57

دستِ قاتل ہے کہ محنت کا صلہ مانگے ہے!

عبدالعزیز
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
جن لوگوں نے پانچ سو سالہ قدیم مسجد کو فوج اور پولس کی موجودگی میں 26سال پہلے (6دسمبر 1992ء) منہدم کر دیا تھا، آج وہ رام مندر بنانے کے لیے بے چین اور مضطرب ہیں کہ سپریم کورٹ فیصلہ میں تاخیر سے کام لے رہی ہے ،جس سے ہندوؤں کے جذبات و احساسات مجروح ہورہے ہیں، دنیا کے سامنے ظالم اپنی مظلومیت کا مظاہرہ کچھ اس طرح کر رہا ہے گویا اس کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے؛ کیونکہ مسجد کو انہدام کیے ہوئے 26؍سال گزر گئے ؛ حالانکہ ظالموں نے انہدام کے دن ہی رام للا کی مورتی مسجد کی جگہ پر بیٹھا دی تھی اور اس کی پوجا آج تک بغیر کسی روک ٹوک کے حکومت کی چھتر چھایا میں جاری ہے، دنیا جانتی ہے کہ مسجد کے انہدام سے پہلے بی جے پی کے لیڈر اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ نے قومی یکجہتی کونسل کی میٹنگ میں یقین دلایا تھا کہ بابری مسجد کی عمارت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور نہ ہی کوئی تعمیری کام ہوگا، جب تک کہ آپسی سمجھوتہ نہیں ہوگا یا عدالت کا کوئی فیصلہ نہیں آجائے گا، کلیان سنگھ حکومت نے سپریم کورٹ کو بھی حلف نامہ دیا تھا کہ علامتی کارسیوا 6؍دسمبر کو ہوگا اور عدالت کے حکم کی خلاف ورزی نہیں ہوگی؛ لیکن عدالت کی خلاف ورزی ہوئی ،قومی یکجہتی کا جو یقین دلایا گیا تھا،اس کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھا گیا، مسجد کو دن کے اجالے میں کارسیوکوں نے منہدم کیا۔
23 ؍اکتوبر کو سپریم کورٹ کی بنچ نے چیف جسٹس مسٹر رنجن گگوئی کی سربراہی میں اتر پردیش کی حکومت کی یہ درخواست رد کردی کہ دیوالی کے فوراً بعد بابری مسجد کی متنازع جگہ کے ٹائٹل کی سماعت شروع کر دی جائے، چیف جسٹس نے صاف صاف کہہ دیا کہ جنوری کے مہینے میں ایک نئی بنچ کی تشکیل کی جائے گی اور وہ مقدمہ کی سماعت کا فیصلہ کرے گی کہ جنوری، فروری، مارچ یا کب سماعت شروع ہوگی؟ اس کے بعد سے سنگھ پریوار نے اپنے غصے کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے اور اس میں نہ عدالت کے وقار کا خیال رکھاہے اور نہ ہی قانون کی بالادستی کا کوئی پاس و لحاظ ۔
مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے اپنے احمقانہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہندوؤں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے، مجھے ڈر ہے کہ کچھ ہو نہ جائے اگر ہندو صبر کرنا چھوڑ دیں‘‘۔ وشو ہندو پریشد کے ورکنگ صدر ارون کمار نے مطالبہ کیا کہ ’’حکومت قانون بناکر عظیم رام مندر کے نرمان (تعمیر) کا کام وہاں شروع کرے، جہاں بابری مسجد کی عمارت تھی‘‘۔ آر ایس ایس نے دھمکی دی کہ’’ 1992ء جیسا احتجاج شروع ہوگا اگر مندر بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘۔
ایک طرح سے یہ ساری دھمکیاں سپریم کورٹ اور ان کے ججوں کو دی جارہی ہیں کہ کورٹ فیصلے میں تاخیر سے کام کیوں لے رہی ہے، نرسمہا راؤ نے بابری مسجد کو گرانے میں کلیان سنگھ کا ساتھ دیا تھا اور مسجد کے انہدام کے بعد اعلان کیا تھا کہ مسجد وہیں بنائی جائے گی ،جہاں وہ تھی،اب جیسے جیسے الیکشن 2019ء قریب آرہا ہے، آر ایس ایس اور بی جے پی کا مظاہرہ بڑھتا جارہا ہے، وجہ یہ ہے کہ اب لے دے کے ان کے نزدیک رام مندر کا ہی مسئلہ ہے اور رام بھروسے ہی مودی کو دوبارہ پھر دہلی کے تخت پر بٹھا سکتے ہیں ؛کیونکہ نریندر مودی نے اپنا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا ،جو 2014ء میں عوام سے کیا تھا، بے روزگاری بڑھی ہے، مہنگائی کی مار سب بھگت رہے ہیں، تجارت چوپٹ ہوگئی ہے، ملک کے کونے کونے میں بدامنی اور بدنظمی بھی عروج پر ہے،دلتوں اور مسلمانوں کی مظلومیت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے، عورتوں پر بھی مظالم ہر روز ہورہے ہیں، آہستہ آہستہ بی جے پی کے پیروں تلے سے زمین کھسکتی جارہی ہے، ظاہر ہے کہ رام مندر ہی ایک ایسا مسئلہ ان کے پاس ہے ،جس کا وہ سہارا بار بار الیکشن کے موقع پر لیتے رہے ہیں ، اس بار بھی وہی ایک سہارا رہ گیاہے ، جس پر شور و غوغا کرکے عوام کو گمراہ کرسکتے ہیں، ان کے پاس لوک سبھا میں ممبران کی کثرت اور حکومت کی طاقت ہے؛اسی لیے قانون بنانے یا آرڈیننس پاس کرانے کی بات بار بار دہرا رہے ہیں؛حالانکہ ستمبر 2010ء میں الہ آبائی ہائی کورٹ کے تین ججوں کی بنچ نے اپنے فیصلے میں مسجد کی زمین کو تین حصوں میں بانٹ دیا تھا، نرموہی اکھاڑہ، رام للا دیوتا اور سنی وقف بورڈ کو ایک ایک حصہ دیا تھا، افسوس کی بات یہ ہے کہ فیصلے میں مسجد کے انہدام کا ذکر تک نہیں ہے، سابق وزیر اعلیٰ مغربی بنگال سدھارت شنکر رائے نے راقم سے ایک ملاقات میں کہا تھا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کا کوئی فیصلہ نہیں ہے، یہ ایک پنچایت ہے، اب سپریم کورٹ میں اس فیصلہ کو چیلنج کیا گیا ہے، امید ہے کہ فیصلہ دستاویز کی روشنی میں صحیح ہوگا، واضح ہوکہ سدھارت شنکر رائے بابری مسجد کی طرف سے وکیل تھے اور سارے معاملات کو اچھی طرح سے جانتے تھے۔
ایک فیصلہ کو ملک کی سب سے بڑی عدالت میں چیلنج کیا گیا ہو اور جس کا مقدمہ 1949ء سے لڑا جارہا ہو، اب وہ فریق جس نے زور زبردستی سے اب تک سارا کام کیا ہے اور قانون کو ہاتھ میں لے لیا ہے، اس کو ظلم کرنے میں تاخیر ہورہی ہے، جس کی وجہ سے اس کے جذبات و احساسات کو ٹھیس پہنچ رہی ہے اور اس کے صبر کا پیمانہ بھی چھلکنے کو ہے، 1994ء میں کورٹ نے مسجد کے انہدام میں ہندوتو کی اکثریت ازم کو ہی ذمہ دار قرار دیا تھا، 6؍دسمبر کو مسجد کے انہدام کو ملک و قوم کے لیے شرم ناک بتایا تھا، کورٹ نے کہا تھا کہ صرف ایک مسجد کو ہی نہیں ڈھایا گیا ؛بلکہ اقلیتوں کا جو انصاف اور قانون پر بھروسہ تھا، وہ بھی چکناچور ہوا ہے، دستور پر سے بھی ان کا بھروسہ اٹھ چکا ہے، پانچ سو سالہ مسجد کی عمارت کو ڈھادیا گیا ،جو اپنا دفاع نہیں کرسکتی تھی اور ریاستی حکومت ،جس کے ذمے اس کا تحفظ تھا ،اس نے بھی اس میں حصہ لیا، فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا کہ اجودھیا ایک طوفان ہے ،جو گزر جائے گا؛ لیکن سپریم کورٹ کے وقار اور مرتبہ سے کسی طرح بھی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
نریندر مودی حکومت جو صحیح معنوں میں آر ایس ایس کی حکومت ہے، وہ آرڈیننس اور قانون سازی کا کام انجام دے سکتی ہے؛ لیکن اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بغیر رام مندر کی تعمیر شروع ہوتی ہے، تو ملک میں جارحیت اور نفرت حد سے زیادہ بڑھ جائے گی اور ملک میں انارکی اور بدنظمی کا بھی خطرہ بڑھ جائے گا، مسلمان جو اب تک یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کریں گے ،وہ کسی حال میں پارلیمنٹ کی قانون سازی یا حکومت کی جانب سے آرڈیننس کے ذریعے مندر کی تعمیرکی راہ نکالنے کو تسلیم نہیں کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں