84

دینی مدارس کے طلبہ کو عصری تعلیم سے مربوط کرنے میں مانو کا اہم رول


نئی تعلیمی پالیسی کے مسودہ پر اردو یونیورسٹی میں گول میز مباحث، ڈاکٹر محمد اسلم پرویز اور دانشوروں کا اظہار خیال
حیدرآباد، 17 جولائی (پریس نوٹ):مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی دینی مدارس کو عصری تعلیم سے مربوط کرنے اور اردو زبان میں تعلیم کے کھلے ذرائع (MOOCs) مواد کی فراہمی میں اہم رول ادا کرنے کی خواہاں ہے۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز‘ وائس چانسلر نے آج قومی تعلیمی پالیسی 2019 کے مسودہ پر گول میز مباحث کا افتتاح کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس امر پر اطمینان ظاہر کیا کہ مانو میں خواتین کے داخلہ تناسب نے اضافے میں کامیابی حاصل کرلی جو کہ نئی تعلیمی پالیسی کا ایک اہم عنصر ہے۔
ڈاکٹر اسلم پرویز نے مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسکول کی سطح پر اردو کو فروغ دینے کا مشورہ دیا تاکہ محفوظ زمروں کے لیے امیدواروں کی دستیابی مشکل نہ ہو۔ مانو کو زیادہ سے زیادہ نمائندہ بنانے کے لیے اسکولی سطح پر اردو متعارف کی جائے اور چونکہ اردو کے بیشتر طلبہ مدارس کا پس منظر رکھتے ہےں انہیں یونیورسٹی سطح پر راست داخلے کا باضابطہ موقع ملنا چاہیے۔ ڈاکٹر اسلم پرویز نے مزید کہا کہ MOOCs کا مواد اگر اردو میں دستیاب نہ ہوتو یہ زبان اور اہل زبان کا نقصان ہوگا۔
پروفیسر ایوب خان‘ پرووائس چانسلر نے افتتاحی اجلاس ”تدریسِ اساتذہ۔ اردو بولنے والی عوام کے خصوصی حوالے سے“ کی صدارت کی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی پالیسی ملک و قوم کے مستقبل کی صورت گری کرتی ہے۔ مسودہ پالیسی کا بغور جائزہ لینے اور اسے پوری طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر ایم اے سکندر‘ رجسٹرار نے تدریسِ اساتذہ کے شعبہ میں مجوزہ اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قواعد کی کثرت سے گریز کرنا چاہیے۔ ابتداءمیں پروفیسر محمد شاہد‘ کنوینر نے یاد دلایا کہ نئی تعلیمی پالیسی کی تدوین کے آغاز پر جولائی 2015 میں مانو سے مشورہ کیا گیا تھا ۔ یونیورسٹی نے ایک اجلاس منعقد کرتے ہوئے جنسی اور سماجی تفاوت کو پاٹنے کی تجاویز روانہ کی تھی۔ دوسرے سیشن ”اسکول ایجوکیشن کے تحت مساوی اور اشتمالی تعلیم“ کی صدارت پروفیسر وی سدھاکر (ایفلو)اور پروفیسر جی رمیش نے کی۔ ڈاکٹر افروز عالم‘ کنوینر نے نئی پالیسی کے اثرات پر شبہات ظاہر کرتے ہوئے تبادلہ خیال کو ایک نئی سمت دی۔ انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی بظاہر ایک عمدہ دستاویز ہے لیکن یہ حکومت کی نیت کے بارے میں شکوک کی کافی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ پروفیسر سدھاکر نے مشورہ دیا کہ نئی پالیسی کو مناسب تناظر اور حکومت کی دیگر پالیسیوں کے ساتھ دیکھا جائے۔ پروفیسر جی رمیش نے نئی پالیسی کو ملی جلی قرار دیا اور کہا کہ اس میں تدریسِ اساتذہ کو پہلے سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مانو، بالخصوص مدارس سے متعلق پالیسی پر عمل آوری میں پہل کرے۔ گول میز تبادلہ خیال کا تیسرا سیشن ” اعلی تعلیم کے تحت طلبہ کو مناسب اکتسابی ماحول اور مدد‘ او ڈی ایل طلبہ کے خصوصی حوالے سے“ منعقد ہوا۔ پروفیسر وی وینکیا‘ سابق وائس چانسلر ‘ کرشنا یونیورسٹی نے صدارت کی۔ انہوں نے پاور پوائنٹ کے ذریعہ او ڈی ایل (فاصلاتی نظام) کی باریکیوں اور اس پر نئی پالیسی کے اثرات کی تفصیلات بتائی۔ پروفیسر پی فصل الرحمن‘ انچارج ڈائرکٹر نے جو سیشن کے کنوینر تھے، اردو آبادی کے حوالے سے او ڈی ایل کی اہمیت اور نئی تعلیمی پالیسی میں اس کے فروغ کے امکانات کا جائزہ لیا۔ گول میز تبادلہ خیال میں اساتذہ اور دانشوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مباحث میں حصہ لیا۔ پروفیسر مجید بیدار اور ڈاکٹر انور خان کے بشمول شہر سے کئی ماہرین تعلیم نے اس اہم پروگرام میں شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں