75

رابطہ ہی راستہ ہے


مسعود جاوید

گزشتہ پانچ سالوں میں ہماری ملی تنظیموں کے کتنے ڈیلی گیشن وزیراعظم سے ملاقات کرکے موب لنچنگ اور دیگر سلگتے ہوئے موضوعات پر میمورنڈم پیش کیا ؟
کتنے سماجی سربراہوں نے فرقہ پرست عناصر یا انتظامیہ یا پولیس کی زیادتیوں کے خلاف شکایت کی ؟
کتنے عوام کے سرگرم طبقوں نے خطوط میسیجز ای میل اور دیگر ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے حقیقی مسائل کی طرف وزیراعظم کی توجہ مبذول کرائی ؟
حضرت نے فیصلہ کیا کہ ملاقات بات نہیں کرنی ہے تو نہیں کرنی ہے ! یہ سوچ کہاں تک دانشمندانہ تھی؟ کیا ان تنظیموں کے سربراہان نے کبهی مسلم تھنک ٹینک، سیاسی امور کے ماہرین، پروفیسران، دانشور حضرات، سیاسی تجزیہ نگاروں اور ملت کے لیے مخلص اور معتبر صحافیوں کے ساتھ میٹنگ کرکے ان کی رائے مانگی اور کسی اجماع پر پہنچے ؟ ہوا کے رخ کا اندازہ لگایا، اکثریت کے مزاج کا جائزہ لیا، ملاقات کرنے یا نہ کرنے کےمثبت اور منفی پہلوؤں پر منتھن کیا ؟ کیا سمجها تها کہ یہ پانچ سال کسی طرح گزر جائیں گے ؟ انتخابات کے نتائج کے پھل سے مستفید ہونے والی سیاسی پارٹیاں اور ان کے افراد، کیڈر، یادو ، دلت اور پسماندہ طبقات جب اس بابت سنجیدہ نہیں تو کیا مٹھی بھر مسلمانوں میں یہ صلاحیت ہے کہ کسی کیڈر بیسڈ مذہبی تنظیم کی تائید والی پارٹی کو اقتدار سے برطرف کر دیں گے ؟ جس طرح پچاس ساٹھ سالوں تک کانگریس نے پورے ملک میں قدم جمایا اور حکومت کی اسی طرح اب بی جے پی اپنی باری شروع کر چکی ہےـ تمام وسائل، طریقے، اسلوب بیان، نہرو کےریڈیو کے ذریعے سے خطاب کی طرح من کی بات وغیرہ اختیار کرکے ہر طبقے کے دل میں جگہ بناکر طویل مدت تک بر سر اقتدار رہنے کے لائحہ عمل پر کام شروع کر دیا ہےـ کل کیرالہ میں کہا کہ جنہوں نے ہماری پارٹی کو ووٹ دے کر فتح سے ہمکنار کیا اور جنہوں نے ہمیں ووٹ نہیں دیا جیسے کیرل جہاں ہمیں ایک سیٹ بھی نہیں ملی یہ سب میرے اہنے ہیں ـ جب یہ سب ان کے اپنے ہو گئے تو ہم اور آپ ‘ کیا ایک چنا بھاڑ پهوڑے گا؟سوائے سازش conspiracy theory پر سوشل میڈیا اور چائے خانوں میں بیٹھ کر گفتگو سے اپنے آپ کو گزند پہنچانے اور ڈسنے کے کیا حاصل ہوگا ؟ بے وقعت بے وزن اور بے حیثیت ہونے سے کہیں بہتر ہے کہ ٹرین چهوٹنے سے پہلے ہم ٹرین میں سوار ہوجائیں ـ
اگر ہم رابطہ میں نہیں رہیں گے تو ہمارا دکھ درد ان کو کون بتائے گا ؟ یہ کام پریس کا تها ،مگر بدقسمتی سے ٹی وی چینل تو دور کی بات ہے ہمارا نیشنل لیول کا اپنا ایک روزنامہ بهی نہیں ہے. ! کبهی جمعیت علماء کا الجمعيه اور جماعت اسلامی کا دعوت روزنامہ اخبار ہوا کرتے تھے مگر افسوس جب وقت آ پڑا تو یہ دونوں اخبار بند ہو گئے ! ظاہر ہے وسائل کی کمی نہیں سوچ کی کمی ہےـ
سالہا سال سے امریکی صدر اس عادت حسنہ پر کاربند رہے کہ ان کے بیڈ ٹی کے ٹرے میں دو اخبار غالباً واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز یعنی دو مختلف رجحانات کے روزنامے لازمی ہوتے تھےـ آج بھی ملک بیرون ملک اور اپنی قوم کے ہر طبقے کی سوچ و فکر اور تشویشات کی مانیٹرنگ پر عملہ مامور ہوتا ہے جو سربراہان مملکت کے سامنے اختصار کے ساتھ پیش کرتا ہےـ لیکن ہماری تشویشات ہمارے حقیقی مسائل اگر میڈیا کوریج نہ دے یا منفی کوریج دے تو ہمارے سامنے رابطہ سے بہتر راستہ اور کوئی نہیں ہےـ
ایک اور سطح پر رابطہ کی بہت بڑی اہمیت اور افادیت ہے جس سے ہم محروم ہیں اور وہ یہ ہےکہ ہمارے یہاں متعدد کل ہند آل انڈیا اور اکھل بھارتیہ ملی تنظیمیں ہیں لیکن بدقسمتی سے کسی بهی تنظیم کے پاس کل ہند کہلانے کا جواز نہیں ہےـ ان تنظیموں کے کچھ اپنے لوگ بعض ریاستوں میں میں ہوں بھی تو ضلع اور بلاک کی سطح پر نہ ان کا کوئی عملہ اور نہ دفتر ہےـ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمانان ہند ان تنظیموں کے سربراہان کو مجبور کریں کہ ہمیں سالانہ اجلاس،تالیاں،بریانی اور ویڈیوگرافی نہیں مرکز کی،ضلع اور بلاک لیول پر سرگرم نمائندگی چاہئےـ خبریں آ رہی ہیں کہ بعض دور دراز علاقوں میں جہاں مسلم آبادی بہت کم ہے وہاں مسلمانوں کو ہراساں اور بائیکاٹ کیا جا رہا ہےـ اس کی تحقیق یونی چاہیے اور اس کا بہتر وسیلہ ملی تنظیموں کی شاخیں ہوتیں جہاں کے ذمے دار بی ڈی او ایس ڈی او یا ضلع میں ڈی ایم ڈی سی اور پولیس کپتان کو شکایت کرتے اور میمورنڈم کی کاپی اپنے مرکزی دفتر اور وزیراعظم کو بھیجتےـ ان دور دراز علاقوں کے لوگوں کی داد رسی کے لیے میکانزم تلاش کرنے کی ضرورت ہے. اس برق رفتار انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زمانے میں مرکز کا اپنے علاقائی دفتروں کے ساتھ ویڈیو کانفربسنگ بہترین ذریعہ ہو سکتا ہے مگر ذہنی طور پر ہمارے قائدین عوام کو چوپائے سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں زیادہ تر تنظیموں میں آمرانہ نظام ہےـ
وقت اور حالات تیزی سے بدل ریے ہیں. غلامی کی زنجیروں کو توڑ آزاد فرد بنیں اور لازمی اصلاح کے لئے کوشس کریں اگر بات نہیں بنے تو متبادل ایجاد کریں ـ
وقت کی آواز ہے کہ رابطے کا کوئی موقع اور کوئی ذرائع ابلاغ نہ چهوٹے اس لئے کہ رابطہ ہی راست راستہ ہےـ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں