135

دشمنِ جاں

نوبل انعام یافتہ پیرل بک کی لا جواب اور شاہکار کہانی ”دی اینمی” کااردو ترجمہ۔ دوسری جنگ عظیم میں ایٹم بم کے استعمال کے بعد پیش آنے والی ایک حیران کن سچی اور جذبۂ انسانیت سے لبریز داستان
ترجمہ:فیصل نذیر
ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی۔ 9818697294

(دوسری قسط)
ہانا باغیچے کی طرف گئی اور اس نے یامی سے کہا بچوں کو لٹا کر اس کے ساتھ کچن میں آئے، کچن میں موجود دو نوکر بہت ڈرے ہوئے تھے؛ کیونکہ سداؤ نے انہیں ابھی اس امریکی شخص کے متعلق بتایا تھا، بوڑھا مالی ،جو کہ سداؤ کے والد کے زمانے سے ہی اس گھر میں کام کرتا تھا، اس نے اپنی پلکوں سے چند بال توڑ کر یہ بدفالی لی کہ ہمارے مالک کو ایک ایسے امریکی دشمن کو اپنے گھر میں پناہ نہیں دینی چاہئے، جسے پہلے گولی نے مارنا چاہا، پھر سمندر کی لہروں اور چٹانوں نے مارنا چاہا، اب اگر مالک ایسے شخص کی جان بچاتے ہیں ،تو گولی، سمندر اور چٹان ان سے بدلہ لیں گے۔ہانا نے بوڑھے مالی سے مسکراتے ہوئے کہا :میں کہتی ہوں ڈاکٹر صاحب سے اور یہ سن کر اسے بھی مختلف اندیشے آنے لگے ؛حالانکہ وہ مالی کی طرح اندھ وشواس نہیں رکھتی تھی،ہانا نے یامی کو گرم پانی لے کر اس کمرے میں آنے کو کہا اور وہ اس کمرے میں گئی، تو سداؤ وہاں نہیں تھے، یامی پیچھے سے آئی اور گرم پانی رکھ کر اس امریکی شخص کو دیکھتے ہوئے گھبرا کر بولی: ارے باپ رے!! میں نے آج تک کسی امریکی کو ہاتھ نہیں لگایا اور اس جیسے گندے اور خون میں لت پت شخص کو تو میں کبھی نہیں دھوؤں گی۔ ہانا نے غصے میں کہا: تم وہی کروگی، جس کا تمہیں حکم دیا جائے، مگر یامی کے چہرے پر انکار کی ایسی ضد نظر آرہی تھی کہ ہانا ڈر گئی کہ وہ کہیں پولس کو نہ بتا دے۔
ہانا نے نرمی سے کہا: دیکھو ہم اسے صرف ہوش میں لانا چاہتے ہیں، اس کے بعد ہم خود اسے پولس کے حوالے کر دیں گے، یامی نے کہا: میں کچھ نہیں جانتی ہوں ،میں ایک غریب عورت ہوں اور ان سب جھمیلوں میں نہیں پڑنا۔ ہانا نے یہ سن کر غصے کو قابو میں کرتے ہوئے کہا: ٹھیک ہے جاؤ اپنا کام کرو۔
اب ہانا کمرے میں اکیلی تھی ،مگر یامی کی بدتمیزی نے اسے ہمت دی کہ اس کمرے میں رکی رہے۔ ہانا خودکلامی کرتے ہوئے بولی: بیوقوف یامی کہیں کی، اس زخمی شخص کو دھونے سے کیا ہوجائے گا ،یہ تو خود ایک بے حرکت وبے ضرر زخمی شخص ہے،ہانا نے ضد اور غصے میں خود اپنے ہاتھوں سے اسے دھویا اور اس کے چہرے کو صاف کیا، ہانا سوچنے لگی یہ آدمی کتنا پیارا ہے اور بچپن میں یہ کتنا خوبصورت دکھتا رہا ہوگا،ان خیالات کے ساتھ اس نے اس کے پیٹھ پر لگے زخموں کو اچھی طرح دھو دیا اور وہ میں سوچنے لگی یہ سداؤ کہاں رہ گئے؟ اس نے اس کے اوپر اپنی رضائی ڈال دی اور دبے لفظوں میں اس نے آواز لگائی: سداؤ! تبھی ڈاکٹر سداؤ گھر میں داخل ہوئے ، ان کے ساتھ ان کے ایمرجنسی آپریشن کا بیگ تھا اور وہ سرجری ڈریس بھی پہنے ہوئے تھے۔
تو آپ نے آپریشن کی ٹھان ہی لی ہے؟ ہانا نے پوچھا۔
کرنا ہی ہوگا، سداؤ اپنے بیگ سے سرجری کے آلات نکالنے لگے اور بولے تولیا لاؤ،ہانا خاموشی سے سداؤ کے حکم کی تعمیل کرتی رہی پھر اسے خیال آیا کہ پرانی چٹائی لاکر زمین پر بچھا دے؛ تاکہ فرش خراب نہ ہو، وہ گارڈن کی طرف دوڑی؛ لیکن جب تک چٹائی لے کر لوٹی، فرش پر خون بکھر چکا تھا، پورے فرش اور دیوار پر خون کے دھبے تھے، وہ چلائی :ارے رے فرش! سداؤ نے بے توجہی سے جواب دیا: ہاں !خون آلود ہوگیا ہے،ذرا اس مریض کو پلٹنے میں میری مدد کرو۔
ہانا چپ چاپ سداؤ کی بات مانتی رہی اور مریض کو پلٹ کر اس کا زخم پونچھنے لگی،یامی نے اسے پونچھنے سے انکار کر دیاتھا،ہانا بولی۔ ڈاکٹر سداؤ نے اپنا کام جاری رکھتے ہوئے پوچھا: پھر کس نے اسے دھویا؟ تم نے؟ جی، ہانا نے جواب دیا۔
ایسا لگا جیسے سداؤ نے اس کی بات سنی ہی نہیں، لیکن وہ اکثر اپنا کام کرتے وقت کھوجانے کے عادی تھے اور انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاتھا کہ وہ جس جسم پر اتنی محنت اور مہارت سے کام کر رہے ہیں ،وہ کسی دوست کا ہے یا دشمن کا، کسی شناسا کا ہے یا اجنبی کا،سداؤ نے ہانا سے کہا:اگر ضرورت پڑی ،تو تمہیں اسے بے ہوشی کی دوا دینی ہوگی۔ہانا نے حیرت سے پوچھا: میں؟! لیکن میں نے کبھی کسی کو یہ دوا نہیں دی، مجھے نہیں معلوم بیہوش کیسے کرتے ہیں،سداؤ نے بہ عجلت جواب دیا: یہ بہت آسان ہے۔
سداؤ اب اس کی پٹی نکالنے لگے اور خون بہت تیزی سے بہنے لگا۔انہوں نے اپنی پیشانی پر لگے ٹارچ سے زخم کے اندر جھانک کر دیکھا اور بولے: گولی ابھی بھی اندر ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ اسے کا چٹانوں سے لگا زخم کتنا گہرا ہے؟ اگر زیادہ گہرا نہیں ہوا، تو میں گولی تک پہنچ سکتا ہوں؛ لیکن اس کا خون بہت بہہ چکا ہے اور یہ کافی کمزور ہوچکا ہے۔
ہانا کا یہ سن کر اور یہ سارا منظر دیکھ کر گلا سوکھ گیا ، اس نے دیکھا کہ وہ امریکی شخص ایک دم پیلا پڑ چکا ہے،سداؤ نے ہانا کی حالت دیکھتے ہوئے کہا: اب تم مت بیہوش ہوجانااور اپنے بیگ سے ضروری آلات نکالتے ہوئے بولے :اب اگر میں نے اس کا آپریشن نہیں کیا، تو یہ یقیناً مرجائے گا۔ہانا اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر باغیچے کی طرف بھاگی اور سداؤ اس کی متلی کی آواز گھر سے سنتے رہے اور، مگر اَن سنی کردی۔ وہ جا کر ہانا کی مزاج پرسی کرنا چاہتے تھے، مگر پھر انہیں یاد آیا کہ اس نے پہلے کبھی کوئی آپریشن نہیں دیکھا، ان کی اس مجبوری نے ایک لمحے کے لیے اس بیہوش پڑے شخص سے متنفر بھی کیا ،مگر وہ چڑچڑاہٹ کے ساتھ اپنا کام کرتے رہے،پھر انہوں نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا کہ اس آدمی کے جینے کا کیا فائدہ ہے؟ آخر اس دشمن کو کیوں جینا چاہیے؟ کچھ لمحے کے لیے وہ اپنا کام جلدی نپٹانے لگے ،اتنے میں وہ شخص بے ہوشی کے عالم میں کراہا، ڈاکٹر سداؤ نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور بڑبڑاتے ہوئے بولے :کراہو اور کراہو، میں یہ آپریشن اپنے لیے نہیں کر رہا ہوں، دراصل مجھے خود پتہ نہیں میں یہ کیوں کر رہا ہوں؟
ہانا دروازہ کھول کر پھر اس کمرے میں داخل ہوئی، سداؤ نے اسے دیکھ کر کہا: اچھا ہوا تم آگئی، یہ وقتاًفوقتاً حرکت کر رہا ہے۔ ہانا نے پوچھا: بیہوش کرنے والی دوا کہاں ہے؟ سداؤ نے الماری کی طرف اشارہ کیا اور ہانا نے دوا اور روئی ہاتھ میں لے کر پوچھا :میں کیسے کروں ،جبکہ میں نے آج تک کبھی کسی کو بیہوش کرنے کی دوا نہیں دی؟ سداؤ نے کہا: یہ بہت ہی آسان ہے ،دوا لگا کر روئی کو اس کی ناک پر رکھ دو، جب اسے سانس لینے میں تکلیف ہو ،تو اسے ہٹا لو۔ہانا دوا لے کر اس مریض شخص کے چہرے کی طرف جھکی ،وہ مزید دبلا اور پیلا پڑچکا تھا اور ہونٹ مڑے ہوئے تھے۔ ہانا کو اس شخص کی حالت پر بہت رحم آیا اور اس نے دل میں سوچنا شروع کردیا کہ ہم جو کچھ بھی قیدیوں کے ساتھ دردناک برتاؤ کے بارے میں سنتے ہیں، یقیناً وہ درست ہے، حالانکہ جاپانی اخبارات میں یہ خبر چھپتی تھی کہ جہاں بھی جاپانی فوجیں داخل ہوئیں، لوگوں نے تہہ دل سے ان کا استقبال کیا، ان کی فتح اور اپنی آزادی پر جشن منایا؛ کیونکہ جاپانی فوجیں ہر کسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتی ہیں، پھر اسے اپنے پڑوسی ایک آرمی جنرل یاد آگئے ،جو اپنی بیوی کو بہت بے رحمی سے مارا کرتے تھے، اب چونکہ انہوں نے جنگ میں بہادری کا مظاہرہ کیاتھا، تو لوگ ان کی صرف تعریف کرتے ہیں، جب یہ لوگ اپنی بیوی کو اس قدر بے دردی سے مار سکتے ہیں، تو اس بیچارے کو کس قدر مارا پیٹا گیا ہوگا۔ ان بھیانک خیالات سے پیچھا چھڑاتے ہوئے اس نے یہ فرض کرلیا کہ اس کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا ہوگا، اچانک اس نے اس کے گردن پر ایک گہرا زخم دیکھا اور اس نے سداؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دھیرے سے کہا: ایک زخم یہاں پر بھی ہے۔
سداؤ نے ہانا سے کہا: اب اور بیہوشی والی دوا نہیں دینا ہے،پھر اس نے ایک چھوٹی شیشی سے دوا بھری اور اسے انجیکشن دے دیا ،پھر اس کی نبض دیکھ کر بولے: اب یہ شخص ضرور جی پائے گا اور گہری سانس لی،کچھ گھنٹوں بعد وہ شخص بیدار ہوا ،انتہائی کمزورتھا اورجب اسے یہ احساس ہوا کہ وہ کہاں ہے ،تواس کی نیلی آنکھیں دہشت زدہ ہوگئیں۔ ہانا نے اسے نہ ہلنے اور آرام سے پڑے رہنے کا اشارہ کیا اور خود اپنے ہاتھوں سے اسے کھانا کھلایا؛ کیونکہ اس کمرے میں سارے نوکروں نے قدم رکھنے سے منع کر دیا تھا۔
کچھ دیر بعد جب وہ کمرے میں آئی، تو اس نے دیکھا کہ وہ شخص خوفزدہ ہے اور ہمت جٹا کر اٹھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہانا نے نہایت نرم لہجے میں کہا: ڈرو مت۔اس نے ہلکی آواز میں پوچھا :تمہیں انگریزی آتی ہے؟ ہانا نے جواب دیا: میں کافی لمبے عرصے تک امریکہ میں رہی ہوں،وہ اور کچھ بولنا چاہتا تھا، مگر بول نہیں سکا، ہانا نے اپنے گھٹنے کے بل بیٹھ کر اسے پیار سے جاپانی چمچے سے دوا کھلائی، اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی کھائی، پھر ہانا نے سہارا دے کر اسے لٹا دیا۔
اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔جب سداؤ اپنی مصروفیت کی وجہ سے آپریشن کے تیسرے دن آئے، تو انہوں نے اسے کرسی پر بیٹھا ہوا پایا ، اس کا چہرہ خون کی کمی سے سوکھا سوکھالگ رہا تھا۔
سداؤ نے اس سے کہا: ارے! تم لیٹ جاؤ، مرنا چاہتے ہو کیا؟
سداؤ نے بڑے آرام سے اسے لٹا دیا اور اس کے زخموں کا معائنہ کرنے لگے اور ڈانتے ہوئے کہا: تمہاری اس طرح کی حرکتیں جان لیوا ہوسکتی ہیں۔ اس جواں سال مریض نے ہلکی آواز میں پوچھا: آپ میرے ساتھ کیا کرنے والے ہیں؟ کیا آپ مجھے دوبارہ پولس کے حوالے کرنے والے ہیں؟ سداؤ کچھ جواب دیے بغیر زخم کو دیکھنے کے بعد اس پر رضائی کھینچ دی اور کہا: مجھے خود نہیں پتہ کہ مجھے تمہارے ساتھ کیا کرنا چاہئے؟ مگر تم ایک جنگی قیدی ہو، تمہارے ملک نے ہمارے ملک کو تباہ کردیا ہے، مجھے تمہیں اپنی حکومت کے سپرد کرنا ہی ہوگا۔ وہ شخص کچھ کہنا چاہتا تھا ،مگر سداؤ نے اسے روک دیا: تم کچھ مت کہو، مجھے تمہارا نام جاننے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ دونوں کچھ دیر تک ایک دوسرے کو دیکھتے رہے، پھر اس نے آنکھ بند کرلی ، دیوار کی طرف رخ کرلیا اور ہلکی آواز میں کہا :ٹھیک ہے ۔ دروازے کے باہر ہانا سداؤ کا انتطار کر رہی تھی، اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔
اس نے بتایا کہ نوکرانی یامی کہہ رہی ہے کہ تمام نوکروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ شخص اس گھر میں رہا ،تو وہ یہاں کام نہیں کریں گے، سب کہہ رہے ہیں کہ چونکہ ہم دونوں برسوں امریکہ میں رہے ہیں اور وہاں پڑھائی کی ؛اس لیے ہم دونوں بھی دل سے امریکن ہوگئے اور ہمارے اندر اپنے ملک جاپان سے محبت کا جذبہ سرد ہوگیاہے۔
ڈاکٹر سداؤ غصے میں چلائے: کیا بکواس ہے! امریکہ ہمارا دشمن ہے، مگر مجھے یہ سکھایا گیا ہے کہ مریض کے ملک و مذہب سے قطع نظر پہلے میں اس کی جان بچاؤں۔
ہانا نے بے چینی سے جواب دیا: لیکن آپ کے یہ اصول نوکر نہیں سمجھتے ہیں۔
دونوں ایک دوسرے کا خاموشی سے منہ تکتے رہے، گھر کا کام کاج جیسے تیسے چلتا رہا اور نوکر دن بدن چوکنے ہوتے گئے ، ظاہری طور پر تو وہ اپنے مالک و مالکن کی عزت کرتے، مگر گرم جوشی میں کمی آگئی تھی۔
ایک صبح بوڑھے مالی نے جو سداؤ کے والد کے زمانے سے یہیں ملازم تھے اور طرح طرح کے پھول اگانے میں بہت ماہر تھے، انہوں نے سداؤ کے والد کے لئے ایک بے مثال باغیچہ بنایا تھا، جس پر سداؤ کے والد بہت خوش ہوئے تھے اور انعام سے نوازا تھا، جسے وہ آج تک بڑے فخر سے بیان کرتے تھے۔ اس مالی نے باغیجے کی صفائی کرتے ہوئے کہا: یہ بات بالکل عیاں ہے کہ ہمارے چھوٹے مالک کو ان نازک حالات میں کیا کرنا چاہئے، ارے!! جب اس کا خون بہہ ہی رہا تھا، تو اس کا آپریشن کرنے اور زبردستی کی انسانیت دکھانے کی کیا ضرورت تھی؟
دوسری طرف سے باورچی نے کہا: ارے بھائی! پورے جاپان کے مشہور سرجن ہیں، جب تک ہر کس و ناکس کی جان نہیں بچائیں گے، تو ماہر کیسے کہلائیں گے؟ دایا یامی نے دکھ بھرے لہجے میں کہا: ہمیں بچوں کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے، اگر ان کے باپ کو غدار وطن قرار دیدیا گیا تو ان کے مستقبل کا کیا ہوگا؟
نوکر ان باتوں کو ہانا سے چھپا کر نہیں ؛بلکہ اسے جتا کر آپس میں کر رہے تھے، ہانا قریب برآمدے سے ساری باتیں سن رہی تھی، یہ جانتے ہوئے کہ ان لوگوں کی تشویش بالکل جائز ہے، وہ ایک عجیب اندرونی کشمکش میں مبتلا تھی اور اسے کل اس وقت بھی کچھ سمجھ میں نہیں آیا، جب اس قیدی کو کھانا دیتے وقت اس نے بتایا کہ اس کا نام ٹام ہے۔ ہانا نے اس کے جواب میں بے دلی سے مسکراتے ہوئے سر جھکایا اور باہر چلی گئی۔ یقیناًہانا کو اس سے کوئی جذباتی لگاؤ یا ہمدردی نہیں تھی ؛بلکہ یہ شخص اس کے لئے مصیبت وآفت بنا ہوا تھا۔
ڈاکٹر سداؤ مکمل پابندی سے ہر صبح اس کے زخم کو دیکھتے اور دوا دیتے، آج صبح آپریشن کا ٹانکا بھی ہٹا دیا گیا، ایک ہفتے میں اس کے مکمل صحت مند ہونے کے آثار ظاہر تھے۔ سداؤ اپنے آفس گئے اور بڑے احتیاط سے چیف پولس کو ایک درخواست لکھنا شروع کیا، جس میں سارا واقعہ بیان کردیا کہ’’ 21 فروری کو ایک بھاگا ہوا جنگی قیدی میرے گھر کے سامنے ساحل پر پڑا ہوا ملا‘‘ سداؤ نے یہیں تک لکھا تھا کہ کچھ انجانے خوف اور نامعلوم اندیشوں کی وجہ سے وہ رک گئے اوراس خط کو ایک مقفل و پوشیدہ دراز میں رکھ دیا۔
ایک ہفتے بعد دو اہم واقعات رونما ہوئے، صبح کو سارے نوکروں نے ایک ساتھ گھر چھوڑ کر جانے کا فیصلہ کرلیا اور سب نے اپنا سامان باندھ لیا، جب ہانا صبح بیدار ہوئی ،تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی، گھر کی صفائی نہیں ہوئی تھی، برتن گندے پڑے تھے، ناشتہ تیار نہیں تھا۔ وہ سارا ماجرا سمجھ گئی، وہ بہت غمزدہ و خوفزدہ ہوگئی، مگر مالکن ہونے کے ناتے اپنے خوف و غصے کو چھپاتے ہوئے بے نیازی سے اپنا کام کرنے لگی اور جب سب نوکر اس سے رسوئی گھر میں ملے ،تو اس نے خوش اسلوبی سے سب کو ان کی بقایا تنخواہ دی اور ان کی خدمت کے لئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ تمام نوکر رو رہے تھے، مگر وہ بالکل نہیں روئی۔ مالی اور باورچی اس وقت سے اس گھر میں کام کرہے تھے، جب سداؤ بچے تھے اور یامی کو بچوں سے بہت لگاؤ تھا، جاتے جاتے وہ ہانا کے پاس واپس آکر پھر رونے لگی اور بولی: بچے اگر بہت روئیں، تو آپ مجھے بلا لیجئے گا، میرا گھر آپ کو معلوم ہی ہے۔
ہانا نے مسکراتے ہوئے شکریہ کہا، مگر دل میں یہ سوچتی رہی کہ بچے چاہے جتنا روئیں، میں بلانے والی نہیں ہوں۔ ہانا نے خود ہی سارا کام کیا اور ناشتہ تیار کیا اور سداؤ بچوں کو سنبھالے رہے۔ دونوں نے نوکروں کے متعلق زیادہ بات نہیں کی، ہانا قیدی کو ناشتہ دے کر سداؤ کے پاس واپس آگئی۔ ہانا نے سداؤ سے کہا: بڑی مصیبت آ پڑی ہے، آخر ایک چھوٹی سی بات جو نوکر بھی سمجھ گئے، ہم کیوں نہیں سمجھ پارہے ہیں کہ ہمیں ان نازک حالات میں کیا کرنا چاہئے؟ ہم دیگر جاپانیوں سے الگ کیوں ہیں؟ سداؤ نے کوئی جواب نہیں دیا، البتہ کچھ سوچنے کے بعد وہ قیدی کے کمرے میں گئے اور روکھے لہجے میں کہا: میرا خیال ہے کہ اب تمہیں اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر چلنے کی کوشش کرنی چاہئے، صبح شام صرف پانچ منٹ کھڑے ہوکر چلنے کی کوشش کرو، پھر دھیرے دھیرے وقت بڑھاتے رہو، ہم سب کے لئے بہتر یہ ہوگا کہ تم جلد از جلد چلنا سیکھ جاؤ۔ قیدی نے ہلکی آواز میں کہا: ٹھیک ہے، مگر ڈاکٹر کے اس سخت تیور سے وہ بہت گھبرا گیا اور اس کا چہرہ پیلا پڑگیا۔ اس نے کہا: ڈاکٹر میری جان بچانے کے لیے میں کس طرح آپ کا شکریہ ادا کروں۔ سداؤ نے کہا: اتنی جلدی میرا شکریہ ادا مت کرو۔ اس روکھے جواب سے اس پر مزید ہیبت طاری ہوگئی۔
دوسرا اہم واقعہ یہ ہوا کہ دوپہر کو جب کہ ہانا عادت کے برخلاف سارا کام کر رہی تھی، اس نے وردی میں کچھ سپاہیوں کو آتا دیکھا، اس کے ہاتھ کانپنے لگے اور پیروں تلے سے زمیں کھسک گئی اور دل میں یہ سوچتے ہوئے کہ نوکروں نے ضرور پولس کو بتا دیا ہوگا، وہ سداؤ کے پاس بھاگ کر گئی، اور ہانپنے لگی اور ہیبت کے مارے ایک لفظ بھی اس کی زبان سے نہیں نکلا، مگر تب تک سپاہی اس کے صحن میں آچکے تھے۔ اس نے گھبراتے ہوئے ان کی طرف اشارہ کر دیا۔
سداؤ اپنے آفس میں تھے، انہوں نے کتاب سے سر اٹھایا اور اتنے سارے سپاہیوں کو دیکھ کر گھبرا گئے اور سلامی دیتے ہوئے کہا: جاپان زندہ باد، کیا بات ہے؟
سپاہیوں نے جواب دیا: آپ کو محل میں بلایا جارہا ہے، ہمارے عزت مآب جنرل کو پھر سینے میں درد اٹھ گیا ہے۔
ہانا نے راحت کی سانس لیتے ہوئے کہا: بس اتنی سی بات ہے؟
سپاہی ناراض ہوتے ہوئے چلّایا: کیا یہ غیرمعمولی بات نہیں؟
بالکل ہے، معاف کیجئے گا، ہانا نے خود کو سنبھالتے ہوئے جواب دیا۔
جب سداؤ الوداع کہنے آئے، تو ہانا رسوئی گھر میں تھی، کام تقریبا ہوچکے تھے، بچے سو رہے تھے، وہ کام کی تھکاوٹ سے زیادہ ان سپاہیوں کے آمد کی ہیبت سے تھکی لگ رہی تھی۔ اس نے کہا: مجھے لگا وہ آپ کو گرفتار کرنے آئے ہیں۔
سداؤ کو اس کی آنکھوں میں ہیبت، خوف اور تشویش صاف نظر آرہی تھی، اس نے ہانا سے کہا: اب بہت ہوگیا، مجھ سے تمہاری تکلیف دیکھی نہیں جارہی ہے، ہمیں اس قیدی سے چھٹکارا پانا ہی ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں