213

سوشل میڈیا میں سرگرم افراد کے فرائض

ڈاکٹرمحمدرضی الاسلام ندوی
مرکز جماعت اسلامی ہند میں کل سے سوشل میڈیا ورک شاپ چل رہا تھا، جس میں ملک کی مختلف ریاستوں سے سوشل میڈیا میں سرگرم 60 سے زائد نمائندے شریک ہوئےـ
اس پروگرام میں سوشل میڈیا کی اہمیت ، اس میدان میں کام کی ضرورت ، اس کے تقاضے ، سیاسی جماعتوں کے ذریعے سوشل میڈیا کا استعمال ، دینی ، دعوتی اور تحریکی مقاصد سے سوشل میڈیا کا استعمال کس طرح کیا جاسکتا ہے؟ ان جیسے موضوعات پر رہ نمائی فراہم کی گئی ، گروپ ڈسکشن ہوئے اور اس میدان میں ملک کی مختلف ریاستوں میں جماعت کے ذریعے کیا کام ہو رہا ہے؟ اس پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور اس کو بہتر بنانے کے لئے تجاویز اور مشورے سامنے آئےـ
آج پروگرام کا آغاز ہوا تو راقم سے تذکیر کی خواہش کی گئی، میں نے سورۂ مائدہ ، آیت نمبر 8 کی مختصر تشریح کی، میں نے عرض کیا کہ اس آیت میں اہلِ ایمان کو خطاب کرکے ان کی کچھ ذمے داریاں یاد دلائی گئی ہیں، یہ ذمے داریاں ایسی ہیں کہ سوشل میڈیا میں سرگرم افراد کو خاص طور پر خود کو ان کا مخاطب سمجھنا چاہیے اور ان کے مطابق اپنی سرگرمیاں انجام دینی چاہئیں :
(1) حق پر قائم رہنے والے بنو :
اللہ تعالیٰ کا پہلا حکم یہ ہے کہ سماج میں حق اور راستی کا عَلَم بلند کرو،آج سوشل میڈیا باطل ، مکر و فریب ، اباحیت اور جھوٹ کا آلۂ کار بنا ہوا ہے، سماج میں آوارگی اور فحاشی پھیلانے والے ، شرک و بدعات عام کرنے والے اور لوٹ کھسوٹ کرنے والے اپنے مذموم مقاصدکی تکمیل کے لیے اس کی مدد لیتے ہیں، اہل حق کو اپنے تعمیری اعلیٰ مقاصد کے لیے اس کا استعمال کرنا چاہیےـ
(2) عدل و انصاف کے گواہ بنو :
اللہ کا دوسرا حکم یہ ہے کہ سماج میں عدل و انصاف کو رواج دینے والے ، اسے نافذ کرنے والے اور قائم کرنے والے بنوـ سوشل میڈیا ظلم و ستم ، نا انصافی اور حقوق غصب کرنے کا پشتیبان بنا ہوا ہے،اسے دوسروں کی کوتاہیاں عام کرنے اور اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تم اسے عدل کے نفاذ اور انصاف کی فریاد کے لیے استعمال کروـ
(3) ہر حال میں عدل کرو :
تیسرا حکم الٰہی یہ ہے کہ عدل و انصاف کا نفاذ ہر حال میں کرو،اس معاملے میں دہرے پیمانے اختیار نہ کرو،سوشل میڈیا کا استعمال اس معاملے میں غلط طریقے سے ہو رہا ہے، اس کے ذریعے جانب داری ، فرقہ واریت اور عصبیت کا مظاہرہ ہوتا ہے، تم ان عیوب سے دور رہوـ
(4) اللہ سے ڈرو :
چوتھا حکم یہ ہے کہ ہر حال میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرو،ہر موقع پر تمھارے پیش نظر یہ رہے کہ تم جو کام کرنے جا رہے ہو،اس سے اللہ تعالی تم سے خوش ہوگا یا تم اس کی ناراضی مول لو گےـ
(5) اللہ کو تمہارے ہر کام کی خبر ہے :
آخری ہدایت بہت اہم ہے، یاد رہے کہ تم ہر وقت ، ہر جگہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں ہو،اس کے کارندے تمھاری ہر حرکت کو نوٹ کر رہے ہیں، تمھارے اعضا و جوارح گواہی دیں گے کہ تم نے ان سے کیا کام لیا تھا؟ اللہ کا CCTV کیمرہ ہر جگہ لگا ہوا ہے، تم اس کی راست نگرانی میں ہو؛ اس لیے جو کچھ کرو،سوچ سمجھ کر کرو کہ تمھیں اس کی جواب دہی کرنی ہوگی ـ
یہ ہدایات اہلِ ایمان کو خطاب کرکے دی گئی ہیں، گویا انھیں ایمان کے تقاضے قرار دیا گیا ہے، سوشل میڈیا پر سرگرم احباب کو ان پر دھیان دینا چاہیے ، انھیں حرزِ جاں بنانا چاہیے اور ان پر عمل کرنا چاہیےـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

سوشل میڈیا میں سرگرم افراد کے فرائض” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں