127

خواتین کا اجتماعی سفر

ڈاکٹرمحمد رضی الاسلام ندوی

سوال:
ہم لوگ ریاستی سطح پر خواتین کی ایک کانفرنس کررہے ہیں ۔ اس میں مختلف شہروں سے طالبات او ر خواتین شریک ہوں گی ۔ عموماً یہ سب گروپس کی شکل میں سفر کرتی ہیں ۔ ہر ایک کے ساتھ اس کا محرم نہیں ہوتا ۔ بعض حضرات اس پر اشکال پیش کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر لڑکی یا عورت کے ساتھ دورانِ سفر کوئی محرم ہونا ضروری ہے ۔
بہ راہِ کرم مطلع فرمائیں ، کیا اس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے ؟ یا ان میں سے بعض مختلف رائے رکھتے ہیں _ اس سلسلے میں ائمہ اربعہ کے مسلک پر روشنی ڈالیں ۔ بڑی مہربانی ہوگی ۔

جواب:
احادیث میں صراحت ہے کہ کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا:
لَا تُسَافِرُ الْمَرْاَۃُ اِلاَّ معَ ذِیْ محرمٍ
(بخاری : 1862، مسلم: 1314 )
’’ عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے _ ‘‘
دوسری حدیث حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
لاَ یَحِلُّ لاِمْرَاَۃٍ تُوْمِنُ باللہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ اَنْ تُسَافِرَ مَسِیْرَۃِ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ لَیْسَ مَعَہَا حُرْمَۃٌ (بخاری : 1088 ، مسلم : 1339 )
’’ کسی عورت کے لیے ، جواللہ اورروزِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو ، جائز نہیں ہے کہ محرم کے بغیر ایک دن اور ایک رات کی مسافت کے بقدر سفر کرے _
اس مضمون کی احادیث مختلف الفاظ میں مروی ہیں ۔ کسی حدیث میں دو دن دو رات اور کسی میں تین دن تین رات کا تذکرہ ہے ـ
محدثین نے ان کے درمیان اس طرح تطبیق دینےکی کوشش کی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے بغیر محرم کے عورت کے سفر کو ممنوع قرار دیا ہے ، چاہے جتنی مسافت کا سفر ہو ۔ کسی نے تین دن کی مسافت کے بارے میں دریافت کیا ، کسی نے دو دن کی مسافت کے بارے میں اور کسی نے ایک دن کی مسافت کے بارے میں ۔ آپ ؐ کا جواب ہر موقع پر یہی تھا کہ بغیر محرم کے عورت کا سفر کرنا جائز نہیں ہے ۔
عورت کے ( بغیر محرم کے ) سفر کی کئی صورتیں ہیں :
* وہ دار الکفر میں ہو ، وہاں سے دارالاسلام میں سفر کرنا چاہتی ہو ، یا کسی پُر خطر مقام پر ہو ، وہاں سے کسی پُر امن علاقے میں آنا چاہتی ہو تو اسے محرم فراہم ہونے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ۔ یہ اضطراری حالت ہے ۔ وہ اس حالت میں بغیر محرم کے بھی سفر کر سکتی ہے ۔

  • اس پر حج فرض ہوگیا ہو ، لیکن کوئی محرم نہ ہو جو اسے اپنے ساتھ لے جاسکے ، یا محرم تو ہو ، لیکن کسی وجہ سے اس کا ساتھ جانا ممکن نہ ہو ۔ اس صورت میں کیا حکم ہے ؟ اس میں فقہاء کا اختلاف ہے ۔ جمہور بغیر محرم کے عورت کو سفرِ حج کی بھی اجازت نہیں دیتے ، جب کہ بعض فقہاء قابل اعتماد عورتوں کی جماعت کے ساتھ حج کے لیے نکلنے کو جائز کہتے ہیں ۔
    • عورت نہ اضطراری حالت میں ہو اور نہ اسے سفرِ حج در پیش ہو ، بلکہ وہ کسی اور ضرورت سے ( مثلاً تجارت ، تعلیم یا کسی رشتے دارسے ملاقات یا کسی دینی پروگرام میں شرکت وغیرہ کے لیے ) سفر کرنا چاہتی ہو _ اس صور ت میں بھی جمہور فقہاء بغیر محرم کے اس کے سفر کوناجائز قرار دیتے ہیں ۔ بعض حضرات اس پر اجماع کا دعویٰ کرتے ہیں ، لیکن یہ دعویٰ درست نہیں ، اس لیے کہ بعض فقہاء نے اس سے مختلف نقطۂ نظر پیش کیا ہے ۔ کچھ فقہاء عام حالات میں بغیر محرم کے عورت کے سفر کو بعض شرائط کے ساتھ جائز قرار دیتے ہیں ۔ مثلاً راستہ پُر امن ہو ، فتنے کا اندیشہ نہ ہو اور کوئی ضرر لا حق ہونے کا خطرہ نہ ہو یا کچھ دوسری قابل اعتماد عورتوں کا سا تھ ہو ۔ یہ رائے حضرت حسن بصری ، امام اوزاعیؒ اور داؤد ظاہری ؒ سے مروی ہے ۔ شوافع (المجموع : 342/8 ) اور حنابلہ سے ایک قول ایسا مروی ہے ۔ علامہ ابن تیمیہؒ کا ایک قول تو جمہور کے مطابق ہے ( شرح العمدۃ :
      172/2_177 ، الفتاویٰ الکبریٰ :381/5 ) لیکن ان کا دوسرا قول ابن المفلح نے یہ نقل کیا ہے : ’’راستے پُر امن ہونے کی صورت میں امام ابن تیمیہؒ کے نز دیک عورت محرم کے بغیر حج کو جاسکتی ہے ۔ اسی طرح دیگر ضروریات سے بھی سفر کرسکتی ہے ۔ کرابیسی نے یہ قول نفلی حج کے سلسلے میں امام شافعی ؒ سے بھی نقل کیا ہے ۔ ان کے بعض اصحاب کی رائے ہے کہ اس کا اطلاق ہر طرح کے سفر پر ہوتا ہے ” (الفروع : 177/3 ). امام نوویؒ نے لکھا ہے : ’’ ماوردی ؒ فرماتے ہیں : ہمارے اصحاب میں سے بعض نے یہ رائے دی ہے کہ عورت بغیر محرم کے معتبر عورتوں کی جماعت کے ساتھ نکل سکتی ہے ، جیسا کہ فرض حج میں اس کی اجازت ہے ‘‘ (المجموع:343/8 )
      فقہاء کے درمیان اس اختلاف کی بنیاد یہ سوال ہے کہ محرم کے بغیر عورت کا سفر ممنوع ہونے کی علّت کیا ہے؟ جمہور فقہاء اس کی علّت خود سفر کوقرار دیتے ہیں ۔ اس صور ت میں چاہے راستے پُر امن ہوں اور عورت کے تحفظ کی دیگر تدابیر فراہم ہوں تب بھی اس کا بغیر محرم کے سفر جائز نہ ہوگا ۔ جو فقہاء یہ مانتے ہیں کہ علّتِ تحریم عورت کی جان اور عزت وآبرو کا تحفظ ہے وہ کہتے ہیں کہ راستہ پُرامن ہو ، یا دیگر عورتوں کا ساتھ ہو تو عورت بغیر محرم کے بھی سفر کرسکتی ہے ۔ اس کی دلیل وہ حضرت عدی بن حاتمؓ سے مروی یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
      فَاِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَرَیَنَّ الظَّعِیْنَۃَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِیْرَۃِ حَتّٰی تَطُوْفُ بِالْکَعْبَۃِ لاَ تَخَافُ اَحَداً إِلاَّ اللہ
      (بخاری : 3595 )
      ’’ اگرتم زندہ رہے تو یقیناً دیکھ لوگے کہ ایک عورت حیرہ سے تنہا سفر کرکے آئے گی اورکعبہ کا طواف کرے گی ۔ راستے میں اسے اللہ کے علاوہ اورکسی کا خوف نہ ہوگا _‘‘
      ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے اس حدیث کے ذیل میں لکھا ہے :
      ’’ اس حدیث میں نہ صرف اس بات کی پیشین گوئی ہے کہ ایسا واقعہ وقوع پذیر ہوگا ، بلکہ سفر پُرامن ہونے کی صورت میں اکیلی عورت کے سفر پر نکلنے کے جواز کی بھی دلیل ہے ۔ کیوں کہ حضورؐ نے اس واقعہ کی پیشین گوئی تعریف اور مدح کے صیغے میں فرمائی ہے ۔ ‘‘( فتاویٰ یوسف القرضاوی ، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز ، نئی دہلی، ۱۲۰۱، جلد اوّل ، ص ۱۸۱ )
      اس تفصیل سے واضح ہوا کہ جمہور فقہاء کسی بھی صورت میں محرم کے بغیر عورت کے سفر کرنے کو نا جائز قرار دیتے ہیں ، البتہ بعض فقہاء کہتے ہیں کہ راستے پُر امن ہوں اور دیگر عورتوں کا ساتھ ہو ، تو عورت محرم کے بغیر بھی سفر کرسکتی ہے ، یا کچھ عورتوں کے ساتھ ان کے محرم ہوں تو دیگر عورتیں ان کے ساتھ سفر کرسکتی ہیں ۔
      خلاصہ یہ کہ جمہور کے موقف میں احتیاط اوربعض فقہاء کے موقف میں کچھ گنجائش پائی جاتی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں