79

ریزرویشن، ریزرویشن اور ریزرویشن


مسعود جاوید

7 جنوری 2019 کو مودی حکومت کی یونین کیبینٹ نے اونچی ذات کے غریبوں کے لیے 10% دس فیصد ریزرویشن کی تجویز کو پاس کیا اور اس وقت یعنی دوپہر سے ہی الیکٹرانک میڈیا نے عوام کو کنفیوز کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، کوئی سورن یعنی اونچی ذات سے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی تهی کہ یہ قدم برہمنوں کو خوش کرنے کے لئے اٹهایا گیا ہے اور وہ اس طرح کہ دوسرے طبقوں کی طرح سورن بهی ایک کیٹیگری بنایا گیا ہے جسے اس ریزرویشن کا فائدہ حاصل ہوگا تو دوسری میڈیا یہ خبر دے رہی تهی کہ اس کا فائدہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے اعلی طبقے کے غریبوں کو بهی ہوگا، در اصل یہ ساری کنفیوژن ہندوؤں میں ذات کی خانہ بندی سورن چهتری ویسیہ اور شودر میں لفظ سورن سے پیدا ہوا. سورن یعنی اعلیٰ طبقہ سے یہ سمجها گیا کہ یہ صرف ہندوؤں کے اعلیٰ طبقہ کے لئے ہے. اور یہ بهی سمجها گیا کہ یہ ایس سی ایس ٹی اور او بی سی کی طرح سورن کیٹیگری بهی ایک طبقہ ہوگا جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے،اگر حکومتی فیصلے کے الفاظ پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ سورن سے مراد ہندو نہیں بلکہ بالعموم اونچی ذات کے وہ لوگ ہیں جو مالی اعتبار سے پسمابدہ اور کمزور ہیں ان کو ریزرویشن کا فائدہ ملے گا. اور یہ کوئی الگ طبقہ بنا کر دس فیصدی ریزرویشن نہیں دیا جائے گا بلکہ جنرل کیٹیگری 50% کے وہ لوگ تمام جو مالی اعتبار سے کمزور ہیں ان کے لئے دس فیصد مخصوص کیا جائے گاـ
کیا یہ ممکن ہوگا ؟ بی جے پی اور اس کے اتحادی اس فیصلہ کو وزیراعظم مودی کا ” سب کا ساتھ سب کا وکاس ” کو عملی جامہ پہنانے کی طرف ایک تاریخی قدم بتا رہے ہیں جبکہ کانگریس کے ترجمان ابهیشیک سنگهوی کے بقول یہ محض ایک دلکش انتخابی چال ہے جو حکومت کے 2019 میں شکست کے خوف کو عیاں کرتی ہے اس لئے کہ مودی حکومت کے پاس اس بل کو پارلیمنٹ میں پاس کرانے کے لئے مطلوبہ اکثریت ہے ہی نہیں ہےـ
اس سیاسی جنگ و جدل سے ہٹ کر اس بل کو پاس کرانے میں قانونی پیچیدگیوں کا بهی سامنا ہوگا. سپریم کورٹ نے ہر قسم کے ریزرویشن کے لیے ایک حد اعلیٰ % 50 مقرر کردیا ہے جس کی وجہ سے جنرل کیٹیگری میں اب تک % 50 بچ رہا ہے. مودی حکومت کو ، اس 50 فیصدی میں سے دس فیصدی نکالنے کے لیے دستور کے آرٹیکل 15 جو ہر ریاست کو اختیار دیتا ہے کہ وہ فقط سماجی اور تعلیمی سطح پر پچھڑے طبقات ، شیڈولڈ ذاتیاں اور شیڈولڈ قبائل کو خاص رعایت دے ، اور آرٹیکل 16 ہر ریاست کو اختیار دیتا ہے کہ وہ پسماندہ طبقات کی مناسب نمائندگی کے لئے اس طرح کی رعایت سرکاری ملازمتوں کے حصول میں دے،ان دفعات میں ترمیم کرنی ہوگی جو بظاہر اتنا آسان نہیں ہے لیکن اگر حکومت ترمیم کرانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو مندرجہ ذیل لوگ اس 10% ریزرویشن سے مستفید ہو سکتے ہیں :
جو اعلیٰ طبقے پہلے سے موجود 50% ریزرویشن کے اہل نہیں تهے ان میں سے اعلیٰ طبقہ کے وہ لوگ :
1- جن کی سالانہ آمدنی آٹھ لاکھ روپے سے کم ہو
2- جس کے پاس زراعتی زمین پانچ ایکڑ سے کم ہو
3- جس کے پاس رہائشی زمین ایک ہزار مربع فٹ سے کم ہو.
اگر ڈر نہیں تو کچھ تو ہے جو کرو یا مرو do or die کی صورتحال پیدا کر رہا ہے. ویسے ریزرویشن کے تعلق سے بی جے پی کا موقف بہت واضح نہیں ہے بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آر اس اس کا موقف مثبت نہیں ہے. پچھلے بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو آر ایس ایس کے ذمہ دار کی طرف سے ریزرویشن پر از سر نو غور و فکر کرنے کی بات کرنے کا خمیازہ بھگتنا پڑا تھا اس لئے کہ ریزرویشن سے مستفید ہونے والے طبقات نے اسے بی جے پی کی بیک وارڈ مخالف پالیسی قرار دے کر سبق سکھایا تھاـ اس وقت سے ہی اقلیت اور پسماندہ طبقات بدکے ہوئے ہیں ـ اس لئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بار سورنوں پر بازی لگانے کی کوشش ہے. لیکن اقلیتوں اور پسماندہ طبقوں سے کہیں زیادہ سورنوں کو معلوم ہے کہ انتخابی وعدوں کا انجام کیا ہوتا ہےـ انہیں معلوم ہے کہ تین مہینے میں یہ بل پاس کرانا اور اس کے بعد دستور میں ترمیم کی کارروائی ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے. عوام اس طرح کے لولی پوپ کی حقیقت سے بخوبی واقف ہے اس لئے کہ سابق میں اس طرح کے وعدے کئے گئے جو کبهی پورے نہیں ہوئے. ملایم سنگھ یادو نے وعدہ کیا تها کہ جینے کے بعد اردو زبان کو اتر پردیش کی دوسری زبان بنائیں گے. لیکن جیتنے کے بعد وہی قانونی اور دستوری پیچیدگی کا عذر ہیش کرکے اقلیتوں کے ساتھ مذاق کیا گیاـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں