65

ریختہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام’ریختہ اردو لرننگ پروگرام‘کے جلسۂ تقسیم اسناد کاانعقاد

اردو زبان الفاظ کی ادائیگی کا صحیح طریقہ اور گفتگو کا سلیقہ سکھاتی ہے: پروفیسر شہپر رسول
شاعری بنیادی طور پر زبان سے ادا کرنے کا فن ہے: پروفیسر احمد محفوظ

نئی دہلی،(پریس ریلیز)’ریختہ‘ جس سطح پر لوگوں میں اردو کا عشق پیدا کر رہا ہے، اس کی وجہ سے صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کی ایک شناخت قائم ہو چکی ہے۔ جناب سنجیو صراف کی انتھک کوششوں سے ایک ایسا ادارہ قائم ہوا ہے، ارد و زبان وادب کو جس کی بہت ضرورت تھی ۔ اس ویب سائٹ پر معیاری کلام کا مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ اردو کی اہم اور نادر کتابوں کا بھی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ریختہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام آج منعقد ہ ریختہ اردو لرننگ پروگرام‘ کے جلسۂ تقسیم اسناد کے موقع پر بحیثت مہمان خصوصی  دہلی اردو اکادمی کے وائس چیرمین پروفیسر شہپر رسول نے کیا۔ انھوں نے طلبا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ اردو زبان ہمیں بولنے کا سلیقہ اور درست تلفظ کا صحیح طریقہ سکھاتی ہے۔ اس موقع پر پروگرام کے دوسرے مہمان خصوصی ،شعبۂ اردو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے استاد، پروفیسر احمد محفوظ نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ مستقبل میں آگے بڑھنا اچھی بات ہے لیکن ماضی کی اپنی روایات کو فراموش کرنا مناسب نہیں۔ اردو زبان ایک بڑی تہذیب کی نمائندہ ہے اور ریختہ نے نہ صرف اردو زبان کو بلکہ ہندوستانی تہذیب کو دنیا کی ایک بڑی آبادی تک پہنچایا ہے۔ جناب سنجیو صراف کا یہ غیرمعمولی کارنامہ ہے۔ جناب دھرمیندر ساہا بھی ان کے رفیق و مددگار کی حیثیت سے ہمیشہ ان کے ساتھ سائے کی طرح رہتے ہیں ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہماری روایت میں شاعری زبان سے ادا کرنے کا فن ہے۔ اگر لکھی ہوئی شاعری کو زبان سے ادا نہ کیا جائے تو اس کے بہت سے رموز سے واقفیت نہیں ہو سکتی۔جناب دھرمیندر ساہا نے طلبا کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اب آپ لوگ اس لائق ہو گئے ہیں کہ دوسروں کو اردو پڑھنا اور لکھنا سکھا سکتے ہیں اور آپ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ لوگوں کو یہ زبان سکھائیں۔انھوں نے مزید فرمایا کہ ریختہ فاؤنڈیشن، جامعہ ملیہ اسلامیہ کا بطور خاص شکرگزار ہے کہ ریختہ کو ابتدا ہی سے جامعہ کا تعاون حاصل رہا ہے۔
واضح رہے کہ دور حاضر میں ’ریختہ‘  اردو کی ایک اہم ویب سائٹ ہے۔ اس ویب سائٹ پر تقریباً ساڑھے چار ہزار شاعروں (کلاسیکی اور جدید) کی کم و بیش پچاس ہزار غزلیں اردو، ہندی اور رومن رسم الخط میں پڑھی جا سکتی ہیں۔یہاں آڈیو، ویڈیو کے علاوہ ای بکس کی مجموعی تعداد ساٹھ ہزار سے زائد ہے، جن میں نہایت نادر و نایاب کتابیں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں گذشتہ برس اگست سے ریختہ کیمپس میں اردو رسم الخط کی تدریس کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس کورس کا بنیادی مقصد ایسے غیر اردو داں لوگوں کو اردو رسم الخط سکھانا ہے جو یا تو اپنی پیشہ ورانہ ضرورت کے پیشِ نظر اردو سیکھنا چاہتے ہیں یا اردو ادب بالخصوص اردو شاعری سے گہراشغف رکھتے ہیں، لیکن اردو رسم الخط سے واقف نہیں ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اس کورس میں داخلہ لیتے ہیں اور تیس سے چالیس گھنٹوں میں اس قابل ہو جاتے ہیں کہ اردو شعر و ادب کے اہم نمونوں کو بذات خود پڑھ اور لکھ سکیں۔ اب تک ڈھائی سو سے زیادہ لوگ اس کورس سے استفادہ کر چکے ہیں۔ اس میں داخلہ لینے والوں میں وکیل، انجینیئر، صحافی، انگریزی اور دیگر علوم کے پروفیسر، ریسرچ اسکالراور شاعر شامل رہے ہیں۔
آج ریختہ کیمپس میں درج بالا کورس کے ساتویں گروپ کا جلسۂ تقسیم اسناد منعقد ہوا۔ پروفیسر شہپر رسول (وائس چیرمین، دہلی اردو اکادمی، دہلی) اور پروفیسر احمد محفوظ (استاد، شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے اپنے دستِ مبارک سے اس گروپ کے 45 شرکا کو سرٹیفیکٹ تقسیم کیے۔ اس کورس میں رسم الخط کی دو مہارتوں، پڑھنا اور لکھنا کی تدریس کے ساتھ ساتھ تین خصوصی لکچروں کا بھی اہتمام کیا گیا۔ ان میں پروفیسر انیس الرحمن (سابق صدر شعبۂ انگریزی، جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے ’’اردو غزل کا سفر‘‘، جناب فیصل فہمی نے ’’اردو عروض‘‘ اور امن صاحبہ نے ’’اردو کے تہذیبی عناصر‘‘ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروفیسر عبد الرشید (استاد، شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے اردو رسم الخط کی تدریس میں بنیادی کردار ادا کیا ۔ اردو سے ان کی محبت، لگن اور نئے طلبا کو اردو سکھانے کے شوق اور محنت نے طلبا کو اس لائق بنا دیا کہ چھتیس گھنٹے کے کورس کے ابتدائی مراحل میں ہی اردو حروف شناسی کے ساتھ ساتھ، ان طلبا نے محاوروں، کہاوتوں کے ساتھ ساتھ اشعار خود پڑھنے اور لکھنے کی مشق بہم پہنچائی۔ کورس کے آخر میں طلبا ، منٹو کے دو افسانے پڑھنے اور لکھنے میں کامیاب ہوئے۔ اس طرح یہ کورس آج اختتام پذیر ہوا۔ اس موقعے پر پروگرام کی کورس کوآرڈینیٹر امن صاحبہ نے مہمانان کا استقبال کرنے کے ساتھ ساتھ کورس سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔ محترمہ پارُل نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور طلبا نے اس کورس سے متعلق اپنے تاثرات تخلیقی انداز میںپیش کیے۔پروگرام کے آخر میں پروفیسر شہپر رسول اور پروفیسر احمد محفوظ نے اپنے کلام بھی پیش کیے۔
(تصویر میں دائیں سے: پروفیسر عبد الرشید، جناب شکیل صاحب، جناب دھرمیندر ساہا، پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر شہپر رسول، جناب دلجیت سنگھ(سند لیتے ہوئے) اور محترمہ امن صاحبہ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں