73

سلمان عبدا لصمد”ساہتیہ اکادمی یووا پرسکار“ سے سرفراز


نئی دہلی:آج یہاں نوجوان فکشن نگار سلمان عبدالصمد کو ”ساہتیہ اکادمی یووا پرسکار 2019“ پیش کیا گیا۔ ان کے پہلے ناول ”لفظوں کا لہو“ کو اردو اور ہندی کے قارئین نے بہت پسند کیا اور کئی معتبر لکھنے والوں نے اس ناول پر اظہار خیال بھی کیا ہے۔2016 سے لے کر اب تک تین مرتبہ اس ناول کی اشاعت ہوئی۔ ڈبرو گڑھ آسام میں ساہتیہ اکادمی کے صدرچندرشیکھر کمبار نے سلمان عبدالصمد سمیت24زبانوں کے نوجوان لکھنے والوں کی خدمت میں یہ پرسکار پیش کیا۔ خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے سلمان نے کہا کہ والدین اورمیرے لیے نیک خواہشات رکھنے والے تمام افراد کا میں ممنون ہوں۔ ناول لکھنے کے لیے کی گئی کل چھ دن کی محنت کو خدا نے قبول کیا۔ اس ادبی سفر میں نیک دل قارئین اور ساہتیہ اکادمی کی اس ہمت افزائی سے مجھے تقویت ملی ہے۔ مجھے تنقید وتخلیق سے یکساں دل چسپی ہے۔ چناں چہ ان دونوں میدا نوں میں بہترکام کر نا میرا فریضہ ہوگا۔انھو ں نے مزید کہا کہ ایوارڈ میں ملنے والی 50ہزار رقم ان مدرسوں کے کے درمیان تقسیم کردی جائے گی،جہاں جہاں میں نے تعلیم حاصل کی۔واضح رہے کہ جواہر لال نہرو یونی ورسٹی میں پرو فیسر انورپا شا کی سرپرستی میں سلمان عبدالصمد ”اردو ناول اور اسلوبیات:1980کے بعد“ پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ رہے ہیں۔ناول کے علاوہ ان کی دوکتابیں، متعدد تنقیدی مضامین اور افسانے شائع ہوچکے ہیں۔جے این یو آنے سے قبل انھوں نے دارلعلوم ندوۃ العلماء لکھنو سے سندِ عا لمیت حاصل کی۔ ان کا آبائی گاؤں دربھنگہ میں واقع’برّا گجبور‘ ہے۔ سلمان نے اپنے صحافتی تجربوں کو بڑی خوب صورتی سے تخلیقی انداز میں پیش کیا ہے۔ جس سے حقیقی صحافیوں کا چہرہ سامنے آتا ہے اور جمہوریت و صحافت کے متعلق متعددسوالات ابھرتے ہیں۔ ایوار ڈ ملنے پر ان کے سینکڑوں احباب اور اساتذہ نے مبارک باد پیش کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں