112

دشمنی بھی کیا بیماری ہے!

زبیر حسن شیخ

شاید ہی کوئی انسان ہوگا ،جس نے لفظِ’’ دشمنی‘‘ کا ذائقہ نہ چکھا ہو اور اس احساس یا جذبے سے زندگی بھر مبرا رہا ہو،دشمنی کی یوں توبے شمار قسمیں ہیں ؛لیکن دو احمقانہ؛ بلکہ خطرناک دشمنیاں ہیں اور جو ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، ایک وہ دشمنی، جو انسان اپنے خالق سے اور دوسری خود اپنی ذات سے کرتا ہے، ورنہ عموماً انسان کا دشمن دوسرا انسان ہی واقع ہوا ہے، جبکہ اہلِ دانش انسانی دشمنیوں کو انسان کی برائی سے منسوب کرتے ہیں ،ناکہ خود انسان سے؛ بلکہ کبھی کبھی تو اچھائی اور اچھے اوصاف بھی دشمن قرار دیے جاتے ہیں اور اسی لئے کبھی کسی کی دولت ،تو کبھی کسی کی وجاہت یا حسن، ملکیت، امارت، لیاقت، زبان، الفاظ اور افکار بھی دشمن بن جاتے ہیں، انسان کے اپنے اور دوسروں کے بھی۔شیفتہ کہتے ہیں کہ ہر ایک دشمنی کے پس پشت ایک ازلی طاقت ہے، جسے شیطان کہتے ہیں ،جو خود اپنا دشمن ہو گیا تھا اور پھر انسان کا؛ بلکہ یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اسے انسان سے اللہ واسطے کا بیر ہوگیا، گرچہ ظالم باوجود تکبر کے بات بات پر اپنے رب کی عزت کی قسم کھاتا تھا، بس مٹی کے انسان کی تکریم اسے کسی طور منظور نہ ہوئی اور دشمنی منظور ہوئی؛لیکن بقراط کہتے ہیں کہ دشمنی اکثر و بیشتر جرائم اور گناہ کا باعث ہوتی ہے اور شیطان کی دشمنی اس کارخانۂ حیات میں ثابت نہیں کی جاسکتی؛ بلکہ انسانی عدالت میں تو بالکل بھی نہیں؛ اس لئے صرف انسانی دشمنی پر بات کرنی چاہیے۔
شیفتہ کے مطابق تہذیبِ جدید میں کچھ اور دشمنیاں بھی عام ہیں ،جیسے سیاسی دشمنیاں، جو عالمی سیاست میں سانپ اور نیولے کی دشمنی کی مانند جاری ہیں،کہتے ہیں کہ عقلمند دشمن جاہل دوست سے بہتر ہوتا ہے، لیجیے! دشمنی بھی دانشمندانہ اور جاہلانہ ہوسکتی ہے؛ بلکہ عقلمندوں کو بھی جاہلانہ دشمنی میں مبتلا پایا گیا ہے، دشمنی کسی عقلمند کو بھی جاہل بنا سکتی ہے؛بلکہ پاگل بھی اور کسی پاگل کو دشمنِ زمانہ بھی، ہم نے پوچھا مثلاً؟ تو کہا امریکہ سے ہند تک سیاست کے پاگل خانے میں جھانک کر دیکھ لیجیے، دو تو سر فہرست ہیں اور میڈیا کے چڑیا گھر میں اکثر نظر بھی آتے رہتے ہیں،کہا: ویسے آج کل سیاسی دشمنی سے زیادہ مکاتبِ افکار کی دشمنیوں کے بڑے چرچے ہیں، ان میں ایک دشمنیِ بے جا بھی ہوتی ہے اور جو اعتقاد اور نظریہ کے اختلاف سے پیدا ہوتی ہے، جس کے لئے ایک نئی کہاوت ایجاد کی جاسکتی ہے کہ شیروں کی کہانی سن کر کوے لگیں کائیں کائیں کرنے ۔ بر صغیری صاحب بھی اس بیچ کود پڑے اور کہنے لگے :دیکھیے جناب! ساری دشمنی کی جڑ امریکہ ہے اور کولمبس نے ایک دنیا کے ساتھ دشمنی کی ہے، بہت شاطر دشمن تھا، جسے پتا تھا آنے والے دور میں کوئی نہ کوئی امریکی بش اور ٹرمپ کی شکل میں نمودار ہوگا اور کولمبس کی سمندری مہم میں اسکی شیطان سے ملاقات اور اسکی شاگردی کے ثبوت ملتے ہیں، جسے اہل وینزویلا نے حالیہ دنوں میں دریافت کیا ہے، روس اور چین کی مدد سے۔ یہ کہہ کر بر صغیری بہت دیر تک ہنستے رہے، خود پر اور امریکہ پر بھی، الغرض دشمنی جیسے پیچیدہ موضوع کو ظرافت کا رنگ دے دیا گیا کہ ادب کا تقاضہ یہی تھا۔
اردو ادب نے دشمنی کو عداوت و رقابت سے تعبیر کرتے ہوئے لفظِ دشمن کے علاوہ عدو اور رقیب کو بھی مستعمل کیا اور دشمنی میں مختلف رنگ بھردیے، ویسے بھی سیاسی اور معاشی ادب دشمنی کو لے کر لال پیلے ہوتے رہتے ہیں اور صحافتی ادب کو سال کے بارہ ماہ سرخ و سیاہ کرتے رہتے ہیں، جو آجکل میڈیا میں سستی تفریح کا ذریعہ ہے، اب رہا تفریحی ادب، تو جمالیاتی شاعری میں دشمنی کا ایک ہی رنگ رہا ہے اور وہ ہے رقیبِ رو سیاہ، اس کے علاوہ اردو کلاسیکی شاعری نے ملاؤں کو اور زاہدوں کو بھی اپنا دشمن بنا کر رکھا تھا۔ میر و مرزا سے جوش و فراق؛ بلکہ فیض و فراز تک سبھی نے اس دشمنی کو خوبصورتی سے نبھایا،انگریزی ادب و شاعری میں بھی دشمنی کچھ مختلف نہیں تھی، شیکسپیئر کہتا ہے :چلتے چلو اے تند اور سرد ہواؤں کہ تم اتنی تکلیف دہ اور بے رحم نہیں ہو جتنا انسان دوسرے انسان کے لئے واقع ہوا ہے۔ انسان کا سب سے بڑا دشمن انسان ہے؛ بلکہ انگریزی کے مختلف شعرائے کرام نے انسان اور خاص کر عورت کو عورت کا دشمن مانا ہے، جبکہ ملٹن نے‘‘گم گشتہ جنت’’میں آدم و ہوا کے باغ بہشت سے نکالے جانے کا ذمے دار شیطان کو مان کر اسے انسان کا ازلی دشمن قرار دیا، دیگر انگریزی شعرا نے دوست کی غداری اور دشمنی کو موضوع بنایا اردو شاعری میں ترقی پسند شعرائے کرام نے جہاں اپنی آئیڈیالوجی کے سوا ہر ایک سے شاعری میں دشمنی کی، تو رجعت پسندوں نے تصوراتی رقیب سے اور رہے جدت پسند ،تو تشبہ اور استعارات کا سہارا لے کر کسی کو نہیں بخشا؛ بلکہ دوستوں کی دشمنی کو اسقدر اجاگر کیا کہ خوف آنے لگا کہیں اردو ادب کا دوستی سے بھروسہ نہ اٹھ جائے۔ الغرض اردو شاعری میں بھی دوستوں کی دشمنی کو خوب ہدف بنایا گیا، غالب کہتے ہیں:
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے؟
ہوئے تم دوست جس کے ،دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
بلکہ وہ تو جنونِ عشق کو زندگی کے سر و سامان کا دشمن مانتے ہیں :
شوق ہر رنگ، رقیب سر و ساماں نکلا
میر تو معشوق اور رقیب دونوں سے نالاں رہے کہ:
کب تھی جرأت رقیب کی اتنی
تم نے بھی کچھ کیا تغافل سا
پروین شاکر کا کہنا ہے:
دشمنوں کے ساتھ میرے دوست بھی آزاد ہیں
دیکھنا ہے کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون
حبیب جالب کا ماننا ہے:
دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے
دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے
خمار فرماتے ہیں:
دشمنوں سے پیار ہوتا جائے گا
دوستوں کو آزماتے جائیے
اور ساقی فاروقی کا کہا مانیے تو:
خدا کے واسطے موقع نہ دے شکایت کا
کہ دوستی کی طرح دشمنی نبھایا کر
اور بقول فراز:
ہم تن آساں ہیں اور ہمارے لئے
دشمنی دوستی سے مشکل ہے
ایک کلیم عاجز بھی تھے، جو دشمنی کے متعلق مختلف سوچ رکھتے تھے کہ:
بہاروں کی نظر میں پھول اور کانٹے برابر ہیں
محبت کیا کریں گے دوست دشمن دیکھنے والے
صرف ایک علامہ ہی تھے، جنہوں نے کیا عورت مرد، کیا زندہ مردہ، جن و انس و ملائک اور کیا ملا پنڈت اور شیخ و برہمن، مشرک، زنار، کافر، منافق، فرنگی، ابولہول، سکندر و دارا، نیپولین و مسولینی، افلاطون ولینن، مارکس ہو یا شیطان، پنجابی ،ترکی و تیموری و افغانی، سیاست ،رقص و موسیقی، فقیری وصوفیت ہو یا جمہوریت و اشتراکیت و ملوکیت، کسی کو نہیں بخشا؛ لیکن شاعری میں دشمنی کسی سے نہیں کی، شیطان سے بھی نہیں، الغرض معلوم یہ ہوا کہ:
دشمنی بھی کیا بیماری ہے
دشمنی دوستی میں جاری ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں