111

خاموشی

محمد عاصم اسعد

“خاموشی” بہت ہی سمپل اور عام سی چیز ہے ، مگر یہ چیز جس قدر سیدھی ہے ، ٹھیک اسی قدر ٹیڑھی بھی ہے ، سیدھی اور سمپل اس اعتبار سے کہ اس کا صدور ہر شخص سے ہوتا ہے ، اور ہر عام انسان اسے جانتا ہے 
اور ٹیڑھی اس اعتبار سے کہ اس کی حقیقت کو بہت ہی کم لوگ پہچانتے ہیں ، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بہت کم لوگ پہچان پاتے ہیں کیونکہ ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ صرف الفاظ کے ہی معانی نہیں ہوتے بلکہ خاموشی کے بھی بہت سارے معانی ہوا کرتے ہیں ، فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ الفاظ کے معانی ہمیں پڑھائے جاتے ہیں اور خاموشی کے معانی سامنے والے کے چہرے سے ہمیں خود پڑھنا پڑتے ہیں۔ لیکن ہمیں اتنی فرصت ہی کہاں کہ ہم کسی کا چہرہ پڑھ کر اس کی خاموشی کا معنی جانیں اور سمجھیں۔ بہرکیف! خاموشی کو آسان الفاظ میں یوں سمجھیں کہ خاموشی اک ساز ہے، اک راز ہے ہے ، یہ اک ایسی آواز ہے جو کانوں سے نہیں بلکہ صرف دل سے سنی جاتی ہے ، یہ اک ایسی کتاب ہے کہ جس کو صرف اپنے ہی پڑھ پاتے ہیں ، خاموشی کا اپنوں سے کچھ کہنے کا یہ الگ ہی انداز ہے ، یہ اک ایسی آواز ہے جس کو صرف اپنے ہی سن پاتے ہیں ، پس غیر اسے نہ تو پڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی محسوس کر سکتے ہیں اسے دو لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ “ما فی الضمیر کے اظہار کے ظاہری وسائل کو اختیار کیے بغیر  اپنی بات پہنچا دینے کا نام خاموشی ہے “۔
   خاموشی کو نہ سمجھنے سے بسا اوقات کافی فساد اور نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس کو مثال سے یوں سمجھیں کہ جب صنف نازک کو نکاح کی پیش کش کی جاتی ہے، تو وہ عمومی طور پر خاموش رہتی ہے جو اس کے اثبات کی دلیل ہوتی ہے چنانچہ یہ خاموشی معروف ہونے کی وجہ سے لوگ سمجھ جاتے ہیں ، اگر بفرض محال اس خاموشی کا ادراک نہ ہونے کے باعث شادی کو موخر کیا جاتا رہا تو کتنا بڑا نقصان لازم آئے گا اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔
اسی طرح اگر دو بھائی کہیں گھومنے جانے کی پلاننگ کر چکے ہوں اور والد سے زاد راہ اور ٹکٹ وغیرہ کا خرچ بھی انہیں مل چکا ہو ، اور وہیں دوسری طرف چھوٹا بھائی نا واقفیت میں بار بار والد کے روبرو مسلسل بڑے بھائی سے یہ پوچھتا ہے کہ کس ٹرین سے چلیں گے ، تاکہ ابھی ٹکٹ نکال لیں ، کیونکہ سیٹیں کافی کم رہ گئی ہیں ، مگر بڑا بھائی ہے کہ اسے کچھ احساس ہی نہیں ، وہ تو ایسے خاموش ہے کہ جیسے وہ کسی اور سے پوچھ رہا ہو ، چند لمحے کے بعد جب والد صاحب گھر سے باہر چلے جاتے ہیں تب بڑا بھائی ترش لہجے میں بولتا ہے کہ : “تمہیں دو منٹ کا بھی صبر نہیں ، میں کب سے ( بذریعہ خاموشی ) کہنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ خاموش رہو ، ابھی مت پوچھو ، کیونکہ ہم دوستوں کے ساتھ ان کی گاڑی سے مفت میں جائیں گے”۔
محترم قارئین آپ نے دیکھا کہ خاموشی کو سمجھنا کس قدر اہم اور ضروری ہے نیز خاموشی کو سمجھنا اس لیے بھی اہم اور ضروری ہے کیونکہ بسا اوقات ایک لمحہ کی خاموشی اتنی  باتیں کہہ دیتی ہے کہ جنہیں کہنے کے لیے بہت سارے الفاظ بھی ناکافی ہوتے، اسی لیے کبھی الفاظ کے بجائے خاموشی کو بھی بولنے کا موقع دیا کریں ، کیونکہ جہاں ڈھیروں الفاظ اپنے معانی کھو دیتے ہیں وہاں بسا اوقات ایک پل کی خاموشی اپنا کام کر جاتی ہے ، اگرچہ بظاہر خاموشی کی زبان نہیں ہوتی ، مگر جب وہ چیختی ہے تو الفاظ بھی کانوں میں انگلیاں ڈالنے پر مجبور ہو جایا کرتے ہیں، مگر یہ یاد رکھیں کہ خاموشی اسی وقت تک بولتی ہے جب تک خود انسان خاموش رہتا ہے ، پس جب انسان بولنا شروع کر دیتا ہے تو خاموشی خود بخود خاموش ہو جایا کرتی ہے۔

   خاموشی کے بہت سارے اسباب ہوا کرتے ہیں، کسی کی خاموشی کے پیچھے اس کی مجبوری ہوتی ہے، تو کوئی رشتوں کا پاس و لحاظ رکھنے کے لیے خاموش رہتا ہے، کچھ لوگ خاموش رہ کر کچھ چھپانا چاہتے ہیں تو کوئی کچھ بتانے کے لیے خاموش ہو جایا کرتا ہے، کسی کی خاموشی کی وجہ وقت کا غیر مناسب ہونا ہوتی ہے تو کوئی کسی اور حکمت کے تحت خاموشی کو ترجیح دیتا ہے۔ الغرض یہ کہ خاموشی کے بہت سے اسباب ہوتے ہیں، اب ان میں سے مخاطب کی خاموشی کا اصل سبب کیا ہے؟ موقع اور سیاق و سباق کے لحاظ سےاس کو پہچاننے کی ذمہ داری آپ پر ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ خاموشی کا معنی کیسے سمجھیں ؟
یقیناً کچھ چیزیں ، خاموشی کا معنی سمجھنے میں آپ کی معاون ثابت ہو سکتی ہیں پس ان میں سے چند چیزیں درج ذیل ہیں:

1 : حلم و بردباری : 
آپ جتنے زیادہ حلیم اور بردبار ہوں گے اتنا ہی زیادہ مخاطب کی خاموشی کو بآسانی سمجھ سکیں گے۔

2 : مخاطب کے حال سے سے واقفیت : 
بسا اوقات ہم کہنا کچھ اور چاہتے ہیں مگر حالات ہمیں کچھ اور کہنے پر مجبور کر دیتی ہے ایسے وقت میں ہمیں صحیح مراد کو سمجھنے کے لیے، الفاظ کی دلالت کو نہیں بلکہ سامنے والے کی اندرونی حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر بات کہنے کے لیے الفاظ کا ہی سہارا لیا جائے ، بلکہ بہت سی باتیں خاموشیاں بھی کہہ دیا کرتی ہیں۔

3 : سیاق و سباق کا علم 
بعض لوگ بہت زیادہ حلیم و بردبار نہیں ہوتے اور نہ ہی انہیں مخاطب کے حال کی کوئی خاص خبر ہوتی ہے مگر سیاق و سباق کی جانکاری کی وجہ سے وہ مخاطب کی خاموشی کی علت کا ادراک کر لیتے ہیں۔

4 : مخاطب سے قربت 
آپ مخاطب سے انتہائی قریب ہوں ، اس حد تک کہ اس کے سچ کے پیچھے چھپے چھوٹ کو اور کے چھوٹ کے پردے میں ملفوف سچ کو پہچان لیں ، جیسے معاشرے میں کہا جاتا ہے کہ ” ہم تمہاری رگ رگ سے واقف ہیں “
پس اگر واقعی ایسا ہو تو آپ مخاطب کی خاموشی کو بآسانی سمجھ جائیں گے ، نیز ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ آپ کے الفاظ سبھی سمجھتے ہیں ، مگر جب کوئی آپ کی خاموشی کو بھی سمجھنے لگے ، تو جان لیجیے کہ وہ آپ کے بہت ہی زیادہ قریب ہے 
کیونکہ آپ کے اندر کی خاموشی کو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو آپ کو بہت گہرائی سے جانتا ہو ، ورنہ الفاظ تو دوسروں تک اپنا پیغام پہنچانے کا وسیلہ ہوتے ہیں ۔ اسی لیے جب کوئی ہمارے بہت ہی قریب ہوتا تو ہم بنا کسی لفظ کے تبادلہ کے اس سے ڈھیروں باتیں کر لیا کرتے ہیں حتی کہ اس کے آنکھوں کے اشاروں کو بھی بھانپ لیتے ہیں۔

5 : لفظوں کے پیچ و خم میں الجھنے سے گریز
بعض دفعہ ہم مخاطب کی خاموشی کا معنی اس لیے بھی نہیں سمجھ پاتے کیونکہ ہم مخاطب کے الفاظ میں ہی الجھ کر رہ جاتے ہیں ، حالانکہ اس وقت بولے جانے والے الفاظ کے معانی مراد ہی نہیں ہوتے بلکہ کچھ اور مراد ہوتا ہے جس کو وہ خاموش رہ کر کہنا چاہ رہا ہوتا ہے ، پس الفاظ کے شور کے بجائے خاموشی کی آواز کو سننے اور سمجھنے کی کوشش کریں ، کیونکہ صرف چیخنے اور چلانے کا ہی شور نہیں ہوتا ، بلکہ خاموشی کا بھی اپنا ایک شور ہوتا ہے۔ فرق بس اتنا ہوتا ہے کہ چیخنے کا شور کان سے سنائی دیتا ہے اور خاموشی کا شور دل و دماغ سے سنائی دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں