی جانے لگیں۔ یہاں ایک عجب تماشہ دیکھا۔ تاج کے دریچوں میں کھڑے اعلیٰ طبقہ کے لوگ فٹ پاٹھ پر دیکھ رہے تھے اور فٹ پاتھ موجود مڈل کلاس طبقہ تاج کے دریچوں میں کھڑے افراد کو دیکھ رہا تھا۔ دونوں کی نگاہوں میں حسرت نظر آئی۔

شاید وہ فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر مونگ پھلیاں کھانا چاہتے تھے اور یہ تاج کے خوشنما ڈائننگ ٹیبلوں پر بیٹھ کر کافی پینا چاہتے تھے۔ ہم مڈل کلاس سے تعلق رکھنے کے باوجود دونوں رنگ دیکھے ہیں۔ فٹ پاتھ پر مونگ پھلیاں بھی کھائی ہیں اور تاج کے وسیع دالانوں میں کافی بھی پی ہے؛ اس لیے ہم کبھی اوپر والوں کو دیکھتے اور کبھی نیچے والوں کو، ہمارے دل میں کوئی حسرت نہیں تھی۔

جگمگاتے تاج کے زیر سایہ سال نو کو خوش آمدید کہنے کے بعد ہم مرین لائنس کی جانب چلے گئے۔ کسی دوشیزہ کی پلکوں کی طرح خمدار یہ راستہ برٹش دور میں لالٹینوں کی روشنی میں سونے کے ہار کے مانند معلوم ہوا،تو انہوں نے اسے کوئن نیکلس کا نام دے دیا۔ وہ ہند پر حکومت کرتے تھے؛لیکن خود بھی ملکہ برطانیہ کے غلام تھے اور اس غلامی کو محبت کا نام دے دیا۔ اگر ممبئی عروس البلاد ہے، تو مرین ڈرائیو اس کی پلکوں کے مانند ہے اور یہ پلکیں جھیل سی آنکھوں کی بجائے وسیع سمندر کے کنارے قائم ہے۔ یہاں شب بیداری کا ایک الگ ہی سرور ہے،خواہ وہ عام ایام میں ہی کیوں نہ ہو، عام دنوں میں یہاں بھانت بھانت کے کیریکٹر پائے جاتے ہیں،تو تھرٹی فرسٹ کو ان کا ہجوم امڈ پڑا تھا۔ دوشیزائیں تھیں، ان میں برقع پوش لڑکیاں بھی تھیں اور جینس اسکرٹ والی بھی،تمدن کا ایسا امتزاج شاید دنیا میں خال خال مقامات پر نظر آتا ہے۔
تھرٹی فرسٹ کی مناسبت سے بند کردیے گئے روڈ پر لوگ یوں بیٹھے ہیں گویا اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوں،عام ایام میں اس روڈ کو کراس کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔
سمندر کے کنارے ایک نوجوان نے کافی لی اور کافی فروش کو سو کا نوٹ دیا، اس نے چالیس روپیے واپس دیے، تو اس نے لینے سے انکار کردیا اور ٹوٹی پھوٹی انگلش میں کہنے لگا “ون کافی ٹوئنٹی روپیس” انداز سے مشرق وسطی کا لگا۔ دریافت کرنے پر بتایا کہ اس کا نام دانش ہے اور وہ عراق سے آیا ہے۔ ہمارے بات کرنے کے دوران کافی بیچنے والے شخص نے اسے پورے پیسے واپس دے دیے۔ شاید ہمارا سوشل رویہ اس کے رزق میں حائل ہوگیا تھا۔ رات کے دو بج رہے تھے اور پروین کے چاند کو سوئے ایک گھنٹہ ہوچکا تھا کہ اچانک ہماری نظر ایک چاند پر پڑی، جو ہاتھ میں گٹار تھامے ہوئے مختلف ہندی گانوں کی دھن بنا رہی تھی۔ لوگ اس کے فن سے زیادہ اسے دیکھ رہے تھے، ہم خود بھی یہی کررہے تھے کہ اچانک احساس ہوا کہ ہم موسیقی کی بے حرمتی کے مرتکب ہورہے ہیں، وہ احمد آباد سے اپنے دوستوں کے ساتھ آئی ہوئی تھی۔ ایک شخص نے اس کے ساتھ سیلفی لینے کی کوشش کی،جس پر اس کے ساتھی نے ڈانٹ کر اسے بھگایا۔ آگے بڑھے، تو اوبیرائے ہوٹل کے سامنے درختوں کی چھاؤں میں ایک نوجوان گٹار کے ساتھ گیت گاتا ہوا نظر آیا۔ اس کا گٹار اس کے نغموں کا ساتھ نہیں دے رہا تھا؛ لیکن اس کے نغمے زندگی سے بھرپور تھے۔ وہ مردل ورما تھا۔ ڈیڑھ گھنٹے تک اس کی انگلیاں بے تکان گٹار پر چلتی رہیں اور وہ گیت گاتا رہا۔ ہندی فلموں کے نئے پرانے گیت، ہم نے بہت سی موسیقی اور نغمے سنے ہیں؛لیکن شاید یہ پہلا موقع تھا کہ ہم گیت اور سنگیت کو محسوس کررہے تھے۔ مردل کا اصرار تھا کہ صرف سننے کی بجائے اس کے ساتھ کورس میں گایا بھی جائے،شاید کورس کی آوازوں سے وہ توانائی کشید کرتا تھا اور اس کی آواز بلند ہوتی جاتی تھی۔ درمیان میں وہ بار بار لوگوں کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے اپنے یو ٹیوب چینل کو فالو کرنے کی گزارش بھی کرتا اور اس دوران بھی اس کی انگلیاں چل رہی ہوتی تھیں۔ سمندر کا کنارہ، گٹار کی دھن پر گیت اور گاہے گاہے لطیفے پر مجھے ابن صفی کا کردار الفروزے یاد آیا؛ لیکن مردل کسی بھینسے کی طرح نہیں تھا،نہ ہی اسے دیکھ کر ڈر لگتا تھا۔ مجھے رات کے تین بجے چرچ گیٹ سے ٹرین پکڑنی تھی؛لیکن وہ وقت مردل کے نغموں میں ہی گزر گیا۔ اس نے ایک ہجوم جمع کرلیا، جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں تھے،خود مجھے بھی بعد میں معلوم ہوا کہ میرے بغل میں ایک بہت خوبصورت لڑکی کھڑی تھی، جسے میں دیکھ نہیں سکا، جبکہ شاید ہم دونوں نصف گھنٹے تک ساتھ میں کھڑے تھے۔ میں اسے مردل کی کامیابی سمجھتا ہوں کہ اس کے نغموں نے مجھ جیسے ٹھرکی کو بھی اپنے سحر میں لے لیا۔ بالآخر تین بجے مردل بھی تھک کر چور ہوگیا اور مجمع چھٹنے لگا اور یوں وہ بزم شبانہ اپنی تمام تر ایمان افروز جزئیات کے ساتھ اختتام کو پہنچی۔
اس روز ممبئی پولیس بھی کچھ انسان نظر آئی، لہجوں میں درشتگی کی بجائے حلاوت تھی، چہرے پر غصہ کی بجائے مسکراہٹیں تھیں۔ شاید وہ مسکراہٹیں ہی تھیں کہ ایک جانب سے نوعمر مسلم بھائی بہن آئے اور پولیس والوں کو ہیپی نیو ایئر کہتے ہوئے کیک کھلایا۔ بچے پانی کے بلبوں والی گن سے ان پر فائر کھول دیتے اور وہ انہیں مسکرا کر معاف کردیتے۔ پولیس کا یہ رویہ صرف قطب کوکن کے مزار پر ہی نظر آتا ہے، جو ممبئی پولیس کے پیر کہلاتے ہیں اور ہر سال عرس پر سب سے پہلی چادر ممبئی پولیس کی جانب سے ہی چڑھائی جاتی ہے۔ کل یہ رویہ پورے ممبئی میں نظر آیا،جس کا جوائنٹ پولیس کمشنر لا اینڈ آرڈر دیوین بھارتی کو جاتا ہے کہ انہوں نے تھرٹی فرسٹ پر عام شہریوں کے ساتھ پولیس والوں کو انسانوں کی طرح پیش آنے کا حکم دیا تھا،جہاں تک فحاشی کا تعلق ہے،تو ہم نے خوبصورت لڑکیوں کو دوبارہ دیکھنے کے علاوہ کوئی فحش حرکت نہیں کی اور اس کے لیے میں نے ممبئی میں دستیاب سب سے شریف انسان کو ساتھ لیاتھاـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں