101

سائیکو عورت

ریحان خان
مینکا گاندھی کا اعتراض بالکل درست ہے،’اونی’ کو نہیں مارا جانا چاہیے تھا، جو واقف نہیں ہیں وہ جان لیں کہ ‘اونی’ کسی خاتون کا نہیں؛ بلکہ ایک شیرنی کا نام ہے جو آدم خور ہوچکی تھی،اس کے دو بچے تھے۔ ایوت محل کے جنگلات میں ‘اونی’ نے کم و بیش ایک سال کے عرصے میں 18 زندگیاں ختم کی تھیں، ان میں بچے بھی تھے، بوڑھے جوان اور خواتین بھی تھیں۔ اسے زندہ پکڑنے کی کوشش آٹھ ماہ تک کی گئی؛ لیکن اسے پکڑنا ممکن نہیں ہوسکا۔ بالآخر گزشتہ جمعہ کی شب جنگل میں کیے گئے ایک آپریشن میں مہاراشٹر کے وزیر جنگلات سدھیر منگٹیوار کے حکم پر ‘اونی’ کا ‘انکاؤنٹر’ کردیا گیا۔ ‘اونی’ کے خاتمے کے بعد جنگل کے قرب و جوار کی بستیوں میں ایک سکون کا ماحول ہوا اور اس کی دہشت کا مکمل خاتمہ ہوا، اونی کے بچے محکمہ جنگلات کے پاس ہیں جنہیں زو میں بھیج دیا گیا ہے۔ ادھر ودربھ کے ضلع ایوت محل میں سکون کا ماحول ہوا، ادھر دلی ‘رنگ محل’ میں بے چینی برپا ہوگئی۔ مرکزی وزیر برائے بہبودی اطفال و خواتین نے ‘اونی’ کے ‘انکاؤنٹر’ کی ‘کڑی نندا’ کی اور ان کے زار زار بہنے والے آنسوؤں سے ٹوئٹر گیلا ہوگیا۔
سر سے سر ملے اور تال سے تال ٹھونکی گئی، جبینوں پہ شکنیں در آئیں،حتی کہ وہ زبانیں بھی بولنے لگیں،جن کے تعلق سے گمان ہوچلا تھا کہ وہ گویائی سے محروم ہوچکی ہیں۔ ‘اونی’ کو کیوں مارا گیا؟ کیا اسے بے ہوش کرکے زندہ نہیں پکڑا جاسکتا تھا؟اس کا جرم کیا تھا؟ یہ سارے سوال لکژری اپارٹمنٹس کے ایئر کینڈشن کمروں کے نرم گدوں پر نیم دراز افراد نے اپنے موبائل فون کے ذریعے ٹوئٹر پر کیا۔ ان میں سے بہتیروں کے گیٹ پر ایک واچ مین تھا کہ کوئی ‘اونی’ صاحب خانہ کی نازک گردن پر اپنے نکیلے دانت نہ گاڑ دے۔ جب اونی ضلع ایوت محل کے آدی باسیوں کی خون آشام لاشیں بھنبھوڑ رہی تھی،اس وقت یہ تمام بے سدھ تھے، جن کےلیے اونی پہ چلائی گئی گولیوں کی آواز صور اسرافیل ثابت ہوئی ہے۔ یہ اس وقت بھی خموش تھے،جب ملک کے مختلف حصوں میں انسان درندے بن رہے تھے۔ ایوت محل کی ‘اونی’ پر دہلی میں بیٹھ کر رونے والوں کو دہلی کے ہی اس دس سالہ معصوم کی چیخیں نہیں سنائی دیں، شاید اس لیے کہ وہ معصوم بدقسمتی سے انسان تھا۔ لنچنگ کے واقعات پر ان کی زبانیں گنگ تھی۔ سبریمالا مندر میں خواتین پر تشدد اور فرعونیت پر ان کی زبانوں سے ایک لفظ نہ نکلا، دوسروں کی چھوڑیں، مینکا گاندھی تو بہبودی اطفال و خواتین کی مرکزی وزیر ہیں۔ اطفال و خواتین سے جڑا ہر مسئلہ ان کے دائرۂ کار میں آتا ہے۔ درندوں کی ہوس کا شکار ہوتی معصوم بچیوں کی چیخوں پر انہیں کان دھرنا چاہیے تھا، ان کی اور ان کے اہل خانہ کی داد رسی کرنی چاہیے تھے۔ مینکا گاندھی شاید اس سے لاعلم تھیں کہ ‘بھات’ بھات’ کہتے مرجانے والے بچوں کا شمار ‘اطفال’ میں اور ان بے بس و لاچار ماں کا شمار ‘خواتین’ میں ہوتا ہے۔ مینکا شاید یہ بھی نہیں جانتی تھیں کہ کشمیر کی آصفہ اور یوپی کی متاثرہ بھی ‘اطفال و خواتین’ کے زمرے میں ہی آتی ہیں۔ شاید مینکا کےلیے اعلیٰ طبقے کے دمکتے چہروں اور سرخ رخساروں والے بچے اور ان کی لیڈی ٹائپ کی مائیں ہی وزارت کے دائرۂ کار میں آتی ہیں،باقی سب اچھوت ہیں۔ ان کی بھوک بھوک نہیں اور ان کا خون خون نہیں ہے۔ ‘اونی’ کے 18 شکاروں میں بھی ‘اطفال و خواتین’ شامل ہیں۔
مینکا گاندھی نفسیاتی طور پر شاید ماضی پرست ثابت ہوئی ہیں۔ ماضی کے غم اور ماضی کی خوشیوں کو وہ حال میں تلاش کرتی ہیں۔ ماضی کا غم انہیں بی جے پی میں لے جاتا ہے اور ماضی کی خوشیاں ‘اونی’ پر آنسو بہانے پر مجبور کرتی ہیں۔ اس لحاظ سے مینکا گاندھی ایک ہمدردی کے لائق خاتون ہیں۔ گاندھی خاندان کی رکن ہونے کے باوجود وہ اس مقام کو حاصل نہ کرسکیں جو سونیا گاندھی کے حصے میں آیا ہے۔ مینکا سپوت ورون اور سونیا کے فرزند راہل میں بھی بعدالمشرقین ہے۔ یہی وہ تفریق ہے جس کے نفسیاتی اثرات کے تحت مینکا بی جے پی کے خیمے میں پہنچ گئیں۔ رہی بات ‘اونی’ کی موت کے دکھ کی تو مینکا ‘جانوروں کے حقوق’ کی خود ساختہ کارکن بھی رہی ہیں جس میں وسیع کارکردگی کیلئے انہیں قومی اعزاز بھی مل چکا ہے۔ اس میدان میں سب سے بڑی کامیابی انہوں فلم ‘رنگ دے بسنتی’ کے ایک منظر میں گھوڑے کی حق تلفی کا منظر حذف کروا کے حاصل کی تھی اور گھوڑے کی حق تلفی یہ تھی کہ فلم کا ایک کردار اس گھوڑے پر سواری کررہا تھا۔ اونی کے موت پر دکھ ظاہر کرنے والی مینکا گاندھی حال کی نہیں بلکہ ماضی کی مینکا گاندھی ہیں۔ جب 2018 کا شمار بھی ماضی میں ہوگا اس وقت ممکن ہے کہ مینکا لب کشائی کریں کیونکہ نفسیاتی طور پر وہ ماضی میں جینے والے خاتون ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ موجودہ حالات میں مینکا کے لاشعور میں یہ بات گھر کر گئی ہو کہ انسانی جان سے زیادہ قیمتی جانوروں کی جان ہے، گئو رکشا کے نام پر ہونے والے درجنوں قتل یہ باور کرانے کےلیے کافی ہیں کہ انسانی جان کی حیثیت ثانوی ہے اس لیے ‘اونی’ کو نہیں مارا جانا چاہیے تھا بقول فراق گورکھپوری:
ابھی کچھ اور ہو انسان کا لہو پانی
ابھی حیات کے چہرے پر آب و تاب نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں