151

سمیرہ عزیز بااثر شخصیت و ممتاز صحافی ایوارڈ سے سر فراز


سعودی عرب کے سوممتاز صحافیوں کی فہرست میں شامل
ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ
سمیرہ عزیز کو ایک ایسا تازہ چہرہ تصور کیا جا رہا ہے،جن کے افکارودلائل کوسعودی وژن 2030ء کے تحت مسلم حیثیت حاصل ہے۔ان کی شخصیت میڈیا میں اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر مملکت میں مقیم غیر سعودی طبقے میں بہت مقبول رہی ہے،لیکن مملکت سے اپنی حب الوطنی،ذہانت اور قوی ارادوں کے باعث وہ سعودی عرب کے دانشورو وں میں بھی ایک پسندیدہ شخصیت بنتی جا رہی ہیں۔شاید یہی وجہ تھی کہ 8نومبر کومدینہ منورہ میں سعودی سوسائٹی برائے ثقافت و فنون(SASCA) کی نئی عمارت کا ان کا دورہ کوئی معمولی حیثیت کا حامل نہیں تھا،اس د ن وہاں کی صحافتی شخصیات خوشی سے لبریز ہوکر ان کیلئے آنکھیں بچا رہی تھیں۔
’’ہم آپ کا پھولوں سے استقبال کرتے ہیں۔۔۔ہم آپ سے محبت کرتے ہیں۔۔۔۔‘‘ننھی بچیاں گا گا کر سماں باندھ رہی تھیں۔سمیرہ عزیز اعزاز وصول کرنے کیلئے وہاں اپنی والدہ اور فیملی کے ساتھ تشریف لے گئی تھیں،ان کی با اثرخدمات کا سب کو بخوبی علم بھی تھا،یہی وجہ تھی کہ ہر ایک وہاں ان کی شخصیت کے سحر سے مرعوب تھا،حاضرین ان سے بہت کچھ پوچھناچاہتے تھے،لیکن وہ اسٹیج پر مدعو کیے جانے تک محض خوبصورت مسکراہٹیں ہی بکھیرتی رہیں،آغاز میں ان کو’ سلامی‘ دی گئی اور ان کی صحافتی خدمات کا جائزہ بھی لیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ’’کچھ ایسے لوگ جو شاید کبھی ہمارے ملک تشریف لائے بھی نہیں،وہ ہمارے بارے میں فلمیں بنا کر لوگوں کو ہماری غلط تصویر دکھاتے رہے ہیں۔اب ہم خود بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ میدان میں آگئے ہیں، مجھے خوشی ہوگی اگر میں کسی بھی باصلاحیت سعودی فلم سازکی تربیت کر سکوں‘‘۔ ان کے اس اعلان سے ہر سوخوشی و امیدکی کرن پھیل گئی۔انھوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ’’ہاں ، مجھے بھی مشکلات کا سامنا رہا ہے،لیکن میرے نزدیک مشکلات محض راستے کی وہ دیواریں ہیں، جنہیں پھلانگ کر میں نئی منزلوں کے دروازے کھولتی ہوں،مجھے وہ لوگ سخت ناپسند ہیں،جو وطن کیلئے کوئی بھی کاوش کیے بغیر صرف شکوے کرتے ہیں،میں سعودی عرب میں پیدا ہوئی، میں سعودی عرب کیلئے جان دینا چاہتی ہوں اور سعودی عرب کی مٹی میں ہی دفن ہونا چاہتی ہوں‘‘۔ سمیرہ عزیزکے اس جملے نے کئی آنکھوں کو پرنم کر دیا۔

وہ مشکلات کو رکاوٹ نہیں سمجھتیں ،لہذاانہوں نے مخصوص مسکراہٹ و اعتماد بھرے لہجے میں کہا کہ ’’میں ’اختتامی نقطہ اس وقت تک نہیں لگاتی، جب تک فتح حاصل نہ کرلوں،سعودی عرب کی شفیق ہستیوں نے مجھے ہمیشہ سپورٹ کیاہے،مجھے پسند نہیں کہ کوئی میری محنت و صلاحیت پر صرف اس لیے شبہ کرے کہ میں ایک سعودی عورت ہوں،مجھے سعودیوں کوکامیاب و کامران ثابت کرنا اچھا لگتا ہے‘‘۔انہوں نے بتایا کہ دنیا کی سب سے بڑی انسانی تصویر بنانے کے’ گینز ورلڈ ریکارڈ‘کے وقت انہیں ان الفاظ سے بے حوصلہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی،’’تم یہ نہیں جیت سکتیں ،کیونکہ تم سعودی ہو‘‘یہ جملہ سن کر میں دو ہفتوں تک نہیں سوئی اور فتح حاصل کرکے دم لیا،سمیرہ عزیز کی یہ بات سن کر ایک خاتون نے انہیں بڑھ کر چوم لیا۔
ایسو سی ایشن کی تھیٹر،مارکیٹنگ اورسینما کمیٹی کے ممبران بڑی تعداد میں سمیرہ عزیز کی آمد پر موجود تھے۔تھیٹر کمیٹی کے اراکین نے ملی نغمے اور اپنی فنکارانہ صلاحیتیں پیش کیں۔فنکار کمیٹی نے سمیرہ عزیز کو تحفتاً تصویری خاکہ بھی پیش کیا۔فلمی منصف و ہدایتکار محمد حنیف نے کہا کہ سمیرہ عزیز کوسعودی عرب کی اولین خاتون فلم ساز کے طور پر پہچانا جانا چاہئے تھا لیکن یہ فوراً ہی فلم سازی کی تعلیم کیلئے بالی ووڈ چلی گئی اور یہ خاموشی سے جدو جہدکرتی رہی،یہ بہت مصروف رہتی تھی،فاتح ہمیشہ ایسے ہی ہوتے ہیں اور یہ دراصل ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کو دنیا کے سامنے لائیں‘‘۔کیمرہ مین ماجد عزیز نے بتایا کہ سمیرہ عزیز بہت پروفیشنل اور غیر معمولی طور پر محنتی انسان ہے،انہوں نے اپنے تجربے کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے ان پرشوخیانہ طنز کیا۔ ’’سمیرہ عزیز نے ہماری فلمی ٹیم میں اس وقت شمولیت اختیار کی جب وہ پہلے سے ہی اخبار کی دنیا کا بڑا نام بن چکی تھی،مگروہ دوستانہ رویے اور عاجزی کا پیکر ہے، لیکن اگر کوئی کاہلی اور غیر پیشہ ورانہ رویہ اختیار کرے، تو یہ اس کو جہنم رسید کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گی۔‘‘صحافتی امور انجام دیتے ہوئے سمیرہ عزیز ریڈیو،شاعری،فلمسازی،ناول نویسی،اسپیکر،تھیٹر،ہدایتکاری و تصنیف کے شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں،اس کے علاوہ وہ کئی کمپنیوں کی سربراہ بھی ہیں۔SASCA کے ڈائریکٹر مشعل الطہامی نے زور دیا کہ وہ منفرد و معروف آرٹسٹوں ،فلمسازوں اور میڈیا شخصیات کی اسی طرح عزت افزائی کرتے رہنا چاہتے ہیں۔’’سمیرہ عزیز جیسے رول ماڈل تکریم و نمایاں مقام کے قابل ہیں اور ہم نے SASCA کی نئی عمارت کو ایسی ہونہارمیڈیا شخصیات کو عوام الناس سے متعارف کروانے کیلئے وقف کر دیا ہے۔‘‘الطہامی نے سمیرہ عزیز کو ایوارڈ و اعزازی رکنیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ’’ یہ اعزازصرف 100خصوصی میڈیا کی شخصیات کیلئے مختص ہے اور SASCA یہ اعزاز بالی ووڈ میں اولین فلمساز سعودی خاتون سمیرہ عزیز کی نذر کر رہا ہے‘‘۔سعودی وزارت ثقافت کے زیر نگرانی سعودی سوسائٹی برائے ثقافت و فنون(SASCA) مملکت سعودی عرب بھر میں 1972ء میں قائم کی گئی تھی،یہ سعودی فنکاروں کی سرکردگی و امداد کرتی ہے اور نئے باصلاحیت فنکاروں کے کام کی نمائش و تربیت کے علاوہ مصنفی، موسیقی، تھیٹر و ثقافتی گروپس، فلمسازی و سنیما کیلئے پروگرام بھی پیش کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں