88

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور اردو شاعری

سلمان ندیم قاسمی

نہیں خیال میں لاتے وہ سلطنت جم کی
غرور ہے جنہیں در کی تیری گدائی کا

یہ شعر ہے اس شخص کا جسے ہند و پاک کے اربابِ تحقیق “مسند الہند “کہتے ہیں، جی ہاں!! چونکیے مت! شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ہی کا شعر ہےـ
شاہ صاحب عالمِ اسلام کی وہ نابغۃ الدہر شخصیت ہیں، جن کے علمی،فکری،اصلاحی اور تجدیدی کارنامے آسمان علم و تحقیق پر تاقیامت چکمتے رہیں گے،امام ربانی مجددالف ثانی کے بعد ان کے پایے کا کوئی مجدد نظر نہیں آتا، شاہ صاحب بیک وقت مجدّد، مصلح، مفسر، محدث، فقیہ، مجتہد فی المذہب، صاحب مشاہدہ و حامل ولایت، نقاد، ماہر اسرار شریعت و طریقت، عربی شاعر و نثر نگار، مدرس و محقق، مفکر و فلسفی تھے،آپ کی مشہور و معروف معرکۃ الآرا کتاب “حجۃ اللہ البالغہ”،جس کے بارے میں مفکر اسلام حضرت علی میاں رح فرماتے ہیں :”شاہ صاحب ؒکی یہ مایہ ناز تصنیف آنحضرتﷺ کے اُن معجزات ہی سے ہے، جو آپﷺ کے وصال کے بعد آپ کے اُمتیوں کے ہاتھوں ظاہر ہوئے اور جن سے اپنے وقت میں رسول اللہﷺ کا اعجاز نمایاں اور اللہ کی حجت تمام ہوئی“ـ
اب آئیے اصل موضوع کی طرف، شاہ صاحب جہاں عربی اور فارسی کے کہنہ مشق شاعر ہیں، وہیں اردو میں بھی آپ کا کلام موجود ہے؛ بلکہ جس شخص نے سب سے پہلے آپ کو بطور شاعر متعارف کروایامرزا علی لطف صاحب تذکرہ گلشن ہند، اس نے تو یہ بھی لکھا کہ “کمتر شعر فارسی و بیشتر شعر ہندی می گفت ” معلوم ہوا کہ آپ زیادہ تر اشعار اردو میں کہتے تھے، فارسی میں تو سمجھ میں آتا ہے، مگر اس وقت اردو میں شاعری کرنا اور وہ بھی “بیشتر”؟یہ بھی بعید نہیں؛ کیونکہ یہی زمانہ اردو کے مایہ ناز شعرا کا ہے، اسی دلی میں اُسی زمانے میں بڑے بڑے استاد شعرا موجود ہیں،میر و سودا کے استاد شاہ حاتم،خواجہ میر درد، شاہ آبرو اور سب سے بڑھ کر مجددی خاندان کے بزرگ اور اردو کے مستند شاعر میاں مظہر جانِ جاناں اور اس وقت کے شاعر ویسے شاعر تو تھے نہیں، جیسے آج کل کے آوارہ،دین بیزار اور فاسق المزاج شعراہوتے ہیں الا ماشاء اللہ! بلکہ بہت سے صاحب دل اور خانقاہوں سے جڑے ہوئے، حتی کہ بعض تو مسند خانقاہ پر جلوہ افروز ہستیاں بھی ہوتی تھیں؛چنانچہ خواجہ میر درد، جو اردو شاعری میں مستند ترین سمجھے جاتے ہیں،سلسلۂ نقشبندیہ کے پیر تھے،غوث گوالیاری کی اولادوں میں سے شاہ نجم الدین آبرو میاں مظہر جانِ جاناں قاضی پانی پتی کے استاد و مرشد سے کون ناواقف ہے؟ اور جانِ جاناں کا شاہ صاحب سے قرابتی رشتہ بھی تھا، متصوفانہ مزاج میں ہم آہنگی بھی، تو پھر شاعرانہ مزاج میں ہم آہنگی کیوں نہ ہوتی؟؟
آج دوپہر کو کسی اور چیز کے سلسلے میں پرانی کتابوں کو کھنگال رہا تھاکہ تذکرہ گلشن ہند بس یونہی دیکھنے لگا، یہ کتاب مرزا لطف علی کی لکھی ہوئی ہے اور تذکرہ گلزار ابراہیم کا ترجمہ ہے اضافوں کے ساتھ، یہ اردو شعراکے حالات پر معتبر ترین کتاب ہے، اچانک باب الالف میں “اشتیاق شاہ ولی اللہ ” نام دیکھا،چونک پڑا !صفحات الٹے، تو حیرت میں ڈوبتا چلا گیا، مگر بہت افسوس ہواکہ “بیشتر ” لکھنے والے نے صرف ایک غزل اور چند اشعار بطور ثبوت پیش کیے،جو ناظرین کی خدمت میں حاضر کرتا ہوں:
خیال دل کو ہے اس گل سے آشنائی کا
نہیں صبا کو ہے دعوی جہاں رسائی کا
کہیں وہ کثرت عشاق سے گھمنڈ میں آ
ڈروں ہوں میں کہ نہ دعوی کرے خدائی کا
مجھے تو ڈھوکے کا تھا زاہد پر اک نگاہ سے آج
غرور کیا ہواوہ تیری پارسائی کا
جہاں میں دل نہ لگانے کا لیوے پھر کوئی نام
بیاں کروں میں اگرتیری بے وفائی کا
نہ چھوڑا مار بھی کھاکر گزر گلی کا تری
رقیب کو مرے دعوی ہے بے حیائی کا
نہیں خیال میں لاتے وہ سلطنت جم کی
غرور ہے جنہیں در کی تیری گدائی کا
جفائے یار سے مت اشتیاق پھیر کے منہ
خیال کیجو کہیں اور جبہ سائی کا
چند اشعار:

لڑکوں کے پتھروں سے لگے کیونکر اس کو چوٹ
ہر ایک گردباد ہے مجنوں کو دھول کوٹ

چھوڑ کر تجھ کو ہمیں غیر سے جو لاگ لگی
نہیں مہندی یہ ترے تلووں سے آگ لگی

دوبالا ہوکے مخموری عبث آنکھوں کو ملتا ہے
پیالہ اوربھی پی پی سجن یہ دور چلتا ہے
شاہ صاحب کے بارے میں یہ وہ باتیں تھیں، جنہیں میں نے کہیں نہیں پڑھااور اب جب پڑھا، تو یہ آرزو پیدا ہوگئی کہ پڑھتا ہی چلا جاؤں مگر “بیشتر ” لکھنے والے نے اسی “کمتر ” پر اکتفا کیاہے، کاش کہیں اور سے اس پر کچھ مواد مل جاتا، تو شاہ صاحب کی سیرت کا ایک اور باب روشن ہوکرسامنے آتا!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں