89

سماجی ہم آہنگی کا قیام اور مسلمانوں کی فکر مندی

محمد اللہ قیصر قاسمی

ان دنوں سماجی ہم آہنگی کے قیام کیلئے لوگ بہت زیادہ فکر مند نظر آرہے ہیں، اور یہ فکر مندی بالخصوص مسلم قوم میں زیادہ نظر آرہی ہے، یقینا یہ بہت اچھی بات ہے لیکن دیکھنا ہوگا کہ اس فکر مندی کی وجہ کیا ہے ، گزشتہ پانچ سالوں کے دوران اکثریتی فرقہ میں مسلم قوم کے تئیں جتنی نفرت پیدا ہوئی ہے یا کی گئی ہے اس کی نظیر 47 کے بعد آزاد ہندستان کی تاریخ میں نہیں مل سکتی، اس نفرت کی کوکھ سے مسلمانوں کیلئے کئی مشکلات پیدا ہوئیں، جگہ جگہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور تشدد کا ہر واقعہ مذہب کی بنیاد پر رونما ہوا ہے، مودی سرکار کے پہلے پانچ سال میں یہ دیکھا گیا کہ اکثریتی فرقہ کے لوگوں نے مسلمانوں کے دلوں میں زبردستی “گائے”کا تقدس پیدا کرنے کی کوشش کی، اب وہ “شری رام” کو مقدس ماننے پر مجبور کر رہے ہیں، غور کیجئے جب اخلاق کے قتل کا روح فرسا واقعہ رونما ہوا تو ایک طرف لوگوں نے واقعہ کی مذمت کی لیکن ساتھ ہی ساتھ کچھ لوگ مسلمانوں کو مشورہ دینے لگے کہ اکثریتی فرقہ کے عقیدہ کی قدر کرتے ہوئے ہمیں گائے کے ذبیحہ سے اجتناب کرنا چاہئے، پھر لگے ہاتھوں دوسرا اور تیسرا واقعہ منظر عام پر آیا پھر ایک سلسلہ چل پڑا جو سالوں تک بلا توقف جاری رہا،اب لوگوں نے قتل کی مذمت سے زیادہ “گائے” کے احترام پر زور دینا شروع کردیا ، بلکہ اکثریتی فرقہ کی بعض تنظیموں نے تو بر سرعام کہا کہ جس دن گائے کا ذبیحہ رک جائے گا اس دن یہ سلسلہ بھی خود بخود تھم جائے گا، شروع سے ان کی اسٹریٹیجی کچھ اس طرح رہی ہے کہ وہ ٹیوی شوز میں آکر چند الفاظ میں بڑے ڈھل مل طریقہ سے تشدد اور قتل جیسے انسانیت سوز جرائم کی مذمت کرتے اور پھر سارا زور “گائے “کے ذبیحہ کی مذمت میں جھونک دیتے، گویا انسانی جان کا اتلاف تو چلئے روز مرہ کی بات ہے لیکن گائے جو ذبح کی جارہی ہے وہ کسی صورت میں قابل برداشت نہیں، گجرات میں ایک ہورڈنگ لگائی گئی جس میں قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے ایک آیت بھی گڑھی گئی”اکرموا البقر” اور مسلمانوں کو نصیحت کی گئی کہ “گائے “کا احترام کیجئے، ٹیوی پر موضوع احادیث پیش کی گئیں، ان سارے تماشوں کے نتیجہ میں خود مسلمانوں میں ایک ایسا طبقہ منظر عام پر آگیا، جن کے نزدیک انسانی جان کے نقصان کی حیثیت ثانوی بن کر رہ گئی، بلکہ ہماری ایک موقر تنظیم نے تو گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ تک کر ڈالا، اس طرح ہر مسلمان کو ایک میسیج پہونچ گیا کہ گائے ایک مقدس جانور ہے، اور جزوی طور پر ہی صحیح مسلمانوں نے بھی اسے تسلیم کرلیا،
اور مسلمان اس بحث سے الگ ہوگئے کہ ہر کسی کو اپنے مذہب پر عمل کی گنجائش ہے، “گائے “ہندؤں کے نزدیک مقدس ہے (اگرچہ ان کی مذہبی کتابوں سے ثابت نہیں ) تو ان پر پابندی لگنی چاہئے کہ وہ گوشت کی خرید و فروخت نہیں کرسکتے، جس طرح اسلامی قانون کے مطابق خنزیر کی خریدوفروخت مسلمانوں کے لئے حرام ہے نہ کہ غیر مسلموں کیلئے، کیوں کہ ہر شخص اپنے مذہب کا پابند ہے، دوسرے مذہب کی تعلیمات اس پر تھوپی نہیں جاسکتی، اسی طرح مسلمانوں کے نزدیک گائے دوسرے عام حلال جانوروں کی طرح ہے، جس طرح ان کا کھانا فرض ہے نہ واجب، نہ مکروہ یا حرام، اسی طرح گائے بھی ان کیلئے ایک مباح جانور سے زیادہ کچھ نہیں،اسے حرام سمجھنا ہے تو برادران وطن سمجھیں، مسلمانوں پر کیسی زبردستی؟ رہی بات دوسروں کے عقیدے کے احترام کی تو ایک دیندار مسلم سے زیادہ کوئی اس کا نہیں کرتا،
صرف اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے اپنے ماننے والوں کو خصوصی تلقین کی ہے کہ دوسرے کے معبودوں کی توہین نہ کرو
“ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله فيسبوالله عدوا بغير علم” ہر مسلمان اس بات کی پوری پابندی کرتا ہے کہ ان سے دوسروں کے معبود یا کسی مذہبی شخصیت کی توہین نہ ہونے پائے، (پھر بھی مذہبی تشدد کا طعنہ انہیں ہی جھیلنا پڑتا ہے)
تشدد اور قتل و غارتگری (ماب لینچینگ) کے “فرسٹ پارٹ” کی زبردست کامیابی کے بعد اس کا “سیکینڈ پارٹ” شروع ہوا ایک انتہائی دل خراش واقعہ سے جس میں انتہائی سفاکی اور بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چند “مذہبی جنونیوں” نے بڑی بے رحمی سے “تبریز” کو قتل کردیا، اس “پارٹ” میں قتل کی “وجہ” بدل دی گئی ہے، اب “گائے” کے بدلے “شری رام” کو سامنے لایا گیا ہے، مسلمانوں کو جبرا “شری رام” کی “جے کار” کرنے کو کہا جاتا ہے، پھر متاثر شخص انکار کرے یا “جے کار” لگائے، ہر حال میں اسے زدو کوب کیا جاتا ہے یا موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، اس کے بعد باری آتی ہے “ٹیوی اینکروں ” کی، وہ
اس بار ٹیوی پر یہ بحث نہیں کرتے کہ “جے کار” اسلامی عقیدہ سے متصادم ہے یا نہیں، بلکہ ایک “پینلیسٹ” تو “جے کار” پر مجبور کرنے کا انکار کرتا ہے، وہیں دوسرا شخص سیدھے سیدھے سوال کرتا ہے کہ جب “رام” ہر ایک کے “پوروج” ہیں تو “جے کار” میں دشواری کیا ہے؟اور وہاں بیٹھا مسلم نمائندہ اس کے جواب میں صراحتا انکار کی پوزیشن میں نظر نہیں آتا۔
اس کے علاؤہ روزانہ ٹیوی پر اسلامی شعائر، اسلامی تعلیمات، مدارس کے نظام، اس کے نصاب،اور اساتذہ و طلبہ کے خلاف جس کے جی میں جو آتا ہے بولتا ہے، کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں، جو ظاہر ہے مسلمانوں کے خلاف نفرت میں میں اضافہ کا اہم سبب ہے۔
ان سب حالات کے پیش نظر ایک مسلمان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اس مصیبت کا مقابلہ “تشدد سے بچتے ہوئے آخر کیسے کیا جائے”
جو لوگ اس نفرت کی ہوا کو لیکر فکر مند ہیں، اور اس مشکل کا کوئی حل نکالنا چاہتے ہیں، انہیں بنیادی طور پر تین طبقات میں تقسیم کر سکتے ہیں ،
ایک چھوٹا طبقہ وہ ہے جس کا نظریہ ہے
“جیسے کو تیسا” وہ ہمارے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں ہمیں بھی ان کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہئے،متاثرین کا یہ طبقہ فیصلہ کن پوزیشن میں نہیں ہے، اسلئے ان کے جذبات الفاظ کے ساتھ ہی دب کر رہ جاتے ہیں، وہ کچھ کر نہیں سکتے،
دوسرے وہ لوگ ہیں جن کا تعلق مسلم تنظیموں سے ہے، ان کا نظریہ ہے کہ ” آگ کو آگ سے نہیں بجھا سکتے، نفرت کے دہکتے شعلوں پر محبت کے پانی کا پھوار ضروری ہے”
یہ لوگ سماجی ہم آہنگی کے قیام کیلئے سنجیدہ کوشش کرتےہیں، مشترکہ پروگرام کرکے ہر مذہب کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دیتے ہیں، غلط فہمی دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، لیکن اس کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسے مشترکہ پروگرام صرف مسلمانوں کے پلیٹ فارم سے ہوتے ہیں، اکثریتی فرقہ کے نمائندے اپنا اسٹیج مسلم نمائندوں کے ساتھ شیئر نہیں کرتے ،جس کی وجہ سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے قیام کی ساری کوششیں دم توڑدیتی ہیں، کیوں کہ مکمل کامیابی تبھی ممکن ہے جب دونوں طرف سے کوشش ہو، اکثریتی فرقہ کے نمائندوں کے رویہ سے ایسا لگتا ہے جیسے نفرت کا خاتمہ اور آپسی بھائی چارے کو فروغ دینا صرف مسلمانوں کی ضرورت ہے، اس لئے وہ خاطر خواہ دلچسپی نہیں دکھاتے، بس دلجوئی کیلئے پروگرام میں شرکت کرلیتے ہیں، اور اگر کوئی امن و امان کے قیام کی کوشش کرنے کیلئے آگے آتا بھی ہے تو ان کی تجاویز کچھ ایسی ہوتی ہیں جو اسلامی اقدار و اصول سے بلاواسطہ متصادم ہوتی ہیں، مثلا “وندے ماترم” پڑھنے کا مطالبہ، کسی دیوی دیوتا کی “جیکار” کیلئے اخلاقی دباؤ، یا پروگرام سے پہلے “ہون” کے انعقاد میں شرکت کی دعوت ، بعض دفعہ کچھ لوگ انکار بھی نہیں کرپاتے، بعض جان بچا کر نکل لیتے ہیں، آپ نے ایسی تصاویر دیکھی ہوں گی جس میں کوئی داڑھی ٹوپی والا شخص “ہون” یا “پوجاپاٹ” میں شریک افراد کے ہمراہ بیٹھا نظرآتا ہے ، وہ عموما اسی طرح کی صورت حال ہوتی ہے، کوئی ضروری نہیں کہ اس “پوجا پاٹ “میں بیٹھے مسلم ہیئت رکھنے والے کا دل بھی مطمئن ہو، ہو سکتا ہے وہ صورت حال کے پیش نظر،اخلاقی دباؤ میں بیٹھ گیا ہو، جو کہ بالکل غلط ہے ،اسے ایسا بھی نہیں کرنا چاہئے، ایسے شخص کو “ہم آہنگی
کے قیام سے زیادہ اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے۔
تیسرا طبقہ جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کا ہے، ان کی تھیوری تو شروع سے ہی رہی ہے کہ مذہب انسان کی ذاتی زندگی تک محدود رہے تو بہتر ہے، اجتماعی زندگی میں ملکی “کلچر” کو ترجیح دیں ، یہ دیکھے بغیر کہ دینی اصول سے وہ “ملکی کلچر” متصادم ہے یا نہیں، واضح رہے کہ برادران وطن کے مذہبی اعمال و رسوم بھی ان کے نزدیک “ملکی کلچر” میں شامل ہیں، اور اس فکر کے حاملین “بقائے باہم” کے جذبہ کو فروغ دینے کیلئے، اسلامی تعلیمات کو نظر انداز کرتے ہوئے
“ملکی کلچر” کے نام پر “ہولی” “دیوالی” رکشا بندھن” بڑے جوش و خروش سے منانے لگے ہیں، حتی کہ “گنیش” پوجا میں شرکت کرنا بھی ان کے نزدیک ایمان کے منافی عمل نہیں رہا، (اگرچہ برادران وطن کبھی “عید الاضحی” کو قبول نہیں کر پائے)
ایک بزعم خود”اسلامی اسکالر” نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ” ہندؤں کو “شبہ اہل کتاب” مانیں تو ان کے ساتھ شادی میں کوئی حرج نہیں ، اور جب رشتہ داریاں بڑھیں گی تو آپسی بھائی چارگی کو فروغ ملے گا، نفرت کم ہوگی، امن و امان قائم ہوگا” ان مدعیان “روشن خیالی” کی طرف سے ایک رائے یہ آئی کہ “عید الاضحی” میں جانور کی قربانی کی بجائے “کیک” کاٹ لیں، اب ایک نئی مصیبت نے جنم لیا ہے، علی گڑھ کے ایک مدرسہ میں “مندر”بنوانے کا اعلان کیا گیا ہے، بلکہ جو تصویر آئی ہے اس کے مطابق نماز کی جگہ میں ہی ایک طرف مورتی رکھی گئی ہے اور دوسری طرف کچھ بچے نماز پڑھ رہے ہیں، ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ہندو مسلمان ایک دوسرے کے قریب آئیں گے، آپسی رنجشیں دور ہوں گی ،اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا، جو امن وامان کیلئے انتہائی اہم ہے۔ (اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں میں ہوگا کہ “باہمی ہم آہنگی” کو فروغ ملے یا کشمکش بڑھے گی)
اس پورے منظرنامہ میں غور کریں تو احساس ہوگا کہ اکثر لوگ افراط و تفریط کے شکار ہیں، اور آپ دیکھیں گے کہ ہر جگہ صرف اور صرف مسلمان اپنے عقائد و عبادات سے سمجھوتہ کرتا نظر آرہا ہے، کوئی بالکل قطع تعلق کا قائل ہے تو کوئی اسلام اور ہندو رسم و رواج کو ایک کردینے پر تلا ہے، علماء کا موقف بڑی حد تک درست اور پختہ ہے، لیکن ان کی آواز بہت محدود ہو کر رہ گئی ہے یا منصوبہ بند طریقے سے میڈیا کے ذریعے محدود کردی گئی ہے۔
اب ایک اہم سوال رہ جاتا ہے کہ غیر مسلموں کیلئے ہمارے دروازے کہاں تک کھلے ہیں، اگر ہم غیر مسلموں کے مذہبی اور اسلامی تعلیمات سے متصادم کلچرل پروگراموں میں شرکت نہیں کر سکتے تو پھر یہ نفرت کیسے ختم ہوگی؟ اس سلسلے میں اسلامی تعلیمات سے ہمیں کیا رہنمائی ملتی ہے، اور اسلام نے دوسروں کے ساتھ کہاں تک گھلنے ،ملنے اور معاملات کی چھوٹ دی ہے، اس سلسلے میں کچھ بنیادی اصول یاد رہے تو بات زیادہ واضح ہوگی، اور ایک مسلم شخص غیرمسلموں کے ساتھ کس حد تک میل جول، کرسکتا ہے؟ اپنے تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے ساتھ کہاں تک گھل مل سکتا ہے، ان کے ساتھ کہاں تک معاملات کر سکتا ہے، یا اپنے بنیادی اصول سے کس حد تک سمجھوتہ کرنے کی گنجائش ہے؟ تو اس کے حدود اربعہ کا کچھ جائزہ لیتے ہیں .
بنیادی طور پر اسلامی تعلیمات کی پانچ قسمیں ہیں، عقائد،عبادات، معاملات، معاشرت، اخلاقیات۔
اخیر کے تین امور معاملات، اخلاقیات،اور معاشرت میں کچھ قیود کے ساتھ مکمل گنجائش ہے کہ کفار و مشرکین کے ساتھ معاملات میں کوئی مضائقہ نہیں، ان کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا چاہئے، معاشرت میں بھی کچھ شرائط کے ساتھ مکمل اجازت ہے، البتہ
عقائد اور عبادات میں کسی طرح کے سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں، یہاں ہر ایک کے تفصیلی دلائل کی گنجائش نہیں اسلئے قرآن و حدیث میں وارد احکام و ارشادات کی طرف مختصرا اشارہ کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں جس سے مسئلہ واضح ہوجائے،
عن عائشة أم المؤمنين (رضی اللہ عنہا) تُوُفِّيَ رَسولُ اللَّهِ ﷺودِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ، بثَلاثِينَ صاعًا مِن شَعِيرٍ (بخاري 2916
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کا درعہ مبارک ایک یہودی کے یہاں تیس صاع جو کے عوض رہن پر تھا.
اس کے علاؤہ اور بھی احادیث ہیں جن سے واضح طور پر
پتہ چلتا ہے کہ کفار کے ساتھ خرید و فروخت اور دوسرے طرح کے لین دین جائز ہیں، خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود و مشرکین سے خرید و فروخت کیا ہے،
بشرطیکہ وہ محرمات کی قبیل سے نہ ہوں۔
اخلاقیات کے باب میں دیکھیں تو
ظلم و جبر کرنے والے غیر مسلموں کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کا پورا حق ہے، لیکن جو
امن پسند ہیں، دشمنی نہیں برتتے ایسے غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک اور اچھے برتاؤ کا مکمل اختیار دیتے ہوئے کہا گیا
سورہ الممتحنۃ آیت نمبر 8
لَا یَنۡہٰاکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ لَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَ تُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ ﴿۸﴾
ترجمہ:
اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا (ف ٣) . اللہ تعالیٰ انصاف کا برتاؤ کرنے والوں سے محبت رکھتے ہیں۔
ایسے غیر مسلمین جو مسلمانوں پر ظلم و ستم نہیں کرتے، مار پیٹ اور قتل وغارت گری سے دور رہتے ہیں، دینی امور کے قیام میں رکاوٹ نہیں بنتے، اپنے دینی و مذہبی معاملات ہم پر زبر دستی تھوپنے کی کوشش نہیں کرتے ان کے ساتھ اچھا برتاؤ اور حسن سلوک سے اسلام نہیں روکتا۔
احادیث میں بہت واضح طور پر کہا گیا ہے ۔
المؤمِنُ مَن أمِنه النّاسُ والمسلِمُ مَن سلِم المسلمون مِن لسانِه ويدِه(مسند احمد 12562)
مومن کامل وہ ہے جس سے لوگ مامون رہیں ،اور کامل مسلم وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں،
اس حدیث میں “من امنه المسلمون” کی بجائے
“الناس” کہا گیا جس میں مسلم، غیر مسلم سب شامل ہیں،
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیر مسلم مریض کی عیادت کیلئے تشریف لے جایا کرتے تھے،
(البخاري).
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں جو کفار و مشرکین کے وفود آتے تھے آپ بڑی خوش اخلاقی سے ان کا استقبال کرتے تھے،ان آیات و احادیث سے واضح پیغام ملتا ہے کہ معاملات،اخلاقیات ،اور معاشرت میں کچھ شرائط کے ساتھ تعامل کی مکمل گنجائش موجود ہے بلکہ مستحسن ہے، جس میں بنیادی شرط یہ ہے کہ اسلامی اصول سے متصادم نہ ہوں، مثلا حرام اشیاء کی خریدو فروخت جائز نہیں،اسی طرح ملنے جلنے میں ان کے مخصوص طریقوں سے احتراز لازم ہے، جیسے ہمارے یہاں غیر مسلم حضرات پیر چھو کر یا قشقہ لگاکر استقبال کرتے ہیں ،جو ان کے دینی شعائر ہیں، یا ان کے یہاں خواتین کے پردہ کا مخصوص التزام نہیں جبکہ اسلام میں پردہ فرض ہے،تو چونکہ یہ اسلامی طرز معاشرت سے بلاواسطہ متصادم ہیں لہاذا ان سے بھی پرہیز ضروری ہے،
جہاں تک عقائد و عبادات کا مسئلہ ہے تو اس میں سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں،
سورہ النسآء آیت نمبر 97
اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَفّٰہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ قَالُوۡا فِیۡمَ کُنۡتُمۡ ؕ قَالُوۡا کُنَّا مُسۡتَضۡعَفِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَکُنۡ اَرۡضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوۡا فِیۡہَا ؕ فَاُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا ﴿ۙ۹۷﴾
ترجمہ:
بیشک جب ایسے لوگوں کی جان فرشتے قبض کرتے ہیں جنہوں نے اپنے کو گنہگار کر رکھا تھا تو وہ ان سے کہتے ہیں کہ تم کس کام میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم سرزمین میں محض مغلوب تھے وہ کہتے ہیں کہ کیا خدا تعالیٰ کی سرزمین وسیع نہ تھی تم کو ترک وطن کرکے اس میں چلا جانا چاہئیے تھا سو ان لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور جانے کے لیے وہ
بری جگہ ہے۔ (97)
یہ آیت ایسے ہی لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جو ایمان لانے کے بعد بھی بغیر کسی واقعی مجبوری کے کفار کے درمیان تھے اور “آدھا تیتر آدھا بٹیر” بن کر کفریہ اعمال بھی کر لیتے تھے، نیم ایمان اور نیم کفر کی زندگی بسر کر رہے تھے،اس زندگی سے وہ قانع و مطمئن اسلئے تھے کہ اگر انہوں نے یہ سب چھوڑ دیا تو یہ آرام،عیش و عشرت، خاندان، جائداد و املاک سب چھوٹ جائیں گے، ورنہ کوئی واقعی مجبوری ان کے سامنے نہ تھی جو ان کیلئے ہجرت سے مانع ہو، بہانا یہ تھا کہ ہم مغلوب ہیں، ایسے لوگوں کے متعلق کہا گیا کہ وہ اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں، ان کو جواب دیاگیا ہے کہ اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے ، ایمان کی حفاظت کیلئے ہجرت کیوں نہ کی، پتہ چلا کہ بڑی سے بڑی مصیبت میں بھی ایمان سے سمجھوتہ برداشت نہیں، ایمان کی حفاظت سب سے مقدم ہے،
حدیث پاک ہے لا طاعةَ لِمخلوقٍ في معصيةِ اللَّهِ(مسند احمد 20656
اللہ کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت نہیں،
“رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو کسی فوج کا ذمہ دار بنایا ،انہوں نے آگ دہکائی اور اپنے ایک ساتھی کو حکم دیا کہ آگ میں کود جاؤ ،انہوں نے انکار کردیا، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ اگر وہ شخص آگ میں کود جاتا تو جہنمی ہوتا” کمانڈر کی اطاعت ہر حال میں ضروری ہے لیکن خود کو آگ کے حوالہ کرنا خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے اسلئے اللہ کے حکم کے آگے کمانڈر کے حکم کی کوئی حیثیت نہ رہی، صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ماننے سے انکار کردیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تائید کی ، پتہ چلا کہ حالات کتنے ہی دگر گوں کیوں نہ ہوں ، مخلوق کو خوش کرنے کیلئے خالق کی نافرمانی ہرگز قابل قبول نہیں،
اس وقت یہ صورت حال عام ہے، چند مسلمان اپنے آس پاس کے لوگوں کو خوش کرنے کیلئے یا تھوڑی سی مجبوری میں شرکیہ اعمال و افعال میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے، “وندے ماترم”جے شری رام” بھارت ماتا کی جے”قشقہ لگانا، ہاتھ جوڑ کر سلام کرنا، نمستے، اور نمشکار” ایک عام سی بات ہوگئی ہے، اسلام توحید کا حکم دیتا ہے جبکہ یہ ساری باتیں شرکیہ ہیں اس طرح بلا واسطہ شریعت سے متصادم ہیں،
خود اسلام اپنی تعلیمات دوسروں پر نہیں تھوپتا، دوسروں کو اپنی تعلیمات اپنانے پر مجبور نہیں کرتا،عقیدہ کی آزادی کا قائل ہے، اسلئے قرآن کا صاف صاف اعلان ہے (لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّين) [البقرة 256:
دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے، (فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُر) الكهف: 29 جس کا جی چاہے مان لے جس کا جی چاہے انکار کردے، وقال: (أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ)۔ .٩٩ يونس: 99.
“کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ ایمان لے آئیں،
یہ آیات صراحتا کہہ رہی ہیں کہ ایمان کا اعتقادی،اخلاقی و عملی نظام کسی پر تھوپا نہیں جاسکتا،جبرا کسی کے سر منڈھنے کا سوال ہی نہیں ہے، ایک دوسری آیت میں صراحتا حکم آیا کہ آپ نصیحت کر سکتے ہیں اپنی بات کسی پر تھوپ نہیں سکتے
(فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ 21لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ :الغاشية 22) اے نبی ، تم نصیحت کئے جاؤ تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو، کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو)
ہاں دعوت کی تلقین کی گئی ہے ، کہ غیر اللہ کو ماننے والوں کو توحید اور اس کے مقتضیات کی دعوت دیتے رہو(ادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة)
اے نبی! ، اپنے رب کے راستہ کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ) اس میں بھی بحث و مباحثہ کا طریقہ بتا تے ہوئے فرمایا: (وجادلهم باللتى هي أحسن)
اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو) النحل 125.
لڑائی جھگڑا گالی گلوچ، الزام و بہتان تراشی ،اور عیب جوئی والا طریقہ نہ ہو،باہمی ہم آہنگی”اور بقائے باہم کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنے اصول سے ہٹ کر دوسروں کے مذہبی رسوم و رواج کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں، بلکہ اپنے عقائد اور دینی اقدار و روایات کی حفاظت کرتے ہوئے پر امن طور پر رہنے کا نام”بقائے باہم”
ہے ، ایک مسلمان کیلئے اس کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ دینی امور میں وہ محفوظ و مامون ہو، شرائع دینیہ، اور عبادات کے ادائیگی کی مکمل آزادی ہو، دینی امور کی مخالفت پر اسے کوئی مجبور نہ کرسکے، یہاں ایک اہم بات یاد رہنی چاہئے کہ “بقائے باہم” تبھی ممکن ہے جب ہر ایک دوسرے کو اس کی ہیئت میں قبول کرنے کیلئے تیار ہو، قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کی ہیئت یا اس کا کوئی دینی عمل ہمیں منظور نہیں تو اس کے خلاف کسی قسم کے طعن و تشنیع، تشدد یا جبر و اکراہ سے مکمل اجتناب کیا جائے، البتہ دلائل کی بنیاد پر مباحثہ و مناقشہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ، مثلا کسی ٹوپی داڑھی والے کے پہلو میں اگر کوئی بھگوا رنگ پہن کر بیٹھا ہے تو ان دونوں میں سے کسی کو یہ حق نہیں کہ ایک دوسرے پر بے جا اعتراض کرتے ہوئے اس کو تشدد کا نشانہ بنائیں یا اس کو وہاں سے اٹھنے پر مجبور کریں، بلکہ دونوں پہلو بہ پہلو بیٹھ کر دلائل کی بنیاد پر اپنے اپنے موقف کے صحت و سقم پر گفتگو کریں، اسلام کے بیان کردہ اصول پر غور کریں تو دو دو چار کی طرح بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اسلام ایک طرف دوسرے کو اس کی شکل میں قبول کرتا ہے، جبر و اکراہ سے روکتا ہے ، اور خوشگوار ماحول میں خوش اسلوبی کے ساتھ گفتگو کا حکم دیتا ہے، ایسی صورت میں کسی نفرت انگیزی کی کہیں کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی، ہر طرف امن و امان کا بسیرا رہتا ہےـ
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مسلم اور غیر مسلم سب ایک دوسروں کے مذہبی رسم و رواج میں شرکت کریں تو کیا حرج ہے؟ کیا اس سے امن و امان اور بھائی چارے کو فروغ نہیں ہوگا، سب ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل کر نہیں رہیں گے ؟ “باہمی ہم آہنگی “کے فروغ کیلئے یہ ایک بہتر طریقہ نہیں ہوگا؟
آپ یاد کیجئے سیرت کے اس واقعہ کو جب سرداران مکہ، محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ ایک ماہ تم ہمارے معبود لات و عزی کی عبادت کرلو اور ایک سال ہم تمہارے خدا کی عبادت کر لیں گے، وہاں دلیل کچھ اسی طرح کی تھی کہ اگر ہم حق پر ہوئے تو تمہیں اس حق کا کچھ حصہ مل جائے گا اور اگر تم حق پر ہوئے تو ہمیں اس کا کچھ حصہ مل جائے گا، قرآن نے جواب دیا “لکم دینکم ولی دین” تمہارے لئے تمہارا دین ہمارے لئے ہمارا دین، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب نے اس سلسلے میں آپ کی رائے معلوم کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاف صاف جواب تھا کہ اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ مپر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں تو بھی میں توحید کی دعوت سے رکنے والا نہیں،
ایسا کیوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دو ٹوک فیصلہ پر غور کیجئے، تو پتہ چلے گا کہ یہ تیتر بٹیروالا کھیل فطرت کے بھی خلاف ہے، اور یہ سماج میں ایک نئی کشمکش کا آغاز کرنے والی فکر ہے،فرض کیجئے کہ اگر ہم غیر مسلموں کی اس تجویز پر عمل کرلیں اور ان کے دوچار مذہبی تہوار، ہولی دیوالی، رام لیلا، وغیرہ میں شرکت کرلیں یا وہ لوگ کبھی کبھی ہماری مسجدوں میں آکر نماز پڑھ لیں تو کیا ضمانت ہے کہ کل ہوکر مطالبہ کی یہ فہرست طویل نہیں ہوگی، وقت کے گزرنے کے ساتھ یقینا مطالبہ کی فہرست دراز ہوگی، عورتوں کو “کرڑوا چوتھ” کی دعوت دی جائیگی، ہولی میں “شراب” پیش کی جائیگی، کبھی کبھی خنزیر کا کباب نوش کرنے کو کہا جائے گا، اسی طرح ہوسکتا ہے آپ کسی پنڈت سے کہیں گے کہ انڈا کھائیں، عید الاضحی میں شرکت کا مطالبہ بھی کریں گے، جو ان کے مذہبی اصول سے ٹکراتے ہیں، تو ظاہر ہے ایسی صورت میں ایک دوسرے کو برداشت کرنا ناممکن ہو جائے گا ، اور یہ مشکل بڑھتی ہی چلی جائے گی، اسلئے کیا یہ بہتر نہیں کہ ہر شخص اپنے مذہب کی تعلیمات پر عمل کرے، دوسرے کے مذہبی آزادی کا مکمل احترام کرتے ہوئے اس پر کوئی روک ٹوک اور زور زبردستی نہ کرے، دوسرے کو اس کی شکل میں قبول کرنے کی صلاحیت پیدا کرے، اگر دوسرے کی کوئی بات بری لگے تو ٹکراؤ سے بچتے ہوئے، ازراہ نصیحت،خوش گوار اسلوب میں سمجھانے کی کوشش کرے، اپنی مذہبی تعلیمات دوسروں پر تھوپنے سے مکمل پرہیز کرے، یہ چیزیں امن و امان ، آپسی بھائی چارہ، اور باہمی ہم آہنگی کو زیادہ فروغ دیں گی، جبکہ پہلی صورت میں سوائے سماجی کشمکش کو فروغ ملنے کے کوئی نتیجہ برآمد ہونے والا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں