256

رحمن عباس کے ناول پر جرمنی میں سنجیدہ مکالمہ


جرمنی کے مختلف ادبی اداروں اور نمایاں ادبی شخصیات نے ’روحزن‘کی خصوصیات پر روشنی ڈالی

نئی دہلی(قندیل نیوز)ہندوستان کے معروف ناول نگاررحمن عباس حال ہی میں جرمنی کے ادبی سفرسے لوٹے ہیں، وہاں انھیں مختلف ادبی اداروں وعلمی دانش گاہوں کی جانب سے ان کے مشہورناول ‘روحزن ‘ پرمکالمہ وقرائت کی مجلسوں میں شرکت کے لیے مدعوکیاگیاتھا۔ رحمن عباس کے مذکورہ ناول کو جرمن اسکالر ڈاکٹر الموٹ دیگنر نے اردو سے جرمن زبان ترجمہ کیا ہے اور ایشائی ادب کی اشاعت کے لیے اپنی شناخت رکھنے والے ادارے ’دروپدھی ورلاگ‘ نے اسے شائع کیا ہے۔ رحمن عباس نے ۲۳ مارچ سے ۱۵؍ جون تک جرمنی میں قیام کیا اور اس دوران ناول کی جرمن اور اردو میں قرأت کا اہتمام لیٹریچرفارم (فلگسٹ ) ، فلزر ہاف (ہیڈلبرگ)، ہندستانی سفارت خانہ (فرینکفرٹ)، غونسل ہیم (مائنز)، ہیڈلبرگ یونی ورسٹی، ساوتھ ایشین انسٹی ٹیوٹ(ہیڈلبرگ) ، بکلمان فیملی (ہیڈلبرگ) ، بان یونی ورسٹی ، جرمن ریڈیو (بان، ہندی سروس)، کافِ موزلک (ہوچ، نزد فرینکرفٹ) لوکل زیتنگ (مائنز) وغیرہ میں کیا گیا تھا۔
فلگسٹ میں ایک سہ روز کانفرنس ’برصغیر کے ادب میں مہانگر‘ کے عنوان سے منعقد کیا گیاتھا جس میں جرمن اور برصغیر کی زبانوں کے ماہرین، پروفیسرز اور فن کاروں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں روحزن کا موازنہ برصغیر کے ایسے مشہور ناولوں کے ساتھ کیا گیا جن کا تانا بانا مہا نگروں کی زندگی سے جڑاہواہے ۔ناول میں ممبئی کی فطری عکاسی کی تعریف کی گئی۔ رحمن عباس نے جرمن طلبہ کے ساتھ ناول نگاری پر ایک ورک شاپ میں حصہ لیا اور ممبئی کی زندگی، اردوفکشن اور معروف اردو ادیبوں کے بارے میں انھیں بتایا۔ ہندستانی سفارت خانہ( فرینکفرٹ ) کے اراکین نے رحمن عباس کا استقبال کیا ،جبکہ جرمن ہندی مترجم مسز پانڈے نے رحمن عباس کا تفصیلی تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ رحمن عباس کا شمار بھارت کے نوجوان قلم کاروں میں ہوتا ہے ۔ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ہیڈلبرگ یونی ورسٹی میں اساتذہ اور طلبہ نے رحمن عباس سے روحزن اور ان کے دوسرے ناولوں پر سوالات کیے اور ناول کی قرأت کے بعد سامعین نے ناول پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یونی ورسٹی کے شعبۂ صدر ہنز نے روحزن کا جرمن ترجمہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ یہ ناول اپنے کرافٹ میں منفرد ہے اور بے شمار موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔ ناول محبت، ممبئی، انسانی رشتوں ، قیامت خیز برسات اور سمندر کی گوناگوں شکلیں قارئین کے سامنے پیش کرتا ہے۔ہیڈلبرگ یونی ورسٹی کے سکریٹری اور جنوبی ایشیا ئی امورکے ماہر مارٹن گیسلمان نے روحزن کو ایک دلچسپ ، زندگی سے بھر پور اور رشتوں سے آشنا کرنے والا ناول قرار دیا۔دوسری طرف بان یونی ورسٹی میں رحمن عباس نے’ بھارت میں اردو زبان کا مستقل ‘کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبانِ عشق ہے اور اردو اس وقت تک زندہ رہے گی جب تک بھارت میں محبت ، رواداری اور انسانیت زندہ رہے گی۔ حالانکہ فسطائی قوتیں اردو کے خلاف سرگرم رہی ہیں ،اس کے باوجود اردو کی مقبولیت میں روزمرہ اضافہ ہو رہا ہے۔ جرمن ریڈیو کے ہندی شعبے نے رحمن عباس اور ڈاکٹر الموٹ دیگنر کا انٹرویو براہِ راست ریڈیو چینل کے فیس بک صفحے کے لیے کیا ،جس میں لوگوں نے بھارت میں اردو کی صورت حال اور فکشن کی اہمیت پر سوالات کیے۔ بکلمان فیملی میں مصوری کی تاریخ داں ارسولا نے رحمن عباس کے ناول کو ہندستانی راگ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس ناول کے ذریعے ہم ممبئی کی وسعت سے آشنا ہوتے ہیں۔ کافِ موزلک میں پاکبان کی جانب سے ناول کی قرأت کا اہتما م کیا گیا تھا جس میں پاکستانی اردو نواز حضرات نے شرکت کی۔ پاکبان کے روح رواں عامر منصورنے روحزن پر تفصیلی گفتگو کی اور جرمن ترجمے کی تعریف کی۔ اسی دوران رحمن عباس نے جرمن ادیبوں سے ملاقات کی اور صحافیوں سے ناول پر بات چیت کی۔
قابل ذکرہے کہ مذکورہ ناول کو سوئزرلینڈ اور جرمن فارین آفس کے اشتراک سے جاری ادارے ’لٹ پروم‘ نے ،جو ہر سال عمدہ تراجم کی اشاعت کے لیے عالمی ادب سے کتابوں کا انتخاب کرتا ہے، جرمن ترجمے کے لیے گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ اسی سال فروری میں روحزن کے جرمن ترجمے کی رسم اجرا سوئزر لینڈ میں ایک اہم ادبی تقریب میں ہوئی تھی۔ روحزن کا انگریزی ترجمہ’ کتاب سنگاپور‘ امسال اگست میں شائع کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں