197

’شبلی خودنوشتوں میں‘:شبلی شناسی کا ایک اہم باب


ڈاکٹرشہاب ظفراعظمی (ایسوسی ایٹ پروفیسرشعبۂ اردو، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ)
ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کا نام شبلی شناس کی حیثییت سے ایک مستحکم شناخت کا حامل ہے۔اہل اردو بخوبی جانتے ہیں کہ الیاس اعظمی کو شبلی سے جنون کی حدتک عشق ہے اور اس عشق کو انہوں نے مرکز حیات بنالیاہے۔اس عشق کے نمونے نوادراتِ شبلی، متعلقاتِ شبلی،آثارِشبلی ،شبلی اور جہانِ شبلی،شبلی شناسی کے سو سال اور کتابیاتِ شبلی وغیرہ کی صورت میں قارئین کے سامنے آچکے ہیں۔زیر نظر کتاب ’’شبلی خودنوشتوں میں‘اس سلسلے کی بارہویں کڑی ہے۔الیاس اعظمی محنتی ،عمیق نگاہ رکھنے والے ادیب ہیں،ان کی تقریباً چالیس مطبوعات شائع ہوچکی ہیں۔دارالمصنفین کے علم پرور ماحول نے ان کی طبیعت اورذوق و شوق کی تربیت کی ہے؛اس لئے تحقیق سے انہیں نسبتاً زیادہ شغف ہے۔وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے گوشے اور ایسے نکات سامنے لاتے ہیں، جن کی طرف عام طور پر ہماری نگاہ نہیں جاتی؛چنانچہ زیر نظر کتاب’’شبلی خودنوشتوں میں ‘‘ اپنے عنوان سے ہی مصنف کی محققانہ طبیعت اور عمق نظری کی غمازی کرتی ہے۔یہ موضوع ایسا ہے کہ جس کے لئے ماخذ و منبع کی تلاش جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔مگر الیاس اعظمی نے اپنی لگن اور محنت سے کم و بیش چوبیس ایسی خود نوشتیں تلاش کرڈالیں،جن میں شبلی کا ذکر خصوصی اورقابل ذکر انداز میں کیاگیاہے۔بقول شمس الرحمان فاروقی’’ یہ تعداد کم نہیں؛بلکہ بڑی حدتک استعجاب انگیز ہے۔اتنے بہت سے اہم لوگوں نے شبلی کا ذکر اپنی خود نوشت میں کیا،یہ امر بجائے خود شبلی کی عظمت اور اہمیت کو ثابت کرتاہے۔‘‘میرے خیال میں یہ کام وہی شخص کرسکتاہے، جسے شبلی سے عشق اور شبلی کے چاہنے والوں سے عقیدت ہو۔الیاس اعظمی انہی میں سے ہیں۔
خودنوشتوں میں شبلی کا ذکر ہے،مگر کسی نے اس کی طرف توجہ نہیں دی۔الیاس اعظمی جنہیں خود نوشتوں کے مطالعے سے دلچسپی رہی ہے ،انہوں نے خودنوشتوں کا مطالعہ کرتے ہوئے اس پر توجہ مرکوز رکھی کہ جہاں شبلی کا ذکر ہو، اسے اپنی تحقیق کا حصہ بنائیں؛چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی یہ پیش کش شبلی شناسی کی ایک بالکل نئی جہت ہے۔انہوں نے جن خودنوشتوں کا مطالعہ کیا،وہ بھی کسی غیر اہم شخصیت کی لکھی ہوئی نہیں ہیں۔ان کے مصنفین کا شمار علمی ،ادبی اور سیاسی تاریخ میں نمایاں اور اہم مقام کی حامل شخصیتوں میں ہوتاہے اور ان میں سے اکثر کا تعلق علامہ شبلی کے معاصرین ،احباب اورتلامذہ سے ہے۔نواب سلطان جہاں بیگم(اختر اقبال)،نواب سید علی حسن خاں(تذکرہ طاہر)میر ولایت حسین(آپ بیتی)،شیخ محمد عبداللہ پاپا میاں(مشاہدات و تاثرات)،مولانا محمد علی جوہر(میری زندگی)،مولانا ابوالکلام آزاد(تذکرہ)،ملا واحدی(میرا افسانہ)،مولانا عبدا لباری ندوی(سرگذشت)،مولانا عبدالماجد دریابادی(آپ بیتی)،رشید احمد صدیقی(آشفتہ بیانی میری)،مولانا سعید احمد اکبر آبادی(غبار کارواں) خواجہ حسن نظامی(آپ بیتی)،سر رضاعلی(اعمال نامہ) اور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی(کاروان زندگی) جیسی شخصیات کے علم وفضل اور ادبی مقام سے کسے انکار ہو سکتاہے۔ان لوگوں نے کہیں مفصل،کہیں مختصر اور کہیں ضمناً علامہ شبلی کا ذکر کیاہے، مگر ان سب کا انداز ایک دوسرے سے جداہے۔دراصل ان تمام نامور شخصیات کا تعلق الگ الگ میدانوں سے رہا ہے ۔کسی نے دریائے علم وادب کی شناوری کی ہے،تو کسی نے آسمان تاریخ وسیاست میں علم لہرائے ہیں۔کسی نے تہذیبی حوالوں سے گفتگو کی ہے تو کسی نے مذہبی اور دینی نقطۂ نظر سے شبلی کے خیالات کا جائزہ لیاہے۔سب کے الگ لگ انداز اور جدا جدا افکار ونظریات ہیںاس لئے مختلف اسالیب اور نقطہ ہائے نگاہ کا ایک خوبصورت گلدستہ جمع ہو گیاہے جو نہ صرف اس کتاب کو دلچسپ بنا دیتا ہے بلکہ تفہیم شبلی کا ایک نیا منظرنامہ پیش کرتاہے۔
کتاب میں خودنوشتوں کا اجمالی تعارف اور ان کے مصنفین کا تذکرہ بھی شامل کیا گیاہے،ان کی تصویریں دی گئی ہیں اور علامہ شبلی سے ان کے تعلقات کی نوعیت،روابط اورفکری مؤثرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جو کتاب کی افادیت میں اضافہ کرتی ہے۔آخر میں ایک ضمیمہ بھی ہے جس میں مولانا عمران خاں ندوی کی مرتبہ کتاب ’’مشاہیر اہل علم کی محسن کتابیں‘‘ میں شامل اہل قلم کے مضامین سے شبلی اور تصانیف شبلی کے اثرات کا اندازہ ہوتاہے۔بقول الیاس اعظمی اس کتاب کی حیثیت بھی خودنوشت کی ہی ہے۔کیونکہ اس میں جن حضرات کے مضامین ہیں وہ اہل علم اور ادبی طور پر عظمت وشان کے حامل ہیں۔انہوں نے بھی اپنی تحریروں میں شبلی اور تصانیف شبلی کا ذکر صراحت سے کیاہے۔
علامہ شبلی نعمانی کا شمار ان علما میں ہوتاہے،جنہوں نے پوری زندگی علم کے حصول اور علم کے فروغ میں گزاری۔ان کی تصنیفات سے اندازہ ہوتاہے کہ ان کا مطالعہ بے حد وسیع تھا۔وہ ایسے ایسے علوم وفنون پر درک رکھتے تھے کہ ان کے وسعت مطالعہ کا آج تک کوئی پوری طرح اندازہ نہیں لگا سکا۔اپنی مختصر زندگی میں انہوں نے ہندستان کے کتب خانوں سے سیرابی حاصل کی ہی ، مطالعہ و تحقیق کے لئے روم و مصرو شام کا بھی سفر کیا اور وہ ذخیرۂ علم حاصل کیا کہ شمس العلما ء اور رئیس المصنفین قرار دیے گئے۔دوسرا کمال ان کے اسلوب کا ہے جو ان کی شناخت بن کر آج تک اہل علم کی آنکھیں خیرہ کر رہاہے۔بقول الیاس اعظمی’’ ان کے پاس الفاظ نہیں سونے کی ڈلیاں،جملے نہیں تراشے ہوئے ہیرے یا جڑے ہوئے نگینے ہیں ،جو اثر حافظ کی غزلوں میں ہے وہ ان کے ترشے ہوئے جملوں میں سمٹ آیاہے‘‘۔سچ یہ ہے کہ شبلی ہر اعتبار سے اپنے عہد کے سب سے باکمال شخص تھے ،جن کا ثانی آج تک پیدا نہ ہو سکا۔ایسے باکمال شخص کے علمی ادبی سرمایے کی تفہیم اور مطالعے کا حق کوئی باکمال ہی ادا کرسکتاہے۔ڈاکٹر الیاس اعظمی ایسے ہی ادیب ہیں جن کے پاس علمی لیاقت ،صلاحیت اور مزاج کاوہ نور ہے جس سے وہ نہایت استقامت کے ساتھ جہان شبلی کے سارے ابواب روشن کر سکتے ہیں اور کررہے ہیں۔شبلی پر ان کی بارہ کتابیں میرے اس یقین کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔زیر نظر کتاب بھی اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے جس میں شبلی کی سوانحی یا علمی زندگی کو ایک نئے نقطۂ نظر سے دیکھا اور پیش کیاگیاہے۔اس کے مطالعے کے بعدمیں بلا تامل کہ سکتاہوں کہ الیاس اعظمی نے شبلی شناسی کا حق ادا کردیاہے ۔یہ کتاب شبلی شناسی کے باب میں ایک کتاب حوالہ کے طور پر یاد کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں