415

رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کا نکاح


ڈاکٹرمحمدرضی الاسلام ندوی

اللہ کے رسولﷺ کی چار بیٹیاں تھیں _ زینب کا نکاح آپ نے ابو العاص بن الربیع سے کیا _ انھیں آپ نے بہترین داماد قرار دیا _ حضرت رقیّہ اور حضرت ام کلثوم کا نکاح یکے بعد دیگرے حضرت عثمان بن عفّان سے کیا _ اس بنا پر وہ ذو النورین کہلائے _ سب سے چھوٹی بیٹی حضرت فاطمہ کا نکاح آپ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت علی سے کیا _ یہ نکاح بھی سابق نکاحوں سے کم اہمیت کا حامل نہیں تھاـ
جناب ابو طالب کثیر العیال اور مالی اعتبار سے تنگ دست تھے _ انھیں سہارا دینے کی غرض سے حضرت عباس اور رسول اللہ ﷺ نے طے کیا کہ ان کے ایک ایک بچے کو اپنی کفالت میں لے لیں _ چنانچہ عباس نے جعفر کو اور اللہ کے رسول نے علی کو لیا _ آپ ص کی بعثت ہوئی تو علی کی عمر 10 برس کے قریب تھی _ وہ سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والوں میں سے تھے _ آپ ان کی سرپرستی کرتے اور وہ آپ پر جان چھڑکتے _ ان پر آپ کے غیر معمولی اعتماد کا مظہر یہ ہے کہ ہجرت کی رات ، جب دشمن گھر کے باہر تلواریں سونتے ہوئے کھڑے تھے ، آپ نے انھیں اپنے بستر پر لٹایا اور اہلِ مکہ کی امانتیں بہ حفاظت انھیں واپس کرکے مدینہ آنے کی تاکید کی ـ
ہجرتِ مدینہ کے بعد اللہ کے رسول کو نکاح کی فکر ہوئی _ اس وقت حضرت علی کی عمر 20 برس سے کچھ زائد اور حضرت فاطمہ کی عمر 20 برس سے کچھ کم تھی _ فاطمہ کے لیے پیغامات آنے لگے _ متعدد صحابہ ان سے رشتے کے ذریعے آپ ص سے نسبت کے خواہش مند تھے ، یہاں تک کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے بھی خواہش کا اظہار کیا ، لیکن آپ ص نے ہر موقع پر خاموشی اختیار کی _ تب متعدد لوگوں نے ، جن میں بعض خواتین بھی تھیں ، حضرت علی کو مشورہ دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر فاطمہ سے رشتہ کی خواہش کا اظہار کریں _ ان کے بار بار کہنے پر حضرت علی نے ہمّت کی ، خدمتِ نبوی میں حاضر ہوئے ، لیکن دیر تک بیٹھے رہنے کے باوجود مارے شرم کے اظہارِ مدّعا نہ کر سکے _ اللہ کے رسول ﷺ نے دریافت بھی کیا : ” کیوں آئے ہو؟ ” مگر خاموش رہے _ تب آپ نے فرمایا : ” شاید تم فاطمہ سے نکاح کے خواہش مند ہو؟” انھوں نے سَر ہلا دیا ـ
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بیٹی فاطمہ کا نکاح علی سے کرنے کی اللہ کے رسول ﷺ کی مرضی تھی ، لیکن اس موقع پر آپ نے صراحت سے بیٹی کی مرضی اور اجازت ضروری سمجھی _ آپ گھر کے اندر تشریف لے گئے اور فرمایا :

” بیٹی ! یہ علی آئے ہیں ، تم سے نکاح کے خواہش مند ہیں ، تمھاری کیا مرضی ہے؟ ” علی کی پرورش رسول اللہ ﷺ کے گھر ہی میں ہوئی تھی _ وہ ان کے شب و روز سے اچھی طرح واقف تھیں _ علی کی دین داری ، علم و فضل ، دین کی راہ میں قربانی ، جذبۂ جہاد اور شجاعت ان کی نگاہوں کے سامنے تھی _ انھوں نے شرماتے ہوئے جواب دیا : ” اللہ اور رسول کے فیصلے پر میں راضی ہوں ” اللہ کے رسول ﷺ نے علی سے دریافت کیا : ” تمھارے پاس فاطمہ کو دینے کے لیے کیا ہے؟” عرض کیا : ” آپ میری مالی حالت اچھی طرح جانتے ہیں میرے پاس ایک حُطَمی زرہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ” (ابوداؤد :2125) اس زرہ کی قیمت تقریباً 400 درہم تھی آپ نے فرمایا : ” اسے ہی دے دو ” علی نے اسے فروخت کرکے مہر ادا کیا آپ ص نے فرمایا : ” جاؤ ، ابو بکر ، عمر ، سعد اور فلاں فلاں کو بُلا لاؤ _ ” وہ آئے تو آپ نے ان کی موجودگی میں نکاح پڑھایاـ
اللہ کے رسول ﷺ نے نکاح کے بعد فاطمہ اور علی کے لیے علیٰحدہ گھر کا انتظام کیا _ ایک صحابی نے اس کے لیے اپنا ایک گھر پیش کردیا تھا _ آپ نے گھر گرہستی کا کچھ ضروری سامان بھی فراہم کیا : چارپائی ، چمڑے کا تکیہ ، جس میں روئی کی جگہ کھجور کی پتیاں بھری ہوئی تھیں ، کچھ برتن _ حضرت اسماء بنت عمیس اور حضرت ام ایمن نے فاطمہ کو نئے گھر پہنچایا اور انھیں تیّار کیا _ عشاء کی نماز کے بعد اللہ کے ﷺ بھی تشریف لے گئے _ آپ نے پانی منگایا ، اسے علی اور فاطمہ دونوں پر چھڑکا اور ان کے لیے خیر و برکت اور سلامتی و عافیت کی دعا کی ـ
حضرت علی نے ولیمہ میں جَو ، باجرہ ، کھجور اور گھی کھلایا _ ایک روایت میں ہے کہ ایک مینڈھا بھی ذبح کیا تھا _ یہ انتظام انھوں نے بعض انصار کی مدد سے کیا تھاـ
حضرت فاطمہ اللہ کے رسول ﷺ کی چہیتی بیٹی تھیں _ آپ ص ان سے بہت محبت کرتے تھے _ وہ آپ سے ملاقات کے لیے آتیں تو آپ اٹھ کر ان کا استقبال کرتے ، ان کی پیشانی کا بوسہ لیتے ، ان سے پیار و محبت کی باتیں کرتے _ وقتاً فوقتاً خود بھی ان کے گھر تشریف لے جاتے اور ان کے احوال دریافت کرتے _ فاطمہ گھر کا سارا کام خود کرتیں _ کنویں سے پانی لاتیں ، کھانا پکاتیں ، چکّی پیستیں ، جس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں نشانات پڑ گئے تھے اور دوسرے گھریلو کام انجام دیتیں ـ
ایک مرتبہ حضرت علی کو خبر ملی کہ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس کچھ غلام آئے ہیں _ انھوں نے فاطمہ سے کہا :
” جاکر اپنے ابّا سے ایک غلام مانگ لاؤ ، تاکہ تمھیں کچھ سہولت ہو جائے ” وہ گئیں ، لیکن باپ کے سامنے اظہار کرنے کی ہمّت نہ کرسکیں حضرت عائشہ کو بتاکر واپس آگئیں _ بعد میں حضرت عائشہ نے آپ تک وہ بات پہنچائی _ دیر رات میں اللہ کے رسول ﷺ خود بیٹی کے گھر تشریف لے گئے ، جب کہ بیٹی داماد دونوں بستر پر جا چکے تھے _ انھوں نے اٹھنا چاہا ، لیکن آپ نے منع کردیا اور دونوں کے درمیان میں جاکر بیٹھ گئے _ آپ نے فرمایا :
” أَلَا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَانِي ؟ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا ، تُكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، وَتُسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتَحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ (بخاری : 3750)
” کیا میں تم دونوں کو وہ چیز نہ سکھادوں جو اس سے بہتر ہے جس کی تم نے خواہش کی ہے _ جب لیٹنے چلو تو 33 مرتبہ سبحان اللہ ، 33 مرتبہ الحمد للہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو _ یہ ایک خادم سے بہتر ہے _ “
ایک مرتبہ آپ تشریف لے گئے تو گھر میں علی کو نہ پایا _ دریافت کرنے پر بیٹی نے بتایا کہ کسی بات پر خفا ہوکر باہر چلے گئے ہیں _ آپ علی کی تلاش میں نکلے _ اِدھر اُدھر پتا لگایا _ معلوم ہوا کہ مسجد میں سو رہے ہیں _ آپ مسجد پہنچے _ دیکھا کہ چادر ہٹ گئی ہے اور بدن پر مٹّی لگ گئی ہے _ آپ پیار سے مٹّی جھاڑنے لگے اور کہتے جاتے تھے : قُمْ أَبَا تُرَابٍ “اٹھو ، اے مٹّی میں اَٹے ہوئے سونے والے” (بخاری :441) چنانچہ علی کا لقب ہی ‘ابو تراب’ پڑگیا _

     اس تفصیل سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں :
  (1) والدین کو بچوں کے بالغ ہونے کے بعد جلد ان کے نکاح کی فکر کرنی چاہیے _ اس میں تاخیر کرنا متعدد دینی و دنیوی اسباب سے مناسب نہیں ہے ، بلکہ آئے دن اس کے نقصانات سامنے آتے رہتے ہیں ـ
   (2) جوڑا ڈھونڈنے میں حسب و نسب ، وجاہت اور مال و دولت وغیرہ سے زیادہ دین داری کو پیش نظر رکھنا چاہیے _  اس سے دنیاوی زندگی بھی سکون سے گزرتی ہے اور اخروی اعتبار سے بھی یہ فائدہ مند ہےـ
   (3) کوئی رشتہ پسند آجائے تو اسے فائنل کرنے سے پہلے بیٹی کی(اور بیٹے کی بھی) مرضی ضرور معلوم کرلینی چاہیے _ نکاح کے معاملے اولاد پر اپنی مرضی تھوپنی والدین کے لیے مناسب نہیں ہے ، خاص طور پر موجودہ دور میں ـ
    (4)مہر عورت کا حق ہے _ اس کی ادائیگی شوہر کی طرف سے نکاح کے وقت ہی ہونی چاہیے _ (اگر نہ ہوسکے تو جلد از جلد اسے ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے _ جب تک ادا نہ ہو یہ شوہر پر بیوی کا قرض ہوتا ہے)
     (5) مہرِ فاطمی کی کوئی امتیازی حیثیت نہیں ہے _ حضرت فاطمہ کا جو مہر تھا اتنا ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تمام ازواج مطہرات کا مہر تھا _ (سوائے حضرت زینب بنت جحش کے کہ ان کا مہر نجاشی شاہِ حبشہ نے ادا کیا تھا)
     (6)جہیزِ فاطمی کی کوئی حیثیت نہیں _ حضرت علی بچپن ہی سے رسول اللہ ﷺ کی پرورش میں رہے تھے ، اس لیے ان کی گھر گرہستی کا انتظام کرنا آپ کی ذمے داری تھی _ ورنہ آپ نے اپنی دوسری بیٹیوں کے نکاح کے موقع پر بھی کچھ دیا ہو ، اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا _ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ علی کی زرہ فروخت ہونے سے جو رقم حاصل ہوئی تھی اس کے نصف سے آپ نے مہر ادا کروایا تھا اور نصف سے گھر گرہستی کا سامان خریدوایا تھا _ گویا جو کچھ سامان فراہم کیا گیا تھا اس میں علی ہی کا پیسہ لگا تھاـ
     (7) ولیمہ مسنون ہے _ آدمی اپنی سماجی حیثیت کے مطابق اس کا انتظام کرے _ اس میں گوشت روٹی بھی کھلایا جا سکتا ہے اور معمولی ناشتے پر بھی اکتفا کیا جا سکتا ہےـ 
     (8) نکاح کا اعلان ہونا چاہیے ، تاکہ سماج میں تمام لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ دو مرد و عورت ، جو اب تک اجنبی تھے ، نکاح کے بندھن میں بندھ گئے ہیں ـ
     (9) نکاح کے بعد نئے جوڑے کے لیے الگ رہائش فراہم کرنا بہتر ہے _ تاکہ ان کی پرائیویسی باقی رہے _ اگر کسی وجہ سے الگ گھر فراہم کرنا ممکن نہ ہو تو مشترکہ رہائش گاہ کا ایک حصہ نئے جوڑے کے لیے خاص کردینا چاہیے ، تاکہ اس میں وہ آزادانہ طور پر رہ سکیں ـ
      (10) بیٹی کے نکاح کے بعد بھی اس سے تعلق میں کمی نہیں آنے دینا چاہیے _ وقتاً فوقتاً اس کے گھر جانا ، اسے اپنے گھر بلانا ، اس سے ملاقات ہونے پر خوشی کا اظہار کرنا ، اس کے احوال دریافت کرتے رہنا ، ان کاموں کو اپنے معمول کا حصہ بنالینا چاہیےـ
     (11) نکاح کے بعد بیٹی کی ضروریات پوری کرنے میں کوئی حرج نہیں ، بلکہ پسندیدہ ہے _ بیٹی بھی اگر مناسب سمجھے تو اپنی ضروریات اپنے والدین سے بیان کرسکتی ہےـ
     (12) والدین کو چاہیے کہ اپنی بیٹی کو دنیوی آسائشیں فراہم کرنے سے زیادہ قناعت کی ترغیب دیں _ یہ چیز زندگی میں زیادہ سکون لانے والی ہوتی ہےـ
     (13) والدین کو اس کا بھی برابر جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ بیٹی داماد یا بیٹے بہو کے درمیان نا ہم آہنگی تو نہیں فروغ پا رہی ہے _ اس سے غفلت کے بسا اوقات بڑے بُرے نتائج سامنے آتے ہیں _ پتا اُس وقت چل پاتا ہے جب پانی سر سے اونچا ہوجاتا ہے _ اس وقت والدین کی مداخلت سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا اور معاملہ علیٰحدگی تک جا پہنچتا ہےـ
     (14) زوجین کے درمیان کچھ تنازع ہو جائے تو والدین کو آنکھ بند کرکے بیٹی کی حمایت نہیں کرنی چاہیے ، بلکہ پہلے غیر جانب داری کے ساتھ معاملہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے _ پھر اگر قصور بیٹی کا نظر آجائے تو اس کی فہمائش کرنی چاہیےـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں