62

سنگھ پریوار،گوڈسے اور گاندھی

عبدالعزیز
فلمی اداکار اور سیاست داں کمل ہاسن نے اپنی ایک تقریر میں موہن داس کرم چند گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو آزاد ہندستان کا پہلا ہندو دہشت گرد کہہ دیا،جس کی وجہ سے سنگھ پریوار کے لیڈر چراغ پاہیں اور انھیں طرح طرح سے ڈرانے اور دھمکانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ ان کے پریوار کے ایک کارکن نے کمل ہاسن کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ بھی دائر کردیا ہے کہ انھوں نے ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچایا ہے، لہٰذا وہ سخت سے سخت سزا کے مستحق ہیں۔ سنگھ پریوار کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی نے وزیر اعلیٰ مغربی بنگال ممتا بنرجی کی متنازعہ تصویر ساز پرینکا شرما کے اظہار رائے کی آزادی کی حمایت اور مدافعت کی ہے۔ انھوں نے آزادی رائے یا آزادیِ اظہارِ خیال کی اہمیت پر بھی وعظ و نصیحت کی ہے کہ ایمرجنسی جس میں وہ خود گرفتار ہوئے تھے۔ سب طبقے اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے مل کر ایمرجنسی میں لگی ہر طرح کی پابندیوں کے خلاف آواز بلند کی جس کی وجہ سے ملک میں پھر آزادی بحال ہوئی۔
ارون جیٹلی پرینکا شرماکی آزادی رائے پر لکچر تو دے ڈالے، مگر کمل ہاسن جنھوں نے گاندھی جی کے قاتل کو آزاد بھارت کا پہلا ہندو دہشت گرد قرار دیا ا س کی آزادی رائے کیلئے ان کے پاس ایک لفظ بھی نہیں ہے۔ انا ڈی ایم کے کے ایک وزیر کے سی راجندرا بالاجی کی پارٹی نے بی جے پی سے اتحاد کر رکھا ہے، کہا ہے کہ وہ کمل ہاسن کی زبان کاٹ دینا چاہیے تاکہ ان کی آواز ہمیشہ کیلئے بند ہوجائے۔ انھوں نے کمل ہاسن کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ بھی دائر کیا ہے۔
ارون جیٹلی نے ممتا بنرجی کے خلاف بولنے کیلئے تو کسی رعایت کا خیال نہیں کیا لیکن ان کے حامی اور چیلے چپاٹے جو کمل ہاسن پر یلغار اور حملے کر رہے ہیں اس کے خلاف ارون جیٹلی جیسے فرقہ پرست لیڈروں کے پاس بولنے یا کہنے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کا دہرا معیار ہے۔ وہ اپنے اندر کے قاتلوں اور دہشت گردوں کو وزیر اعلیٰ اور انتخابی میدان کے سپاہی یا امیدوار بنا دیتے ہیں۔ ان کو صرف مسلمان ہی دہشت گرد نظر آتے ہیں جبکہ مسلمانوں میں کوئی ایسی پارٹی یا مکتبہ فکر نہیں ہے جو کسی نام نہاد مسلمان کی دہشت گردی کو سراہتا ہو یا حمایت کرتا ہو جس طرح آر ایس ایس یا بی جے پی کے لیڈران اپنے دہشت گردوں کی حمایت یا مدافعت میں آواز اٹھاتے ہیں۔ ان کی بے شرمی اور ڈھٹائی کا حال تو یہ ہے کہ کشمیر میں سات سالہ ایک غریب مسلم بنجارن کی ایک لڑکی کی اجتماعی عصمت دری ایک مندر میں ہوئی۔ بی جے پی کے لیڈران و و کلاء اور وزراء نے زنا کاروں اور بدکاروں کی حمایت میں مظاہرہ کیا اور اس کی رہائی کیلئے کشمیر سے دہلی تک کوشش کی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آر ایس ایس زعفرانی دہشت گردی کی کوکھ سے پیدا ہوئی ہے۔ اسے کوئی ہندو دہشت گرد نظر نہیں آتاجو ان کے ناپسندیدہ عناصر کو سر عام قتل کرتے ہیں یا گاندھی جی جیسی عظیم شخصیت کے قاتل ہیں، ان کی بھی مداحی اور ثناخوانی سے وہ باز نہیں آتے۔
ہندستان کے معروف و مشہور تاریخ داں ہربنس مکھیا نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بڑی سچی اور جچی تلی بات کہی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ناتھو رام گوڈسے نے گاندھی جی کو قتل کرنے کے بعد فخر سے اپنے آپ کو ہندو ہونے کا اعلان کیا۔ اس نے کہاکہ وہ فخر سے کہتا ہے کہ ”میں ہندو ہوں، میں نے گاندھی کا سر قلم کیا“۔ اس نے کہاکہ وہ ہندو ہے اس لئے گاندھی جی کو مارا ہے۔ معروف تاریخ داں نے طنز کرتے ہوئے کہاکہ سنگھ پریوار کیلئے صرف مسلمان دہشت گرد ہوتا ہے۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تو بی جے پی کیلئے دہشت گرد ہوتا کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہے اس لئے وہ دہشت گرد نہیں ہے۔ چاہے وہ مارتے پھریں، گجرات میں ماریں یا مالیگاؤں میں وہ دہشت گرد نہیں ہوسکتے۔ وہ سارے سادھو، سنت ہیں“۔
اچھی بات یہ ہے کہ بھاجپا اور آر ایس ایس اور ان کی حلیف پارٹیوں کے علاوہ ساری پارٹیاں کمل ہاسن کے بیان کو صحیح ٹھہرا رہی ہیں۔ تاملناڈو کانگریس کے صدر ایس لاگری نے کہا ہے کہ وہ کمل ہاسن کے بیان سے سوفیصد نہیں بلکہ ہزار فیصد متفق ہیں۔ دیگر پارٹیوں کے رہنماؤں نے بھی اپنے بیان میں کہاکہ کمل ہاسن نے حقیقت بیانی سے کام لیا ہے۔ کوئی غلط بیانی نہیں کی ہے۔
دوسری اور قابل تعریف بات یہ ہے کہ کمل ہاسن جیسے فلمی ایکٹر اور نوزائیدہ سیاست داں اپنی بات کو حق بجانب ٹھہرا رہے ہیں اور اسے واپس نہ لینے پر مصر ہیں۔ کمل ہاسن نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ”میں یہ بات اس لئے نہیں کہہ رہا ہوں کہ میں ایک مسلم اکثریتی علاقہ میں ہوں۔ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ یہاں گاندھی جی کا ایک مجسمہ ہے۔ آزاد ہند کا پہلا انتہا پسند یا دہشت گرد ہندو تھا، جس کا نام ناتھو رام گوڈسے تھا۔ یہاں سے دہشت گردی کی ہندستان جیسے پر امن ملک میں شروعات ہوتی ہے۔ ترنگے میں تینوں رنگ سے ثابت ہے کہ ہندستان ایک تکثیری معاشرہ ہے۔ اچھے ہندستانی مساوات چاہتے ہیں۔ میں ایک اچھا اور امن پسند ہندستانی ہوں۔ میں یہ بات فخر سے کہتا ہوں“۔
آج کل میں 2019ء کا الیکشن ختم ہوجائے گا۔ 23مئی کو نتائج بھی نکل جائیں گے مگر آر ایس ایس نے 1925ء سے اور اس کی سیاسی ونگ ’جن سنگھ‘ (بی جے پی کا پہلا نام) 1953ء سے ملک میں جو انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ پرستی پھیلا رہی ہے اور خاص طور سے گزشتہ پانچ سال میں جو پھیلایا ہے اس سے ہندستان کی شکل و صورت بالکل بدل گئی ہے۔ دلت اور ہندستان کی سب سے بڑی اقلیت مظلومیت کی شکار ہوگئی ہے۔ اس کے جسمانی اور معنوی وجود کا خطرہ آئے دن بڑھتا جارہا ہے۔ اسے ہر میدان سے کنارے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ الیکشن کے بعد سیاسی میدان اور غیر سیاسی میدان سب میں سنگھ پریوار کی دہشت گردی اور انتہا پسندی سے ملک و قوم کو بچانے کیلئے عظیم جدوجہد کی ضرورت ہوگی جو آزادی ہند کی جدوجہد سے کسی طرح سے کم اہم نہیں ہوگی۔ اسی متحدہ جدوجہد سے ہی ملک کی سا لمیت قائم رہ سکتی ہے اور ملک میں امن و امان برقرار رہ سکتا ہے۔ بی جے پی کی ہار ہوتی ہے یا جیت ہر حال میں اس کے نظریہ اور فلسفہ سے لڑائی جاری رکھنی ہوگی۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں