132

سیتامڑھی:مسلم سماج کی معاشی پسماندگی وناخواندگی کیسے دور ہوگی؟

(معروف سماجی کارکن اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن،مہاراشٹرکے صدرتنویر عالم ضلع سیتامڑھی(بہار)کے مختلف بلاکوں کی تعلیمی وسماجی صورتحال کے جائزے کے بعد اپنے تاثرات پیش کررہے ہیں)
رابطہ:9004955775
گزشتہ23؍فروری سے لے کر28؍فروری تک راشٹریہ سیوادل،سیوک فاؤنڈیشن اور سدبھاؤناسنگم کی ایک ٹیم ضلع سیتامڑھی کے باجپٹی، نانپور، بوکھرا، پوپری،پریہار اور سونبرسا کے مختلف گاؤں اور پنچایتوں کا سماجی خیرسگالی،تعلیم اور روزگار کے ایشوپر جائزہ لے رہی تھی،اس ٹیم کا حصہ میں بھی تھا،تعلیم اور روزگار پر سرکار کی پوزیشن اور پالیسیوں سے کم اور زیادہ ریاست کا ہر شخص واقف ہے؛لیکن صوبے کے دیگر اضلاع کے بالمقابل سیتامڑھی تعلیم کے شعبے میں کچھ زیادہ ہی پسماندہ ہے،سرکاری تعلیمی اداروں کی صلاحیت کا حال یہ ہے کہ سرکار خود یہ مان چکی ہے کہ ریاستی اسکول کی پانچویں کلاس کا طالب علم دوسری کلاس کی ریاضی(حساب) حل نہیں کرسکتا،اس بحران کے شکار انٹراورگریجویشن کے طلبہ بھی اتنے ہی ہیں،جتنے مڈل اور پرائمری درجات کے ،اس کے کئی اسباب ہیں،جن پر غوروفکر کرکے انھیں دور کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
اس سفر کے دوران بہت سے طلبہ ایسے ملے،جن کے اندر قابلیت کوٹ کوٹ کر بھری تھی؛لیکن گھر کی معاشی بدحالی کی وجہ سے وہ اپنی تعلیم کو آگے تک نہیں لے جاسکتے،ان میں سے کئی خود ٹیوشن پڑھاکر اپنی پڑھائی کررہے ہیں،جبکہ کچھ طلبہ کو یہ فکر ستارہی ہے کہ آگے کی مزید تعلیم کیسے پوری ہوگی؟
آج جب ہمارا سماج جلسے جلوس اورمشاعروں پر لاکھوں روپے پھونک رہاہے،ایسے میں سماج کے ان ہونہار طلبہ پر ہماری نظر کیوں نہیں جاتی؟ہم جتنی آسانی اور دلچسپی کے ساتھ مذہبی جلسوں کے لیے چندہ اکٹھاکرنے نکلتے ہیں،ہمارے خیال میں یہ کیوں نہیں آتا کہ ہم ان بچوں کی تعلیم کے لیے بھی اسی طرح سماج کے درمیان ایک مہم چلائیں اور باہمی تعاون سے ان کی تعلیم کا خرچ اکٹھاکریں؟کیاان بچوں کی تعلیم کی بجاے ان مذہبی جلسوں کے نام پر ہونے والے چندے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں؟اور کیاجو لوگ ان جلسوں اور مشاعروں کے لیے دل کھول کر چندہ دیتے ہیں،انھیں سماج کے ان کمزور طبقات کی حالت اوراپنی ذمے داری کا علم نہیں ہے؟سماجی و معاشی طورپر پسماندہ سماج کے ان طلبہ سے کیاہمارا کوئی سروکار نہیں؟
کوئی یہ سارے سوالات مجھ سے بھی کرسکتا ہے،تومیں خود کو بھی اتناہی قصور وار محسوس کرتا ہوں،جتناکے سماج کے دوسرے طبقات کو قصور وار سمجھتا ہوں؛لیکن ساتھ ہی مجھے یہ بھی احساس ہے کہ مجھ میں اور سماج کے دوسرے طبقات میں بڑا فرق ہے کہ خود اپنے آپ پر اور آپ پر سوال اٹھانے کی ہمت بھی میں نے ہی کی ہے،کیاسماج کے دوسرے لوگ بھی ان سوالات کو اتنی ہی طاقت و حوصلے کے ساتھ اٹھانے کی ہمت رکھتے ہیں؟اگر ہاں،تو سب سے پہلے ان جلسے و مشاعرے بازوں سے سوال کیجیے کہ آخر یہ اپنی ان سرگرمیوں کے ذریعے سماج کو کیادیتے ہیں؟ سرکارکے ذریعے منصوبہ بندکسی سیاسی و تربیتی پروگرام پر سماج لاکھوں کروڑوں کیوں خرچ کرے،جبکہ سماج کا نوجوان معاشی کمزوری کی وجہ سے ناخواندگی و بے روزگاری سے دوچار ہے۔
مذہب نے ہمیں سب سے پہلے تعلیم یافتہ ہونا سکھایاہے،ہمارا مذہب انصاف کے لیے آواز اٹھانے کی بات کرتا ہے،آپسی برابری و مساوات کا درس دیتا ہے،بھائی چارے کی بات کرتا ہے،غریبوں اور مجبوروں کے لیے کھڑے ہونے کی بات کرتا ہے؛لیکن کیا سچ میں ہم ایسا کرپارہے ہیں؟
میرا سوال ان اداروں کے ذمے داروں سے ہے،جو پورے مسلم معاشرے کواپنے خفیہ سیاسی مفادات کی خاطر سال بھر جلسوں میں الجھاکر رکھتے ہیں،آخر کروڑوں کا یہ بوجھ عوام پر کیوں ڈالا جاتا ہے؟کیا مسلم معاشرے کے مسائل کا واحد حل یہ جلسے ہیں؟آپ تعلیمی شعبوں میں اصلاح کی خاطرسرکار کے خلاف احتجاج کے لیے کیوں نہیں اترتے؟آپ ریاست کے نوجوانوں کو روزگار دلانے کی تحریک کیوں نہیں چلاتے؟اگر آپ یہ نہیں کرسکتے،تومیں ان جلسوں کا بائیکاٹ کرتا ہوں اور پورے مسلم معاشرے کو اس قسم کے جلسوں کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے،اس وقت مسلم نوجوانوں کے لیے تعلیم و روزگار اہم ہیں،اس قسم کے جلسے جلوس نہیں!
بہارکا اصل مسئلہ ناخواندگی،بے روزگاری اور فرقہ واریت کا بڑھتا زہر ہے،جو جلسے جلوس سے ہرگز دور نہیں ہوسکتا،ہمارے نوجوانوں میں تعلیم و خودمختاری اور شعور کی بیداری پیدا ہو،اس کے لیے سرکار سے اس کی تعلیمی وفلاحی پالیسیوں پر سوال کرنا پڑے گا،جلسے جلوس اور مشاعرہ بازی کے نام پر بھیڑ اکٹھاکرنے اور قوم کے خون پسینے کی کمائی وقتی ہنگامہ آرائی میں صرف کرنے سے ان نوجوانوں کا کوئی بھلا نہیں ہوسکتا۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ خود ہمارے نوجوانوں کو بھی اپنی زندگی کا مقصد سمجھنا چاہیے،تعلیم کسی بھی قوم اور معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے،اس کے بغیر نہ آپ مذہب کو سمجھ سکتے ہیں،نہ آپ کی معیشت بہتر ہوسکتی ہے اور ناہی معاشرے میں باوقار زندگی گزارسکتے ہیں؛لہذامذہب یا سیاست کے نام پرکسی کو اپنے استحصال کا موقع ہرگز نہ دیں، جو آپ کی قیادت و رہبری کا دعویٰ کرتے ہیں،ان کی اندھی بھکتی کرنے کی بجاے جہاں ضرورت ہو ان سے سوال کیجیے،ان سے پوچھیے کہ وہ مسلم سماج کی مذہبی یا سیاسی قیادت کے دعوے میں کتنے سچے ہیں؟ان کے سامنے سماج کی اصل ضروریات و مسائل کورکھیے،اگر وہ ان مسائل کو دور کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں،تو ٹھیک ہے،ورنہ ایسے قائدین،لیڈروں اور جلسہ ومشاعرہ بازوں کا مکمل بائیکاٹ کیجیے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں