40

شاہد ماہلی کے انتقال پر انجمن ترقی اردو ہند کے دفتر میں تعزیتی نشست


شاہد ماہلی کے انتقال پر انجمن ترقی اردو ہند(دہلی شاخ)واقع کوچہ نیل کنٹھ،دریا گنج و نیشنل امیر خسرو سوسائٹی کے زیرِ اہتمام آج ایک تعزیتی نشست ہوئی جس میں اُن کے سانحہ ارتحال پررنج و غم کا اظہار کیا گیا۔شاہد ماہلی صاحب کچھ عرصے سے نمونیا کے مرض میں مبتلا تھے اور فورٹیز اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔۹۱ ستمبر ۹۱۰۲ کو علی ا الصبح اُنہوں نے اس دارِ فانی کو خیر باد کیا۔اُن کے انتقالِ پرُملال پر انجمن ترقی اردو ہند (دہلی شاخ)میں ایک تعزیتی میٹنگ میں انجمن کے اراکین جناب مسعود فاروقی،جناب خورشید عالم،ڈاکٹر ادریس احمد،محترمہ ہاجرہ و دیگر عملے نے ان کے وفات پر تعزیاتی تاثرات پیش کئے اور ان کی شخصیت و ادبی خدمات بالخصوص اردو زبان و ادب اور منسلک ادارے کے فروغ کیلئے اُن کی کوششوں کا اعادہ کیا۔وہ اردو کے ایک ممتاز شاعر و ادیب کی حیثیت سے اردو و فارسی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے جانے جاتے تھے۔اراکینِ انجمن نے اپنے مشترکہ تعزیتی کلام میں شاہد ماہلی صاحب کی رحلت فرمانے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی کمی محسوس کی جاتی رہے گی۔اس کے علاوہ اُن کے انتقال سے اردو زبان و ادب ہی نہیں بلکہ اردو ادار ے کابھی خسارہ و
ذاتی نقصان ہوا۔کیونکہ وہ جب تک حیات تھے، اداروں، کلاسیکی شاعروں و ادیبوں کے حیات و ادبی خدمات کے اعزاز میں ادبی نششتیں منعقد کراتے رہتے تھے۔خواہ وہ ذوقؔ کی شاعرانہ و ادبی خدمات کا اعتراف ہو یا مزارِ غالب پر ہر سال پابندی سے یومِ غالب پروگرام کا انعقاد ہو،وہ اس قسم کی ادبی پروگراموں میں کافی فعال و پیش پیش رہا کرتے تھے۔ اپنی انہی ادبی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ ۸۷۹۱ سے غالب انسٹی ٹیوٹ سے منسلک تھے اور اسی ادارہ میں بحیثیت ڈائرکٹر بھی کئی سال تک خدمات انجام دی۔اسی دوران مختلف موضوعات پر اُن کی دو درجن سے زیادہ کتابیں منظر ِ عام پر آئیں۔اُن میں کچھ مطبوعات کے نام حسب ِ ذیل ہیں: شہر خاموش ہے،غالب اور رامپور،غالب اور کلکتہ،منظر پس منظر،کہیں کچھ نہیں ہوتا،معین حسن جذبی:شاعر اور دانش ور، فیض احمد فییض:عکس اور جہتیں،کیفی اعظمی:عکس اور جہتیں،جوش ملیح آبادی وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔اس کے علاوہ ان کی ادبی و علمی خدمات کے اعتراف میں دہلی و بیرون ِدہلی کی مختلف اکیڈمیوں اور انجمنوں نے انعام و اعزازات سے نوازا۔ جن میں اردو اکیڈمی،دہلی اور اُتر پردیش اردو اکادمی کا نام قابل ذکر ہے، جناب شاہد ماہلی گزشتہ دوبرس سے اردو ماہنامہ ”صبح“شائع کر رہے تھے جسے ادبی حلقے میں بیحد مقبولیت حاصل ہورہی تھی۔ وہ انجمن ترقی اردو (ہند) کے مجلس ِ عاملہ کے رکن بھی تھے۔اور جب تک قیدِ حیات رہے،انجمن ترقی اردو (دہلی شاخ) اورنیشنل امیر خسرو سوسائٹی کے صدر کے فرائض انجام دیتے رہے۔ خدا وند کریم اُن کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور اُن کے مرگِ ناگہاں پر اُن کے رشتہ داروں و پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے(آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں