74

سید ظفر نقوی کی یاد میں


محمد علم اللہ، نئی دہلی
alamislahi@gmail.com
ہائے یہ کیسی بد نصیبی ہے کہ گذشتہ دنوں دہلی میں اردو صحافت کے ایک عہد کا خاتمہ ہوا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ پانچ اپریل 2019 کو حرکت قلب بند ہوجانے کے سبب اردو کا ایک بے باک، نڈر،مجاہد قلم کار اور صحافی جس نے کئی دہائیوں تک اردو اور ہندی صحافت میں نہ صرف رہ نوردی اور آبیاری کی بلکہ اپنی بے لاگ اور حق گوئی کے لئے اپنوں کی آنکھ کا شہتیر بھی بنا، خاموشی سے اس دنیا سے چلا گیا، جس نے برسوں ہزاروں خبریں تخلیق کیں، اپنے انتقال پر خود خبر نہ بن سکا۔ اسے اردو صحافت کے المیہ سے ہی تعبیر کیا جائے گا کہ جہاں سے سیکڑوں اخبارات نکلتے ہیں،روزانہ کروڑوں خبریں بنتی ہیں اور ہر دن نئی نئی خبریں تراشنے والے صحیفہ نگار اپنی ہی برادری کے ایک فرد کو ان کے انتقال کے بعد گم گشتہ کتاب کی طرح فراموش کر دیتے ہیں۔ ان میں ایسے اخبارات بھی ہیں، جنھیں اس مرد مجاہد نے اپنے خون جگر سے سینچا تھا، ان کے انتقال کے بعد ان کے بارے میں چند سطری خبر دینا بھی انھوں نے مناسب نہیں سمجھا؛ یہ کس قدر افسوس کی بات ہے۔
ان کے انتقال کے کئی دنوں بعدان کے ایک شاگرد اور ہمارے دوست نواب اختر نے ان پر ایک مضمون لکھ کر اپنی ذمے داری ادا کرنے کی گرچہ اپنی سی کوشش کی ہے؛ لیکن پھر بھی وہ جس چیز کے حقدار تھے ، ہماری صحافی برادری نے اس جانب دھیان دینا مناسب نہیں سمجھا ،جو ہماری بے حسی اور مردم بے زاری کی دلیل ہے۔ سید ظفر نقوی کے انتقال کی اطلاع مجھے ٹویٹر کے ذریعے ملی،وہ بھی یوں کہ جسٹس کاٹجو کا اردو پر ایک ٹویٹ دیکھنے کا اتفاق ہوا، اس ٹویٹ کو پڑھنے کے بعد خیال آیا کہ دیکھیں ان دنوں اردو کے بارے میں کیا بحث چل رہی ہے، ابھی ٹویٹر اسکرال کرتے ہوئے چند صفحات بھی نہیں عبور کئے تھے کہ ایک ہندو صحافی کے ٹویٹ کو دیکھ کر دنگ رہ گیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ اردو کے معروف صحافی ظفر نقوی نہیں رہے۔ پہلے تو خبر پر یقین نہیں آیا، رات کافی بھیگ چکی تھی اس لئے کسی کو فون کرنا بھی مناسب نہ تھا، گوگل پر جاکر سرچ کیا تو نواب علی اختر کے مضمون پر نظر پڑی، جس میں انھوں نے ان کی صحافتی زندگی اور قلم و قرطاس کے حوالے سے ان کی خدمات کے بارے میں اپنے احساسات و تجربات کو رقم کیا تھا۔
میرا ظفر نقوی سے دسیوں سال کا تعلق تھا، وہ انتہائی مخلص اور مہربان شخص تھے، دہلی کی اردو صحافت میں جن لوگوں نے مجھے ہمت اور حوصلہ دیا، ان میں ظفر نقوی کا نام نمایاں تھا۔ جب میں نے 2009 میں روزنامہ صحافت سے وابستگی اختیار کی تو ظفر نقوی اس کے ایڈیٹر تھے، اس درمیان مجھے ان سے بہت کچھ جاننے اور سیکھنے کا موقع ملا۔صحافت میں میری تقرری انھوں نے ہی کی تھی اور ایک ایسے وقت میں، جب دہلی میں پاؤں جمانا میرے لئے مشکل تھا ایک پلیٹ فارم دیکر انھوں نے مجھ پر جو احسان کیا تھا، میں اسے کبھی بھی فراموش نہیں کر سکوں گا۔ صحافت میں بائی لائن اور فرنٹ پیج میں خبر چھپنے کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، انھوں نے اپنے دور ادارت میں میری کئی خبروں کو میرے اس میدان میں نووارد ہونے کے باوجود انتہائی اہتمام کے ساتھ خوبصورت انداز میں جگہ دی ،جس میں میری کئی خبریں پہلے صفحے کی پہلی خبر بھی بنی، جو مجھ جیسے صحافت کے طالب علم کے لئے بہرحال بڑی بات تھی۔
ملازمت کے دوران جب بھی دفتر جاتا ،انھیں ہمیشہ ادارتی ذمے داریوں میں محو پاتا۔ وہ اپنے کام کے دھنی اور فن کے ماہر انسان تھے۔ ان کے قلم میں دھار اور فکر میں توازن تھا۔ سرخی جمانے کا ہنر انھیں خوب آتا تھا، شاندار سرخی بنانے کے لئے پورے آفس میں ان کی مثال دی جاتی تھی۔ ایک زمانے میں روزنامہ صحافت اسی لئے معروف تھا کہ اس کی سرخیوں میں تخلیقیت اور نغمگیت دونوں ہوا کرتی تھیں، خشک سے خشک اور معمولی سے معمولی خبرپربھی بہترین سرخی جمانا انھیں خوب آتا تھا، وہ ایجنسیوں کی خبروں کو بھی من و عن سرخی کے ساتھ شائع کرنے کے قائل نہیں تھے، اس کو بدلنے اور قاری کے لئے اسے دلچسپ بنانے کے لئے بسا اوقات وہ ایک سرخی کے لئے کافی دیر تک غور و فکر اور مغزماری کیا کرتے؛ لیکن جب سرخی نکلتی ،تو دیکھنے والے دیکھا کرتے تھے۔
وہ ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں بہترین نثر لکھنے پر قادر تھے،ان دونوں زبانوں میں انگریزی سے وہ برجستہ، شستہ اور با محاورہ ترجمہ کرنے کے سلیقے سے بھی بہت اچھی طرح واقف تھے۔خبروں کے بے کراں سمندر سے چھپنے والی خبرچن لینے کا زبردست ملکہ انھیں حاصل تھا۔ وہ فنِ صحافت کے ماہر اور اس وادی کے مشاق و زبردست تیراک تھے، اپنی اسی خوبی کی وجہ سے انھوں نے کئی اخبارات میں کام کیا اور ہر جگہ عزت و احترام سے دیکھے گئے، دہلی کے کئی اخبارات کوانھوں نے اپنے خون جگر سے سینچا، جن میں روزنامہ صحافت کے علاوہ ہندی روزنامہ عوام ہند اور اردو روزنامہ قومی سلامتی،اردو روزنامہ جدید میل ہندی روزنامہ شاہ ٹائمز وغیرہ شامل ہیں۔ اخبار کے مالکان کی طرح ان کی زندگی رنگین اور دکھاوے سے عاری تھی، وہ سادگی پسند تھے،جس کی جھلک ان کے روز مرہ کی زندگی میں بھی نظر آتی تھی، میں نے انھیں ہمیشہ ایک اسکوٹر پر ہی سفر کرتے دیکھا ،جسے پرانی ہونے کی وجہ سے ہم پطرس بخاری کے مرزا صاحب کی سائیکل سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔
بنیادی طور پر وہ سائنس اور معاشیات کے طالب علم تھے۔ 1985 میں انھوں نے سائنس سے گریجویشن اور 1987 میں معاشیات سے پوسٹ گریجویٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ ان کی تعلیم آگرہ یونیورسٹی سے ہوئی تھی۔ ان کی عمر تقریبا 65 سال تھی۔ انٹرنیٹ پر” دلی نامہ ”کے عنوان سے ان کا ایک بلاگ موجود ہے۔ جتنا وہ لکھتے تھے ،پابندی سے اسے اپڈیٹ نہیں کر پاتے تھے۔اس کی وجہ اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ پیشہ ورانہ مصروفیت اور خانگی مسائل اس کا موقع انھیں نہیں دیتی ہوں گی۔ پھر بھی اس میں سینکڑوں مضامین شامل ہیں ،جن سے ان کے فکروفن کا ایک سر سری اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بلاگ پر ان کے زیادہ تر مضامین سیاسی اور سماجی نوعیت کے ہیں۔
میرے ان سے بعض چیزوں میں زبردست فکری اختلافات تھے ؛لیکن ان سب کے باوجود وہ مجھے بے حد عزیز رکھتے، انھیں مجھ پر اعتماد بھی تھا اور یہی وہ بھروسہ تھا کہ جب انھوں نے قومی سلامتی کی ذمہ داری سنبھالی ،تو ادارتی ٹیم میں شامل کر نے کے لئے مجھے کئی مرتبہ دعوت دی؛ لیکن تب تک میں اردو صحافت سے دلبرداشتہ ہوکر اکیڈمک فیلڈ اختیار کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا، اپنے ارادے سے جب میں نے انھیں مطلع کیا ،تو خوشی کا اظہار کیا، تاہم یہ ضرور کہا کہ کبھی بھی پریشانی ہو تو آجانا، یہ الگ بات ہے کہ یہ اخبار بہت جلد بند ہو گیا ؛لیکن انتہائی کم مدت میں خبر اور مواد کے حساب سے اس نے دہلی کی اردو صحافت میں جو دھوم مچائی ،اسے دیرتک یاد رکھا جائے گا۔اس میں نقوی صاحب کے علاوہ اور بھی لوگ تھے، جنھوں نے اس اخبار کو کھڑا کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا تھا، محمد احمد کاظمی، ایم ودود ساجد،محمود پراچہ جیسے لوگوں کا ایک جگہ جمع ہوجانا اردو صحافت کے لئے بڑی بات تھی۔
ادھر کافی عرصے سے وہ اخبارمالکان کے رویے سے دلبرداشتہ ہوکر گرچہ عملی صحافت سے علاحدہ ہوچکے تھے، مگر لکھنے پڑھنے کا سلسلہ جاری تھا۔ سوشل میڈیا پر ملی اور سیاسی موضوعات پر وہ اخیر دم تک لکھتے رہے۔ ان کی تحریریں متوازن، سنجیدہ اور ملی درد سے لبریز ہوا کرتی تھیں۔ قومی وملی مسائل کے حل اور حکومت کی متنازعہ پالیسیوں پر وہ کھل کر لکھتے۔نا نا مساعدحالات،دھونس، دھاندلی و دھمکیوں سے بے پروا ہو کر اپنے مشن و مقصد میں لگے رہنے کو وہ ترجیح دیتے تھے، پیشہ وارانہ طور پر وہ کافی مضبوط اورمشکل و صبر آزما حالات سے باہر نکلنے کے ہنر سے اچھی طرح واقف تھے، اس لئے صحافتی دنیا میں نت نئے تجربے کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا، جس کی مثال ان کے زیر ادارت شائع ہونے والے اخبار میں دیکھنے کو ملتی تھی۔
اپنے ابتدائی عملی دنوں میں بریلی سے انھوں نے ایک ذاتی اخبار بھی نکالا تھا، دہلی سے اس کے احیاکا ارادہ بھی رکھتے تھے، انھوں نے کئی مرتبہ اس کے لئے ٹیم جوڑنے اور سنجیدگی سے اس جانب توجہ دینے کی درخواست کی تھی ؛لیکن اردو صحافت نے ہمیں بہت قلیل مدت میں ہی اتنا توڑ دیا تھا کہ اس جانب سوچنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی،ا س لئے ان سے جب بھی ملاقات ہوتی ہاں ہوں کہہ کے دامن جھاڑ لیتا۔ ظفر نقوی امام خمینی کی شخصیت اور ان کی فکر سے کافی متاثر تھے ،اس کا اثر ان کی تحریروں میں بھی دیکھنے کو ملتاہے، انھوں نے کئی مرتبہ ایران کا بھی سفر کیا تھا۔ میری کتاب ”ایران میں کچھ دن” کا مسودہ جب میں نے تیار کر لیا، تو میری خواہش تھی کہ کسی ایسے شخص کو ایک مرتبہ دکھا لیا جائے، جس نے نہ صرف ایران کو دیکھا ہو؛ بلکہ اس کی فکر سے بھی واقف ہو، اشاعت سے قبل جب میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ اسے ایک نظر دیکھ لیں اور کمیوں کی نشاندہی فرمادیں تو انھوں نے انتہائی شفقت سے اس کو قبول کیا اور پوری دلجمعی کے ساتھ مکمل کتاب پڑھ کر کئی جگہوں پر نہ صرف زبان کے سقم کو دور کیا؛ بلکہ متعدد خامیوں کی بھی نشاندہی کی،جس سے مجھے کتاب کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملی، کتاب میں کئی جگہ میں نے ایران کی سخت گرفت کی تھی اور مجھے امید تھی کہ وہ اس پرناگواری یا اختلاف کا اظہار کریں گے؛ لیکن انھوں نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا تھا تنقید ضروری ہے۔ انھوں نے کتاب کا نام ”میں بھی ایران گیا” تجویز کیا تھا۔
اس مصروف اور بھرے پرے شہر میں جب کبھی میری ان سے راہ چلتے بھی ملاقات ہوجاتی ،تو دیر تک بات کرتے، پڑھائی لکھائی اور مطالعہ کے بارے میں دریافت کرتے۔اکثر آئیڈیاز پر گفتگو کرتے اور لکھنے کے لئے نئے نئے موضوعات سجھاتے۔ ایسے مشفق و مہربان شخص کا جانا صرف ان کے اہل خانہ کے لئے ہی نہیں ؛بلکہ ہم جیسے ان کے سیکڑوں چاہنے والوں کے لئے بھی صدمے کا باعث ہے۔ علمی اور صحافتی حلقوں میں ان کی کمی اور خلا دیر تک محسوس ہوتا رہے گا۔ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین اور عزیز و اقارب کو صبر جمیل سے نوازے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں