124

خلل دماغ میں تیرے ہے پارسائی کا


عبدالعزیز
بی جے پی کے ایم پی کیسے ہوتے ہیں اور اس وقت لوک سبھا کے اس کے امیدوار کیسے ہوتے ہیں؟ ساکشی مہاراج مہاراج کی زندگی اور ان کے مجرمانہ کردار کے ذریعہ آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ آج (14 اپریل) کے انگریزی روزنامہ ’مارننگ انڈیا‘ نے ساکشی مہاراج کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں: ’’بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساکشی مہاراج کا نام 34 سنگین مجرمانہ مقدمات میں ہے، پھر بھی وہ اپنے آپ کو سَنت، مہاتما اور بابا ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ جو ان کو ووٹ نہیں دے گا وہ بڑی مصیبت میں مبتلا ہوجائے گا۔ اس کی زندگی تباہ و برباد ہوجائے گی کیونکہ وہ بابا ہیں، سنت اور سادھو ہیں۔ ان کی بد دعائیں فوراً کارگر ثابت ہوتی ہیں‘‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ایک سادھو سنت جب آپ کے دروازے پر آکر آپ سے کچھ طلب کرتا ہے، اگر اس کی طلب اور چاہت کو وہ پوری نہیں کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اور اور اپنے خاندان کو تمام خوشیوں اور خوشحالیوں سے محروم کردیتا ہے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ میں یہ نقل کر رہا ہوں مقدس صحیفوں سے۔ میں آپ سے زمین اور زر کا مطالبہ نہیں کر رہا ہوں۔ جو لوگ مجھے ووٹ نہیں دیں گے وہ سخت مصیبت کے شکار ہوجائیں گے اور عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے‘‘۔ موصوف نے یہ بات اس وقت کہی جب وہ اپنے حلقہ انتخاب اُناؤ میں ایک انتخابی جلسہ کو خطاب کر رہے تھے۔
ساکشی مہاراج نے جو اپنا پرچۂ نامزدگی بھرا ہے اس میں انھیں اپنے تمام 34 مقدمات کو لکھنا پڑا جس میں ان کا نام ہے اور اس میں وہ ملوث ہیں۔ ان کے رجسٹرڈ مقدمات دیکھ کر صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ سادھو سنت تو دور کی بات ہے بلکہ وہ عادی مجرم ہیں۔ ساکشی مہاراج نے جو حلف نامہ کے ذریعہ اقرار کیا ہے وہ مقدمات عداوت و دشمنی، چار مقدمات رنگداری اور غنڈہ گردی، چوری، ڈکیتی، قتل، دھوکہ دہی اور خیانت مجرمانہ کے درج ہیں۔ اگر چہ ابھی تک ان کو عدالت نے مجرم قرار نہیں دیا ہے جس کی وجہ سے وہ الیکشن لڑنے کے لائق ہیں مگر ہر طرح کی قانون شکنی کے مرتکب ہیں۔ سوامی سچی نند ہری سے پہلے مشہور تھے۔ اب ساکشی مہاراج کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ایٹاوہ میں ان کے شاگردوں اور تابعداروں کی اچھی خاصی تعداد پائی جاتی ہے، جہاں کے یہ رہنے والے ہیں وہاں ان کا آشرم، اسکول وغیرہ ہے۔ اپنے شاگردوں میں بیحد مقبول ہیں۔
موصوف 1990ء سے اپنی سیاسی زندگی کا بی جے پی سے آغاز کیا۔ فرخ آباد سے دو بار لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے۔ پھر سماج وادی پارٹی میں چلے گئے۔ بی جے پی میں شمولیت سے پہلے سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کی پارٹی راشٹریہ کرانتی پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔2000ء میں ایٹاوہ کے ایک کالج کی پرنسپل نے بی جے پی ایم پی اور ان کے دو بھتیجوں کے خلاف اجتماعی عصمت دری کی شکایت پولس اسٹیشن میں درج کرائی۔ جب وہ آگرہ سے ایٹاوہ جارہی تھی تو خودساختہ سنت نے اس کے ساتھ منہ کالا کیا۔ ساکشی مہاراج تہاڑ جیل میں بھی عصمت دری کے کیس کی وجہ سے ایک ماہ تک قید رہے اور پھر ان کی رہائی ہوئی۔ ان کے آشرم کی ایک شاگردہ نے دس سال پہلے ایک شکایت درج کرائی تھی۔ وہ عورت منی پوری تھی۔ ساکشی مہاراج نے اپنے آشرم میں اس کے ساتھ زناکاری کی تھی۔ ساکشی مہاراج نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ ان کے حریف ان کو بدنام کر نے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ ان سے سیاسی بدلہ لینے کیلئے مقدمات کئے گئے ہیں۔
بہت دنوں پہلے انھوں نے ایک متنازعہ بیان دیا تھا کہ مدرسہ میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ناتھو رام گوڈسے کو محب وطن بھی ساکشی مہاراج قرار دے چکے ہیں۔ ہندو عورتوں سے انھوں نے گزارش کی تھی کہ وہ کم سے کم چار بچے پیدا کریں تاکہ ہندوؤں کی تعداد میں اضافہ ہو۔ ساکشی مہاراج کے خلاف سماج وادی پارٹی کے ارون شنکر شکلا (انا مہاراج) کھڑے ہیں اور کانگریس کی طرف اننو ٹنڈن امیدوار ہیں۔ اناؤ میں 29 اپریل کو الیکشن ہوگا۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں