62

سیاست بدلی دیش بدلا، بدلا ہندوستان

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
ملک میں جنتاپارٹی کے ابھار کو سیاسی تبدیلی کا آغاز مانا جاتا ہے ۔ اس میں کانگریس کی پالیسی پروگرام سے اختلاف رکھنے والے دل مع جن سنگھ شامل تھے ۔ جنتاپارٹی کی ٹوٹ کے نتیجہ میں ریاستی پارٹیاں وجود میں آئین ۔ انہوں نے کسی نظریہ کے بجائے ذات و طبقات کی بنیاد پر اپنی سیاسی عمارت کھڑی کی ۔ جس نے نسلی و مذہبی عصبیت کو جنم دیا ۔ نتیجہ کے طور پر ملک میں نسلی تصادم و فرقہ وارانہ فسادات کی جھڑی لگ گئی ۔ کانگریس اپنی ڈھل مل پالیسی کی وجہ سے ان کو روکنے میں ناکام رہی ۔ کانگریس کے اس رویہ سے ریاستی جماعتیں اور مضبوط ہوئیں ۔ جن سنگھ یعنی بھارتیہ جنتاپارٹی کہیں ان پارٹیوں کے ساتھ تھی تو کہیں ان کے مد مقابل ۔ مگر اصل طاقت اسے بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعہ سے حاصل ہوئی ۔ وہ پارلیمنٹ میں دو سیٹوں کی جگہ 1989 کے الیکشن میں 80 سیٹیں جیت کر جنتادل حکومت میں حصہ دار بن گئی ۔
سیکولرزم کی دعویدار جماعتوں و دانشوروں نے نہ اس سیاسی تبدیلی پر سنجیدگی سے غور کیا اور نہ ہی ملک میں آ رہے بدلاؤ کو روکنے کی کوئی کوشش ۔ رہا سوال مسلمانوں کا تو وہ فسادات سے نبٹنے، ریلیف بانٹنے اور کھانے میں لگے ہوئے تھے ۔ جبکہ دوسرے طبقات و ذات کے لوگ سیاسی طور پر طاقتور بننے کی کوشش کر رہے تھے ۔ مسلمان فسادات، کامن سول کوڈ سے بچنے کے لئے کبھی ایک تو کبھی دوسری پارٹی کا جھنڈا اٹھاتے رہے ۔ مگر اس کا کوئی فائیدہ نہیں ہوا ۔ فسادات کی وجہ سے مسلمانوں کے پشتینی کاروبار چھن گئے ۔ وہ مالک سے مزدور بن گئے ۔ پرسنل لاء کو بچانے کے نام پر شاہ بانو معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو پارلیمنٹ سے پلٹوانا مہنگا پڑا ۔ ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے حکومت نے بابری مسجد کا تالا کھول دیا ۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آج تین طلاق مخالف بل منظور ہو کر قانون بن چکا ہے ۔ بڑے بڑے دعویٰ کر مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے، ہندو راشٹر نہ بننے دینے اور بی جے پی کو مسلم و ملک مخالف بتانے والی پارٹیاں کچھ نہ کر سکیں ۔ جب ریاستوں میں پسماندہ ذاتیں اور طبقات اپنے کو سیاسی طور پر امپاور کر رہے تھے ۔ اس وقت مسلمانوں نے نہ اپنے آپ کو امپاور کیا اور نہ ہی ملک میں آ رہی تبدیلی کے لحاظ سے تیار ۔ جس کی وجہ سے وہ سیاسی اعتبار سے بے محل ہوتے جا رہے ہیں ۔
قومی و مذہبی عصبیت نے فرقہ واریت کی شکل اختیار کر لی ۔ سیاسی جماعتوں نے اسے اور بڑھایا، یہ خاص طور سے ہندو مسلم اور پاکستان کا سوال سیاسی پارٹیوں اور حکومت کو نہ صرف جواب دہی سے بچاتا ہے بلکہ اقتدار تک پہنچنے کا راستہ بھی آسان بناتا ہے ۔ 2014 کے الیکشن سے پہلے کے حالات کو یاد کیجئے، اس وقت مظفر نگر فساد، لوجہاد، گھر واپسی، شمشان و قبرستان اور کیرانہ سے ہندوؤں کی نکل مکانی جیسی باتیں پبلک ڈومین میں تھیں ۔ بی جے پی نے ترقی (وکاس) کے ساتھ راشٹر واد کو جوڑ کر اچھے دن کا خواب دکھایا ۔ مگر اس کے انتخابی ایجنڈے میں فرقہ واریت شامل تھی ۔ کیونکہ جن حضرات پر فساد، نکل مکانی کا جھوٹ پھیلانے کا الزام تھا انہیں اسٹیج پر بلا کر عزت دی گئی اور حکومت بننے پر وزارت ۔ انعام انہیں بھی ملا جو گھر واپسی، لوجہاد اور شمشان، قبرستان جیسے اشتعال انگیز بیان دے رہے تھے ۔ نوازا انہیں بھی گیا جو بی جے پی کی مخالفت کرنے والوں کو راشٹر ورودھی بتا کر پاکستان جانے کو کہہ رہے تھے ۔
اس صورتحال نے رواداری، قومی یکجہتی اور انیکتا میں ایکتا کو بری طرح متاثر کیا ۔ بیس کروڑ مسلمانوں سے ڈرا کر سو کروڑ ہندوؤں کو ووٹ بنک میں بدلنے کی کوشش کی گئی ۔ بی جے پی کی حکومت کو آٹھ سو سال کی غلامی سے آزادی بتانے سے نہ صرف سیاست بدلی بلکہ ملک کا ماحول بھی بدل گیا ۔ گائے، چوری یا خاص طرح کے پہناوے کو بنیاد بنا کسی شخص کو پیٹ پیٹ کر مارنے والوں کو سزا کے بجائے پھول مالا پہنانے نے فرقہ واریت کی کھائی کو اور چوڑا کیا ۔ انصاف کے دوہرے معیار نے شر پسندوں کے حوصلے اور بلند کئے ۔ اس سے اکثریت پسندی کے رجحان کو بھی فروغ ملا ۔ جبکہ ملک کی اکثریت سیکولرزم میں یقین رکھتی ہے ۔ مصنفین اور دانشوروں کا ملک میں بڑھ رہی عدم رواداری کے خلاف احتجاجاً ایوارڈ واپس کیا جانا اس کا ثبوت ہے ۔ پھر بھی اس سوچ نے بڑے طبقہ کو متاثر کیا، جس کے نتیجہ میں بی جے پی دوبارہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ۔ اس کے لئے اپوزیشن کا رویہ بھی بڑی حد تک ذمہ دار ہے ۔ عوام کو بی جے پی سے بہتر حکومت دینے کا وہ یقین نہیں دلا سکے ۔ منصوبہ بندی کی کمی، آپسی اختلافات، لیڈر شپ سے بغاوت اور غیر واضح پالیسی نے عوام کو بی جے پی کے ساتھ جانے کے لئے مجبور کر دیا ۔
نیو انڈیا نعرے کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آئی بی جے پی سے امید بندھی تھی کہ اس بار وہ کچھ بہتر کرے گی ۔ وزیراعظم نریندر مودی کی پہلی تقریر سے بھی اس کا اشارہ ملا تھا ۔ انہوں نے سب کا ساتھ، سب کا وکاس کے ساتھ سب کے وشواس (یقین) پر زور دیا تھا ۔ انہوں نے مسلمانوں کا یقین جیتنے اور ملک سے غریبی دور کرنے کی بات کہی تھی ۔ مگر عملی سطح پر اس کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا ۔ ہجومی تشدد نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں اضافہ ہوا ہے ۔ ملک سے غریبی کیسے دور ہوگی اس بارے میں کوئی واضح پالیسی ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے ۔ 2019 کے الیکشن نے صرف اپوزیشن کو ہی کمزور نہیں کیا بلکہ این ڈی اے میں شامل پارٹیاں بھی کمزور ہوئی ہیں ۔ ان کے پاس این ڈی اے کے ساتھ رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ۔ اگر یہ این ڈی اے کا ساتھ چھوڑتے ہیں تو ان کی وہ حیثیت بھی باقی نہیں رہے گی جو آج ہے ۔ وزارتوں کی تقسیم اور پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کی معیاد بڑھا کر پاس کرائے گئے بل پر ہوئی بحث کے دوران اس کا مشاہدہ ہوا ۔
عوام نے بی جے پی اور اس کی حکومت میں جو یقین دکھایا اس کا تقاضا ہے کہ ہر ہاتھ کو کام اور ہر انسان کو حفاظت و صحت کی سہولت ملے ۔ لوگوں کو بانٹ کر الیکشن تو جیتا جا سکتا ہے مگر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن نہیں کیا جا سکتا ۔ ملک کی سالمیت کے لئے عوام کے درمیان روداری، یکجہتی، محبت اور ایک دوسرے کی مدد کا جزبہ پیدا کرنا ضروری ہے ۔ ملک عوام سے بنتا ہے اور عوام کا اتحاد اس کو مضبوط بناتا ہے ۔ ہر چھوٹی چھوٹی بات کے لئے نہرو اور ان کے خاندان کو کوسنے کے بجائے حکومت کو خود راستہ نکالنا چاہئے ۔ کانگریس کی حکومتوں کو جو سمجھ میں آیا انہوں نے کیا ۔ بی جے پی کے سامنے ان سے بہتر کرنے کا چیلنج ہے ۔ چیلنج یہ بھی ہے کہ ملک میں مثبت بدلاؤ ہوں تاکہ نیو انڈیا کا خواب پورا ہو سکے ۔ یہ صرف راشٹر واد کا راگ الاپنے سے تو ہر گز نہیں ہوگا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں