77

داستان اپنے عہدکی تہذیب کی عکاس ہوتی ہے: پروفیسرابن کنول


شعبۂ اردو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں توسیعی خطبات کا انعقاد
نئی دہلی:8 ؍فروری(پریس ریلیز)
شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں دو توسیعی خطبات کا انعقاد کیا گیا ’’انجمن پنجاب اور جدید نظم‘‘ کے عنوان سے پروفیسر مظہر مہدی اور ’’اردو داستان روایت اور فن‘‘ کے موضوع پر پروفیسر ابن کنول نے خطبہ پیش کیا۔ جلسے کی ابتدا تلاوت کلام پاک سے ہوئی، تلاوت کے فرائض ڈاکٹر شاہنواز فیاض نے انجام دیے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر عمران احمد عندلیب اور سرور الہدیٰ نے ادا کیے۔ جلسے کی صدارت صدر شعبۂ اردو پروفیسر شہپر رسول نے فرمائی۔ پروفیسر مظہر مہدی نے اپنے خطبے میں انجمن پنجاب کے قیام کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کچھ ایسے حقائق بھی پیش کیے جو عموماً کتابوں میں نظر نہیں آتے۔ پروفیسرمظہر مہدی نے سرسید تحریک کے زیر اثر فروغ پانے والی نئی علمی اور تعلیمی روشنی کو تاریخی پس منظر میں دیکھا اور اس بات پر زور دیا کے جو تبدیلیاں اس عہد میں رونما ہوئیں انھیں وقت کا تقاضا سمجھنا چاہیے اور یہ بھی ضروری ہے کہ ہم سر سید اور حالی کا مطالعہ کرتے ہوئے حقائق کو ٹکڑوں میں دیکھنے کے بجائے انھیں وحدت کے طور پر دیکھیں۔ پروفیسر ابن کنول نے اردو داستان کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے اس کے فنی لوازم کے ساتھ ساتھ لسانی اور تہذیبی معنویت پر بھی روشنی ڈالی انھوں نے فرمایا کہ داستان ایک زبانی روایت ہے اور اسے اسی سیاق میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ داستان کی طوالت اس کی فنی ضرورت ہے اور دوری پر اس کی بنیاد اس لیے رکھی گئی ہے کہ واقعات کو قابل یقین بنایا جاسکے ۔ پروفیسر ابن کنول نے داستان کے مطالعے اور اس کی تنقید کے اہم نکات کی جانب اشارے کیے اور داستان کو زبان اور تہذیب کا ایک اہم ذخیرہ قرار دیا۔ آخر میں صدر شعبۂ اردو پروفیسر شہپر رسول نے خطبات پر گفتگو کرتے ہوئے انھیں نہایت اہم اور وقیع قرار دیا اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر فیکلٹی کے ڈین پروفیسر وہاج الدین علوی ، شعبے کے اساتذہ اور بڑی تعداد میں طلبا اور ریسرچ اسکالر موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں