163

راہل گاندھی کا استعفی:ایک جائزہ

مفتی حسان جامی قاسمی

(معہد تر تیل القرآن ملت نگر ارریہ بہار)

کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے بالآخر اپنا استعفی عام کردیا. راہل گاندھی کا استعفی انکے غصہ، مایوسی چڑچڑاہٹ اور بے بسی کا کھلا ہوا مظہر ہے_
اسمیں کوئی شک نہیں ہے کہ 2019 کے انتخابی مہم میں راہل گاندھی سب سے مقبول سیاسی لیڈروں میں سے ایک تھے، لیکن بھلا ہو ای وی ایم کا کہ جس کی بدولت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں الیکشن کے نام پر ایک بہت ہی بھدا مذاق کیا گیا اور اس مذاق میں نہ صرف ہندوستانی ادارے شامل تھے بلکہ اسمیں کچھ مخصوص ممالک کی اسٹیبلشمنٹ کا بھی بڑا دخل رہا_
راہل گاندھی ان تمام باتوں کو سمجھتے ہوئے بھی کھل کر کچھ کہنے کی ہمت نہیں جٹا پائے البتہ راہل گاندھی نے اپنے خط میں ان چیزوں کی طرف اشارہ ضرور کیا ہے.
انھوں نے لکھا کہ ایک آزاد اور صاف شفاف الیکشن کے انعقاد کیلئے ملکی قوانین کا غیر جانبدار ہونا ضروری ہے، کسی بھی الیکشن کی شفافیت کیلئے آزاد میڈیا، آزاد عدلیہ اور غیر متعصب الیکشن کمیشن کا ہونا ناگزیر ہے. راہل گاندھی نے بالواسطہ بی جے پی پر تمام مالیاتی ذرائع پر قابض ہونے کا بھی الزام لگایا. انھوں نے مزید لکھا کہ آر ایس ایس کا ملک کے آئینی ڈھانچہ پر حاوی ہونے کا خواب اب مکمل ہو گیا ہے اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ اب ملک میں آئینی غیر جانبداری کا کوئی وجود نہیں ہے_
سب سے قابل توجہ بات جو راہل گاندھی نے لکھی، وہ یہ ہے کہ مستقبل میں ہندوستانی الیکشن محض ایک رسم بنکر رہ جائے گا_
(اور بھی بہت ساری باتیں وطن عزیز کے مستقبل اور پارٹی کارکنان کے متعلق انکے خط میں موجود ہیں.)
راہل گاندھی کی مذکورہ بالا باتیں اس بات کا واضح پیغام دیتی ہیں کہ کہیں نہ کہیں راہل گاندھی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ حالیہ الیکشن میں بی جے پی کو ملنے والی زبردست اکثریت دراصل عوام کا فیصلہ نہیں ہے.
کسی کو بھی بی جے پی کی ایسی جیت کی توقع نہیں تھی تمام لوگ اس جیت کی وجوہات تلاش کرنے میں لگ گئے چنانچہ سبھی دانشوروں نے اپنے اپنے طور پر اسکی توجیہات پیش کیں حالانکہ وہ خود بھی ان تو جیہات سے مطمئن نہیں تھے لیکن بہت کم لوگوں نے کھل کر اس جیت کو ای وی ایم کا کرشمہ بتایا. کانگریس پارٹی بھی اسی چکرویوہ میں پھنسی ہوئی تھی لیکن راہل گاندھی کے خط نے یہ واضح کردیا ہے کہ انھیں بھی اس بات کایقین ہو گیا ہیکہ مستقبل کے ہندوستان کیلئے جو گیم تیار کیا گیا ہے اس میں ان کیلئے یا انکے خاندان کیلئے کوئی خاص جگہ نہیں ہے اور یہی دراصل انکی مایوسی کی وجہ بھی ہے.
راہل گاندھی کی ایک اچھی عادت یہ ہے کہ وہ ہر کام کیلئے اپنی پارٹی کے لوگوں سے بہت زیادہ مشورہ کرتے ہیں لیکن انکی یہی عادت کبھی کبھی انکو سخت فیصلے نہیں لینے دیتی چنانچہ 2019 کے الیکشن میں کئی جگہوں پر راہل گاندھی مقامی پارٹیوں سے اتحاد کرنا چاہتے تھے جسے اس علاقے کے مقامی کانگریسی لیڈروں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ہونے نہیں دیا ور راہل گاندھی اسپر سخت ایکشن نہیں لے سکے جسپر اپنی ناراضگی کا اظہار انہوں نے اپنے خط میں بھی کیا ہے_
ای وی ایم کا مسئلہ وقفے وقفے سے ان لوگوں کے ذریعہ اٹھایا جاتا رہے گا جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو بچانا چاہتے ہیں چنانچہ ابھی حالیہ دنوں میں تقریباً ڈیڑھ سو سابق افسران نے انتخابات میں گڑبڑی کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کیا لیکن یقیناً انکی آواز بھی انجام کار صدا بصحراء ہی ثابت ہو گی_
اس وقت ضرورت اس بات کی ہیکہ ہر ہندوستانی ملک کی جمہوریت اور آئین کی حفاظت کیلئے اٹھ کھڑا ہو اور جمہوری طریقے سے ملک میں امن و امان اور سلامتی کی فضاء قائم کرنے کی کوشش کرے تاکہ ملک کی آزادی کیلئے دی گئی اسلاف کی قربانیاں ضائع نہ ہو جائیں_
رہی بات راہل گاندھی کی تو انھیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ وقت مایوس ہوکر ہاتھ کھڑا کرنے اور علاقائی پارٹیوں کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کا نہیں بلکہ دیگر پارٹیوں سے ہا تھ ملاکر از سر نو ہندوستانی جمہوریت کیلئے لڑنے کا ہے اور تمام پارٹیوں کو لیکر ای وی ایم کے خلاف جمہوری انداز پر احتجاج کرنے کا ہے تاکہ بیلٹ پیپر کے ذریعہ الیکشن کو ممکن بنایا جاسکے ورنہ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اگر سب کچھ ایسے ہی چلتا رہا تو پھر کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں کا وجود ہی خطرہ میں پڑ جائگا_
اور ہمارا عزیز ملک کمزور ہوتا چلا جائگا-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں