99

رہ روانِ حجاز سے کچھ باتیں!


عبدالرشید طلحہ نعمانیؔ
“سفر” انسانی زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے؛یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں آئے دن مختلف لوگ،اپنے اپنے مقاصدکے لیے الگ الگ مقامات کا سفر کرتے ہیں۔ کچھ سفر تفریح طبع اور سیر و سیاحت کے لیے کیے جاتے ہیں،کچھ سفرتجارتی و مادی منفعت کے لیے کیے جاتے ہیں،کچھ اسفار دینی و دعوتی مقصد کے پیش نظرہوتے ہیں اور کچھ وہ ہوتے ہیں جن سے قلب کی تسکین اور نفس کی تطہیر وابستہ ہوتی ہے۔سفر حج بھی ان عظیم الشان اسفار میں سے ایک ہے جو ایک مسلمان کے لیے سعادت و خوش بختی کا پیش خیمہ اور زندگی کے لیے صالح انقلاب کا وسیلہ ہے،جوایمان کی حلاوت میں اضافے اور جذبوں کو صیقل کرنے میں اپنی مثال آپ ہے، حج و عمرہ کا سفر ایک خاص جذب و کیف کا غمازاورخودربودگی و وارفتگی کا عکاس ہوتا ہے؛جو دیار حرم کے ساتھ گہرے تعلق،سچی عقیدت اور والہانہ محبت کے اظہار کا عمدہ ذریعہ ہے۔
“حج”اللہ عزّوجل کی عظیم ترین عبادات میں سے ایک ہے؛جو ارکان اسلام کا پانچواں رکن اور مالی وبدنی عبادات کاحسین امتزاج ہے۔حج ایک ایسی عالمگیر اور ہمہ گیر عبادت ہے کہ جس میں توحید کے وجد آفرین نعرے، شہادت کے روح پرور ترانے،نماز کی پاکیزگی و طہارت، روزہ کا نور وتقویٰ،زکوٰۃ کا تزکیہ وتحلیہ، جہاد کی مشقت وریاضت،صدقہ و خیرات کی آسودگی، اور تلاشِ نقوش پائے جاناں کی بے تابی شامل ہوتی ہے۔
کہیں سے اذن ملا ہے تو حاضری ہوئی ہے!
حج بیت اللہ کے لیے رخت سفر باندھنا محض کوئی خوش گوار اتفاق یا زمینی کد و کاوش کا نتیجہ نہیں ہے؛بلکہ یہ ربانی انتخاب ہے جو حق تعالی نے خودفرمایا ہے؛یہی وجہ ہے کہ لاکھوں اسلام کے نام لیواؤں میں معدودے چند افراد ہی اس اہم ترین فریضہ کی ادائیگی کے لیے گھربار چھوڑ کر دیارمقدس پہ حاضری دیتے ہیں۔ ورنہ کتنے ایسے افراد ہیں جو وسائل کی فراوانی اور مال و جائیداد کی بہتات کے باوجود غیر معقول حیلے بہانوں کے سبب رکے رہتے ہیں،انہیں اپناجاہ ومنصب،اپنی عیش و عشرت اور اپنا نظامِ کار، دین و فرائض دین کے مقابلہ میں زیادہ عزیز ہوتا ہے فیااسفاہ۔اسی لیے احادیث میں اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ جن لوگوں پر حج فرض ہوجائے، انہیں جلد سے جلد اپنے فریضہ کی ادائیگی کی فکر کرنی چاہئے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’فریضہئ حج کے ادا کرنے میں جلدی کرو؛ کیوں کہ تم میں سے کسی کو معلوم نہیں کہ آئندہ اس کے لیے کیا رکاوٹ پیش آجائے۔‘‘ (مسند احمد)
یہ کس درجہ افسوس کی بات ہے کہ ہم محض اس وجہ سے حج سے رکے ر ہیں کہ ابھی عمر ہی کیا ہوئی ہے؟ابھی تو اولاد کے نکاح باقی ہیں، یاپہلے والدین کو حج کرادیں، پھرہم حج کا ارداہ کریں وغیرہ۔۔۔۔۔۔یادرکھیں! غیر شرعی اعذار کی بنا پر حج کو معرض التواء میں ڈالنے والو ں کے لیے سخت وعید وارد ہوئی ہے۔”حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس سفر حج کا ضروری سامان ہو اور اس کو سواری میسر ہو جو بیت اللہ تک اس کو پہنچا سکے اور پھر وہ حج نہ کرے تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر، اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ”اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج فرض ہے ان لوگوں پر جو اس تک جانے کی استطاعت رکھتے ہوں۔“(رواہ الترمذی)
حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ معارف الحدیث میں تحریر فرماتے ہیں کہ:حج فرض ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والوں کو مشرکین کے بجائے یہود و نصاریٰ سے تشبیہ دینے کا راز یہ ہے کہ حج نہ کرنا یہود و نصاریٰ کی خصوصیت تھی البتہ مشرکین عرب حج کیا کرتے تھے؛لیکن وہ نماز نہیں پڑھتے تھے اس لیے ترک نماز کو مشرکین کا عمل بتایا گیا۔
حج کے فضائل:
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جب تم بیت اللہ کا قصد کرکے گھر سے روانہ ہوتے ہو تو تمہاری سواری کے ہر ہر قدم پر اللہ تعالی ایک ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور ایک ایک گناہ معاف کردیتا ہے ……اور جب تم وقوف عرفہ کر رہے ہوتے ہو تو اللہ عز وجل آسمان دنیا پر آکر فرشتوں کے سامنے حجاج کرام پر فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے:دیکھو یہ میرے بندے ہیں جو دور وراز سے پراگندہ حالت میں اور غبار آلود ہوکر میرے پاس آئے ہیں ……یہ میری رحمت کے امید وار ہیں اور میرے عذاب سے ڈرتے ہیں ……(حالانکہ انھوں نے مجھے دیکھا نہیں ہے) اور اگر یہ مجھے دیکھ لیتے تو پھر ان کی حالت کیا ہوتی!پھر اگر تمہارے اوپر تہہ در تہہ ریت کے ذرات کے برابر، یا دنیا کے ایام کے برابر، یا بارش کے قطروں کے برابر گناہ ہوں تو اللہ تعالی ان تمام گناہوں کو تم سے دھو دیتا ہے ……اور جب تم جمرات کو کنکریاں مارتے ہو تو اس کا اجر اللہ تعالی تمہارے لئے ذخیرہ کردیتا ہے ……اور جب تم سر منڈواتے ہو تو ہر بال کے بدلے اللہ تعالی تمہارے لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے ……پھر جب تم طواف کرتے ہو تو اس طرح گناہوں سے پاک ہوجاتے ہو جیسا کہ تم اپنی ماں کے پیٹ سے گناہوں سے بالکل پاک پیداہوئے تھے ……” (رواہ الطبرنی فی الجامع الصغیر)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ:’’پے در پے حج و عمرے کیا کرو؛ کیوں کہ یہ دونوں غربت اور گناہوں کو اس طرح ختم کردیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے اور سونے چاندی کے میل کو صاف کردیتی ہے، اور حج مقبول کا ثواب صرف جنت ہے۔‘‘ (جامع ترمذی)
بیہقی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا ہر روز اپنے حاجی بندوں کے لئے ایک سو بیس رحمتیں نازل فرماتا ہے جس میں ساٹھ رحمتیں ان کے لئے ہوتی ہیں جو بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں، چالیس ان کے لئے جو وہاں نماز پڑھتے ہیں اور بیس ان کے لئے جو صرف کعبے کو دیکھتے ہیں۔
ان کے علاوہ اور بھی متعدد فضائل، حج و عمرے کے تعلق سے کتب حدیث میں موجود ہیں۔(تفصیل کے لیے فضائل حج دیکھیں!)
اپنے حج کومقبول بنائیں!
اس طویل ترین اور پرمشقت سفر کا واحد مقصد صرف اور صرف رضائے الہی کا حصول ہے اور اس مقصد سے کسی بھی وقت غفلت یا بے احتیاطی ساری کوششوں کو ناکام کرنے کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ اس سفر کا ہر ہر مرحلہ عبادت ہے، مسجد الحرام میں ادا کی جانے والی ایک نماز کا ثواب دیگر مسجدوں میں پڑھی جانے والی ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔ اسی طرح مسجد نبویؐ کی ایک نماز کا ثواب دوسری مسجدوں کی ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے۔ اس لئے حرمین شریفین میں گزارا جانے والا ایک ایک پل بیش قیمت اور انمول ہے۔ ایک بھی منٹ فضول اور بے مقصد کاموں میں ضائع نہ کیا جائے اور اس قیمتی وقت کو غنیمت جان کر ہر وقت نماز، نوافل، قرآن پاک کی تلاوت، ترجمہ و تفسیر کے مطالعے، درود سلام، ذکر اذکار اور دیگر نیک اعمال میں مصروف رہیں۔
دل والوں نے جب جب حج کئے ہیں تو اس طرح کئے ہیں کہ تن والے دنگ رہ گئے ہیں، نہ زاد وتوشے کی فکر ہے نہ مرکب وراحلہ کا سامان ہے۔ نہ رفیق وعزیز ہمراہ ہے،نہ منزلوں پہ کہیں قیام ہے۔ تنِ تنہااٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور خالی ہاتھ چلدیئے ہیں۔ بادیہ کی چلچلاتی ہوئی ریگ پرننگے پیر اور عرب کی تمتماتی ہوئی دھوپ میں ننگے سر، ایک دو دن نہیں، ہفتوں اورمہینوں کی مسافتیں طے کی ہیں روزوں پر روزے رکھے ہیں اورفاقوں پر فاقے کئے ہیں۔ کوئی ایک دومثالیں ہوں تو درج کی جائیں۔ کس کس کے نام لیے جائیں اور کہاں تک گنوائے جائیں۔ طاؤس الفقراء شیخ ابونصرسراج اپنی کتاب اللمع میں اس طرح کی بہت سی حکایات وروایات درج کرکے لکھتے ہیں کہ ان اللہ والوں کے آداب حج یہ ہیں کہ یہ جب میقات پر پہنچ کر غسل کرتے ہیں تواپنے جسم کوپانی سے دھونے کیساتھ ہی اپنے قلب کوتوبہ کے پانی سے غسل دیتے ہیں۔ جب احرام پہننے کے لئے اپنے جسم سے لباس اتارتے ہیں تو قلب سے بھی محبت دنیا کا لباس اتارڈالتے ہیں۔ جب زبان سے لَبَّیْکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْککہنا شروع کرتے ہیں توحق کو پکارنے کے بعد شیطان و نفس کی پکار پر جواب دینا اپنے اوپر حرام کرلیتے ہیں۔ جب خانہ کعبہ کا طواف کرنے لگتے ہیں توآیت کریمہ وَتَریَ الْمَلٰءِکَۃَ حَافِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ کو یاد کرکے عرش الٰہی کے گرد طواف کرنے والے فرشتوں کا تصور جماتے ہیں۔ جب حجر اسود کوبوسہ دیتے ہیں تو گویا اسی وقت حق تعالیٰ کے ہاتھ پر اپنی بیعت کی تجدید کرتے ہیں اور اس کے بعد اپنے ہاتھ کا کسی خواہش کی طرف بڑھانا گناہ سمجھ لیتے ہیں۔ جب صفا پر چڑھتے ہیں تواپنے قلب کی کدورت کو بھی صفائی سے بدل لیتے ہیں۔جب سعی کرنے میں تیز دوڑتے ہیں تو گویا نفس وشیطان سے بھاگنے کا خیال بٹھالیتے ہیں۔ جب عرفات میں حاضر ہوتے ہیں توتصور کے سامنے میدان حشر کانقشہ جماتے ہیں،جب مزدلفہ میں آتے ہیں تو ان کے قلب، ہیبت وعظمت حق تعالیٰ سے لبریز ہوتے ہیں۔ جب کنکریاں پھینکتے ہیں تو اپنے اعمال وافعال یادکرتے جاتے ہیں۔ جب سر منڈواتے ہیں تو ساتھ ہی حب جاہ وخود پسندی پر بھی استرا چلاتے جاتے ہیں،اور جب قربانیوں کو ذبح کرتے ہیں تو ساتھ ہی ساتھ اپنے نفسوں پر بھی چھری چلاتے رہتے ہیں۔
الغرض:جنہوں نے یہ آداب حج اپنی کتابوں میں لکھے او رجنہوں نے عمل میں برتے وہ اسی مادی زمین پر چلنے پھرنے والے خاصانِ خدا تھے۔حق تعالی ہمیں بھی ان جذبات و احساسات کے ساتھ حج کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔آمین(ملخص از خطبات حبان)
سفر سے قبل ان امور کاخیال رکھیں!
مناسک حج کی تربیت ضرور حاصل کریں!حج اور عمرے کا طریقہ سیکھنے کے لئے مستند کتابوں کے مطالعے کے علاوہ ریاستی حکومت اور دیگر مختلف تنظیموں کی طرف سے منعقد کئے جانے والے تربیتی پروگراموں میں زیادہ سے زیادہ شرکت کریں – کسی معاملے میں کوئی سوال درپیش ہو یا وضاحت درکار ہو تو اہل علم سے اس کی وضاحت ضرور کروائیں، اس کیلئے ویڈیو سی ڈیز دستیاب ہیں،ان سے بھی استفادہ کریں –
حج کے موقع پر چوں کہ پورے عالم سے مسلمانوں کا ہجوم ہوتا ہے؛ اس لیے مناسک حج کے دوران آپس میں کچھ نہ کچھ اونچ نیچ ہوجاتی ہے؛ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ساتھی حجاج کو برداشت کریں،ان کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آئیں، غصہ کو قابومیں رکھنے کی کوشش کریں اور ان سب کی ابھی سے عادت ڈالیں!رواداری اور اچھے سلوک سے بڑے بڑے مسائل حل ہوجاتے ہیں اور نزاع واختلاف کو بڑھاوا نہیں ملتا۔
سفر حج کی تیاری کو اپنی ذات کے لئے ایک تربیتی کورس بنائیں۔حج کی قبولیت کے لئے ضروری ہے کہ سفر حج کے دوران حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال رکھا جائے۔ حدیث نبوی ؐہے کہ ’’جس شخص نے اللہ کے لئے حج کیا (اس دوران) اس نے نہ توکوئی فحش گوئی کی اور نہ ہی کوئی اور برا کام، تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک صاف لوٹے گا جس طرح اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔‘‘ گویا تقویٰ کے زاد راہ کے ساتھ کیا جانے والا حج انسان کو اب تک کی زندگی کے گناہوں سے مکمل طور پر پاک کر دیتاہے۔
اخیر میں صرف ایک بات کی طرف توجہ دلاکر ہم اپنی بات سمیٹتے ہیں کہ خدارا اپنے اندرسے تصویر کشی اور سیلفی کی عادت کو ختم کریں!آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ہر منظر کو محفوظ رکھنے اور حسین یادو ں کو قید کرنے کی غرض سے کیمرے اور موبائیل کا استعال عام بات ہے اور اب تو حال یہ ہے کہ اس کو گناہ بھی نہیں سمجھاجاتا،مسجد حرام اور مسجد نبوی جیسے مقدس مقامات پر بھی سیلفی کا جنون سر چڑھ کر بولتا ہے اور ایک ایک انداز سے متعلقین کو باخبررکھے ا کاگویا خبط سوار رہتاہے،تمام ترعبادات” نیکی کر میڈیا پر ڈال” کی نذر ہوجاتی ہیں؛جس سے ایک طرف نعمت کی ناقدری اور توہین ہوتی ہے تو دوسری طرف ریاکاری اور شرک خفی کی وجہ سے نیکی برباد، گناہ لازم ہوجاتاہے۔
حق تعالی ہمیں صحت و سلامتی کے ساتھ تمام مناسک کو ادا کرنے اور حج مقبول کی بشارت کے ساتھ وطن لوٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں