278

سیتامڑھی فساد:حاشیائی خطے کا اضافی دکھ!

نایاب حسن
فرقہ وارانہ فسادیامذہب پر مبنی تشددو قتل کا واقعہ اگر کسی مین سٹریم علاقے میں رونما ہوتاہے،توفوراً نگاہوں میں آجاتا ہے اور پھر میڈیاسے لے کر سرکاری کارگاہوں،دفاتر ،افراد و نمایندگان اور ملک بھر کے مختلف خطوں میں موجود سماجی و انسانی حقوق کی تنظیموں کے بیچ اس کی چرچاہونے لگتی ہے؛لیکن اگر اسی قسم کا یا اس سے بھی اندوہناک واقعہ ملک کے کسی حاشیائی،پسماندہ اور قومی منظرنامے سے اوجھل علاقے میں رونما ہو،تواس کی طرف نہ تو میڈیاکی تیز نگاہ پہنچتی ہے،سرکار تو خیر جان بوجھ کر اسے دبانے کی کوشش کرتی ہے اور رہی بات سماجی یا رفاہی اور حقوق انسانی کی تنظیموں کی،تو وہ ان علاقوں میں عموماً اس لیے نہیں پہنچتیں کہ ان کے ’’کاموں‘‘کی بروقت پذیرائی یا ان کاموں کے عوض حاصل ہونے والے نقدنتائج وفوائدکا امکان کم ہوتا ہے۔گزشتہ۱۹؍۲۰؍اکتوبر کو درگاپوجاکی مناسبت سے ’’مورتی وسرجن‘‘کے موقعے پر سیتامڑھی اور اس سے متصل مختلف محلوں میں جان بوجھ کر مسلمانوں کو اشتعال دلانے کے لیے پہلے سے طے شدہ راستے کے برخلاف مسلمانوں کی آبادی میں گھس کر مورتی لے جانے پر اصرار کیاگیا،مذہبی منافرت پر مبنی نعرے لگائے گئے،پھر یہ افواہ پھیلی کہ کچھ لوگوں نے جلوس پر پتھر بازی کی،جس کی وجہ سے مدہوبن ، مرلیاچک ،راجوپٹی ،گوشالہ چوک وغیرہ میں حالات بگڑنے لگے ،فوری طورپر مقامی پولیس و انتظامیہ نے مداخلت کی، توحالات کسی طرح قابومیں آگئے،مگر اس کے اگلے دن آس پاس کے انتہا پسند ہندووں نے باقاعدہ جتھہ بندی کرکے مسلمانوں پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی اور دوہزار کی بھیڑ دستیاب ہتھیاروں کے ساتھ مسلمانوں کی بستی پر حملہ آور ہوگئی،پتھر بازی سے شروع ہونے والایہ حادثہ دیکھتی آنکھوں آگ زنی اور قتل و خوں ریزی میں تبدیل ہوگیا،کئی دکانیں جلادی گئیں ، مکانات نذرِ آتش کردیے گئے اور انتہائی وحشت و درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ساٹھ سالہ بزرگ زینل انصاری نام کے شخص کو نہ صرف قتل کیاگیا؛بلکہ اسے جلانے کی کوشش کی گئی،افسوس کی بات ہے کہ یہ پورا علاقہ مقامی پولیس اور مرکزی ضلع انتظامیہ کے آس پاس ہی واقع ہے،مگر ایسا لگتاہے کہ یا تو جان بوجھ کر حالات کو قابوسے باہر ہونے دیاگیایا انھیں حالات کی حساسیت کا اندازہ ہی نہیں تھا،سیتامڑھی پولیس کا سفاک چہرہ اس صورت میں بھی سامنے آیاہے کہ زینل انصاری کے گھر والوں نے تھانے میں ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی ،تواسے معلوم تھاکہ ان کا قتل ہواہے،مگر یہ بات ان لوگوں سے چھپائی گئی اور انھیں مظفر پور صدر ہسپتال لاش کی شناخت کے لیے بھیج دیاگیا،لاش اس بری حالت میں تھی کہ گھر والے پہچان ہی نہ سکے،مگر دوچار دن کے بعد جب انٹرنیٹ سروس شروع ہوئی اور سوشل میڈیاپر زینل انصاری کے قتل کی تصویریں وائرل ہوئیں،تب ان کے گھر والوں نے مختلف علامتوں کے ذریعے انھیں پہچانا،وہ چاہتے تھے کہ ان کی لاش اپنے گاؤں لاکر تجہیز و تکفین کریں،مگر پولیس نے انھیں مجبورکیاکہ مظفر پور میں ہی دفنادیاجائے۔
بہر کیف قتل کا یہ واقعہ اتناہی اندوہناک اور انسانیت سوز ہے،جتنے انسانیت سوز واقعات ملک کے دوسرے خطوں میں گزشتہ ساڑھے چار سالوں کے دوران رونما ہوچکے ہیں اور اب بھی کہیں نہ کہیں رونما ہوتے ہی رہتے ہیں۔ویسے سیتامڑھی کے مذکورہ علاقے میں فرقہ وارانہ فساد کوئی نیاحادثہ نہیں ہے،اس سے پہلے بھی نوے کی دہائی میں اوراس سے قبل اس علاقے میں ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں اور ہر سال رام نومی یا درگاپوجاکے موقعوں پر بہار کے مختلف اضلاع میں حالات کشیدگی کا شکار ہوجاتے ہیں،اسی سال رام نومی کے جلوس کے موقعے پر نالندہ،بھاگلپور ،مونگیراور سمستی پور وغیرہ میں غیر معمولی طورپر حالات خراب ہوئے تھے اور ان علاقوں میں جان و مال کا بڑا اتلاف ہوا تھا،یہ واقعات ایسے تھے کہ بہار حکومت کو ہوشیار ہوجانا چاہیے تھا ،مگرافسوس ہے کہ اپنے آپ کو’’ سشاشن بابو‘‘ کہلوانے والے نتیش کمار اوران کی سرکارنے جب سے دوبارہ این ڈی اے کے آغوش میں پناہ اختیار کی ہے،بہار میں بھی بہ تدریج ایسے ہی حالات بن رہے ہیں،جو ملک کے دوسرے کئی بی جے پے کے زیر حکومت صوبوں میں گزشتہ ساڑھے چار سال سے قائم ہیں۔دوسری جانب سیتامڑھی کے حالیہ واقعے میں ایک قابلِ غور و فکر پہلوقومی میڈیا، ملک بھر کے سماجی و انسانی حقوق کے اداروں اور خاص طورپر مسلمانوں کے قومی سطح کے رفاہی وملی اداروں،جمعیتوں اور تنظیموں سے متعلق ہے ،جنھوں نے مجموعی طورپرزینل انصاری کے وحشیانہ قتل اور نذرِ آتش کیے جانے پرمذموم ترین بے حسی کا مظاہرہ کیاہے،کل ہندسطح کے ملی اداروں کوواضح کرناچاہیے کہ ان کا “دائرۂ خدمات “کہاں سے شروع ہوکرکہاں ختم ہوتاہے؟انفرادی طورپر چند مقامی لوگوں اور محدود تروسائل رکھنے والے اداروں کی خبر ہے کہ وہ اپنے تئیں اس پورے واقعے کی تفتیش اور متاثرین کی بازآباد کاری کے سلسلے میں کوشش کررہے ہیں،ایک خبر ’’آج تک‘‘کے واسطے سے ہمیں ملی ہے کہ سیتامڑھی سنگھرش سمیتی کے صدرمحمد شمس شاہنوازنے قومی اقلیتی کمیشن کو خط لکھ کر پورے حادثے کی جانچ کا مطالبہ کیاہے،مسلم بیداری کارواں کا اخباری بیان بھی دیکھاکہ 3؍ نومبر سے وہ متاثرہ علاقوں کا جائزہ لے گا،راجوپٹی،سیتامڑھی سے تعلق رکھنے والے تنویر عالم علیگ صاحب کے بارے میں خبر ملی ہے کہ وہ اپنے طورپر تمام سلسلۂ واقعات کی تفتیش اور متاثرین کو انصاف دلانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں،چوں کہ وہ خود اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور انھیں اس کی حساسیت کا بخوبی اندازہ ہے ؛اس لیے انھوں نے 25؍ اکتوبر کواپنے فیس بک پیج پر مقامی لوگوں سے صورتِ احوال کی مکمل تفصیلات معلوم کرکے جو رپورٹ لکھی ہے،وہ اہم ہے اور اس کے مطابق جو حقیقت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ سیتامڑھی کے مذکورہ بالا علاقوں میں حالیہ ہنگامہ آرائی اور قتل و غارت گری یا تو مقامی انتظامیہ و پولیس کی بے شعوری وعدمِ حساسیت کی وجہ سے رونما ہوئی ہے یا خود پولیس و انتظامیہ بھی فسادی عناصر سے ملی ہوئی تھی،زینل انصاری کی اندوہناک موت کے معاملے میں حکمراں جماعت سے قطعِ نظر اپوزیشن کا رویہ بھی نہایت پراسرار ہے،مرکزی رہنماؤں کو توچھوڑیے،مقامی لیڈروں کی زبانیں بھی عموماًگنگ ہیں اور اس انسانیت کش حادثے کواس طرح گول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،گویا یہ کوئی معاملہ ہی نہیں ہے،اوپندرکشواہاکی پارٹی سے حادثاتی طورپر منتخب ہونے والے سیتامڑھی کے ایم پی رام کمارشرما تو ایسے شخص ہیں ،جو کبھی اپنے حلقے میں دیکھے ہی نہیں گئے،سواس معاملے میں بھی ان کا کہیں اتاپتانہیں ہے،پارلیمنٹ میں بھی وہ شا ید ہی کبھی اپنے حلقے کی نمایندگی کرتے نظر آئے ہوں،گویا ان کے انتخابی حلقے کو کوئی مسئلہ ہی درپیش نہیں ہے!
بہر کیف اس پورے معاملے کی منصفانہ جانچ ازحد ضروری ہے ،یہ اچھی بات ہے کہ حالات کو پر امن بنانے اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے مقامی سطح پردونوں فرقوں کے باشعور افراد ،دانشوران اورسماجی کارکنان کوششوں میں مصروف ہیں اور فی الحال امن و امان کا ماحول قائم بھی ہوگیاہے،مگر چوں کہ آنے والے قریبی وقت میں ہی جنرل الیکشن ہونے والاہے ،جس کے پیش نظر فرقہ پرست عناصر کی جانب سے مزید کسی ہنگامہ آرائی کی کوشش عین ممکن ہے ؛اس لیے دونوں اطراف کے سنجیدہ طبقات کو ایسے حالات اور غیر سماجی کوششوں کو بروقت ناکام بنانے کے لیے مضبوط لائحۂ بنانا چاہیے اور باہم تبادلۂ خیال کرکے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والے تمام اسباب و عوامل کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں