109

دینِ اسلام کا ماخذ قرآن وسنت دونوں ہیں

مسعود جاوید

ان دنوں ایک خطرناک روش یہ سوال کرنے کی چل پڑی ہے کہ قرآن کی کس آیت میں ایسا لکھا ہے؟ یہ روش جانے انجانے میں اس فکری یلغار اور سازش کی تائید کرتی ہے، جس کے تحت احادیث نبویہ کی تخفیف کی کوشش عالمی پیمانے پر کی جاری ہے،قرآن اصل ہے، اس سے انکار نہیں ہے ،مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے کہ مستند احادیث نبویہ قرانی تعلیمات کی عملی شکل ہے۔دین اسلام محض فکری Theoretical نہیں ہے ،عملی یعنی practical بھی ہے، جسے اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم نے اپنے عمل سے، اپنی ہدایات instructions سے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل پر اپنی سکوت و رضامندی سے کر کے دکھایا۔
بعض نئے مفکرینِ اسلام آئے دن ایسی کتابیں لکھتے رہتے ہیں ، جن میں یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ صرف اور صرف قران ہی ماخذ و مصدر ہے،ماضی میں بھی ایسی کتابیں لکھی گئی تھیں، مگر وہ خال خال تھیں ،مگر اب سوشل میڈیا پر اس پر بحث و مباحثہ میں ہر کس و ناکس حصہ لے رہے ہیں، جو علمی بنیاد پر نہیں، اپنی ذاتی رائے اور تصورات کی بنا پر دست وگریباں ہوتے ہیں۔
ان الدین عنداللہ الاسلام کے تحت حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین محمد صل اللہ علیہ و سلم تک تمام انبیاے کرام علیہم السلام کا دین اسلام تھا ؛لیکن شریعت ہر نبی کی ان کے زمانے کے احوال کے مطابق طے کی گئی،قرآن کریم دین یعنی عقیدہ کی کتاب بھی ہے اور شریعت بھی۔ قرآن میں بلا شبہ بار بار غور و فکر پر زور دیا گیا ہے، اس طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرنا قابلِ ستائش ہے ؛لیکن عملی شکل یعنی صحیح مستند احادیث نبویہ کی اہمیت سے انکار کی گنجائش بھی نہیں ہے،از سر نو مطالعہ کا مطلب یہ نہ ہو کہ پچھلی تمام توضیحات و تفسیرات کو بیک جنبشِ قلم رد کردیا جائے۔لنک Link کے بغیر تو ہم قرآن تک بھی نہیں پہنچ سکتے، اگر صحابۂ کرام ،تابعین اور تبع تابعین کو ثقہ نہیں مانیں گے، تو قرآن کی آیات جن الفاظ میں وحی کے ذریعے نازل ہوئیں، ان کی صحت کی ضمانت بھی تو یہی تواتر اور تسلسل link ہے ،اس کا کیا کریں گے؟اس سے یہ عندیہ نہ لیا جائے کہ من گھڑت ضعیف اور غیر مستند احادیث کو جگہ دی جائے؛لیکن تفردِ شخصی ثابت کرنے اور انفرادیت قائم کرنے کے لیے اس حد تک بھی نہ جایا جائے کہ دین و شریعت کا ماخذ و مصدر ہی مشکوک ہو جائے،ایک مفکر نے لکھا کہ جنت و جہنم وہمی ہیں یہ محض ترغیب و ترہیب کے لیے ذکر کیے گئے ہیں۔ایک صاحب نے لکھا عبادت کا منظم طریقہ اتنی رکعت اتنے قیام رکوع اور سجدے لازمی قرار دینے کی وجہ سے توجہ الی اللہ ختم ہو جاتی ہے، لوگ گنتی میں الجھا دیے گئے ہیں ، جبکہ خشوع اور خضوع کی روح ہی توجہ الی اللہ ہے،ایک صاحب نے لکھا کہ علمانے قرآن کو فقہ کی کتاب بنا کر رکھ دیا ہے ،اس میں دنیا اور اس کی چیزوں پر غور و فکر کرنا چھوڑ دیا ہے،ایک صاحب نے لکھا کہ قران تو مکمل سائنس کی کتاب ہے،کسی کو اس میں فلکیات کے رموز و اسرار ملے، تو کسی کو سائنس کی تھیوری، کسی کو معاشرتی آداب، تو کسی کو سماجی قانون؛لیکن یہ تمام باتیں قرآن کے مختلف پہلو ہیں،بے شک قرآن علم کا سمندر ہے،مگر اصل مقصود خدا شناسی اور قربت الی اللہ ہے،قرآن ہدی للناس ہے، وہ ہدایت ،جس کی رو سے ہم جزا و سزا پر یقین رکھتے ہیں،دل میں ایمان اور زبان سے اقرار کرتے ہیں کہ ایمان لایا میں اللہ پر ،اس کے فرشتوں پر ،اس کی کتابوں پر ،آخری دن قیامت پر اور اچھی بری تقدیر پر۔
کیا آخری خطبۂ حجۃ الوداع میں اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم نے یہ نہیں کہا کہ میں تم لوگوں کے بیچ دو مصدر و ماخذ ۔ قران اور میری سنت ۔ چھوڑ کر جارہا ہوں؟رہی یہ بات کہ قران کا مطالعہ سائنٹفک نظریہ سے کیا جائے،تو اس سے کسے انکار ہے؟بہت سے مصنفین کی کتابیں اسلام اور سائنس، قرآن اور سائنس وغیرہ پرموجود ہیں اور ہر روز سائنسی ترقی اور نئی نئی تحقیق قرآن کی چودہ صدی قبل کہی گئی باتوں سے اتفاق کر رہی ہے،اگر ایک طبقہ قرآن کو محض قربت الی اللہ اور عبادت کے لیے مطالعہ کرتا ہے، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ دوسروں کو اس بات سے روکتا ہے کہ دوسرے لوگ اس میں دوسرے موضوعات پر آیات اور ان کی تفاسیر ڈھونڈیں’’لا الشمس ینبغی لہا ان تدرک القمر و لا اللیل سابق النہار‘‘ ہر سیارہ اپنے اپنے مدار میں ایک فاصلے سے مقررہ وقت پر گردش کر رہا ہے،اس solar system، orbit اور planet کو ایک مادی نظام کہیں یا حکم الہی،اگر یہی فاصلہ ختم ہو گیا اور دن نے رات کو یا رات نے دن کو پکڑ لیا یا سورج نے چاند کو یا چاند نے سورج کو پکڑ لیا یا مرکری، وینس، ارتھ، مارس، جوپیٹر، سیٹرن، اورانس اور نیپٹون نے روگردانی کی، تو ظاہر ہے شدید ترین دھماکہ ہوگا اور زمین و آسمان کے پرخچے اڑ جائیں گے اور قیامت برپا ہو جائے گی،اس کا مطالعہ کوئی عالم دین جب ہی کرے گا ،جب وہ سائنس کی بیسک سے واقف ہوگا،اب اگر اسے اسٹیفن ہاکنگ کہے یا کوئی اور فزکس کا ماہر اپنی تحقیق کا موضوع بنائے اور قیامت برپا ہونے کی یہ مادی دلیل دے، تو اس پر چیں بہ جبیں کی ضرورت نہیں ہے، کن فیکون اللہ کی قدرتِ کاملہ ہے اور مادی اسباب سنۃ اللہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں