141

رویش کمار: مگر یہ دیا جگمگاتا رہا

( ای این بی اے ایوارڈ تقریب میں کی گئی رویش کمار کی شاندار تقریر )
ترجمانی: نثار احمد
انوراگ صاحب،شکریہ ( کیلاش) ستیارتھی صاحب، شکریہ،
مجھے نظر ملا کر بات کرنے کی عادت ہے مگر اُس طرف اندھیرا ہے، انعام تو سب کو ملا ہے کیوں کہ جج صاحبان کے سامنے وہی بھیجا گیا جو سب سے اچھا تھا، وہ نہیں بھیجا گیا جو سب سے اچھا نہیں تھا- اس سے پہلے بھی بہت انعام ملے ہیں مگر اب بھی جب کسی انعام کو چھوتا ہوں تو ہاتھ کانپ جاتے ہیں، ایک بار میرا ضمیر مجھ سے پوچھتا ہے کہ سچ مُچ تم اس انعام کے حقدار ہو؟ یہی سوال آپ سب اپنے اپنے چینلوں سے پوچھیے جن کے پردوں نفرت کی زبان بولی جار ہی ہے- حب الوطنی کے نام پر تالیاں بجانا بہت آسان ہے اور تالیاں پانا بھی بہت آسان ہے، ہم اور آپ جذبات میں بہہ جاتے ہیں، مگر اس پیشے ( صحافت) کا اصول یہی ہے کہ نہ تو خود جذبات میں بہیں اور نہ کسی کو اکسائیں، آپ سب جب یہاں سے جائیں تو اپنے اپنے ٹوئیٹ کو پڑھیے گا یقیناً آپ کو خود احتسابی کی ضرورت محسوس ہوگی-
میں مزہ خراب کرنا نہیں چاہتا مگر آپ چینل والوں نے سچ میں ہندوستان کا مزہ خراب کر دیا ہے، چینلوں پر جو بھاشا بولی جا رہی ہے اور جس طرح سے پچھلے پانچ سالوں میں ٹی وی چینلوں کا جو حال ہوا ہے آج نہیں تو کل کوئی یوٹیوب چینل کے تہہ خانے میں جا کر ڈھونڈے گا کہ یہ لوگ (صحافی) کیا کر رہے تھے تب پتہ چلےگا کہ کوئی NDTV بھی تھا جو بھیڑ کا حصہ نہیں بن رہا تھا، نہ ہم بھیڑ بن رہے تھے اور نہ ہم بھیڑ بنا رہے تھے-
ہمیں یہ بات ياد رکھنا چاہیے کہ ہم سب پردے پر آنے والے لوگ ہیں،لاکھوں لوگوں کے بیچ ہم پہچانے جاتے ہیں،ہمیں انہیں ورغلانا نہیں چاہیے-
میں یہاں بھاشن نہیں دے رہا ہوں آپ کے آنے سے پہلے بھی یہاں پر یہی بات کہہ کر گیا کہ آج ٹی وی کا پردہ بہت طرح کے چیلنجز سے گزر رہا ہے، تجارت کی مجبوری الگ ہے، لیکن اس پردے پر انعام کے لیے بھیجے گئے اپنی اپنی بہترین رپورٹ کے ٹکڑے کے علاوہ آپ لوگ بھی بہت کچھ ایسا کر رہے ہیں جسے آپ اکیلے میں بھی نہیں دیکھ سکتے-
عوام کو آپ سے بہت امیدیں ہیں، ہم ہمیشہ کسی حادثہ سے پہلے یا حادثہ کے بعد بھی گاؤں اور گھروں سے جڑے رہتے ہیں،اور ہمیں معلوم ہے اُن گھروں سے آنے والے ہمارے سی آر پی ایف کے جوان اور فوجی دستہ کے نوجوان ہیں، اُن کے ماں باپ پر کیا گزر رہی ہے؟ ہم اس حادثہ سے متاثر ہو کر نہیں بول رہے ہیں،مگر ہم نے انکی تکلیف کو بہت لمبے عرصے تک کور کیا ہے اس لیے ہم کہتے ہیں کہ اگر آپ کے جذبے میں ایمانداری ہے تو ان نیم فوجی دستوں کے حقوق کی لڑائی لڑ لیجیے، رکشا والے،ٹیمپو والے ٹھیلا والے کسان اور مزدوروں کے لئے آواز اٹھائیے،وہ مقررہ تاریخ کو دلّی آتے ہیں ان کے ساتھ کھڑے ہو کر دیش بھکتی کا ثبوت دیجئے، اور جاکر ٹوئیٹ کیجیے کہ وزیر اعظم صاحب’ ہم بھاشن بعد میں سن لینگے پہلے انکو پینشن دے دیجیے،ان کی تکلیف کو دور کر دیجیے،انکو سہولت فراہم کیجیے، جو یے مانگ رہے ہیں ان کو دے دیجیے تا کہ ہم ان سے آنکھیں ملا سکیں اور کہہ سکیں کہ تمہارے اچھے دنوں میں بھی ہم نے تمہاری لڑائی لڑی تھی، تمہاری زندگی کے لیے بھی اور زندگی کے بعد بھی، یہ انعام اُنہی کے لیے ہے، بہت شکریہ NDTV اور ان کی ٹیم اور بہت سے نوجوان رپورٹر جن کی اسٹوری کی وجہ سے آپ لوگوں نے ہمیں انعام کے لائق سمجھا،اس اسٹوری نے اُس دھارا کو بدل دیا جس کے ذریعے نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی،اسی نفرت نے ایک بہترین افسر سبودھ کمار سنگھ کی جان لے لی، یہی ہماری ڈیوٹی ہے کے ایسے انماد کو روکیں، یے ڈیوٹی نہیں ہونا چاہیے کہ آپ ہمارے دفتر کے سامنے یہ بورڈ لگا دیں کہ رویش کمار کا ٹائم ختم ہو گیا- رویش کا ٹائم ختم نہیں ہو سکتا، ہو سکتا ہے آپ کو ہزاروں انعام مل جائیں،آپ کی ٹی آر پی سولہویں محلے پر چڑھ جائینگی تب بھی کسی رویش کی ضرورت رہےگی، صحافت میں اِک عام آدمی رویش جیسا صحافی ہی ڈھونڈے گا, میں رہوں یا نا رہوں اُسکی فکر مت کیجیے گا، ہمارے ایک سینئر نے کہا’ ہمیں ایسے ماحول میں کیا کرنا چاہیے، میں نے کہا ہنسنا چاہیے اور زور سے ہنسنا چاہیے ( یہی ہماری جیت ہے) لیکِن اگر اس میڈیا پلانیٹ ٹیم نے مجھ سے پوچھا ہوتا کہ ہم آپ کے ٹائم کے ختم ہونے کے اعلان پر پر لاکھوں روپے خرچ کر رہے ہیں آپ کا کیا کہنا ہے؟ تو میں یہی کہتا کہ وہ پیسے اپنے غریب صحافیوں میں بانٹ دیجیے، میں پرائم ٹائم سے استعفیٰ دے دیتا ہوں اور اپنے گھر بیٹھ جاتا ہوں-
ہمیں آپ سے بس اتنا کہنا ہے کہ آپس میں زہر نا گھولیں، اور نا ہی اپنی عادت سے عوام کے بیچ سنک کی ہوا کو تیز کریں، یہی ہماری ذمےداری ہے،ہم نے بہت سے مشکل دور دیکھے ہیں، یہ بھی گزر ہی جائےگا- آپ ( جج صاحبان) کا بہت بہت شکریہ، ہم آپ کی ایمانداری اور ضمیر کی قدر کرتے ہیں، آپ نے ہمیں چنتے وقت یہ سوچا تو ضرور ہوگا کہ لاکھ آندھیوں کے باوجود یہ چراغ جلتا ہی رہا:
بہت لو بجھانے کی کوشش ہوئی
مگر یہ دیا جگمگاتا رہا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں