208

دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری فاروق ترکش نے جمعیۃ علما کا شکریہ ادا کیا

سیکریٹری قانونی امدا د کمیٹی گلزار اعظمی و وکلا سے ملاقات کی
ممبئی ۶؍ نومبر(پریس ریلیز)
دس سالوں کے طویل عرصہ کے بعد دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری پونے کے ساکن فاروق شرف الدین ترکش نے آج اسے قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماے مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی اور وکلا ایڈوکیٹ انصار تنبولی اور شاہد ندیم سے ملاقات کرکے جمعیۃ علماکا شکریہ ادا کیا ۔اس موقع پر فاروق ترکش نے کہا کہ میں جمعیۃ علما لیگل سیل اور اس کے وکلاکی ٹیم کا شکر گذا ر ہوں اور میرے والدین اور خیر خواہ حضرات آپ کے مشکور ہیں اس بات پر کہ اللہ تعالی نے آپ کے ذریعہ اور آپ کے وکلا کی اچھی پیروی کی بدولت مجھے حیدرآباد مقدمہ سے باعزت بری کردیا نیزمجھے آپ لوگوں کی کوششوں سے ہی ممبئی (انڈین مجاہدین) مقدمہ سے ضمانت نصیب ہوئی۔
فاروق ترکش نے مزید کہا کہ ہماری اس خوشی کے لیے آپ مبارکباد ی کے حقدار ہیں اور میں یہ امید رکھتا ہوں کہ آپ دیگر بے گناہ اسیران کی رہائی کے لیے بھی کوشش کریں گے نیز اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ وہ جمعیۃ علما کے مخلص کارکنوں کو دنیا و آخرت میں اس کا بہترین اجر عطا کرے۔فاروق ترکش اور اس کے والد شرف الدین ترکش سے ملاقات کے دوران گلزار اعظمی نے کہا کہ جس طرح حیدرآباد بم دھماکہ معاملے سے باعزت رہائی ملی ہے، اسی طرح ممبئی انڈین مجاہدین معاملے سے بھی اسے رہائی ملے گی۔انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماکے وکلا اپنی ذمہ داری نہایت ایمانداری اور دلجمعی سے نبھارہے ہیں ،جس کے نتیجے میں دن بہ دن دہشت گردی کے الزامات سے مسلم نوجوان باعزت بری ہوتے جارہے ہیں ۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں حیدرآباد کی خصوصی این آئی اے عدالت نے لمببی پارک سلسلہ وار بم دھماکہ معاملے سے فاروق ترکش اور صادق اسرار شیخ کو باعزت بری کردیا تھا ،جبکہ فاروق ترکش کو ممبئی انڈین مجاہدین معاملے میں ضمانت پر رہائی پہلے ہی مل چکی تھی لیکن حیدرآباد مقدمہ کی وجہ سے اس کی رہائی عمل میں نہیں آرہی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں