41

سوشل میڈیا:بے مثال وسائل، لازوال مسائل

ڈاکٹر شمس کمال انجم
(صدرشعبۂ عربی ، اردو، اسلامک اسٹڈیز، بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری،جموں و کشمیر)
یہ سوشل میڈیا بھی عجیب وغریب شے ہے،اس نے انسانوں کے طرزِ معیشت ومعاشرت کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے،ساری دنیا کو اپنی مٹھی میں قید کرلیا ہے۔ ہر صغیر وکبیر کو اپنا اسیر بنالیا ہے۔ انٹرنیٹ کی روشنی سے آنکھیں خیرہ ہوچکی ہیں۔ای میل،ٹویٹر، فیس بک کے کرشمے دیکھ کرعقل کل حیران ہے۔ واٹس اپ نے توکمال ہی کردیا ہے۔ ایک وہ زمانہ تھا جب انٹرنیٹ نہیں تھا۔ تو ای میل بھی نہیں تھا۔ ٹویٹر ، فیس بک اورواٹس اپ تو تصور میں بھی پیدا نہیں ہوئے تھے یا ظلمات ثلاث میں کہیں تخلیق وتشکیل کے مراحل سے گزر رہے تھے۔تب مراسلت ومکاتبت ہوتی تھی۔خطوط لکھے جاتے تھے۔ پوسٹ آفس کے حوالے کیے جاتے تھے۔ مہینوں میں وہ پہنچتے تھے اور مہینوں میں ان کے جواب آتے تھے۔اور کبھی حالات ، اعدا یا رقیبوں کی نذر ہوجاتے تھے۔ چرا لیے جاتے تھے۔مکتوب نگاری کا ایک سلسلہ تھا۔ علمی وادبی مکتوب نگاری، عاشق ومعشوق کی مکتوب نگاری، اعزا واقربا کی مکتوب نگاری وغیرہ وغیرہ۔ بڑے بڑے علماء ، ادباء، شعراء اور دانشور حضرات خطوط لکھتے تھے جو علم وادب کا حصہ بن جاتے تھے۔ غالب ، اقبال، مولانا آزاد، سر سید احمد خان، محمد حسین آزاد، مولانا حالی، علامہ شبلی نعمانی ، ڈپٹی نذیر احمد، اکبر الہ آبادی وغیرہ نے مکاتیب کا اہتمام کیا اور ان میں سے بیشتر کے مکاتیب کے ایسے مجموعے شائع ہوئے جن میں علم وادب کا ایک جہان معنی سمویا ہوا ہے۔
عاشق ومعشوق کے درمیان بھی مراسلت ومکاتبت کا سلسلہ ہوتا تھا۔محبوبہ گاؤں کی پگڈنڈی پر گھنٹوں بیٹھ کر ڈاکیے کا انتظار کیا کرتی تھی۔ خط آتا تھا تو اسی سے کہتی تھی بھیا پڑھ دے اور جب وہ پڑھ دیتا تھا تو اسی سے کہتی تھی بابو اس کا جواب بھی لکھ دے۔جب و ہ خود لکھتی تھی تو صفحۂ قرطاس پر اپنی انگشت حنائی کے اثرات بھی ثبت کردیا کرتی تھی۔ کبھی زلف کے بال لفافے میں قید کرکے بھیج دیتی تھی۔ عاشق حضرات کبھی کبھی خون سے خط لکھتے تھے اور اپنے سچے عشق کا ثبوت فراہم کیا کرتے تھے۔یہ مصرع بہت مشہور تھا کہ ’’لکھتا ہو ں خط خون سے سیاہی نہ سمجھنا‘‘ اعزا واقرباء کو بھی خطوط لکھے جانے کا ایک فارمیٹ تھا۔سلام کلام کے بعد اعزاء واقرباء کو لکھے جانے والے خطوط اس طرح شروع ہواکرتے تھے۔ بعد سلام کے خداوند کریم سے خیریت طرفین نیک مطلوب ہے۔ خیریت دارم وخواہم۔کے علاوہ خط کے اخیر میں لکھے جانے والے چند جملے بھی بہت مشہور تھے جیسے کہ ’’ کم لکھنا زیادہ سمجھنا/ فقط والسلام/ تمہارا اپنا‘‘ وغیرہ وغیرہ۔
لیکن یہ جو شوشل میڈیا آیا تو مکتوب نگاری کا جنازہ اٹھ گیا ۔ اسے کہیں مرحومین کی بستی کا مکین بنادیا گیا۔ جب انٹر نیٹ آیا تو سب سے پہلے ای میل کا سلسلہ شروع ہوا۔ خطوط ای میل کیے جانے لگے۔ پھر ماضی قریب میں فیس بک، ٹویٹر اور واٹس اپ کا سیلاب آیاجو اپنے ساتھ ساری تہذیبوں کو بھی بہا لے گیا۔ای میل سے خطوط نگاری پر شیث اعظمی مرحوم نے کیا خوب نظم لکھی جو بہت مشہور ہوئی۔ نظم یوں ہے۔ یونہی آجاتے ہیں ای میل سے سادہ سے خطوط/ نہ تو خوشبو نہ ہی رنگ لب ورخسار لیے/ نقش انگشت حنائی کف کاغذ پہ نہیں/اور کسی حرف سے آتی نہیں خوشبوئے بدن/پھوٹتی ہی نہیں الفاظ سے سانسوں کی مہک/ گنگناتی نہیں آہٹ نہ کوئی سرگوشی/خط کی آغوش میں آتا ہی نہیں زلف کا بال/ ورق نامہ چراتا ہی نہیں رنگ قبا/ دشت الفاظ میں بے صوت وصدا ہے’’ آداب‘‘/ شور احساس میں ہے گنگ زبان ’’تسلیم‘‘ / ہونٹ رکھوں تو کہاں پرکہ نشاں بھی تو نہیں۔
اکیسویں صدی کی تہذیب پرانے زمانے کی تہذیب سے بالکل مختلف ہے۔شوشل میڈیا نے اس میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔فیس بک پر ہر آدمی گویا ماڈلنگ کررہا ہے۔ہر صغیر وکبیر اپنی تصویروں کے مختلف رنگوں کو اپ لوڈ کررہا ہے۔ ہر شخص دانشوری کررہا ہے۔ اپنے افکار تازہ سے اپنے Page کو آراستہ کررہا ہے۔ Likeاور Commentکا انتظار کررہا ہے۔اپنی سرگرمیوں کو سامنے لانے، اپنی علمی وادبی جمالیات وکمالات کو برسرعام کرنے کا کیا خوب ذریعہ بن گیا ہے فیس بک۔ ٹویٹر پر تو چلو بڑے بڑے لوگ ہی ابھی دانشوری کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔لیکن واٹس اپ ہر شخص کی مٹھی میں قید ہے۔مراسلت ومکاتبت اسی کے ذریعے ہورہی ہے۔ چھوٹے بڑے میں۔ دوست دوست میں۔ بھائی بھائی میں۔ باپ بیٹے میں۔اعزاء واقرباء میں۔ استاد شاگرد میں۔ محترمین ومعززین میں ، عاشق ومعشوق میں مراسلت اور پیغام رسانی کا نہایت سریع الوصول ذریعہ یہ واٹس اپ ہی ہے۔انگلیوں کو ذرا حرکت دیجیے اورپیغام بھیج دیجیے۔ اب یہ پیغام بھی کئی طرح کے ہوگئے ہیں۔ جنہیں واٹس اپ کی زبان میں ٹکسٹ میسج، امیج فائل یا ویڈیو فائل کہاجاتا ہے۔اب تو تصویر یار موبائل کی چھوٹی سی مشین میں اس طرح قید ہے کہ جب ذرانگلی دبائی دیکھ لی۔ہر شخص سوشل میڈیا کا اسیر ہوگیا ہے۔ سوشل میڈیا کے وسائل وذرائع کو جو لوگ استعمال نہیں کرتے وہ یقینا بیک ورڈ اور پس ماندگی کی زندگی جیتے ہیں۔ ایک پڑھے لکھے صاحب کہنے لگے کیا میں فیس بک پر آؤں۔ میرے گاؤں کا ہر جاہل فیس بک پر بیٹھا ہوا ہے۔ پھر انہوں نے بالاخیرLog Up کیا۔ اپنا اکاؤنٹ createکیا اور کہنے لگے لو میں بھی آگیا۔ہم نے بھی ان کا استقبال کیا ،مرحبا کہا۔ حالت یہ ہوگئی ہے کہ میاں بیوی ایک ہی کمرے میں ہوتے ہوئے بھی اپنے اپنے موبائل کے ساتھ فیس بک پر پوری دنیا کی اس طرح سیر کررہے ہوتے ہیں کہ دونوں کو ایک دوسرے کی خبر نہیں ہوتی۔ باپ بیٹوں کو ایک دوسر ے کی خبر نہیں۔ بچے کمرہ بند کرکے فیس بک پر، انٹر نیٹ پر، واٹس اپ پر اس طرح مصروف ہوتے ہیں کہ انہیں اپنوں سے بات کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ اگر ملتا بھی ہے تو واٹس اپ کے ذریعے۔ ٹکسٹ میسج کے ذریعے یا امیج فائل کے ذریعے۔ لوگ سوشل میڈیا پرگھنٹوں مصروف رہتے ہیں۔ کچھ شاعر ادیب تو ایسے بھی ہیں جو ہر لمحے کی حرکت قید کرکے فیس بک کے حوالے کرتے ہیں اور لائک وڈس لائک کا انتظار کرتے ہیں۔ نہ جانے وہ اپنے دیگر فرائض منصبی کب ادا کرتے ہیں۔
عجیب سی دنیا بن گئی ہے۔ اب یہ پہلے کی طرح سست رفتار نہیں رہی۔اب یہ برق رفتار بن گئی ہے۔بڑی فاسٹ ہوگئی ہے۔ بالکل بدل گئی ہے۔ کیش لس ہوگئی ہے۔سائنس وٹکنالوجی نے ایسادھوم مچایا ہے کہ اکیسویں صدی ٹکنالوجی کی صدی بن گئی ہے۔ ٹکنالوجی کی تہذیب بن گئی ہے۔عربی میں اردو میں انگریزی میں لاکھوں کروڑوں کتابیں انٹرنیٹ کے دامن میں سمو ہوئی ہیں۔ نالج اکسپلوجن کا زمانہ آگیا ہے لیکن اردو اور عربی کے بیشتر اسکالروں کو ایک بے عیب پیرا گراف لکھنے کو کہہ دیا جائے تو بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔تھیسس اور تحقیقی مقالے بھی لکھے جارہے ہیں تو لائبریریوں میں داخل ہوئے بغیر یعنی انٹر نیٹ پر موجود لائبریریوں کے سہارے۔ادھر ادھر کی کٹ پسٹنگ چل رہی ہے۔ سرقات کے ایسے ایسے طریقے عام ہوگئے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔
سائنس وٹکنالوجی نے لوگوں کو سہولتیں بہم پہچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔پہلے کاتبوں سے کتابت کرائی جاتی تھی۔ پروف وغیرہ کے بڑے مسائل تھے۔ اب کمپیوٹر پر ٹائپ ہورہا ہے اور سوفٹ کاپی ای میل ہورہی ہے۔ کشمیر سے کنیا کماری تک، عرب سے عجم تک کسی بھی کونے میں کسی بھی چیز کو ارسال کرنے میں لمحوں کی ضرورت ہوتی ہے۔یعنی دنیا چھوٹا سا گاؤں نہیں میں کہوں گا کہ چھوٹا سا محلہ بن گئی ہے۔ اب وہ زمانہ لد گیا جب گھروں میں فاقہ کشی ہوتی تھی۔ ہم نے بھی بچپن میں سنا تھا کہ ارے فلاںکے یہاں تو فاقے کی نوبت آگئی ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے مگر پیسوں کے چشمے پھوٹ رہے ہیں۔ فاقہ کشی تو کسی ڈکشنری کی پرانی اصطلاح بن گئی ہے۔ اب یہ چڑیا ہندوستان میں نظر نہیں آتی۔ لوگوں کے پاس پیسے ہی پیسے ہیں۔ اتنے کہ حکومت نے ضرورت سے زیادہ پیسے گھر میں رکھنے پر پابندی عاید کردی ہے۔ بہ الفاظ دیگر سہولیات ہی سہولیات میسر ہیں۔ آسانیاں ہی آسانیاں ہیں۔ہونا یہ چاہیے تھا کہ ان تمام سہولیات ، آسائشوں، آسانیوں اور خوش حالی کی وجہ سے آج کی زندگی زیادہ اطمینان بخش ہوتی۔آج کی دنیا زیادہ پرسکون اور پرامن ہوتی۔ آج کے لوگوں میں زیادہ محبت اور بھائی چارہ ہوتا۔ مگر کیا وجہ ہے کہ تمام آسانیوں کے باجود ، تمام آسائشوں کے باوجود، تمام خوش حالی اور دولت کی ریل پیل کے باوجودسبھی پریشان حال ہیں۔چھوٹے بڑے ، اچھے برے، عالم وجاہل سبھی قلق واضطراب کا شکار ہیں۔ کسی کو کسی سے بات کرنے کی فرصت نہیں۔ اپنوں کو اپنوں سے ملنے کا وقت نہیں۔ٹائم میں برکت نہیں۔ وقت میں دم نہیں۔ روز وشب تو جیسے لمحوں میں بدل گئے ہوں۔روحانیت جیسے مر گئی ہو۔ اپنائیت جیسے کہیں گم ہوگئی ہو۔انسانیت مارے شرم کے جیسے ادھر ادھر گلی کوچوں میں منہ چھپائے پھر رہی ہو۔ رشتے جیسے قتل ہوگئے ہوں۔ آدمیت کسی جزیرے میں قید ہوگئی ہو۔اصولوں کی موت ہوگئی ہو۔اخوت وبھائی چارہ مرض الموت میں مبتلا ہوں۔ مروت غرغرے کے عالم میںہو۔آخر کیا وجہ ہے کہ تمام آسانیوں اور آسائشوں کے باوجود کسی کو سکون حاصل نہیں۔ تمام تر سہولتوں کے باوجود قلق واضطراب ہماری زندگی کا حصہ بن گئے ہیں۔بڑی بڑی بیماریاں دلوں پر قبضہ کررہی ہیں۔عیش وعشرت کے باوجود راحت جاں میسر نہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم مادیت زدہ ہوگئے ہیں۔دنیا دار بن گئے ہیں۔جدید تہذیب نے ہمارے اصولوں کا قلع قمع کردیا ہے۔ ہمارے رسوم ورواج کا گلا گھونٹ دیاہے۔ ہمارے عقیدے کو ہم سے چھین کر ہم کو ننگا کردیاہے۔ اللہ پر ہمارے اعتماد کو ہم سے چھین لیاہے اور ہم خالی پن کا شکار ہوگئے ہیں۔ہمارے آباء واجداد کاوہ زمانہ تھا کہ فاقے بھی کرتے تھے تو ان کے چہرے سے روحانیت کی چمک چھن چھن کر نکلتی تھی کہ انہیں یقین تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔وہ اللہ پر ایمان رکھتے تھے اور پوری طاقت کے ساتھ۔ پورے اعتقاد کے ساتھ۔ایمان تو ان کا لباس تھا۔ اللہ سے تعلق تو ان کا ہتھیار تھا۔ وہ اللہ کو خوش حالی میں پہچانتے تھے تو اللہ تعالی بد حالی میں ان کا خیال رکھتا تھا۔وہ اپنی جڑوں سے جڑے ہوئے تھے۔اپنے اصولوں اور ایمان کا کبھی سودا نہیں کرتے تھے۔ ہر حالت میں اللہ کے احتساب کا احساس کرتے تھے اور اس سے ڈرتے تھے۔ رشتوں کا پاس ولحاظ رکھتے تھے۔ اخوت وبھائی چارے کو سینے سے لگا کر رکھتے تھے۔ خلوص ومحبت تو ان کی رگ وپے میں سرایت کیے ہوئے تھی۔ وہ ہر حال میں خوش رہتے تھے ۔ اسی لیے وہ اپنی زندگی سے مطمئن تھے۔ اپنے کام سے خوش تھے۔ اپنے بچوں کی اچھی پرورش اور تربیت کرتے تھے۔انہیں اصولوں سے وابستہ کرتے تھے۔ جڑوں سے انہیں جوڑتے تھے۔ سو وہ برے سے برے حالات میں بھی خوش رہتے تھے۔
یہ سچ ہے کہ آج کی ٹکنالوجی نے ہمیں سب کچھ دیا۔مال ومنال سے نوازا۔ علم اور دولت سے فیضیاب کیا۔آسائش وآرائش کی ہر شے مہیا کرائی۔ہم نے مریخ تک کا سفر کیا۔ آگے کے سفر کی تیاری ہے۔ مگر ہمارا ایمان ڈگمگاگیاہے۔ ہمارے اصول مر گئے ہیں۔ ہمارا اعتقاد کہیں دفن ہوگیاہے۔ ہمارے توکل کا جنازہ اٹھ گیاہے۔ نیوکلیر فیملی ہماری زندگی بن گئی ہے۔ ماں باپ کو ہم نے نظر اندا ز کردیاہے۔ صرف اپنے لیے جینے لگے ہیں۔ اپنے عہدے مرتبے اور منصب کے لیے بھاگ دوڑ کرنے لگے ہیں۔ قناعت سے ہم نے رشتہ توڑا، اللہ سے ہم نے منہ موڑا، اپنے اصولوں سے ہم نے نظریں چرائیں اورہم بے بنیاد ہوگئے۔ بے روح ہوگئے۔ بے ضمیر ہوگئے۔ اسی لیے بے موت مر گئے۔ اور اب اس طرح جی رہے ہیں جیسے کہ ہم انسان نہیں ٹکنالوجی کا حصہ ہوں۔ اسی سے جنمے ہوں۔ اسی سے پیدا ہوئے ہوں اور وہی ہماری روزی روٹی اور زندگی ہو۔ضرورت ہے کہ ہم آج کے ارتقاء کو اللہ سے جوڑیں۔ ٹکنالوجی کو اللہ کو جاننے کا وسیلہ بنائیں۔ انسانیت کا احترام کریں ، اصولوں سے دوستی کریں، قدروں کو پہچانیں اور ٹکنالوجی کی اس دنیا کو خوب سے خوب تر بنائیں۔ اور یہ مادیت کے ساتھ روحانیت کے امتزاج کے بغیر ناممکن ہے، ناممکن ہے،ناممکن ہے۔اللہ بس باقی ہوس۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں