72

سیاست وصحافت کے مدوجزر

ڈاکٹر منور حسن کمال


ملک میں جمہوری سیاست اس وقت کس مقام پر ہے، یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، بلکہ اس وقت جو حالات ہیں وہ کسی نہ کسی طور پر حکومت کے دعووں کی نفی کررہے ہیں۔۔۔ اورجمہوریت کا چوتھا ستون اپنی بنیادیں کھودنے والوں کو تحیر خیز نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس چوتھے ستون پر خطرات کے بادل پہلی مرتبہ نہ صرف خدشات میں بدلے ہیں، بلکہ وہ ایسی سطح پر پہنچ چکے ہیں، جہاں سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ’ہم کو ہماری خبرنہیں آتی‘۔ اس لیے کہ جو بھی خبر آتی ہے، وہ اتنی صاف و شفاف ہوکر منظرعام پر آتی ہے کہ اس میں صداقت کا پہلو تلاش بسیار کے بعد بھی شاید نہ ملے۔ نہیں معلوم تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب ہم اپنی جمہوری سیاست میں اخلاقی روایات کو ڈھونڈنے کی سعی کریں گے اور خالی ہاتھ لوٹیں گے۔
ہر کوئی حکومت وقت کو موردالزام ٹھہرا رہا ہے، وہ اس صحافتی برادری کو نہیں دیکھ رہا ہے جو پہلے ہی صحافت کے چہرے کو اتنا مسخ اور داغ دار کرچکی ہے کہ جس کے دھبے صاف ہونے میں شاید زمانے لگ جائیں۔ ایسا نہیں ہے کہ سیاسی قیادتوں کو اس کا ادراک نہیں ہے۔ وہ سب کچھ سمجھ رہے ہیں، لیکن اپنی اپنی انا کی خاطر خود کو خواب غفلت کا شکار گردان رہے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے ہاتھوں سے قائدانہ صلاحیتیں مٹھی بھر ریت کی مانند انگلیوں کے درمیان سے پھسلتی جارہی ہیں۔ موجودہ سیاسی منظرنامہ انہیں یہ سوچنے پر مجبور کررہا ہے کہ غلطی کہاں ہورہی ہے، اگر وہ ان بھول بھلیوں سے باہر نہ نکلے تو موجودہ صحافت ایسے معمہ کی شکل اختیار کرلے گی، جو کسی طور حل نہیں ہوپائے گا۔ حکومتی نظام کو سیاسی عینک سے دیکھنے کی بجائے انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ صحافت اپنے فرض منصبی سے کتنا دور چلی گئی ہے۔ کیا یہ وہی صحافت ہے جس نے برطانوی سامراج کے پاؤں اکھاڑ دیے تھے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ اب یہاں سے کیسے راہ فرار اختیار کی جائے کہ ہم کہہ سکیں کہ ’جان بچی تو لاکھوں پائے۔‘ صحافت کا موجودہ دور ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے یعنی تاریخ کا ایک اہم موڑ، یہیں سے سیاست کا رُخ بدلا جاسکتا ہے اور صحافت کو بھی زندگی کے لیے نئی خوراک فراہم ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب صحافتی برادری اپنے لیے نہیں، اپنے چینل کے لیے نہیں، بلکہ اپنے قارئین کے لیے سوچے، اپنے نام لیواؤں کے لیے سوچے اور بے بس و مظلوم اور لاچار وکمزور عوام کے لیے سوچے۔ اگر اب یہی صحافتی برادری آئینہ میں صرف اپنا چہرہ دیکھتی رہی، اس نے حکومت وقت کو آئینہ دکھانے کی کوشش نہیں کی تو پھر صحافتی برادری کو اپنے لیے کسی ایسی پناہ گاہ کا انتخاب کرنا چاہیے جہاں اسے نہ عوام نظر آئیں اور نہ ان کی پریشانیاں، یا پھر خود کے لیے کسی ایسے اندھے کنویں کا انتخاب کرلینا چاہیے کہ جہاں سے حضرت یوسفؑ کو کنویں سے نکالنے والے کسی مصری قافلے کا کبھی گزر نہ ہو۔
ایسے حالات میں پھر بات وہیں پہنچتی ہے کہ آزادی کے 7دہائیاں گزرنے کے بعد بھی آخر ملت کہاں کھڑی ہے۔ جو ملت کے حق میں آواز بلند کرتا ہے، اسے کسی فرقہ پرست پارٹی کا ایجنٹ قرار دینے میں ہم ذرا تامل نہیں کرتے، جس کی آواز ذرا مؤثر ہوتی ہے، اس میں ہمیں اتنے سوراخ نظر آنے لگتے ہیں کہ جیسے ملت کی زبوں حالی کے تمام ناسوروں کو خوراک انہی سوراخوں سے ملتی ہے اور وہ ناسور بڑھتے جارہے ہیں، بڑھتے ہی جارہے ہیں۔
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ قوم و ملت کب تک گزشتہ دہائی کے مشرا کمیشن اور سچر رپورٹ کا رونا روتی رہے گی۔ خود کوئی ایسا قدم کیوں نہیں اٹھایا جارہا جس سے ساری دشواریاں ختم ہوجائیں۔۔۔ برسراقتدار حکومت کے ذمہ داروں سے ملنے کو عیب تصور نہیں کرنا چاہیے، بلکہ جو لوگ اس سلسلے میں آگے بڑھ رہے ہیں، انہیں ایسے صاف وشفاف ’ڈائیلاگ‘ کی داغ بیل ڈالنی چاہیے کہ ہر بات کھل کر سامنے آجائے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ اس سے حالات بہتر ہوں گے، لیکن اگر ڈرے اور سہمے ہوئے عوام کو صرف دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے ہی چھوڑ دیا گیا تو پھر یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ ملک و قوم کے حالات میں کوئی بہتری آئے گی۔ سیاست اور صحافت اگر اسی طرح انتشار کا شکار رہی تو اس کا مدوجزر سب کچھ تہہ و بالا کردے گا۔
اگر حالات کو بدلنا ہے اور ملک و قوم کو بہتری اور ترقی کی جانب آگے بڑھانا ہے تو ماضی کے فریب زدہ خوابوں سے نکل کر حقیقی زندگی کو کھلی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے اور یہ مشاہدہ بھی کرنا چاہیے کہ ’غلطی کہاں ہورہی ہے؟‘ پہلی بات تو یہ ہے کہ غلطی کی اصلاح کی نہ صرف کوشش کرنی چاہیے کہ غلط مفروضوں کے جال میں پھنسے ہوئے کمزور و بے بس اور لاچار عوام کو اس جال سے نکالا جائے، انہیں سیدھی راہ دکھائی جائے، سیدھی راہ دکھانے کے لیے قوم و ملت کوضرورت ہے ایک بہترین تعلیمی اسٹرکچر کی۔ جب تک تعلیمی سطح پر قوم بلند مرتبہ حاصل نہیں کرے گی، آئے دن کوئی نہ کوئی صحافتی برادری کا ہیرو وہی منظر دکھاتا رہے گا، جس سے اس کے پیٹ کے جہنم کی آگ سرد ہورہی ہے اور وہ جو کچھ چاہتا ہے، وہی منظر دکھا دیتا ہے، حقیقی تصویر بحرمردار کے قضیۂ لاینحل کی طرح لوگوں کو اپنی جانب کھینچتی رہے گی اور وہ اس میں ایسے غرق ہوتے رہیں گے کہ جیسے دنیا میں تھے ہی نہیں۔
مجھے یہ کہنے میں ذرا تامل نہیں کہ جب تک ہم صرف ناسازگارحالات کا رونا روتے ہیں، صحافتی دنیا کو مضبوطی سے یہ باور نہیں کراپائیں گے کہ ہندوستان کی آزادی کسی ایک فرقہ یا کسی ایک جماعت کی دین نہیں ہے، بلکہ ملک کی تمام قوموں اور ان کے تمام سرکردہ لیڈروں کی رہین منت ہے، جنہوں نے مل کر نہ صرف اپنے سردھڑ کی بازی لگادی، بلکہ ملک کو آزاد کرانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ دوسرے یہ کہ بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں سیکولرمزاج جماعتیں یا تو قومی جماعتیں اکیلے اکیلے ملک کی آزادی کا خواب دیکھ رہی تھیں۔ لیکن مسلم قیادت نے اپنی سربراہی کے لیے گاندھی جی کو پیشوا تسلیم کیا اور پھر خلافت عثمانیہ کی بقا کے لیے شروع کی گئی تحریک خلافت کے قائدانہ کردار کے لیے بھی گاندھی جی کی قیادت کو تسلیم کیا گیا، تب جو اتحاد ملک کی دونوں بڑی قوموں ہندو-مسلم میں نظر آیا، اس کی مثال تاریخ کے صفحات دینے سے قاصر ہیں۔ ملک کی سیاست اور صحافت دونوں میں انتشار کی جو کیفیت نظر آرہی ہے، اسے دور کرنے کی ذمہ داری بھی پورے ملک و قوم کی ہے۔ ایسے حالات میں دانشور اور سیکولرزم پر یقین رکھنے والو ںکی ذمہ د اریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ یقین کرنا چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نباہنے کے لیے مستعد ہوں گے اور ملک و قوم کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔
mh2kamal@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں