316

دوسوسے زائد ادیبوں کی عوام سے اپیل : نفرت پر مبنی سیاست کے خلاف ووٹنگ کیجیے!

ملک بھر کے دوسوسے زائد ادیبوں اور مصنفوں نے آنے والے عام انتخابات کے پیش نظر ملک کے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ آنے والے الیکشن میں نفرت پر مبنی سیاست کے خلاف ووٹنگ کریں ۔ان ادیبوں میں ارندھتی رائے،امیتاب گھوش،نین تاراسہگل،گریش کرناڈ،ٹی ایم کرشنا،وویک سنبھاگ اوررحمن عباس سمیت اردو،ہندی،مراٹھی،گجراتی،بنگلہ،کنڑ،تمل،تیلگو،انگریزی اور ملیالم کے ادباومصنفین شامل ہیں۔ان کا کہناہے کہ حالیہ الیکشن میں ہمارا وطن ایک اہم موڑپر ہوگا۔ بھارت کا آئین تمام افراد کے حقوق کی یکساں ضمانت دیتا ہے ، لوگ اپنی پسند کی غذا، اپنے مذہب کے مطابق عباد ت اور اپنا طرزِ زندگی منتخب کرنے کے لیے آزاد ہیں ۔ آئین انھیں اظہارِ رائے اور اختلافِ رائے کی آزادی دیتا ہے۔ لیکن گزشتہ چند برسوں سے ہم نے دیکھا ہے کہ شہریوں کو مار مار کر ہلاک کیا گیا ہے، (موب لنچنگ) ، یا ان کی شناخت، برداری، ذات، صنف اور علاقے کے سبب ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا گیا ہے یا ان پر حملہ کیا گیا ہے۔ نفرت پر مبنی سیاست کا استعمال ملک کو تقسیم کرنے، خوف پھیلانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مکمل شہریت کے دائرے سے خارج کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ادیب، آرٹسٹ، فلم ساز، موسیقار اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ دیگر افراد کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا، انھیں ڈرایا گیا اور ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس کسی نے اقتدار سے سوال کرنا چاہا اس نے خطرہ مول لیا۔ اسے ہراساں کیا جاتا ہے یا مضحکہ خیزیا جھوٹے مقدمات میں گرفتار کر لیا جاتا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ ہم سب اس صورت حال کوبدلنا چاہتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کے محبِ وطن عقلیت پسند افراد، ادیب یا سماجی کارکنان کا تعاقب کیا جائے یا انھیں ہلاک کیا جائے۔ ہم اُن افراد کے خلاف سخت قالونی اقدام چاہتے ہیں جو خو اتین، دلت، ادی واسی اور اقلیت کے خلاف زبانی یا عملی طور پر تشدد کے مرتکب ہوں۔ہم چاہیے ہیں ملازمت، تعلیم، تحقیق، صحت اور یکساں مواقعوں کے حصول کے لیے وسائل دریافت کیے جائیں اور اقدمات اٹھائے جائیں۔سب سے زیادہ، ہم یہ چاہتے ہیں کہ معاشرتی تنوع کی حفاظت کی جائے اور جمہوریت کو پنپنے کا موقع ملے۔
انھوں نے تمام باشعور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اس سلسلے میں جو پہلا قدم ہم اٹھا سکتے ہیں وہ ہے نفرت کی سیاست کو ووٹ کی طاقت سے شکست دینا۔سماجی تقسیم کو شکست دینا،عدم مساوات کو شکست دینا، تشدد کو شکست دینا، دھمکی اور سنسرشپ کو شکست دینا۔ یہی وہ طریقۂ کار ہے جس کے ذریعے ہم ایک ایسے انڈیا کے لیے ووٹنگ کر سکتے ہیں جہاں ہمارے آئینی اور قانونی حقوق کی تجدید ہوگی۔ چنانچہ ہم تمام اہلِ وطن سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے ووٹ کا استعمال ایک متنوع اورمساوی انڈیا کے لیے کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں